بشارتِ مقامِ امام ابوحنیفہؒ قرآن, حدیث اور علماءِ سلف سے
حافظ ابن کثیر شافعیؒ نے امام اعظم ابوحنیفہؒ کے بارے میں فرمایا ہے:
وہ امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ کوفی ہیں ، عراق کے فقیہ ، ائمہ اسلام میں سے ایک ہیں ، عظیم سرداروں میں سے ایک ہیں ، ارکانِ علماء میں سے ہیں ، صاحبِ مذاہبِ متبوعہ کے چار اماموں میں سے ایک ہیں ، طویل حیات پائی ، اس لیے انہوں نے صحابہ کا زمانہ پایا اور حضرت انس بن مالکؓ کو دیکها اور حضرات نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے(مزید) سات صحابہ سے بھی روایت کی ہے. ۔۔۔ امام صاحب کی وفات 150 ہجری میں ہوئی۔
[البدایہ والنہایہ(امام)ابن کثیر: ج10 ص 123]
فضیلتِ تابعیت:
کوئی بڑے سے بڑا تبع تابعی بھی ادنیٰ تابعی کے برابر "قطعی"(قرآن وسنت کی صراحت) فضیلت نہیں رکھتا چہ جائیکہ تبع تابعی۔
حوالہ:
فضیلتِ صحابہ و تابعین
3) وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ۔
[سورۃ التوبۃ:100]
[سورۃ التوبۃ:100]
جن لوگوں نے سبقت کی یعنی سب سے پہلے ایمان لائے مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ انکی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس نے انکے لئے باغات تیار کئے ہیں جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔
سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي , أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي "
ترجمہ:
[ترمذی:3858، ابن ابی عاصم:1485]
ایمان کی حالت میں نبیؐ کو دیکھنے والے کو "صحابی" کہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں صحابی کو دیکھنے والے کو "تابعی" کہتے ہیں.
طُوبیٰ (جنت کا درخت/خوشخبری)ہے اس کیلئے جس نے مجھے دیکھا اور طُوبیٰ ہے اس کیلئے جس نے مجھے دیکھنے والے(صحابی)کو دیکھا، ان کیلئے طُوبیٰ ہے اور وہ کیا ہے بہترین ٹھکانہ ہے۔
[الاحادیث المختارۃ:87، سلسلة الأحاديث الصحيحة:1254]
تم ہمیشہ خیر پر رہوگے جن تک رہے گا تم میں وہ جس نے مجھے دیکھا اور میری صحبت اختیار کی، اور الله کی قسم! تم ہمیشہ خیر پر رہوگے جن تک رہے گا تم میں وہ جس نے مجھے رکھنے والے کو دیکھا اور میری صحبت والے کی صحبت اختیار کی۔
[مصنف ابن ابي شيبة:32417، سلسلة الأحاديث الصحيحة:3283]
امام ابوحنیفہؒ کی تابعیت پر ائمہ دین کی گواہیاں:
1) محمد بن اسحاق (المعروف بابن ندیم المتوفی:380ھ) لکھتے ہیں :
وكان تابعين لقي عدة من الصحابة وكان من الورعين الزاهدين.
[الفهرست ، لابن نديم: ص # 342]
ترجمہ : وہ تابعین میں سے تھے اور متعدد صحابہ کرام سے ملاقات کی اور آپ تھے متقین (سچے، راسخ العقیدہ) زاہدین (دنیا اور دنیاداروں سے بےرغبت ہوکر الله ہی پر توکل کرنے والوں) میں سے تھے.
2) امام ابن عبد البر المالکیؒ (المتوفی:463ھہ) لکھتے ہیں:
قال أبو عمر : ذكر محمد بن سعد كاتب الوقدى أن أبا حنيفة رأي أنس بن مالك و عبدالله بن الحارث بن جزء.[جامع بيان العلم وفضله : ص # 54]
ترجمہ : ابو عمر کہتے ہیں : محمد بن سعد کاتب الواقدی فرماتے ہیں کہ : امام ابو حنیفہ نے دیکھا ہے حضرت انس بن مالک اور حضرت عبدالله بن حارث بن جزء (رضی الله عنھما) کو.
3) شمس الدین ذہبیؒ الشافعی (المتوفی:748 ھہ) اپنی كتاب [تذکرۃ الحفاظ: ١/١٦٨] میں پانچویں طبقہ کے حفاظِ حدیث میں امام صاحب کا ذکر "ابو حنيفة الإمام الأعظم" کے عنوان سے کرتے ہیں:
"مولده سنة ثمانين رأي مالك بن أنس غير مرة لما قدم عليهم الكوفة"۔
[تذكرة الحفاظ : 1/126 ، الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة : 3/191]
ترجمہ: حضرت امامؒ کی پیدائش سنہ ٨٠ھ میں ہوئی، آپؒ نے حضرت انس بن مالکؓ (٩٣ھ) کوجب وہ کوفہ گئے توکئی دفعہ دیکھا۔
آگے لکھتے ہیں:
"وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن هرمز الاعرج وعدى بن ثابت وسلمة بن كهيل وابي جعفر محمد بن علي وقتادة وعمرو بن دينار وابي اسحاق وخلق كثير..... وحدث عنه وكيع ويزيد بن هارون وسعد بن الصلت وابوعاصم وعبد الرزاق وعبيد الله بن موسى وابو نعيم وابو عبد الرحمن المقرى وبشر كثير، وكان اماما ورعا عالماً عاملاً متعبدا کبیرالشان"۔
ترجمہ: امام ابوحنیفہؒ نے عطاء، نافع، عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج، سلمہ بن کہیل، ابی جعفر، محمدبن علی، قتادہ، عمرو بن دینار، ابی اسحاق اور بہت سے لوگوں سے حدیث روایت کی ہے اور ابوحنیفہؒ سے وکیع، یزید بن ہارون، سعد بن صلت، ابوعاصم، عبدالرزاق، عبیداللہ بن موسیٰ، ابونعیم، ابوعبدالرحمن المقری اور خلق کثیر نے روایت لی ہے اور ابوحنیفہؒ امام تھے اور زاہد پرہیزگار عالم، عامل، متقی اور بڑی شان والے تھے۔
قرآن و حدیث کی فقہ (سمجھ) میں امام صاحب کی عظمت:
حضرت ضرار بن صرد نے کہا، مجھ سے حضرت یزید بن ہارون نے پوچھا کہ سب سے زیادہ فقہ (سمجھ) والا امام ثوریؒ ہیں یا امام ابوحنیفہؒ ؟ تو انہوں نے کہا کہ: ابوحنیفہؒ (حدیث میں) افقه (سب سے زیادہ فقیہ) ہیں اور سفیانؒ (ثوری) تو سب سے زیادہ حافظ ہیں حدیث میں.
حضرت عبدللہ بن مبارکؒ نے فرمایا : امام ابو حنیفہؒ لوگوں میں سب سے زیادہ فقہ (سمجھ) رکھنے والے تھے.
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں : ”جو شخص فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب کو لازم پکڑے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہؒ کے عیال (محتاج) ہیں۔“
محدثین کے ذکر میں اسی کتاب میں آگے امام ابوداؤدؒ فرماتے ہیں : "ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔
ترجمہ: بے شک ابوحنیفہؒ (حديث میں) امام تھے۔
[تذكرة الحفاظ، دار الكتب العلمية: صفحة # ١٦٨، جلد # ١، طبقه # ٥، بيان: أبو حنيفة إمامِ أعظم]
علماءِ حدیث، حدیث کے راویوں/محدثین کے حالات کی تحقیق میں ان سے مروی خبروں (حدیثوں) میں ان کے ثقہ (قابل اعتماد) ہونے یا ضعیف (اعتماد میں کمزور) ہونے یا کذاب و دجال (جھوٹا اور فریبی) ہونے کا حکم دینے میں ان دو اماموں (امام ذہبیؒ اور امام ابن حجرؒ عسقلانی) کی تحقیق کو حجت مانتے ہیں. اور یہ دونوں امام ابو حنیفہؒ کی علم میں امامت، عمل میں زہد و تقویٰ پر علماء سلف کے اقوال کو شھادتاً پیش کرتے ان کی تعدیل کے و ثقاہت ثابت کرتے ہیں.
یہ اور ان جیسے مزید ائمہ کے اقوال امام ابو حنیفہؒ کی علم، عمل اور تقویٰ میں الامام الحافظ الحجة شهاب الدين أبي فضل أحمد بن علي بن الحجر العسقلانيؒ الشافعی (المتوفی ٨٥٢ھ) کی اسماء الرجال پر لکھی مشہور کتاب [تہذیب التهذیب : ١٠ / ٤٤٩-٤٥١] میں بھی مذکور ہیں
4) امام يافعي محدث شافعيؒ (المتوفی: 767 ھہ) لکھتے ہیں :
رأي أنسا.
[مرآة الجنان وعبرة اليقظان في معرفة ما يعتبر من حوادث الزمان : 4/310]
ترجمہ : انہوں نے دیکھا حضرت انس (بن مالک رضی الله عنہ) کو.
5) مفسر قرآن، حافظ الحدیث امام ابن کثیر الشافعیؒ (المتوفی: 774ھہ) لکھتے ہیں :
لانه أدرك عصر الصحابة و رأي أنس بن مالك.
[البداية والنهاية ، لابن كثير : ص # 527]
ترجمہ : آپ نے صحابہ کا زمانہ پایا اور حضرت انس بن مالک (رضی الله عنہ) کو دیکھا.
6) شارح صحیح بخاری، حافظ الحدیث امام ابن حجر العسقلانی الشافعیؒ (المتوفی: 852 ھہ) فرماتے ہیں :
رأي أنسا.
یعنی انہوں نے دیکھا حضرت انس (بن مالک رضی الله عنہ) کو.
[تھذیب التھذیب : 6/55]
نوٹ : حافظ ابن حجرؒ لا امام ابو حنیفہؒ کو طبقہ سادسہ میں شمار کرنا، یہ آپ کا سہو ہے کیونکہ یہاں آپ خود ہی اپنے اس نظریہ کی تردید فرمادی. اگر امام ابو حنیفہؒ چھٹے طبقہ میں ہوتے تو حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کو کیسے دیکھ سکتے تھے ، لہذا آج کسی کا حافظ ابن حجرؒ کے اس سہو کو لے کر امام ابو حنیفہؒ کو شرف تابعیت سے محروم قرار دینا ، یہ امام صاحب سے بغض و عداوت ہی کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے.
7) شارح صحیح بخاری، حافظ الحدیث علامہ بدر الدین عینی حنفیؒ (المتوفی: 855ھہ) لکھتے ہیں :
ابن أبي أوفى أسمه عبدالله ... وهو أحد من رأه أبوحنيفة من الصحابة۔
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري : 2/505]
ترجمہ : (صحابی رسول حضرت) ابن ابی اوفیٰ بنام عبدالله ... اور وہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہیں امام ابوحنیفہ نے دیکھا.
8) امام ابن العماد حنبلیؒ (المتوفی: 1089ھہ) لکھتے ہیں :
رأي أنسا وغيرة
یعنی آپ نے دیکھا حضرت انس کو اور ان کے علاوہ (صحابہ) کو بھی.
[شذرات الذهب في أخبار من ذهب :1/372]
9) حافظ المذيؒ نے بیان فرمایا ہے:
کہ امام ابوحنیفہؒ کی ملاقات بہتر (٧٢) صحابہِ کرام سے ہوئی ہے.
[معجم المصنفین : ٢/٢٣]
10) اہلِ حدیث کے نزدیک بھی امام ابو حنیفہؒ کے امام اور تابعی ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کتابتِ حدیث کے استدلال کو انہوں نے "تابعین کا عمل" کے فصل میں جلی حرف سے ذکر کیا ہے، دیکھئے :
[فتاویٰ علماۓ حدیث : ج # ١٢/ ص # ٢٤١ - ٢٤٢؛ دوسرا باب : کتابت احادیث و جمع روایات، فصل سوم: تابعین کا عمل]
القرآن : تِلكَ عَشَرَةٌ كامِلَةٌ {2:196} یہ پورے دس ہوئے۔
امام ابو حنیفہؒ کی تابعیت اور وحدانیات:
وحدانی روایت یعنی وہ حدیث جس میں نبی ﷺ تک امام صاحب کے درمیان "ایک راوی" ہو، یہ مرتبہ ان کے بعد کسی اور محدث کو حاصل نہیں.
1) (أبو حنيفة قال) وُلِدْتُ سَنَةَ ثَمَانِينَ ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ ، وَأَنَا ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَرَأَيْتُ حَلَقَةً ، فَقُلْتُ لِأَبِي : حَلَقَةُ مَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : حَلَقَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَرْثِ بْنِ جَزْءٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَقَدَّمْتُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَفَقَّهَ فِي دِينِ اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ مَهَمَّهُ وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ " .
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میری پیدائش سن 80 ہجری میں ہوئی ، میں نے 96 ہجری میں جبکہ میری عمر 16 سال تھی ، اپنے والد صاحب کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی ، جب میں مسجد حرام میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ایک بہت بڑا حلقہ دیکھا ، میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ یہ کس کا حلقہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء الزبیدی رضی الله عنہ کا حلقہ ہے ، چنانچہ میں آگے بڑھ کر ان کے حلقہ میں شریک ہوگیا ، میں نے انھیں یہ فرماتے ہوۓ سنا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص الله کے دین میں فقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کرنے کی راہ پر چل پڑتا ہے ، الله اس کے کاموں میں اس کی کفایت فرماتا ہے ، اور اسے ایسی جگہوں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہ گیا ہو.
تخريج الحديث
م طرف الحديث الصحابي اسم الكتاب أفق العزو المصنف سنة الوفاة
1 من تفقه في دين الله كفاه الله مهمه ورزقه من حيث لا يحتسب عبد الله بن الحارث مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي 30 3 أبو حنيفة 150
2 من تفقه في دين الله كفاه الله ورزقه من حيث لا يحتسب عبد الله بن الحارث مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم 4 --- أبو حنيفة 150
3 من تفقه في دين الله رزقه الله من حيث لا يحتسب وكفاه همه عبد الله بن الحارث تاريخ بغداد للخطيب البغدادي 832 4 : 50 الخطيب البغدادي 463
4 من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسب عبد الله بن الحارث جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر 172 216 ابن عبد البر القرطبي 463
2) (أبو حنيفة) قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمِفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی الله عنہ کو فرماتے ہوۓ سنا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرمات ہوۓ سنا کہ : جو شخص تعمیر مسجد میں حصہ لے ، اگرچہ قطاة (بھڑ تیتر) پرندے کے گھونسلے کے برابر ہی ہو ، الله تعالیٰ اس کے لئے جنّت میں گھر بنائیں گے.
تخريج الحديث
م طرف الحديث الصحابي اسم الكتاب أفق العزو المصنف سنة الوفاة
1 من بنى لله مسجدا ولو كمفحص قطاة بنى الله له بيتا في الجنة عبد الله بن علقمة مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي 90 13 أبو حنيفة 150
2 من بنى مسجدا ولو كمفحص قطاة بنى الله له بيتا في الجنة عبد الله بن علقمة التدوين في أخبار قزوين للرافعي 305 --- عبد الكريم الرافعي 623
3) (أبو حنيفة) قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ عَجْرَدٍ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكْثَرُ جُنْدِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ الْجَرَادُ ، لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ".
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عائشہ بنت عجرد رضی الله عنہا سے یہ فرماتے کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے : الله کا سب سے بڑا لشکر زمین میں " ٹڈی دل " ہے ، میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں.
تخريج الحديث
م طرف الحديث الصحابي اسم الكتاب أفق العزو المصنف سنة الوفاة
1 أكثر جند الله في الأرض الجراد لا آكله ولا أحرمه موضع إرسال مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي 394 9 أبو حنيفة 150
2 أكثر جنود الله لا آكله ولا أنهى عنه موضع إرسال مصنف ابن أبي شيبة 23980 24949 ابن ابي شيبة 235
3 أكثر جنود الله في الأرض الجراد لا آكله ولا أحرمه موضع إرسال جزء محمد بن عبد الله الأنصاري 7 7 محمد بن عبد الله الأنصاري 215
4 أكثر جنود الله في الأرض الجراد لا أحله ولا أنهى عنه موضع إرسال جزء محمد بن عبد الله الأنصاري 88 90 محمد بن عبد الله الأنصاري 215
4) (أبو حنيفة) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رُزِقْتُ وَلَدًا قَطُّ وَلَا وُلِدَ لِي ، قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ كَثْرَةِ الِاسْتِغْفَارِ ، وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ تُرْزَقُ بِهَا ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ يُكْثِرُ الصَّدَقَةَ وَيُكْثِرُ الِاسْتِغْفَارَ ، قَالَ جَابِرٌ : فَوُلِدَ لَهُ تِسْعَةُ ذُكُورٍ " .
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي » كِتَابُ الطَّب وَفَضْلِ الْمَرَضِ وَالرُّقَى وَالدَّعَوَاتِ ... رقم الحديث: 440]
ترجمہ : حضرت ابو حنیفہؒ حضرت جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی (صلی الله علیہ وسلم) کی خدمات میں آکر کہنے لگا کہ اے الله کے رسول! میرے یہاں ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی، نبی (صلی الله علیہ وسلم) نے فرمایا : (تو) تم کثرت استغفار اور صدقہ (و خیرات کرنے) سے کہاں غفلت میں رہے ؟ اس کی برکت سے تمہیں اولاد نصیب ہوگی . اس آدمی نے کثرت سے صدقہ دینا اور استغفار کرنا شروع کردیا. حضرت جابر (رضی الله عنہ) کہتے ہیں کہ اس کی برکت سے اس کے ہاں نو (٩) لڑکے پیدا ہوۓ.
تخريج الحديث:
المحدث: ابن عراق الكناني - المصدر: تنزيه الشريعة - الصفحة أو الرقم: 2/143
خلاصة حكم : يدل عليه الآيات [النوح : 10-12] والآثار ، وأما بهذا السياق فلم أجده ، وهو من الوحدانيات لابي حنيفة الإمام
5) (أبو حنيفة) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ " .
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي » كِتَابُ الْأَدَبِ ... رقم الحديث: 463]
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہیں کہ فرمایا رسول الله ﷺ نے : نیکی کے کام پر راہنمائی کرنے والا بھی ایسے ہی ہے جیسے نیکی کرنے والا.
الراوي: عبدالله بن أنيس و أبو الدرداء و أبو برزة المحدث: السيوطي - المصدر: الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 3674
خلاصة حكم المحدث: حسن
الراوي: عبدالله بن أنيس المحدث: السفاريني الحنبلي - المصدر: شرح كتاب الشهاب - الصفحة أو الرقم: 305
خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن
تخريج الحديث
م طرف الحديث الصحابي اسم الكتاب أفق العزو المصنف سنة الوفاة
1 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك جامع الترمذي 2613 2670 محمد بن عيسى الترمذي 256
2 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك الأحاديث المختارة 1983 --- الضياء المقدسي 643
3 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك مسند أبي يعلى الموصلي 4234 4296 أبو يعلى الموصلي 307
4 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر 1022 981 ابن حجر العسقلاني 852
5 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة 4631 6968 البوصيري 840
6 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي 463 22 أبو حنيفة 150
7 الدال على الخير كفاعله الله يحب إعانة اللهفان أنس بن مالك المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء 926 1041 الهيثمي 807
8 الدال على الخير كفاعله والله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك كشف الأستار 1832 1949 نور الدين الهيثمي 807
9 الدال على الخير كفاعله الدال على الشر كفاعله أنس بن مالك معجم أسامي شيوخ أبي بكر الإسماعيلي 123 1 : 465 أبو بكر الإسماعيلي 371
10 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك مشيخة أبي بكر بن أحمد المقدسي 30 31 أحمد بن عبد الدائم المقدسي 718
11 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك مشيخة ابن جماعة 206 2 : 481 ابن جماعة 739
12 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك معجم الشيوخ لتاج الدين السبكي 236 --- السبكي 771
13 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك حديث أبي الفضل الزهري 383 411 الحسن بن علي الجوهري 381
14 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك السداسيات والخماسيات 15 --- الحسن بن مسعود الوزير 543
15 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك جزء ابن فيل 113 --- الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فيل البالسي 309
16 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك قضاء الحوائج لابن أبي الدنيا 27 27 ابن أبي الدنيا 281
17 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك الترغيب في فضائل الأعمال لابن شاهين 508 508 ابن شاهين 385
18 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر 44 60 ابن عبد البر القرطبي 463
19 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك البر والصلة لابن الجوزي 340 438 أبو الفرج ابن الجوزي 597
20 الدال على الخير كفاعله أنس بن مالك كتاب العلم 46 --- أبو طاهر السلفي 576
21 الدال على الخير كفاعله الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك اصطناع المعروف 74 79 ابن أبي الدنيا 281
6) (أبو حنيفة) عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ إِغَاثَةَ اللَّهْفَانِ " .
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ حضرت انسؓ سے رسول الله ﷺ کا یہ ارشاد سننا نقل فرماتے ہیں کہ الله مظلوموں کی مدد کرنے کو پسند کرتا ہے.
تخريج الحديث
م طرف الحديث الصحابي اسم الكتاب أفق العزو المصنف سنة الوفاة
1 الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي 470 29 أبو حنيفة 150
2 إن الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك معجم شيوخ الابرقوهى 64 --- أحمد بن إسحاق بن محمد الأبرقوهي 701
3 الله يحب إغاثة اللهفان أنس بن مالك مكارم الأخلاق للطبراني 95 95 سليمان بن أحمد الطبراني 360
7) (أبو حنيفة) قَالَ : وُلِدْتُ سَنَةَ ثَمَانِينَ ، وَقَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُوفَةَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ ، وَرَأَيْتُهُ ، وَسَمِعْتُ مِنْهُ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ " .
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي » كِتَابُ الْأَدَبِ ... رقم الحديث: 472]
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میری پیدائش 80 ہجری میں ہوئی اور حضرت عبدالله بن انیس رضی الله عنہ جو صحابی رسول ہیں 94 ہجری میں کوفہ تشریف لاۓ طے میں نے اس کی زیارت بھی کی اور ان سے حدیث کی سماعت (سننا) بھی کی ہے ، اور اس وقت میری عمر 14 سال تھی ، انہوں سنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے کہ : کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بھرا کر سکتی ہے.
تخريج الحديث
م طرف الحديث الصحابي اسم الكتاب أفق العزو المصنف سنة الوفاة
1 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك سنن أبي داود 4467 5130 أبو داود السجستاني 275
2 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك مسند أحمد بن حنبل 21152 21185 أحمد بن حنبل 241
3 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك مسند ابن أبي شيبة 49 49 ابن ابي شيبة 235
4 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك البحر الزخار بمسند البزار 10-13 47 4125 أبو بكر البزار 292
5 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك مسند الشاميين للطبراني 1435 1454 سليمان بن أحمد الطبراني 360
6 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن أشقر مسند الشاميين للطبراني 1449 1468 سليمان بن أحمد الطبراني 360
7 حبك الشيء يعمي ويصم عبد الله بن أنيس مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي 472 31 أبو حنيفة 150
8 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك مسند الشهاب 207 219 الشهاب القضاعي 454
9 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك المعجم الأوسط للطبراني 4492 4359 سليمان بن أحمد الطبراني 360
10 حبك الشيء يعمي ويصم عثمان بن عفان إسلام زيد بن حارثة وغيره من أحاديث الشيوخ 26 1 : 180 تمام بن محمد الرازي 414
11 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك أمالي ابن بشران 529 1 : 228 أبو القاسم بن بشران 430
12 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك ثلاثة مجالس من أمالي أبي عبد الله الروذباري 13 --- أحمد بن عطا الروذباري 369
13 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك أمالي ابن بشران ( مجالس أخرى ) 511 1 : 228 عبد الملك بن بشران 431
14 حبك الشيء يعمي ويصم نفير بن مالك أمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني 101 115 أبو الشيخ الأصبهاني 369
15 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك شعب الإيمان للبيهقي 392 411 البيهقي 458
16 حبك الشيء يعمي ويصم موضع إرسال المعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان 844 2 : 189 يعقوب بن سفيان 277
17 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك الكني والأسماء للدولابي 716 546 أبو بشر الدولابي 310
18 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 9020 --- ابن عساكر الدمشقي 571
19 حبك الشيء يعمي ويصم عبد الله بن أنيس تاريخ دمشق لابن عساكر 12001 --- ابن عساكر الدمشقي 571
20 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 13795 --- ابن عساكر الدمشقي 571
21 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 14497 16 : 186 ابن عساكر الدمشقي 571
22 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 14498 16 : 186 ابن عساكر الدمشقي 571
23 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 14499 16 : 187 ابن عساكر الدمشقي 571
24 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 14503 --- ابن عساكر الدمشقي 571
25 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تاريخ دمشق لابن عساكر 66582 --- ابن عساكر الدمشقي 571
26 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك تهذيب الكمال للمزي 235 --- يوسف المزي 742
27 حبك الشيء يعمي ويصم نضلة بن عبيد اعتلال القلوب للخرائطي 350 369 محمد بن جعفر بن سهل الخرائطي 327
28 حبك الشيء يعمي ويصم نضلة بن عبيد اعتلال القلوب للخرائطي 782 820 محمد بن جعفر بن سهل الخرائطي 327
29 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك ذم الهوى لابن الجوزي 14 36 أبو الفرج ابن الجوزي 597
30 حبك الشيء يعمي ويصم عويمر بن مالك الآداب للبيهقي 164 229 البيهقي 458
8) (أبو حنيفة) قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُظْهِرَنَّ شَمَاتَةً لِأَخِيكَ فَيُعَافِيَهُ اللَّهُ وَيَبْتَلِيَكَ ".
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي » كِتَابُ الْأَدَبِ ... رقم الحديث: 473]
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ : اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار کبھی نہ کرنا ، ہو سکتا ہے الله تعالیٰ اسے عافیت دیدے اور تمہیں اس (مصیبت) میں مبتلا کردے.
تخريج الحديث
|
===========
شیخ جلال الدین سیوطیؒ الشافعی وغیرہ نے [ابو حنیفہؒ کے فضائل-و مناقب پر اپنی"التبييض الصحيفه في مناقب الإمام أبي حنيفه"میں] تسلیم کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے بڑے مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ النعمان ہیں۔یہ کتاب اردو میں بنام "امام ابوحنیفہؒ کے حالات، کمالات اور ملفوظات" فری ڈاؤن لوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں۔
القرآن:
(1) ... اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے.
[سوره محمّد:38]
(2) ۔۔۔ اور (اس رسول کی بعثت) دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے...
[الجمعہ:3]
(1) ... اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے.
[سوره محمّد:38]
(2) ۔۔۔ اور (اس رسول کی بعثت) دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے...
