Tuesday, 29 December 2020

فقیہ العصر شیخ رشید احمد گنگوہیؒ پہ پروفیسر طاہر ہاشمی کا بہتان

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادران اہل سنت والجماعت


فقیہ العصر شیخ رشید احمد گنگوہیؒ پہ پروفیسر طاہر ہاشمی کا بہتان 

پروفیسر طاہر ہاشمی اپنی کتاب ’’ناقدین سیدنا معاویہؓ ‘‘ میں امام رشید احمد گنگوہیؒ کی ایک عبارت کو نقل کرتے ہیں جو انھوں نے اپنی ہدایات شیعہ میں شیعہ حضرات کے جواب میں لکھی تھیں عبارت ملاحظہ فرمائیں 

شیخ گنگوہی فرماتے ہیں

 ’’ ہم سب اہل سنت والجماعت ائمہ اثنا عشر کو امام مقتدائے دین و قطب ارشاد کا عقیدہ رکھتے ہیں الخ‘‘ 


اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد جناب پروفیسر طاہر ہاشمی امام گنگوہیؒ پہ بہتان لگاتے ہوئے لکھتا ہے

’’اس عبارت میں موصوف نے اہل تشیع کے بارہویں فرضی امام مہدی کو بھی اہل سنت کا پیشوا مقتداء اور قطب و ارشاد (بحثییت عقیدہ ) قرار دے دیا جو بعد از ظہور حضرت عائشہؓ پہ حد جاری کرنے کے علاوہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو روضہ نبویﷺ سے نکال کرہزار مرتبہ روزانہ قتل کرے گا‘‘ (معاذ اللہ)


پروفیسر صاحب نے باقی گیارہ ائمہ اہل بیتؓ پہ اعتراض نہیں کیا بلکہ بارہویں امام سیدنا امام محمد بن عبداللہ المہدیؓ کو پیشوا اور مقتداء کہنے کو عقیدہ قرار دینے پہ اعتراض کیا ہے 


الجواب: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ عقیدے کی بنیاد نص پہ ہوتی ہے یہ کوئی اجتہادی مسئلہ نہیں ہوتا جو کسی کے اجتہاد پہ عقیدے کی بنیاد رکھی جائے اور نصوص کہتے ہیں قرآن واحادیث واجماع کو اور سیدنا امام محمد المہدیؓ کا ظہور ہونا اور امت محمدیﷺ کے لئے ہدایت کا زریعہ بننا صحیح احادیث سے ثابت ہے جن کا انکار کرنا ناممکن ہے  

سیدنا امام محمد بن عبداللہ المہدیؓ کا قیامت کے نزدیک ظہور ہونے کا ثبوت احادیث مبارکہ سے 


رسول اللہ فرماتے ہیں:

’’یکون فی آخر امتی خلیفة یحثی المال حثیا ولا یعدّہ عدّاً‘‘

’’میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو (لوگوں میں) گنے بغیر مال اڑائے گا یعنی تقسیم کرے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۹۱۳)

سیدنا ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’یخرج فی آخر امتی المھدی، یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتھا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیة وتعظم الامة یعیش سجا او ثمانیا یعنی ححجا‘‘

’’میری امت کے آخر میں مھدی آئے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ بارشیں نازل فرمائے گا اور زمین اپنے نباتات اگلے گی عدل و انصاف سے مال تقسیم کرے گا ، مویشی زیادہ ہو جائیں گے اور امت کا غلبہ ہوگا وہ (اپنے ظہور کے بعد) سات یا آٹھ سال زندہ رہے گا۔‘‘ (المستدرک للحاکم، ج۴، ص۵۵۸)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’المھدی منا اھل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة‘‘

’’مھدی ہمارے اہل بیت میں سے ، اللہ اسے ایک ہی رات میں درست کر دے گا۔‘‘ 

(مسند احمد بن حنبل ، رقم: ۶۴۵) 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’لا تذھب الدنیا ، اولا تنقضيي الدنیا متی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطئی اسمہ اسمی‘‘

’’دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک عربوں کا بادشاہ (حاکم) میرے اہل بیت سے ایک آدمی نہ بن جائے جس کا نام میرے نام جیسا (یعنی محمد) ہوگا۔‘‘

(سنن ابی داؤد، رقم: ۴۶۸۲، سنن الترمذی: ۶۶۳۰)


اس لئے ان کا امام اور پیشوا و مقتداء ہونا یہ اہل سنت والجماعت کے عقیدے کا حصہ ہے اس کا انکار کرنا بلکل نص قطعی کا انکارہے 


اب آتے ہیں پروفیسر صاحب کے بہتان کی طرف پروفیسر صاحب نے شیخ گنگوہیؒ کی عبارت  اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور ظاہر یہ کیا کہ جیسے شیخ گنگوہیؒ نے شیعہ کے عقیدے والے مہدی کا ذکر کررہے ہیں جبکہ اس صفحے کے نچلے پیراگراف میں شیخ گنگوہیؒ شیعہ کے فرضی مہدی کا رد کررہے ہیں جو شائد پروفیسر صاحب کو نظر نہ آیا اور نظر آتا بھی کیسے پروفیسر صاحب نے ساری عمر اہل حق کے خلاف تعصب کی ناصبی عینک کا جو استعمال کیا ورنہ شیخ گنگوہیؒ جیسے محدث و فقیہ جن کی پوری عمر باطل کے رد میں گزری ان کے بارے ایسا سوظن صرف متعصب ناصبی ہی رکھ سکتا ہے  





والسلام 

خادم احناف 

محمد شعیب الحنفی (دیوبندی)

No comments:

Post a Comment