بسم اللّه الرحمٰن الرحیم
حسین بطخپوری کے رجسٹرڈ فرقہ کا ایک چوزہ بطخپوری خورشید سیلفی صاحب بطخپوری
نے ایک پوسٹ ڈالی تھی کچھ دن پھلے حضرت مبارک رحمہ اللّه کے بارے میں اس پر پالش والے جوتے مارے عوام الناس نے تو اب بیچارے کا دماغ آوارگی کر رہا ہے جیسے آپ یہ پوسٹ دیکھ سکتے ہے اور اسکو اردو لکھنی بھی نہیں آتی خیر
👈
خورشید رجسٹرڈ لکھتا ہے
لکھتا ہے اہلحدیث کو بدعت سے جوڑنا آسمان کو تھوکنے کے برابر ہے
🤔
پھلے بات خورشید بابا کو بتاتا جاؤ ایک ہے اہلحدیث اور ایک ہے فرقہ رجسٹرڈ اہلحدیث جسکا ذکر اپنے بابے کی کتاب تاریخ اہلحدیث نامی کتاب میں آپ کو مل جائے گا کیسے رجسٹرڈ ہوا تھا
لہٰذا آپ رجسٹرڈ فرقہ حسین بطخ پوری کا فرقہ ہے نا کی اہلحدیث تاریخ کی کتابوں میں جہاں جہاں لفظ اہلحدیث وارد ہوا ہے وہ کسی فرقے کے لئے نہیں ہے اس طرح تو آپ کے بڑے بھائی اہل قرآن کا دعوا ہے اہل قرآن سے مراد انکا فرقہ ہے تو کیا نام رکھنے سے قرآن انکا ہوگیا
👈
اگے رجسٹرڈ خورشید لکھتا ہے
دنیا میں اہلحدیث واحد وہ جماعت ہے جو ہر قسم کی بدعت سے پاک ہے
😜
تو میں پھلے ہی کہ چکا ہو یہ رجسٹرڈ فرقہ ہے تو تو خورشید میاں چلیے اس بات کی بھی پول کھولی جائے جو اپنے عوام الناس کو جھوٹ اور دجل سے کام لے کر دھونکھا دینے کی کوشش کی تھی
فرقہ اہل حدیث کے علماء اور عوام میں پائی جانی والی چند مشہور بدعات
آلِ وکٹوریہ اپنی ان بدعات کو ثبوت قرآن و حدیث سے دے ورنہ نبی ﷺ کے اس فرمان ،كل بدعة ضلالة،
” ہر بدعت گمراہی ہے “۔ ( صحیح مسلم ج2 ص 592) کےتحت گمراہ ہیں۔
اگر آپ اپنے مولویوں کا انکار کرتے ہیں تو ہمیں یہ ضرور بتائیں کہ اگر آپ کے علما ء غیرمقلد (لایجتہد ولا یقلد) ہو کر حق پر تھے تو آپ حق کا انکار کیو ں کرتے ہیں ؟ اگر آپ کہتے ہیں غیرمقلد ہو کر وہ حق پر نہیں تھے تو پھر آپ لوگوں کو کیوں ترک تقلید مجتہد کی دعوت دیتے ہیں؟
وکٹورین اہلحدیث یہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ چند رسمیں اور خرافات کا نام ہی بدعت ہیں باقی ہم جو کر تے پھر یں لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرقہ اہل حدیث میں بھی بدعات پائی جاتی ہیں ہم ا ن شاء اللہ چند ایک ان میں پائی جانی والی بدعات کو یہاں مختصر بیان کرتے ہیں۔
👈1:
۔ امام کے پیچھے فاتحہ فرض
وکٹورین فرقہ اہلحدیث امام پیچھے فاتحہ کو فرض قرار دیتا ہے جو کہ سخت ترین بدعت ہے۔
وکٹورین فتوی
”فاتحہ خلف الامام فرض ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں“۔
(فتاوے علماء حدیث حصہ 2 ص 120)
نہ یہ قرآن سے ثابت ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے اور نہ پڑھنے والے کی نماز نہیں نہ ہی حدیث سے ثابت ہے لہذا یہ بدعت میں شامل ہے۔
فاتحہ خلف الامام کے سلسلہ میں یہ فرقہ ایک حدیث پیش کرتا ہے عبد اللہ بن صامتؓ ؓ کی جو کہ صحیح نہیں اور خود ناصر الدین البانی صاحب جو کہ اس فرقہ کے اب تک کے سب سے بڑے عالم ، محدث، شمار ہوتے ہیں انہوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (دیکھئے البانی صاحب کی تحقیق سنن ابی داؤد جلد 1 ص 217)
اس سلسلے میں یہ جاہل وکٹورین صحیح بخاری سے بھی ایک حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ
”جس نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں“ جبکہ ان اندھے وکٹوینوں کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ پوری حدیث صحیح مسلم کتاب الصلاۃ میں موجود ہے اور مکمل موجود ہے کہ
أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» [ص:296] وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فَصَاعِدًا
”آپ ﷺ فرماتے ہیں جس نے فاتحہ اور کچھ زائد قرآن نہ پڑھا اس کی نماز نہیں“
اس سے معلوم ہو گیا کہ یہ حدیث اکیلے نمازی کیلئے ہے نہ کہ مقتدی کیلئے۔ اس کے علاوہ غیرمقلدین کے پاس کوئی ایک بھی دلیل موجود نہیں جس سے معلوم ہو کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے اور نہ پڑھنے والے کی نماز نہیں ہو گی جیسا کہ ان لوگوں نے اس پر فتوے دے رکھے ہیں۔ ہمارا اس فرقے کی جاہل عوام سے آسان سا سوال ہے کہ آپ لوگوں نے امام کے پیچھے فاتحہ فرض ہے کا حکم کہاں سے لیا ہے ذرہ تحقیق کرکے بتائیں؟
یاد رہے فرقہ اہل حدیث کی ایک نئی شاخ جو کہ کچھ سال پہلے وجود میں آئی مسعودی فرقہ جو کہ اپنے آپ کو جماعت المسلمین کہتا ہے اس جماعت کے بہت سوں نے اب ترک قرات خلف الامام کی طرف رجوع کر لیا ہے۔
👈2
:۔ ننگے سر نماز
فرقہ اہلحدیث نے ننگے سر نماز کو شعار بنا لیا ہے اور اسے یہ سنت کہتے ہیں جبکہ یہ سنت نہیں اس کو سنت سمجھنا اور شعار بنانا اس وکٹورین فرقے کی صریح بدعت ہے۔
ابو سعید شرف الدین صاحب غیرمقلد کا رجوع
فرماتے ہیں: ”بعض کا جو شیوہ ہے کہ گھر سے ٹوپی یا پگڑی سر پر رکھ کر آئے ہیں اور ٹوپی یا پگڑی قصداً اتار کر ننگے سر نماز پڑھنے کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اور پھر اس کو سنت کہتے ہیں بلکل غلط ہے ۔ یہ فعل سنت سے ثابت نہیں“۔ اگے لکھتے ہیں ” برہنہ سر کو بلا وجہ شعار بنانا بھی خلاف سنت ہے اور خلاف سنت بے وقوفی ہی تو ہوتی ہے“۔
فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 523))
معلوم ہوا کہ یہ وکٹورین فرقہ خلاف سنت نمازیں پڑھتا ہے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ وکٹورین فرقہ اس مسئلے کو ترک کرے اور اعلانیہ توبہ کرے۔
👈3:
۔ ایک مٹھی سے زائد داڑھی کو سنت کہنا اور ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنے کو غلط کہنا
فرقہ اہلحدیث نے ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنے کو غلط کہتا ہے اور ایک مٹھی سے زائد رکھنے کو شعار بنا لیا ہے اور اسے یہ سنت کہتے ہیں جبکہ یہ سنت سے ثابت نہیں۔
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ فرماتے ہیں
تم مشرکین کے خلاف کرو داڑھی چھوڑو مونچھیں کترا دو پھر حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی پکڑ لیتے اور ایک مٹھی سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کاٹ دیتے۔“
(صحیح بخاری لباس کا بیان : 5892)
حضرت ابن عمرؓ نے ہی نبیﷺ سے روایت کی ہے اور ظاہر سے بات ہے خود وہ نبی کی مخالفت تو نہیں کریں گے؟
جبکہ بدعتی غیرمقلد کہتے ہیں کہ نہیں ابن عمرؓ جنہوں نے نبی کریمﷺ کو خود دیکھا ان پر ہمیں یقین نہیں بلکہ ہم نبیﷺ کی حدیث کی خود تشریح کریں گے۔
چنانچہ ابن بشیر الحسینوی نامی وکٹورین لکھتا ہے:۔
” ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنا بلکل غلط ہے
عبد اللہ بن عمرؓ کی جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ ان کا اپنا عمل ہے اور ان کا عمل دین میں دلیل نہیں بنتا ۔ صحابہ کا اپنا قول اور اپنا عمل دلیل نہیں بنتا“۔(شرعی احکام کا انسائیکلوپیڈیا ص 158)
لا حولا ولاقوۃ الا باللہ
