اللّه کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور غیر مقلدوں کا عقیدہ وضاحت
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ا لله تعالیٰ کی ذات مبارکہ جسم سے اور جسم کی تمام خصوصیات زمان ومکان اور حدود وجہت سے پاک اور منزہ ہے، لہٰذا ذات باری تعالیٰ کے حق میں کوئی لفظ بھی استعمال نہ کیا جائے جو جسم اور خاصہ جسم پر دلالت کرتا ہو، مثلاً لفظ ”أین“ عربی میں مکان کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مکان جسم کا خاصہ ہے، لہٰذا ذات باری کے متعلق لفظ ”أین“ سے استفسار جائز نہیں ( مثلا این الله ؟ الله کہاں ہے؟)۔ چناں چہ علامہ ابن حجر رحمہ الله ایک مقام پر لکھتے ہیں۔
” الله تعالیٰ کی حکمتوں پر کیوں اور کیسے کا سوال اٹھانا ایسے ہی عبث ہے جیسے الله کے وجود پر کہاں اور کیسے کا سوال ۔“ (فلا یتوجہ علی حکمہ لم ولا کیف کما لا یتوجہ علیہ فی وجودہ أین وحیث) ․( فتح الباری لابن حجر:441/1)
لیکن غیر مقلدین اور نام نہاد سلفیوں کے نزدیک ”عرش“ باری تعالیٰ کا مکان اور فوق باری تعالیٰ کی جہت ہے ، دلیل مانگنے پر فوراً مسلم شریف کی حدیث پیش کر دیتے ہیں ، جس میں آپ ﷺنے ایک باندی سے پوچھا ”أین الله؟“ (الله کہاں ہے؟) جواب میں باندی نے کہا فی السماء (آسمان میں ہے)۔ ( قلت یا رسول الله أفلا أعتقہا قال: ائتنی بھا، فأتیتہ بھا، فقال لہا: این الله؟ قالت: فی السماء․( صحیح مسلم باب تحریم السلام فی الصلاة، رقم الحدیث:1227)
غیر مقلدین اس حدیث سے یوں استدلال کرتے ہیں کہ آپﷺ کا ”أین“ سے الله کی ذات کے متعلق سوال فرمانا مکان الہی کے ثبوت پر واضح دلیل ہے ، پھر باندی کے جواب فی السماء پر خاموش رہنا بلکہ اسے مومنہ قرار دے کر آزاد کر ادینا اس بات کی دلیل ہے کہ باندی کا جواب درست تھا کہ الله تعالیٰ فی السماء یعنی جہت فوق میں ہے ۔ مذکورہ حدیث کی چھان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ غیر مقلدین نے جس حدیث کو بنیاد بنا کر اپنے عقیدے کی عمارت کھڑی کی ہے اس کو محدثین نے معلول اور شاذ قرار دیا ہے۔
1... چناں چہ امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔
(کتاب الاسماء والصفات للبہیقی، ص:422،» بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْعَرْشِ وَالْكُرْسِيِّ ۔۔۔ رقم الحديث: 891)
(کتاب الاسماء والصفات للبہیقی، ص:422،» بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْعَرْشِ وَالْكُرْسِيِّ ۔۔۔ رقم الحديث: 891)
2... حافظ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ اس کے اضطراب کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”وفي اللفظ مخالفة كثيرة“ کہ متن حدیث کے لفظ میں بکثرت اختلاف پایا جاتا ہے۔(التلخیص الحبیر:443/3 » كتاب الكفارات)
یہی امام شوکانی نے بھی فرمایا
[نيل الأوطار » كتاب النذر » باب ما يجزي من عليه عتق رقبة مؤمنة بنذر أو غيره ۔۔۔ 8/289،15/389]
[أوجز المسالك إلى موطأ مالك - ج 11 - 28الطلاق - 30العتق والولاء - 1121 - 1266]
یہی امام شوکانی نے بھی فرمایا
[نيل الأوطار » كتاب النذر » باب ما يجزي من عليه عتق رقبة مؤمنة بنذر أو غيره ۔۔۔ 8/289،15/389]
[أوجز المسالك إلى موطأ مالك - ج 11 - 28الطلاق - 30العتق والولاء - 1121 - 1266]
3... امام بزار رحمہ الله نے بھی اس حدیث کے اضطراب پر نشان دہی کرتے ہوئے یہی فرمایا کہ اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔(کشف الأستار:14/1)
4... علامہ زاہد الکوثری رحمہ الله تعالیٰ نے بھی اس حدیث پر اضطراب کا حکم لگایا ہے ۔
(ھامش الأسما والصفات:344)
(ھامش الأسما والصفات:344)
5... نیز حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، لیکن کسی سے بھی ”أین“ کا سوال منقول نہیں ہے، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس سوال کا ایمان کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ فقط باندی کا امتحان لینا مقصود تھا کہ مشرک ہے یا موحدہ؟
(شرح السیوطی علی مسلم:217/2، رقم الحدیث:537)
(شرح السیوطی علی مسلم:217/2، رقم الحدیث:537)
خلاصہ یہ کہ ایک معلول اور شاذ روایت سے عقیدے کا استنباط نہیں کیا جاسکتا اور ایسی شاذ روایت کو بنیاد بنا کر اشاعرہ کو گم راہ اور بدعتی کہنا تو سراسر جہالت ہے یا تعصب۔ بالفرض اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا تو پھر ”أین“ کا سوال ذات باری تعالی کے مکان کے لیے نہیں، بلکہ منزلت اور مرتبہ کے لیے ہوگا، یعنی ہمارے الله کا مرتبہ کیا ہے ؟ یا یہ کہ الله تعالیٰ کے احکام و أوامر کا مکان کون سا ہے؟ (کذا فی شرح النووی علی مسلم،298/2، رقم الحدیث:836)
خلاصہ یہ کہ غیر مقلدین اور سلفی حضرات کا موقف افراط و تفریط کا شکار ہے، چناں چہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله ایک مقام پر لکھتے ہیں :
” آج کل بعض لوگ جن پر ظاہریت غالب ہے، جب متشابہات کی تفسیر کرتے ہیں تو درجہ اجمال میں تو مسلک سلف پر رہتے ہیں، مگر چار غلطیاں کرتے ہیں ۔
1... ایک یہ کہ تفسیر ظنی کی قطعیت کے مدعی ہو جاتے ہیں۔ ( چناں چہ مسلک تفویض کو باطل قرار دیتے ہیں۔)
2... دوسری غلطی یہ ہے کہ جب تفصیل کرتے ہیں تو عنوانات موہمہ تکییف وتجسیم اختیا رکرتے ہیں ۔ ( جسے کہ عرش کو الله تعالیٰ کا مکان اور ”فوق“ کو جہت قرار دینا اور ید وجہ سے اعضائے جوارح مراد لینا۔)
3... تیسری غلطی یہ کہ مسلک تأویل کو علی الاطلاق باطل کہہ کر ہزاروں اہل حق کی تضلیل کرتے ہیں، حالاں کہ اہل حق کے پاس ان کے مسلک کی صحت کے لیے احادیث بھی بنا ہیں اور قواعد شرعیہ بھی۔
4... چوتھی غلطی یہ کہ تفسیر بالاستقرار کو تو سلف کے مسلک پر سمجھتے ہیں اور دوسری تفاسیر لغویہ کو تاویل خلف سمجھتے ہیں ، حالاں کہ سب کا مساوی ہونا اوپر ظاہر ہو چکا ہے۔(امداد الفتاوی:111/6)
No comments:
Post a Comment