صفات متشابہات کی بحث:
﴿ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء﴾ کے ذیل میں بعض علماء نے صفات متشابہات کی بحث چھیڑی ہے، اس مناسبت سے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ اختصار کے ساتھ نقل کیا جا رہا ہے، اس موضوع پر تفصیلی مباحث اور سلف صالحین کا تفصیلی موقف جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کریں۔”القول التمام بإثبات التفویض مذھباً للسّلف الکرام“ مؤلف سیف بن علی․
﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․
اہل سنت والجماعت کا اجتماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ زمان ومکان کی حدود سے اور سمت وجہت کی قیود سے پاک اور منزّہ ہے (ولا محدود ولا معدود، ولا یوصف بالماھیة ولا بالکیفیة، ولا یتمکن فی مکان (إذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھة، لاعلو ولاسفل ولا غیرھما) ولا یجری علیہ زمان، العقائد النسفیة، ص:43، مع شرح التفتازانی)
وہ عرش کا محتاج ہے نہ فرش کا، عرش وکرسی کے وجود میں آنے سے پہلے وہ جس شان میں تھا اب بھی اسی شان میں ہے ۔
البتہ جہاں تک بحث قرآن وحدیث کے ان الفاظ کے متعلق ہے جو الله تعالیٰ کے لیے عرش پر قرار پکڑنے:﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (الاعراف، آیت:54)اور چہرہ:﴿وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّک﴾․ (الرحمن، آیت:27)ہاتھ:﴿ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ﴾․ (الفتح، آیت:10)آنکھ: ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْْنِی﴾․ (طہ، آیت:39)پنڈلی:﴿یَوْمَ یُکْشَفُ عَن سَاق﴾․(القلم:42) وغیرہ ہونے پر دلالت کناں ہیں ، تو انہیں اسلاف نے صفات متشابہات قرار دے دیا ہے۔ کیوں کہ اگر انہیں حقیقی معنی پر محمول کیا جائے تو تجسیم وتشبیہ کی راہیں کھلتی ہیں اور اگر صرف تنزیہ وتجرید کے تقاضے ملحوظ رکھے جائیں تو انکارِ صفات کے پہلو نکلتے ہیں۔
فرقہ مجسمہ اور مشبہہ نے تو ان صفات کے حقیقی معنی مراد لے کر تجسیم وتشبیہ کی تمام منزلیں طے کر ڈالیں اور برملا یہ دعویٰ کر دیا کہ الله تعالیٰ بھی اس طرح ہاتھ ، پاؤں رکھتے ہیں جس طرح ایک مخلوق رکھتی ہے۔ (شرح المقاصد، المقصد الخامس، 37/3)
اور آسمان وزمین کی تخلیق کے بعد اسی طرح عرش پر بیٹھے ہیں، جس طرح ایک بادشاہ ملکی امور کی انجام دہی کے بعد تختِ شاہی پر فروکش ہوتا ہے۔
دوسری طرف تنزیہ وتجرید کے علم بردار معتزلہ، معطلہ جہمیہ نے مذکورہ صفات کو توحید باری تعالیٰ کے منافی قرار دے کر انہیں مجازی معنی پر محمول کیا اورپھر اسی کو حرف آخر اور حتمی بھی قرار دیا ہے۔ ( التمہید لابن عبدالبر،145/7)
افراط وتفریط کی اس کش مکش میں اہل سنت والجماعت ہی ایسا گروہ تھا جو اعتدال کی راہ پر گام زن رہا اور سلف صالحین کے نقش قدم پہ چل کر تعبیر وتشریح کے اس پیچیدہ مقام سے باسلامت گزر گیا۔
﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․
اہل سنت والجماعت کا اجتماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ زمان ومکان کی حدود سے اور سمت وجہت کی قیود سے پاک اور منزّہ ہے (ولا محدود ولا معدود، ولا یوصف بالماھیة ولا بالکیفیة، ولا یتمکن فی مکان (إذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھة، لاعلو ولاسفل ولا غیرھما) ولا یجری علیہ زمان، العقائد النسفیة، ص:43، مع شرح التفتازانی)
وہ عرش کا محتاج ہے نہ فرش کا، عرش وکرسی کے وجود میں آنے سے پہلے وہ جس شان میں تھا اب بھی اسی شان میں ہے ۔
البتہ جہاں تک بحث قرآن وحدیث کے ان الفاظ کے متعلق ہے جو الله تعالیٰ کے لیے عرش پر قرار پکڑنے:﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (الاعراف، آیت:54)اور چہرہ:﴿وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّک﴾․ (الرحمن، آیت:27)ہاتھ:﴿ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ﴾․ (الفتح، آیت:10)آنکھ: ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْْنِی﴾․ (طہ، آیت:39)پنڈلی:﴿یَوْمَ یُکْشَفُ عَن سَاق﴾․(القلم:42) وغیرہ ہونے پر دلالت کناں ہیں ، تو انہیں اسلاف نے صفات متشابہات قرار دے دیا ہے۔ کیوں کہ اگر انہیں حقیقی معنی پر محمول کیا جائے تو تجسیم وتشبیہ کی راہیں کھلتی ہیں اور اگر صرف تنزیہ وتجرید کے تقاضے ملحوظ رکھے جائیں تو انکارِ صفات کے پہلو نکلتے ہیں۔
فرقہ مجسمہ اور مشبہہ نے تو ان صفات کے حقیقی معنی مراد لے کر تجسیم وتشبیہ کی تمام منزلیں طے کر ڈالیں اور برملا یہ دعویٰ کر دیا کہ الله تعالیٰ بھی اس طرح ہاتھ ، پاؤں رکھتے ہیں جس طرح ایک مخلوق رکھتی ہے۔ (شرح المقاصد، المقصد الخامس، 37/3)
اور آسمان وزمین کی تخلیق کے بعد اسی طرح عرش پر بیٹھے ہیں، جس طرح ایک بادشاہ ملکی امور کی انجام دہی کے بعد تختِ شاہی پر فروکش ہوتا ہے۔
دوسری طرف تنزیہ وتجرید کے علم بردار معتزلہ، معطلہ جہمیہ نے مذکورہ صفات کو توحید باری تعالیٰ کے منافی قرار دے کر انہیں مجازی معنی پر محمول کیا اورپھر اسی کو حرف آخر اور حتمی بھی قرار دیا ہے۔ ( التمہید لابن عبدالبر،145/7)
افراط وتفریط کی اس کش مکش میں اہل سنت والجماعت ہی ایسا گروہ تھا جو اعتدال کی راہ پر گام زن رہا اور سلف صالحین کے نقش قدم پہ چل کر تعبیر وتشریح کے اس پیچیدہ مقام سے باسلامت گزر گیا۔
No comments:
Post a Comment