[الجمعہ:3]
تفسیرِ نبوی:
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ دوسرے لوگ کون ہے جس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت سلیمان فارسیؓ پرہاتھ رکھ کر فرمایا: اس کی قوم ۔۔۔ خدا کی قسم! اگر دین/ایمان(علم) ثُریا پر جا پہنچے تو بھی فارس کے لوگ یا ان میں ایک شخص وہاں سے اس کو اتار لائیں گے۔
[صحیح البخاری:4897، صحیح مسلم:2546، الجامع معمر بن راشد:19923، شرح السنة للبغوی:3999]
ائمہ ومحدثین کے نزدیک اس سے مراد امام ابوحنیفہؒ ہیں:
1) امامِ حرم ابنِ حجر مکیؒ شافعی-الخیرات الحسان:1/24، دار الکتب العلمیہ، بیروت
2) امام جلال الدین سیوطیؒ شافعی-تبییض الصحیفہ:1/31، دار الکتب العلمیہ، بیروت
3) نواب صدیق حسن بھوپالی غیرمقلد - اتحاف النبلاء:1/224
[صحیح البخاری:4897، صحیح مسلم:2546، الجامع معمر بن راشد:19923، شرح السنة للبغوی:3999]
ائمہ ومحدثین کے نزدیک اس سے مراد امام ابوحنیفہؒ ہیں:
1) امامِ حرم ابنِ حجر مکیؒ شافعی-الخیرات الحسان:1/24، دار الکتب العلمیہ، بیروت
2) امام جلال الدین سیوطیؒ شافعی-تبییض الصحیفہ:1/31، دار الکتب العلمیہ، بیروت
3) نواب صدیق حسن بھوپالی غیرمقلد - اتحاف النبلاء:1/224
الحمد للہ، صحابہ رضوان اللہ عنہم نے اس بینظیر ایثار اور جوشِ ایمانی کا ثبوت دیا کہ ان کی جگہ دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم فارس والوں نے اسلام میں داخل ہو کر علمِ دین اور ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی زبردست دینی خدمات انجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص کو ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ بیشک حضور ﷺ کی پیشین گوئی کے موافق یہ ہی قوم تھی جو بوقتِ ضرورت عرب کی جگہ پر کر سکتی تھی۔ ہزارہا علماء و آئمہ سے قطع نظر کر کے تنہا امام اعظم ابو حنیفہؒ کا وجود ہی اس پیشین گوئی کے صدق پر کافی شہادت ہے۔ بلکہ اس بشارت عظمیٰ کا کامل اور اولین مصداق امام صاحب ہی ہیں۔
(2) دوسرے یہ کہ محدث سے فقیہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے گا جو ہماری بات (حدیث) سن کر اسے محفوظ (یاد) کرلے اور اسے پھر دوسرے اس شخص تک پہنچادے جس نے اسے براہ راست نہیں سنا کیونکہ بہت سے فقہ (یعنی علمِ حدیث) کے محافظ حقیقتاً فقیہ (یعنی علمِ حدیث کی گہری سمجھ رکھنے والے) نہیں ہوتے اور بہت سے فقیہ (علمِ حدیث کی فقہ رکھنے والے) تو ہیں لیکن جن کی طرف (یہ فقہ) منتقل کر رہے ہیں وہ ان سے زیادہ فقیہ ہیں۔
[ابن ماجہ:230، ابوداؤد:3660]
حضرت امام ابوحنیفہؒ وہ جلیل القدر اورعظیم المرتبت ہستی ہیں،جن کی جلالت شان، امامت وفقاہت، اور فضل وکمال کو بڑے بڑے اساطین علم وفضل اور کبار فقہاء ومحدثین نے تسلیم کیا ہے۔ ہم تبرکا چند اکابر ائمہ کے اقول ذکر کرتے ہیں تاکہ قارئین کرام کو اندازہ ہو سکے کہ اکابر علماءامت جس ہستی کے بارے میں يہ رائے رکھتے ہیں اس ہستی کے ساتھ لا مذہب غیر مقلدین کا کیا رويہ ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں، الله ان سے راضی ہو : امام مالک رحمہ الله سے پوچھا گیا : کیا آپ نے امام ابوحنیفہؒ کو دیکھا ہے؟ تو فرمایا : ہاں ، (اور ایک ستون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) میں نے انہیں ایسا شخص پایا کہ اگر وہ اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہتے تو اپنے علم کے زور پر وہ ایسا کر سکتے تھے ۔“
حضرت امام شافعی رحمہ الله فرماتے ہیں: ”جو شخص فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ فقہ میں امام ابوحنیفہؒ کے خوشہ چین ہیں۔“
امام یحییٰ بن معین رحمہ الله نے فرمایا : قرأت میرے نزدیک حمزہ کی قرأت ہے، اور فقیہ (میرے نزدیک) امام ابوحنیفہؒ کی فقہ ہے. [وفیات الاعیان لابن خلکان : ٥/٤٠٩]
حضرت عبد الله بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام مالک رحمہ الله کی خدمت میں حاضر تھا کہ ايک بزرگ آئے،جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو حضرت امام مالک رحمہ الله نے فرمایا جاتنے ہو يہ کون تھے؟ حاضرین نے عرض کیا کہ نہیں (اور میں انہیں پہچان چکا تھا) فرمانے لگے۔”يہ ابوحنیفہؒ ہیں عراق کے رہنے والے، اگر يہ کہہ دیں کہ یہ ستون سونے کا ہے تو ویسا ہی نکل آئے انہیں فقہ میں ایسی توفیق دی گئی ہے کہ اس فن میں انہیں ذرا مشقت نہیں ہوتی“(حسین بن علی الصیمری: المحدث ۔ اخبار ابی حنیفة و اصحاب ص74) امام عبداللہ بن مبارک فرمایا کرتے تھے: "ولا تقولو رأیُ ابی حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالیٰ ولکن قولوا انہ تفسیر الحدیث“ (ذیل الجواہر المضیة، ج: 2،ص: 460 ؛ مناقب موفق ابن احمد مکی ج2 ص 51 ) یعنی لوگو یہ نہ کہا کرو کہ یہ ابوحنیفہ رحمة الله عليه کی رائے ہے بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث کی تفسیر وبیان ہے ایک دوسرے موقع پر انہی امام المحدثین عبداللہ بن مبارک رحمة الله عليه نے امام صاحب رحمة الله عليه کی اصابت رائے اوراس کی ضرورت واہمیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے: "”ان کان الاثر قد عرف واحتیج الی الرأی، فرأی مالک، وسفیان، وابی حنیفة، وابوحنیفة احسنہم وادقہم فطنة واغوصہم علی الفقہ، وہو افقہ الثلاثة“ (تاریخ بغداد للخطیب، ج:۱۳،ص:۳۴۳) یعنی اگر حدیث معلوم ومعروف ہو اور (اس کی مراد کی تعیین میں) رائے کی ضرورت ہوتو امام مالک، امام سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہؒ کی رائے (ملحوظ رکھنی چاہیے) اور امام ابوحنیفہ رحمة الله عليه ان تینوں میں فہم وادراک میں زیادہ بہتر اور فقہ کی تہہ تک زیادہ پہنچنے والے تھے۔
حضرت امام شافعی رحمہ الله فرماتے ہیں ”جو شخص فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابو حنیفہ رحمہ الله اور ان کے اصحاب کو لازم پکڑے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ الله کے خوشہ چین ہیں۔“حضرت امام شافعی رحمہ الله يہ بھی فرماتے ہیں ”میں نے ابو حنیفہ رحمہ الله سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہیں دیکھا“
دین کی پہچان اور امام ابوحنیفہؒ
حضرت عطاء بن ابی رباحؒ کے ساتھ امام ابوحنیفہؒ کا واقعہ:
اور حکایت نقل کی ہے علامہ ابن بطالؒ نے ((شرح بخاری)) میں امام ابوحنیفہؒ سے : انہوں نے فرمایا : "میں نے ملاقات کی حضرت عطاء بن ابی رباحؒ سے مکہ میں ، پس میں نے سولہ کیا ان سے کسی شیء کے بارے میں؟ تو انہوں نے فرمایا : تو کہاں سے ہے؟ میں نے کہا : کوفہ والوں سے. فرمایا : تم اس شہر سے ہو جنہوں نے علیحدگی اختیار کی اپنے دین سے اور ہوگۓ شیعہ (فرقہ/الگ جماعت)؟ میں نے کہا : جی ہاں. آپ نے فرمایا : تو تم کس قسم کے لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا : ان لوگوں میں سے جو نہیں برا کہتے سلف (گزرے ہوۓ نیک بزرگوں: صحابہ کو)، اور جو ایمان رکھتے ہیں تقدیر پر، اور جو نہیں کافر کہتے کسی ایک کو بھی اس کے گناہ کے سبب. تو فرمایا حضرت عطاء (بن ابی رباحؒ) نے : تو نے خوب پہچان لیا (دین کو) پس اب اسے لازم پکڑنا". (یعنی اسی پر قائم رہنا)[الاعتصام للإمام الشاطبي : ١/٨٢]
تخریج :
١) حلية الأولياء ، لابي نعيم : ٣/٣١٤
٢) مناقب الإمام أبي حنيفة ، لامام ألكردري : ٧٦
٣) العقد الثمين ، للفاسي : ٦/٩١.
حضرت ابوبکر مروزی رحمہ الله فرماتے ہیں ، میں نے حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ الله کو يہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہمارے نزديک يہ بات ثابت نہیں کہ ابو حنیفہ رحمہ الله نے قرآن کو مخلوق کہا ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ الحمد لله، اے عبدالله (یہ امام احمد بن حنبل کی کنیت ہے) ان کا علم تو بڑا مقام ہے ، فرمانے لگے:”سبحان الله وہ تو علم، ورع، زہد، اور عالم آخرت کو اختیار کرنے میں اس مقام پر ہیںجہاں کسی کی رسائی نہیں“(مناقب الامام ابوحنیفہؒ ص27 )
حارث بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم حضرت عطاءؒ کے پاس بیٹھے ہوتے تھے، جب امام ابوحنیفہؒ آتے توان کے لیے حضرت عطاءؒ جگہ بناتے اور اپنے قریب بٹھاتے، ابوالقاسمؒ نے ایک مرتبہ حضرت عطاءؒ سے عرض کیا کہ آپ کے نزدیک امام ابوحنیفہؒ بڑے ہیں یاسفیان ثوریؒ؟ توانھوں نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہؒ میرے نزدیک ابنِ جریجؒ سے بھی زیادہ فقیہ ہیں، اُن سے زیادہ فقہ پر قادر شخص میری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔(تذکرہ النعمان:۱۷۱)
حضرت سفیان بن عینیہ رحمہ الله فرماتے ہیں: ”میری آنکھ نے ابو حنیفہ رحمہ الله کی مثل نہیں ديکھا“(مناقب الامام ابوحنیفہؒ ص19) آپ يہ بھی فرماتے تھے:علماء تو يہ تھے ابن عباس رضی الله عنہ اپنے زمانے میں، امام شعبی رحمہ الله اپنے زمانے میں، ابو حنیفہ رحمہ الله اپنے زمانے میں، اور سفیان ثوری رحمہ الله اپنے زمانے میں۔(اخبار ابی حنیفة واصحابہ ص76)
اقوالِ امام ابوحنیفہؒ احادیث کے مطابق ہوتے:
مشہور ثقہ محدث علی بن خشرم کا بیان ہے کہ ہم امام سفیان بن عیینہ کی مجلس میں تھے تو انھوں نے کہا: اے حدیث سے اشتغال رکھنے والو، حدیث میں تفقہ حاصل کرو ایسا نہ ہو کہ تم پر اصحاب فقہ غالب ہوجائیں، امام ابوحنیفہ رحمة الله عليه نے کوئی بات ایسی نہیں بیان کی ہے کہ ہم اس سے متعلق ایک، دو حدیثیں روایت نہ کرتے ہوں۔
[معرفة علوم الحدیث للحاکم، ص:66]
[معرفة علوم الحدیث للحاکم، ص:66]
(تشریح: امام سفیان بن عیینہ نے اپنے اس ارشاد میں حاضرین مجلس کو دو باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے ایک یہ کہ وہ الفاظ حدیث کی تحصیل و تصحیح کے ساتھ حدیث کے معنی وفقہ کے حاصل کرنے کی بھی سعی کریں دوسرے امام صاحب کی اصابت رائے اور بصیرت فقہ کی تعریف میں فرمایاکہ ان کی رائے وفقہ حدیث کے مطابق ہے کیوں کہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اس کی تائید وتوثیق کسی نہ کسی حدیث سے ہوجاتی ہے۔ )
حافظ أبو نعيم أصفهانيؒ نے "مسند ابوحنیفہؒ" میں بسند_متصل یحییٰ بن نصر صہب کی زبانی نقل کیا ہے کہ :
"دخلت على أبي حنيفة في بيت مملؤ كتابا، فقلت : ما هذه ؟ قال : هذه أحاديث كلها وما حدثت به إلا اليسير الذي ينتفع به".