کوئی اس جاہل رافضی وکٹورین سے پوچھے کہ صحابہ کا عمل دین میں دلیل نہیں بنتا تو تجھ وکٹورین کی کیا اوقات کے خود سے فتوے دے رہا ہے کہ مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنا بلکل غلط ہے۔
غیرمقلد عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے جاہل مولوی ائمہ اربعہ اور صحابہ سے ہٹا کر صرف اپنی جاہلانہ تحقیق کے پیچھے ہی انہیں لگا کر رکھے ہوئے ہیں۔
👈4:
۔ ٹانگیں پھیلا کر نماز پڑھنا
فرقہ اہلحدیث آج کل جتنی ٹانگیں پھیلا کر نماز پڑھتا ہے جو کہ ادب کے بھی خلاف ہے اور یہ ان وکٹوینوں کی اپنی نکالی ہوئی بدعت ہے ایسے کوئی شخص کسی کے سامنے حتہ کہ اپنے باپ کے سامنے بھی نہیں کھڑا ہو سکتا جبکہ یہ بدعتی وکٹؤرین اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
👈5:
حلال جانوروں کی ہر چیز حلال
آلِ وکٹوریہ کے ہاں حلال جانوروں کی ہر چیز ( پیشاب ، پاخانہ ، پیپ ، تھوک ) حلال ہے۔
آل وکٹوریہ کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب لکھتے ہیں:
”جتنے حلال جانور ہیں نا کے تمام اجزاء حلال ہیں ان کی کوئی چیز حرام نہیں“۔
فتویٰ نذیریہ جلد 3 ص 320))
اس سے معلوم ہو گیا کہ آل وکٹوریہ کے شیخ الکل حلال جانور کا پیشاب پاخانہ وغیرہ کو حلال سمجھنے کے قائل تھے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ حلال جانوروں کی ان چیزیوں کو ویسے ہی پھینکتے ہوں گے کیونکہ حلال چیز کو پھینکا یا ضائع کرنا گناہ ہے اور شیخ الکل یقیناً یہ گناہ نہ کرتے ہوں گے یا اپنے واسطے استعمال کرتے ہوں گے یا اپنی جماعت اہلحدیث کے واسطے۔
👈6:
قربانی میں مرزئی (غیر مسلم) بھی شریک ہو سکتے ہیں
آل وکٹوریہ قربانی میں مرزئیوں کی شرکت کو بھی جائز سمجھتی ہے۔
چنانچہ آل وکٹویہ کے ایک مفتی صاحب لکھتے ہیں:
”باقی رہی مرزائی کی شرکت تو اس کے متعلق بھی حرام کا فتوی نہیں لگا سکتے“۔
(فتویٰ علمائے حدیث ج 13 ص 89)
آل وکٹوریہ اپنے اس عمل کی کوئی صحیح صریح حدیث پیش کرے نہیں تو تسلیم کرے کہ یہ ان کی نکالی ہوئی بدعت ہے۔
اس کے علاوہ آل وکٹوریہ میں اور بھی بہت ساری بدعات پائی جاتی ہیں ہم نے چند ایک مختصر کرکے پیش کر دیں ہیں۔
وما علينا الا البلاغ
👈
پھر خورشید رجسٹرڈ لکھتا ہے صرف ایک مثال دو جو کوئی اہل علم اہلحدیث مسلک چھوڑ کر دیوبندی بنا ہو
پھر لکھتا ہے ورنہ ہم بہت ساری مثالیں دے گے جو دیوبندی سے اہلحدیث بنا ہو
😜🤔🤔
مجھے تعجب ہے اسکی اس رجسٹرڈ عقل پر کہتا ہے کوئی اہل علم اہلحدیث تو خورشید میاں اہل علم ہوتے ہی کب ہے رجسٹرڈ فرقے میں کھبی تو عقل کی بات کیا کرو اس طرح تو آپ کے فرقے کے لوگ رجسٹرڈ مسلک چھوڑ کر مرزا کے پیچھے ہو گئے اور اپکا ربانی اپنے بیان میں کہتا ہے جتنے منکر حدیث وغیرہ آپ کے فرقے میں ہویے اتنی کسی فرقے میں نہیں ہوۓ
ایک یہ کہ ہمارے نزدیک حسب ونسب و شخصیات کے ذریعہ حق سچ کو نہیں پرکھا جاتا بلکہ حق کے ذریعہ شخصیات کو پرکھا جاتاہے لہذا اگر بالفرض ہمارے اکابر میں سے کسی بھی بزرگ کا کوئی پوتا یا نواسا یا کوئی بھی رشتہ دار فرقہ اہل حدیث میں شامل ہو جائے تو یہ ہمارے نزدیک فرقہ اہلحدیث کی حقانیت ومقبولیت کی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بھونگی اور بے شرمی والی باتیں نا کیا کرے جس پر عوام الناس آپ پر تعجب کرے
😜🤔
ایک شاعر نے غالبااس قسم کے لوگوں کے بارے میں خوب فرمایاہے۔
؎ ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا !!!!
👈
پھر خورشید بابا کہتا ہے اجتہاد کے بارے میں
😁
پوسٹ طویل ہوتی جا رہی ہے اس پر میں آخری بات لکھ کر اسکا بانڈا پھوڑ دیتا ہو
رجسٹرڈ فرقہ نے کہا ہے یہ اجتہاد مطلق کے قائل ہے تو خورشید سیلفی جی آپ کے فرقے kکے پانچ مجتہد کا نام لکھے جو اجتہاد کے مقام پر فائز ہو گیی ہے اور انکا وہ اجتہاد دکھا دیجیے کن کن مسائل میں انہوں نے اجتہاد کیا ورنہ اپنے تو ہم سے پھلے اجتہاد کا دروازہ بند کیا ہوا ہے
اور خورشید میاں آپ کے وہاں
غیر مجتہد بھی اجتہاد کر سکتے ہے
آل وکٹوریہ کے ہاں اجتہاد ہر ایک کو اجتہاد کرنا چاہے جس کا ثبوت کتاب و سنت میں کہیں بھی نہیں، اگر ہر ایک کو اجتہاد کی اجازت ملے تو پھر ہر کوئی غیر اجتہادی مسائل میں اجتہاد کرلے اور اجماعی مسائل کو بھی اجتہادی میں دھکیل کر اپنا من پسند عقیدہ اور عمل بنا لے۔
آل وکٹوریہ کے محدث زبیر علی زئی صاحب ایک سائل کو مختصر جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں
”باقی امور میں خود اجتہاد کر لیں “ (فتاویٰ علمیہ ص 198)
آل وکٹوریہ کا یہ عمل قرآن و سنت سے قطعاً ثابت نہیں اس حرکت کا مقصد صرف لوگوں کو مذہبی و دینی پابندی سے نکال کر بے دین اور لامذہب بنانا ہے اور مسلمانوں کے بیچ ہی فتنے اور فساد پیدا کرنا ہے اور یہ مقصد انگریز نے ان کے بڑوں کو دیا تھا جس کا اعتراف ان کے بعض بزرگوں نے مرنے سے پہلے کیا ہے۔
چنانچہ آل وکٹوریہ کے مجدد صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں
یہ لوگ (غیرمقلدین) اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں جس کا اشتہار بار بار انگریزی سرکار سے جاری ہوا۔ خصوصاََ دربار دہلی سے جو سب درباروں کا سردار ہے۔
ترجمان وہابیہ ص32))
جناب مولانا محمد حسن صاحب غیرمقلد بٹالوی جنہوں نے اپنے فرقہ کا نام انگریز سے اہلحدیث الارٹ کرویا تھا خود فرماتے ہیں: "اے حضرات یہ مذہب سے آزادی اور خود سری و خود اجتہادی کی تیز ر ہوا یورپ سے چلی ہے اور ہندستان کے شہر و بستی و کوچہ و گلی میں پھیل گئ ہے۔
( اشاعت السنۃ ص٢٥٥)
ابراہیم سیالکوٹی صاحب بھی اس فرقے کے بڑے علماء میں شمار ہوتے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں
جماعت اہل حدیث اپنے ناقص العلم اور نام نہاد علماء کی تحریروں اور تقریروں سے دھوکہ نہ کھائے کیونکہ ان میں سے بعض تو پرانے خارجی اور بے علم محض اور پرانے کانگرسی ہیں جو کانگریس کا حق نمک ادا کرنے کیلئے ایک نہایت گہری دوز تجویز کے تحت انگریزی پالیسی ڈیوائڈ اینڈ رول لڑاؤ اور حکومت کرو تفرقہ ڈالو اور فتح کرو سے مسلمانوں کے اختلافی مسائل میں مشغول کرکے باہبی اتفاق میں رکاوٹ اور مسلمانوں میں خصوصاً اہلحدیث میں تعصب پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ (احیاء المیت ص 36)
اللّه تعالیٰ اس گمراہ فرقے سے امت کی حفاظت فرمائے
آمین

No comments:
Post a Comment