- سوال نمبر: 167633
- عنوان:
- اذان میں انگوٹھا چومنا کیا ہے ؟
- سوال:
- انگوٹھا چومنے کے مسئلہ میں حنفی علما کی کیا رائے ہے ؟ کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟ ثبوت کے ساتھ جواب عطا کریں. دو شخص میں اختلاف ہو گیا تو ایک نے کہا مستحب اور ایک نے کہا بدعت ہے تو مستحب کہنے والے نے علم الفقہ نام کی ایک کتاب دکھائی جس مین لکھا تھا کہ اذان سننے والا پہلی مرتبہ صلی اللہ علیک یا رسول اللہ کہے اور دوسری مرتبہ انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھ میں رکھ کر کہے قرة عینی بک یا رسول اللہ.... تو اس سے کہا گیا کہ آپ لوگ ضروری سمجھتے ہیں اس لیے اس لیے اس سے منع کیا جاتا ہے ، تو اس نے کہا ہم ضروری نہیں مستحب ہی سمجھتے ہیں اس لیے کبھی چومتے ہیں کبھی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بغیر ضروری سمجھے ہوئے کبھی کبھار چوم سکتے ہیں یا نہیں؟ ساتھ ہی اس میں اللہ کے رسول کو لفظ یا کے ساتھ ذکر کیا حالاں کہ یا قریب کے لیے آتا ہے ؟ آپ مکمل جواب دلیل کے ساتھ عطا کریں۔
- جواب نمبر: 167633
- بسم الله الرحمن الرحيم
- Fatwa : 457-405/H=04/1440
- صحیح یہ ہے کہ مستحب ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ جن روایتوں سے اس کو ثابت کیا جاتا ہے ان پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے فتاویٰ محمودیہ میں بحوالہ شامی لکھا ہے ․․․․․․ جرامی رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں طویل بحث کے بعد لکھا ہے کہ اس بار ے میں کوئی مرفوع حدیث موجود نہیں جس سے انگوٹھا چومنے کو مسنون یا مستحب قرار دیا جائے اھ (ج: ۳/۱۵۷، ط: دارالمعارف دیوبند)۔ پس جو شخص مستحب سمجھ کر کبھی کبھی چومنے کا قائل ہے اس کا عمل صحیح نہیں۔
- واللہ تعالیٰ اعلم
- دارالافتاء،
- دارالعلوم دیوبند
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪﮐﺴﯽ ﻓﺮﻗﮯ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﺰﻟﯿﻞ ﯾﺎﺍ ِﻧﮩﯿﮟ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺼﺪ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﻡ ؒ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔
Friday, 5 February 2021
اذان میں انگوٹھا چومنا کیا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment