Wednesday, 6 January 2021

اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش اور غیر مقلدین کا ناقابل فہم مسلک

 اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش اور غیر مقلدین کا ناقابل فہم مسلک

غیر مقلدین کا موقف یہ ہے کہ ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ اپنے حقیقی معنوں پر محمول ہے ، یعنی الله تعالیٰ”پھر بیٹھا تخت پر“ اور عرش الله تعالیٰ کامکان ہے اور الله تعالیٰ جہت بلندی سے متصف ہے ۔(وھو في جہة الفوق، ومکان العرش۔(نزل الأبرار، کتاب الایمان، ص:3،لاہور)

اسی طرح یَدْ ، وجہ، ساق، سے الله تعالیٰ کے اعضا وجوارح مراد ہیں، تاہم ان کی کیفیت مجہول ہے۔ (”ولہ وجہ، وعین، وید، وکف، وقبضة، واصابع، وساعد، وذراع، وجنب، وحقو، وقدم، ورجل، وساق، وکیف کما تلیق بذاتہ“․(نزل الابرار من فقہ النبی المختار، کتاب الإیمان، ص:3، لاہور)

اگر غیر مقلدین کے مذکورہ موقف ومسلک کو درست قرار دیا جائے تو ذات بار ی تعالیٰ کے لیے ”جسم“ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں رہتا، کیوں کہ باری تعالیٰ کے لیے مکان وجہت اور اعضائے جارحہ (منھ، ہاتھ، پنڈلی) ثابت کرتے ہی جسمانیت کے تمام پہلو غیر شعوری طور پر پیدا ہو جاتے ہیں یا پھر یہ مسئلہ مبہم اور ناقابل فہم بن جاتا ہے۔

اس لیے کہ جب آپ الله تعالیٰ کے لیے ، چہرہ، ہاتھ، پنڈلی وغیرہ کے اثبات پر زور دیتے ہیں تو اس کے جو معنی انسانی ذہن میں متبادر ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کی ذات نہ صرف جسم رکھتی ہے، بلکہ اعضا وجوارح سے بھی متصف ہے، لیکن پھر جب آپ کہتے ہیں ان اعضاءِ جوارحہ کی کیفیت مجہول ہے، اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی مانند نہیں، اس کا چہرہ ہمارے چہرے کی طرح نہیں تو پھر فیصلہ کن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نفی کا اطلاق کس سے متعلق ہے؟

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ:
وہ چہرے، ہاتھ، پنڈلی وغیرہ کے مدلولات ہی سے متصف نہیں؟یا یہ کہ وہ ایک نوع کے اعضائے جارحہ تو رکھتا ہے، مگر یہ اعضائے جارحہ تمام ذی اعضا حیوانات سے مختلف ہیں؟

اگر پہلی صورت صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے آپ الفاظ کے ہیر پھیر میں سرگرداں او رکسی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر ہیں، کیوں کہ ایک چیز ثابت کرکے پھر اس کی نفی کر دینے سے کوئی واضح مفہوم سامنے نہیں آتا۔

اگر وہ دوسری صورت صحیح ہے تو پھر ”جسمانیت“ سے دامن بچانا محال ہے ،اس لیے کہ آپ کی نفی کا اطلاق صرف ہیئت، شکل اور نوعیت پر ہوا ہے، جس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے لیے ید، وجہ، استوی علی العرش کے جسمانی مدلول تو ثابت ہیں، لیکن ہمارے ہاتھ ، چہرے کے مقابلے میں بے نظیر ہیں ۔

غیر مقلدین کے مسلک کی مذکورہ کیفیت دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مسلک اہل سنت سے جدا اور ناقابل فہم ہے۔ (استوی علی العرش، وھذا الأصل معقود لبیان أنہ تعالیٰ غیر مستقر علی مکان کما قدمہ صریحاً فی ترجمة اصول الرکن الأول، ونبہ علیہ مصانا بالجواب عن تمسک القائلین بالجھة والمکان، فإن الکرامیة یثبتون جہة العلو من غیر استقرار علی العرش، والحشویة، وھم المجسمة، یصر حون بالاستقرار علی العرش وتمسکو بظواہرھا منھا قولہ تعالیٰ: ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾․ (المسامرة شرح المسایرہ ، الأصل الثامن:ص،44، بیروت)

علامہ قرطبی رحمہ الله تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ( صفات متشابہات) میں تاؤیل سے پہلوتہی اختیار کرکے الفاظ کے ظاہری معنی کے درپے ہوجانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن کریم کی آیات تضاد بیانی کا شکار ہیں۔ (وقد جمع فی ھذہ الأیة بین ”استوی العرش“ وبین ”ھو معکم“ ، والأخذ بالظاھر من تناقض، فدل علی انہ لا بدمن التاویل، والإعراض عن التاویل اعتراف بالتناقض)․ (احکام القرآن اللقرطبی) کیوں کہ صفات متشابہات کے ظاہری معنی مراد لینے سے قرآن کی کئی آیات تضاد و تناقض کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں مثلاً:﴿ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (اعراف:54) اور ﴿وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ﴾․ (الأنعام:18) کا ظاہری معنی یہ ہوا کہ الله تعالیٰ حسی طور پر عرش پر بیٹھے ہیں اور جہت فوق میں ہیں۔ لیکن مندرجہ ذیل آیتوں کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کی ذات گرامی عرش پر نہیں، بلکہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ ﴿وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ﴾․ (المائدہ:11)﴿وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْْنَ مَا کُنتُمْ﴾․(الحدید:4) ﴿إِنَّنِیْ مَعَکُمَا أَسْمَعُ وَأَرَی﴾․(طہ:46) ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ مَا یَکُونُ مِن نَّجْوَی ثَلَاثَةٍ إِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ وَلَا أَدْنَی مِن ذَلِکَ وَلَا أَکْثَرَ إِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ أَیْْنَ مَا کَانُوا﴾․(المجادلہ:7)

اگر تاویل بدعت ہے تو پھر اس تعارض اور تناقض کا کیا حل؟

No comments:

Post a Comment