[مناقب الامام الاعظم : ١/٩٥]
[مناقب الامام الاعظم : ١/٩٥]
ترجمہ: میں امام ابوحنیفہؒ کے ہاں ایسے مکان میں داخل ہوا جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا. میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ یہ سب کتابیں حدیث کی ہیں اور (کمال_احتیاط کے سبب) میں نے ان میں سے تھوڑی سی حدیثیں بیان کی ہیں جن سے نفع اٹھایا جاۓ.
(3) امام ابوحنیفہؒ کو امامِ اعظم کہنے والے ائمہ کرام:
بغیر علم حدیث کے کوئی فقہ نہیں رکھتا، اور امام شافعی نے فرمایا کہ فقہ میں سب ابوحنیفہ کے عیال(ماتحت ومحتاج)ہیں۔ اسی لئے امام جرح والتعدیل امام ذہبی، حبر العلم امام سیوطی اور دیگر متعدد سلف ائمہ حدیث نے ابوحنیفہ کو امام اعظم لکھا ہے، امام بخاری کیلئے نہیں کہا گیا۔
حوالہ جات، کتب العقائد:
(1)ابوالحسن الاشعري{324ھ}
[الابانة عن اصول الدیانة» 1/ 90]
(2) الطِّيبي {743هـ}
[فتوح الغيب:11/ 487]
(3) ابن الوَزِير{840هـ}
[الرَّوضُ البَاسمْ : 2/ 325، العواصم والقواصم:2/ 84]
(4) الدَّوَّاني {918هـ}
[الحجج الباهرة في إفحام الطائفة الكافرة الفاجرة: ص309]
(5) ملا علي قاري{1014ھ}
[أدلة معتقد أبي حنيفة في ابوي الرسول: 1/ 62]
(6)السفاريني الحنبلي {1188ھ}
[لوامع الانوار البهية»2/ 459]
کتب علوم القرآن والتفسیر:
[احکام القرآن للشافعي»1/ 6، روح البیان:5/235، روح المعاني:2/404، تفسیر المنار:1/76، المعجزة الكبرىٰ القرآن:1/415، التغيير والمفسرون:1/251، التفسیر الواضح:1/485، تفسیر سورۃ الحجرات، عطية بن محمد سالم:7/9]
کتبِ حدیث وشروح الحدیث:
(1) امام ابو الوليد الباجي{474ھ}
[المنتقىٰ شرح المؤطا:4/91]
(2) امام الخوارزمي {665هـ}
[مسانيد الإمام الأعظم أبي حنيفة]
(3) امام ابن الرجب الحنبلي{795ھ}
[فتح الباری شرح البخاري:6/153، 5/216]
(4) ابن المُلَقِّن {804ھ}
[التوضيح لشرح الجامع الصحيح:21/ 324]
(5) بدر الدين العيني {855ھ}
[نخب الأفكار ۔۔۔ في شرح معاني الآثار: 4/ 103]
(6) امام ابن الجزري{833ھ}
[مناقب الاسد الغالب: حدیث95]
(7) السُّيُوطي {911ھ}
[شرح سنن ابن ماجه: ص110+205]
(8) القَسْطَلَّاني {923ھ}
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:10/ 108، حدیث6966]
(9) ملا علي القاري{1014ھ}
[شرح مسند أبي حنيفة:1/ 5، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:1/ 29، شرح نخبة الفكر: ص518]
(10) عبد الحق الدِّهْلوي {1052ھ}
[لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:1/ 92]
(11) العَزِيزي {1070هـ}
[السراج المنير شرح الجامع الصغير:4/ 147]
(12) عثمان الكماخي{1171هـ}
[المهيأ في كشف أسرار الموطأ:1/ 40، حدیث#210,]
(13) عَبْد الحَيّ اللكنوي {1304هـ}
[التعليق الممجد على موطأ محمد:1/ 120]
(14) خليل السهارنفوري{1346هـ}
[بذل المجهود في حل سنن أبي داود:1/ 122]
(15) محمد الأمين الهرري{1348 هـ -؟}
[الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم:5/ 327]
(16) محمود خطاب السُّبْكي{1352هـ}
[المنهل العذب المورود شرح سنن الإمام أبي داود:4/ 327]
(17) أنور شاه الكشميري{1353هـ}
[فيض الباري على صحيح البخاري:2/ 204]
(18) الفاداني المكي{1411ھ}
[العجالة في الحديث المسلسلة: 1/38]
کتبِ فقہ واصولِ فقہ:
(1) امام عبد العزيز البخاري {730هـ}
[كشف الأسرار شرح أصول البزدوي: 1/ 10]
(جاری)
حضرت امام ابوحنیفہؒ امامِ اعظم کیوں؟
حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی سب بالاتفاق حضرت امام ابوحنیفہؒ کو امامِ اعظم کہتے ہیں. اس کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ امام صاحب کے بارے میں جن احادیث میں پیش گویاں ہیں، ان میں اعظم کا لفظ آیا ہے.
(١) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعْظَمُ النَّاسِ نَصِيبًا فِي الإِسْلامِ أَهْلُ فَارِسَ ، لَوْ كَانَ الإِسْلامُ فِي الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ فَارِسَ " . ( الثريا : مجموعة من نجوم السماء)۔
[أخبار أصبهان لأبي نعيم : ١/١٠، رقم الحديث: ٩ [كنز العمال : ١٢/١٦٩، رقم الحديث: ٣٤١٢٦ ( ك في تاريخه والديلمي - عن أبي هريرة )]
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہؓ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ
اسلام میں بڑا حصہ (نصیب) فارس والوں کا ہے، اگر دین ثریا ستارے پر بھی ہوگا تو فارس-والے اسے لے آئیں گے. (ثریا یعنی آسمان کے ستاروں کا مجموعہ)۔
فائدہ: ظاہر ہے کہ جن کا اسلام میں نصیب "اعظم"(بڑا) ہو، ان کا امام بھی اعظم ہے، صحابہ (رضی الله عنھم) کے بعد سب نے اپ کو اعظم مانا اور دنیا میں "سوادِ اعظم" آج تک آپکے مقلدین کا ہے."السواد الاعظم" عربی زبان میں "عظیم-ترین(سب سے بڑی)جماعت" کو کہتے ہیں.
[الصحاح للجوهري:١/٤٨٩]
چونکہ قرآن پاک میں اسلا مکا دوسرا نام ((دین حنیف)) ہے جس کی تکمیل آنحضرت پر ، تمکین صحابہ کے ذریعہ ہوئی اور تدوین میں اولیت کا شرف امام صاحب کو نصیب ہوا، اسی لئے پوری امت بالاتفاق آپ کی "وصفی کنیت" ابوحنیفہؒ قرار پائی یعنی دین حنیف کے پہلے مدون
اختلاف کا حل حدیثِ سوادِ اعظم سے
حضرت انسؓ رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ: میری امت کسی گمراہی پر"جمع" (متفق) نہیں ہوگی بس جب تم (لوگوں میں) اختلاف دیکھو تو سوادِ اعظم (بڑی-جماعت) کو لازم پکڑلو(یعنی اس کی اتباع کرو)۔
[سنن ابن_ماجہ: کتاب الفتن، باب السواد الاعظم]
دوسری روایت میں حضرت ابنِ عمرؓ سے حدیث میں ہے ... بس تم"سوادِ اعظم کا اتباع کرو، کیونکہ جو شخص الگ راستہ اختیار کریگا جہنم میں جا رہیگا.
[مستدرک حاکم: کتاب العلم، ١/١١٥]
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت یزید بن ہارون رحمہ الله فرماتے ہیں ”ابوحنیفہ رحمہ الله میں پرہیز گار، پاکیزہ صفات، زاہد، عالم، زبان کے سچے، اور اپنے اہل زمانہ میں سب سے بڑے حافظ حدیث تھے۔ میں نے ان کے معاصرین میں سے جتنے لوگوں کو پایا سب کو یہی کہتے سنا کہاس نے ابو حنیفہ رحمہ الله سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہیں دیکھا“ (اخبار ابی حنیفة واصحابہ ص36)
حافظ حدیث ابوعمر ابن عبدالبر مالکی اندلسی (المتوفی ۴۶۳ھ) اپنی کتاب ”جامع بیان العلم“ میں فرماتے ہیں کہ امام حدیث اعمش (سلیمان بن مہران) کی مجلس میں ایک شخص آیا اور اعمش سے کوئی مسئلہ دریافت کیا، آپ کوئی جواب نہ دے سکے ،دیکھا کہ امام ابوحنیفہؒ تشریف رکھتے ہیں، فرمایا کہ: کہئے نعمان! کیا ہے ،جواب؟ امام ابو حنیفہؒ نے فوراً جواب دے دیا ۔ امام اعمش نے پوچھا : ابوحنیفہ! تم نے کہاں سے یہ جواب دیا؟ ابو حنیفہؒ نے فرمایا : آپ ہی نے تو مجھے فلاں حدیث اپنی سند سے بیان کی تھی، اسی سے یہ مسئلہ اس طرح نکلتاہے الخ۔ امام اعمش یہ دیکھ کر بے ساختہ فرمانے لگے: " نَحْنُ الصَّيَادِلَةُ وَأَنْتُمُ الأَطِبَّاءُ ".[جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر (368-463هـ) » بَابُ ذِكْرِ مَنْ ذَمَّ الإِكْثَارَ مِنَ الْحَدِيثِ ...، رقم الحديث: 1195]
(شرف اصحاب الحدیث ونصیحۃ اہل الحدیث ص261) [الثقات لابن حبان:8/467]
امام سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ متقدمین نے فرمایا ہے:
ﻗﺎﻟﺖ اﻷﻗﺪﻣﻮن: اﻟﻤﺤﺪث ﺑﻼ ﻓﻘﮫ ﻛﻌﻄﺎر ﻏﯿﺮ طﺒﯿﺐ ﻓﺎﻷدوﯾﺔ ﺣﺎﺻﻠﺔ ﻓﻲ دﻛﺎﻧﮫ وﻻ ﯾﺪري ﻟﻤﺎذا ﺗﺼﻠﺢ, واﻟﻔﻘﯿﮫ ﺑﻼ ﺣﺪﯾﺚ ﻛﻄﺒﯿﺐ ﻟﯿﺲ ﺑﻌﻄﺎر ﯾﻌﺮف ﻣﺎ ﺗﺼﻠﺢ ﻟﮫ اﻷدوﯾﺔ إﻻ أﻧﮭﺎ ﻟﯿﺴﺖ ﻋﻨﺪه.
[أثر الحديث الشريف في إختلاف الأئمة الفقهاء: 108 بحواله الحاوي للفتاوى: 2/398]
یعنی محدث بغیر فقہ کے ایسا "دوا فروش" ہے جو طبیب نہیں، اس کی دکان میں دوائیں ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ کس مرض کا علاج ہے اور بغیر حدیث کے فقیہ کی مثال جس کو یہ تو علم ہے کہ فلاں مرض کی دوا فلاں ہے لیکن اس کے پاس دوائیں نہیں تو وہ علاج (مریض کو مطمئن) کیسے کرے؟
ﻗﺎﻟﺖ اﻷﻗﺪﻣﻮن: اﻟﻤﺤﺪث ﺑﻼ ﻓﻘﮫ ﻛﻌﻄﺎر ﻏﯿﺮ طﺒﯿﺐ ﻓﺎﻷدوﯾﺔ ﺣﺎﺻﻠﺔ ﻓﻲ دﻛﺎﻧﮫ وﻻ ﯾﺪري ﻟﻤﺎذا ﺗﺼﻠﺢ, واﻟﻔﻘﯿﮫ ﺑﻼ ﺣﺪﯾﺚ ﻛﻄﺒﯿﺐ ﻟﯿﺲ ﺑﻌﻄﺎر ﯾﻌﺮف ﻣﺎ ﺗﺼﻠﺢ ﻟﮫ اﻷدوﯾﺔ إﻻ أﻧﮭﺎ ﻟﯿﺴﺖ ﻋﻨﺪه.
[أثر الحديث الشريف في إختلاف الأئمة الفقهاء: 108 بحواله الحاوي للفتاوى: 2/398]
یعنی محدث بغیر فقہ کے ایسا "دوا فروش" ہے جو طبیب نہیں، اس کی دکان میں دوائیں ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ کس مرض کا علاج ہے اور بغیر حدیث کے فقیہ کی مثال جس کو یہ تو علم ہے کہ فلاں مرض کی دوا فلاں ہے لیکن اس کے پاس دوائیں نہیں تو وہ علاج (مریض کو مطمئن) کیسے کرے؟
[اختلاف_ائمہ اور حدیث_ نبوی:١٣٦ بحوالہ الحاوي للفتاوى: 2/398]
یعنی ہمارا (محدث کا) کام عطار کا ہے، جڑی بوٹی لانا، پتیوں پودوں کو جمع کرنا، اور انھیں مرتبان میں رکھ کر دکان سجانا. ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم یہ بتائیں کہ بکھر میں کونسا جوشاندہ استعمال کیا جاۓ، ہمارا کام تو یہ ہے کہ ہم دوائیں اکٹھا کردیں اس کے بعد آپ ڈاکٹر و حکیم (فقہاء) سے نسخہ لائیں، ہم اس نسخہ کے مطابق آپ کو دوا دیں گے یعنی فقیہ جب کوئی مسئلہ بتاۓ گا تو اس مسئلے کے مستدلات آپ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں، اجتہاد و گہری و گیرائی ہمارے بس کی بات نہیں، فقہاء و محدثین میں یہ فرق ہے.
فقيه الحديث امامِ اعظم ابوحنیفہؒ
عبيدالله بن عمرو نے مروی ہے کہ [میں امام اعمش کی مجلس میں ایک شخص آیا اور ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا، آپ کوئی جواب نہ دے سکے، دیکھا کہ امام ابوحنیفہ تشریف رکھتے ہیں تو(جامع بيان العلم : صفحہ # ٣٢١)] ... امام اعمش نے کہا امام ابو حنیفہؒ کو : اے نعمان ! تمہارا کیا کہنا ہے اس پر اور اس پر ؟؟؟ آپ نے کہا : یہ اور یہ . انہوں نے پوچھا : کہاں سے تم یہ کہتے ہو ؟ کہا : آپ ہی نے تو مجھے فلاں حدیث اپنی سند سے بیان کی تھی، اسی سے یہ مسئلہ اس طرح نکلتاہے الخ۔ امام اعمش یہ دیکھ کر بے ساختہ فرمانے لگے: " أنتم يا معشر الفقهاء الأطباء ونحن الصيادلة ". ترجمہ: آپ اے گروہ فقہاء! طبیب ہیں اور ہم لوگ عطار ہیں.
[الثقات لابن حبان:8/467]
[الثقات لابن حبان:8/467]
امام الجرح والتعدیل حضرت یحییٰ بن سعید القطان رحمہ الله فرماتے ہیں:”والله، ابو حنیفہ رحمہ الله اس امت میں خدا اور اس کے رسول سے جو کچھ وارد ہوا ہے اس کے سب سے بڑے عالم ہیں“
(مقدمہ کتاب التعلیم ص134)
(مقدمہ کتاب التعلیم ص134)
سید الحفاظ حضرت یحییٰ بن معین رحمہ الله سے ايک باران کے شاگرد احمد بن محمد بغدادی نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ الله کے متعلق ان کی رائے دریافت کی تو آپ نے فرمایا:”سراپا عدالت ہیں، ثقہ ہیں ایسے شخص کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جس کی ابن مبارک رحمہ الله اور وکیع رحمہ الله توثیق کی ہے“
(مناقب ابی حنیفہ ص101)
(مناقب ابی حنیفہ ص101)
علمِ حدیث کے ایسے بالغ نظر علماء کا امام ابوحنیفہؒ سے حدیث سننا اور پھراِن کے اس قدر گرویدہ ہوجانا کہ انہی کے قول پر فتوےٰ دینا حضرت امام کی علمی منزلت کی ناقابلِ انکار تاریخی شہادت ہے، حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین سے نقل کرتے ہیں:
"وکان (وکیع) یفتی برأی أبی حنیفۃ وکان یحفظ حدیثہ کلہ وکان قد سمع من ابی حنیفۃ حدیثاً کثیراً"۔
(کتاب الانتقاء:۲/۱۵۰۔ جامع بیان العلم:۲/۱۴۹)
ترجمہ:حضرت وکیع حضرت امام ابوحنیفہؒ کی فقہ کے مطابق فتوےٰ دیتے تھے اور آپ کی روایت کردہ تمام احادیث یاد رکھتے تھے اور انہوں نے آپ سے بہت سی احادیث سنی تھیں۔
حافظ شمس الدین الذہبیؒ (۷۴۸ھ) بھی وکیع کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
"وقال يحيى: مارأيت افضل منه يقوم الليل ويسرد الصوم ويفتى بقول ابي حنيفة"۔
(تذکرۃ الحفاظ:۲۸۲)
وکیع جیسے حافظ الحدیث اور عظیم محدث کا آپ کی تقلید کرنا اور فقہ حنفی پر فتوےٰ دینا حضرت امام کے مقام حدیث کی ایک کھلی شہادت ہے؛ پھرچند نہیں آپ نے ان سے کثیراحادیث سنیں،
امام اہل بلخ حضرت خلف بن ایوب رحمہ الله فرماتے ہیں:”الله تعالی سے علم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو پہنچا،آپ بعد آپ کے صحابہ کو، صحابہ کے بعد تابعین کو،پھر تابعین سے امام ابو حنیفہ رحمہ الله اور ان کے اصحاب کو ملا، اس پر چاہے کوئی خوش ہو یا ناراض“(تاریخ بغداد ۔ج13ص336)
محدث عبدالله بن داود الخریبی فرماتے ہیں:”حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ الله کی عیب گوئی دو آدمیوں میں سے ايک کے سوا کوئی نہیں کرتا، یا جاہل شخص جو آپ کے قول کا درجہ نہیں جانتا یا حاسد جو آپ کے علم سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے حسد کرتا ہے“(اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ ص79) نیز فرماتے ہیں:”مسلمانو ں پر واجب ہے کہ وہ اپنی نماز میں ابو حنیفہ رحمہ الله کے لئے دعا کیا کریں۔ کیونکہ انہوں نے حدیث وفقہ کو ان کے لئے محفوظ کیا ہے “(تاریخ بغداد ۔ج13ص344) حضرت عبدالله بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں:”اگر الله تعالی نے مجھے ابو حنیفہ رحمہ اور سفیان ثوری رحمہ الله سے نہ ملایا ہوتا تو میں بدعتی ہوتا“( مناقب الامام ابی حنیفہ ص18)
بغضِ امام ابو حنیفہؒ میں جھوٹی احادیث گھڑنے کا ثبوت
مشہور شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اسماء الرجال کے موضوع پر اپنی کتاب "تهذيب التهذيب" میں امام نسائیؒ کا یہ قول نقل کیا ہے:
ترجمہ : نعیم بن حماد سنت کی تقویت کے لئے حدیثیں گھڑا کرتے تھے اور (امام) ابو حنیفہؒ کی تنقیض میں حکایتیں گھڑا کرتے تھے اور وہ سب جھوٹی ہوتی تھیں.
[تاريخ دمشق لابن عساكر » حرف النون » ذكر من اسمه نعيم » نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادِ ... رقم الحديث: 67583]
هامش التاريخ الكبير، للبخاري: 81 / 8 ، الكامل في ضعفاء الرجال (7/16) رقم 1959 ، سير أعلام النبلاء:10/595
یہ امام بخاریؒ کے شیوخ میں سے رہے ہیں لیکن پھر بھی نعیم بن حماد کو خود امام بخاریؒ نے (کتاب الضعفاء الصغیر صفحہ 29) میں ضعیف لکھا ہے
مشہور محدث علامہ ابن عدیؒ (277 - 365 ھہ) کے استاد ابّان بن جعفر امام ابو حنیفہؒ کے خلاف روایت گھڑا کرتے تھے جو سب کے سب کذب (جھوٹ) ہیں، انہوں نے ایک دو نہیں بلکہ 300 سے زیادہ روایت ، امام ابو حنیفہؒ کے خلاف گھڑ رکھی تھیں، گمان غالب یہی ہے کہ علامہ خطیب بغدادیؒ نے اپنی "تاریخ بغداد" میں نقل کیا ہے.
[ميزان الاعتدال]
[ميزان الاعتدال]
ترجمہ : حضرت قاسم بن عباد (جو امام بخاریؒ اور امام ابو داودؒ کے استاد اور حدیث کے بہت بڑے حافظ) نے امام علی بن جعد جوھری سے روایت کی ہے کہ "امام ابو حنیفہؒ جب حدیث بیان کرتے ہیں موتی کی طرح آبدار ہوتی ہے".
علامہ ذہبی رحمہ الله ”تذکرة الحفاظ“ میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ الله کا تدکرہ ان القابات کے ساتھ کرتے ہیں:” ابو حنیفہ رحمہ الله امام اعظم اور عراق کے فقیہ ہیں........ وہ امام، پرہیز گار، عالم باعمل، انتہائی عبادت گزار اور بڑی شان والے تھے“(تدکرة الحفاظ ج1ص168)
حافظ عماد الدین بن کثیر رحمہ الله حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ الله کا تذکرہ ان الفاظ سے کرتے ہیں:”وہ امام ہیں، عراق کے فقیہ ہیں، ائمہ اسلام اور بڑی شخصیات میں سے ايک شخصیت ہیں ، ارکان علماءمیں سے ايک ہیں،ائمہ اربعہ جن کے مذاہب کی پیروی کی جاتی ہے ان میں سے ايک امام ہیں“(البدایة والنہایة ج10ص107)
خطیب بغدادی (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:
"علمِ عقائد اور علمِ کلام میں لوگ ابوحنیفہؒ کے عیال اور خوشہ چیں ہیں"۔ (تاریخ بغدادی:۱۳/۱۶۱)
مشھور محدث ابو مقاتل حفص بن سلمؒ امام ابو حنیفہؒ کی فقہ و حدیث میں امامت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں :
وكان أبو حنيفة إمام الدنيا في زمانه فقها و علما و ورعا، قال : وكان أبو حنيفة محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة ولقد ضرب بالسياط على الدخول في الدنيا لهم فابى".
ترجمہ : امام ابو حنیفہؒ اپنے زمانہ میں (حدیث، فقہ و تقویٰ میں) دنیا کے امام تھے، ان کی ذات آزمائش تھی جس سے اہل السنّت والجماعت اور اہل البدعت میں فرق و امتیاز ہوتا تھا، انھیں کوڑوں سے مارا گیا تاکہ وہ دنیاداروں کے ساتھ دنیا میں داخل ہوجائیں (کوڑوں کی ضرب برداشت کرلی) مگر دخول_دنیا قبول نہ کیا.
امام عبد العزیز بن ابی داودؒ فرماتے ہیں : "أبو حنيفة المحنة من أحب أبا حنيفة فهو سنيي ومن أبغض فهو مبتدع" [أخبار أبي حنيفة و أصحابه لامام صميري : ص ٧٩]؛
امام ابو حنیفہؒ آزمائش ہیں، جو ان سے محبت رکھتا ہے وہ سنی ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ بدعتی ہے.
######################
حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ الله کے
متعلق مذکورہ چند اکابر اعلام کے چیدہ چیدہ اقوال نقل کئے گئے ہیں ، ان کے علاوہ اور بہت سے بزرگوں کے اقوال، کتب، تاریخ وتذکرہ میں موجود ہیں۔ جن سے حضرت امام صاحب کی فضلیت و منقبت، عظمت و بزرگی ظاہر ہوتی ہے۔ حضرت امام صاحب کے بارے میں ان اقوال کے موجود ہوتے ہوئے غیر مقلدین کا ان پر طعن و تشنیع کرنا، ان کی عیب جوئی اور عیب گوئی کرنا اپنی عاقبت خراب کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔یحییٰ بن معین رحمہ الله سے پوچھا گیا کیا امام صاحب رحمہ الله ثقہ ہیں آپ نے دوبار فرمایا ثقہ ہیں ، ثقہ ہیںمورخ ابن خلکان رحمہ الله لکھتے ہیں کی آپ پر قلت عربیت کے سوا کوئی نقطہ چینی نہیں کی گئ (سبحان الله ) حافظ ابن ابی داؤد رحمہ الله فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ الله کے متعلق چہ میگوئیاں کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں ان کی شان سے ناواقف یا ان کے حاسدابن مبارک نے سفیان ثوری معین رحمہ الله سے پوچھا ابو حنیفہ معین رحمہ الله غیبت کرنے سے بہت دور رہتے ہیں دشمن ہی کیوں نہ ہو فرمایا ابو حنیفہ رحمہ الله اس سے بالاتر ہیں کہ اپنی نیکیوں پر دشمن کو مسلط کریں –یہ ایک حقیقت ہے کہ امام صاحب کے شاگردوں کی ان سے روایات کرنے والوں کی اور انہیں ثقہ و معتبر کہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے بہ نسبت نکتہ چینی کرنے والوں کےامام اعظم رحمہ الله کا علمی پایہ:شداد بن حکم رحمہ الله فرماتے ہے کہ " ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر میں نے کوئی عالم نہیں دیکھا "مکی بن ابراہیم رحمہ الله فرماتے ہیں " ابو حنیفہؒ اپنے زمانے کے سب سے بڑھے عالم تھےامام وکیع رحمہ الله فرماتے ہے " میں کسی عالم سے نہیں ملا جو ابو حنیفہؒ سے زیادہ فقیہ ہو اور ان سے بہتر نماز پڑھتا ہو "نذر بن شامل فرماتے " لوگ علم فقہ سے بے خبر پڑے تھے ابو حنیفہؒ نے انہیں بیدار کیا "محدث یحیٰ بن سعید القطان رحمہ الله فرماتے ہیں " ہم الله پاک کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتے واقعی ابو حنیفہ رحمہ الله سے بڑھ کر ہم نے فقہ میں کسی کی بات نہیں سنی اس لئے اکثر اقوال ہم نے ان کے اختیار کر لئے "امام شافعی رحمہ الله فرماتے ہیں تمام لوگ فقہ میں ابو حنیفہ رحمہ الله کے محتاج ہیں "محدث یحییٰ بن معین رحمہ الله فرماتے ہیں " فقہ تو بس ابو حنیفہ رحمہ الله ہی کی ہے"جعفربن ربیع رحمہ الله فرماتے ہے " میں پانچ سال امام صاحب کی خدمت میں رہا میں نے ان جیسا خموش انسان نہیں دیکھا جب فقہ کا مسئلہ پوچھا جاتا تو کھل جاتے اور علم کا دریا لگتے تھے "عبد الله بن ابی داؤد رحمہ الله فرماتے ہیں " اہل اسلام پر فرض ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں کے بعد امام ابو حنیفہ رحمہ الله کیلئے دعا کریںشافعی المذہب محدث خطیب تبریزی رحمہ الله 743ھ ) نے مشکو'تہ شریف جمع کی پھر الاکمال کے نام سے رجل پر کتاب لکھی انہوں نے مشکو'تہ میں اگرچہ امام صاحب سے کوئی حدیث نقل نہیں کی مگر برکت کے لئے آپ کا تذکرہ کیا فرماتے ہیں " امام ابو حنیفہ رحمہ الله بڑھے عالم تھے صاحب عمل پریز گر تھے دنیا سے بے رغبت اور عبادت گزار تھے علوم شریعت میں امام تھے اگرچہ مشکو'تہ میں ہم نے ان سے کوئی روایت نہیں لی یھاں ذکر کرنے سے ہمی غرض ان سے برکت حاصل کرنا ہے " امام صاحب رحمہ الله علو مرتبت اور اونچے علم کی اور کیا نشانی ہو سکتی ہے
حدیث بیان کرنے کی شرط اور امام ابوحنیفہؒ کا اسے بیان کرنے میں کمال احتیاط وتقویٰ:
قَالَ أَبُو يُوسُفَ ، قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ " لا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُحَدِّثَ مِنَ الْحَدِيثِ ، إِلا مَا يَحْفَظُهُ مِنْ وَقْتِ مَا سَمِعَهُ " .
یعنی ابویوسفؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ نے فرمایا: نہیں ہے جائز کسی شضص کیلئے کہ وہ بیان کرے کسی حدیث میں سے، بشرطیکہ جس وقت سے اس نے جو سنا وہ اسے یاد بھی ہو۔
یعنی ابویوسفؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ نے فرمایا: نہیں ہے جائز کسی شضص کیلئے کہ وہ بیان کرے کسی حدیث میں سے، بشرطیکہ جس وقت سے اس نے جو سنا وہ اسے یاد بھی ہو۔
[مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه » لا ينبغي للرجل أن يحدث من الحديث ، إلا ما يحفظه ...، رقم الحديث: 84]
الجواهر المضية
ألإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله كا عظيم اجتہادى أصول
الإمام الأعظم أبو حنيفة النعمان رحمه الله تعالى فرماتے ہیں
آخذ بكتاب الله ، فما لم أجد فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن لم أجد في كتاب الله ولا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، أخذت بقول أصحابه، آخذ بقول من شئت منهم، وأدع من شئت منهم ولا أخرج من قولهم إلى قول غيرهم وأما اذا انتهى الأمر الى إبراهيم والشعبي وإبن سيرين والحسن وعطا وسعيد ابن المُسيب وعد د رجالا فقوم اجتهدوا فأجتهدُ كما اجتهدوا ۔
میں سب سے پہلے کتاب الله سے۔ .. ( . مسئلہ وحکم . ) . لیتا ہوں ، اگرکتاب الله میں نہ ملے تو پهر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم اور احادیث کی طرف رجوع کرتا ہوں ، اور اگر كتاب الله وسنة اور احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم میں بهی نہ ملے تو پهر میں اقوال صحابہ کرام کی طرف رجوع کرتا ہوں اور میں صحابہ کرام کے اقوال سے باہر نہیں نکلتا ، اور جب معاملہ إبراہيم، والشعبي والحسن وابن سيرين وسعيد بن المسيب تک پہنچ جائے تو پهر میں بهی اجتهاد کرتا ہوں جیسا کہ انهوں نے اجتهاد کیا ۔
(.تاريخ بغداد. (368./13.).
(الانتقاء للامام الحافظ ابن عبدالبر مع تعلیق الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمة الله عليه، ص: ۲۶۴-۲۶۵)
حافظ ابن القیم رحمہ الله اپنی کتاب ‘‘إعلام الموقعين ’’ فرماتے هیں کہ
وأصحاب أبي حنيفة رحمه الله مجمعون على أن مذهب أبي حنيفة أن ضعيف الحديث عنده أولى من القياس والرأي ، وعلى ذلك بنى مذهبه كما قدّم حديث القهقهة مع ضعفه على القياس والرأي ، وقدّم حديث الوضوء بنبيذ التمر في السفر مع ضعفه على الرأي والقياس .... فتقديم الحديث الضعيف وآثار الصحابةعلى القياس والرأي قوله وقول الإمام أحمد "
امام أبي حنيفة رحمه الله کے اصحاب کا اس بات پراجماع ہے کہ امام أبي حنيفة رحمه الله کا مذہب یہ ہے کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث بهی رائے و قیاس سےأولى وبہتر .( .ومقدم. ) .ہے ، اور اسی اصول پر امام أبي حنيفة رحمه الله کے مذهب کی بنیاد واساس رکهی گئی ، جیسا قهقهة والی حدیث کو باوجود ضعیف ہونے کے امام أبي حنيفة رحمه الله نے قیاس ورائے پرمقدم کیا ، اور سفر میں نَبيذُ التمَر کے ساتهہ وضو والی حدیث کو باوجود ضعیف ہونے کے امام أبي حنيفة رحمه الله نے قیاس ورائے پرمقدم کیا ، پس حديث ضعيف وآثارُ الصحابة کو رائے وقیاس پرمقدم کرنا یہ الإمام أبي حنيفة رحمه الله اور الإمام أحمد رحمه الله کا قول .(.وعمل وفیصلہ .). ہے ۔
.(.(. إعلام الموقعين عن رب العالمين 77/.1 .).) .
علامہ ابن حزم ظاہری بهی یہی فرماتے ہیں کہ
‘‘جميع أصحاب أبي حنيفة مجمعون على أن مذهب أبي حنيفة أن ضعيف الحديث أولى عنده من القياس والرأي’’
.(.(.إحكام الإحكام في أصول الأحكام 54/7 .).).
یہ ہے الإمام الأعظم أبي حنيفة رحمه الله اورآپ کے اصحاب وتلامذه کا سنہری وزریں اصول جس کے اوپرمذہب حنفی بنیاد ہے ، الإمام الأعظم رحمه الله کا یہ اصول اہل علم کے یہاں معروف ہے ، اب جس امام کا حدیث کے باب میں اتنا عظیم اصول ہو اوراس درجہ تعلق ہو حدیث کے ساتھ کہ ضعیف حدیث پربهی عمل کرنا ہے ، اس امام کواور اس کے اصحاب وپیروکاروں کو حدیث کا مخالف بتلایا جائے اورجاہل عوام کو گمراه کیا جائے،تو اس طرز کو ہم کیا کہیں جہالت وحماقت یاعداوت ومنافقت ؟؟
شيخ الإسلام إبن تيمية رحمه الله كا فتوى
‘‘ومن ظنّ بأبي حنيفة أوغيره من أئمة المسلمين أنهم يتعمدون مخالفة الحديث الصحيح لقياس أو غيره فقد أخطأ عليهم ، وتكلّم إما بظنّ وإما بهوى ، فهذا أبو حنيفة يعمل بحديث التوضى بالنبيذ في السفر مع مخالفته للقياس ، وبحديث القهقهة في الصلاة مع مخالفته للقياس لاعتقاده صحتهما وإن كان أئمة الحديث لم يصححوهما’’
اورجس نے بهی امام أبي حنيفة یا ان کے علاوه دیگر أئمة ُالمسلمين کے متعلق یہ گمان کیا کہ وه قياس یا ( رائے ) وغیره کی وجہ سے حديث صحيح کی مُخالفت کرتے ہیں تو اس نے ان ائمہ پر غلط. ( .وجهوٹ .) .بات بولی ، اور محض اپنے گمان وخیال سے یا خواہش وہوئی سے بات کی ، اور امام أبي حنيفة تو نَبيذُ التمَر کے ساتهہ وضو والی حدیث پر باوجود ضعیف ہونے کے اور مُخالف قیاس ہونے کے عمل کرتے ہیں الخ
.(.(. مجموع الفتاوي لابن تيمية 304/20، 305.).).
شيخ الإسلام إبن تيمية رحمه الله کا فتوی بالکل واضح ہے یعنی امام اعظم کے مُتعلق اگرکوئی یہ گمان وخیال بهی کرے کہ وه صحیح حدیث کی مخالفت کرتے ہیں اپنی رائے وقیاس سے تو ایسا شخص شيخ الإسلام إبن تيمية رحمه الله کے نزدیک خیالات وخواہشات کا پیروکار ہے اور ائمہ مُسلمین پرجهوٹ وغلط بولنے والا ہے ۔کیا شيخ الإسلام إبن تيمية کے اس فتوی کا مصداق آج کل کا جدید فرقہ اہل حدیث نہیں ہے جو رات دن کا مشغلہ ہی یہی بنائے ہوئے ہیں ؟؟؟
میں نے حافظ ابن القیم رحمہ الله اور ان کے شیخ شيخ الإسلام إبن تيمية رحمہ الله کی تصریحات نقل کیں ، عجب نہیں کہ حافظ ابن القیم رحمہ الله شيخ الإسلام إبن تيمية رحمہ الله کا یہ اعلان فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل جُہلاء کے لیئے باعث ہدایت بن جائے ۔اور یہ بهی یاد رہے کہ فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل جاہل نام نہاد شیوخ عوام کو گمراه کرنے کے لیئے یہ وسوسہ پهیلاتے ہیں کہ فقہ حنفی‘‘ حدیث ’’کے بالکل مخالف ہے ، گذشتہ سطور میں آپ نے ملاحظہ کرلیا کہ امام اعظم اورآپ کے اصحاب بالاتفاق ضعیف حدیث پرعمل نہیں چهوڑتے چہ جائیکہ صحیح حدیث کو چهوڑ دیں ، اس سلسلہ میں ایک اور مثال عرض کرتا ہوں۔
دیگرمُحدثین کے یہاں اور خود فرقہ جدید اہل حدیث کے یہاں بهی ‘‘ مُرسَل حدیث’’ ضعیف اور ناقابل احتجاج ہے ، جب کہ امام اعظم اور آپ کے اصحاب ‘‘ مُرسَل حدیث ’’ کو بهی قبول کرتے ہیں ، اور قابل احتجاج سمجهتے ہیں بشرطیکہ ‘‘ مُرسِل’’ ثقہ وعادل ہو۔




















No comments:
Post a Comment