لامذہب غیر مقلد عادل سیلفی صاحب فقہ حنفی کی عبارت پر اعتراض کا جواب
اصل میں جو آجکل کے رجسٹرڈ غیرمقلد ہے انکو پتا ہی نہیں ہے کس بات پر اعتراض کرنا ہے اور اعتراض کرنا ہے تو کس انداز میں کرنا ہے نا انکو عبارت سمجھ میں آتی ہے نا انکو اعتراض ڈھنک سے کرنا آتا ہے اور انکو دلائل کا پتا بھی نہیں ہوتا جیسے کہ یہاں پر اس لامذہب عادل سیلفی نے کیا ہے اس میں ایک بھی بات ایسی نہیں ہے جس پر اشکال کیا جائے اسکا سیدا سا جواب یہ ہے کہ عورت جو ہے وہ خود مختار ہے وہ جس سے چاہے نکاح کرنا چاہے یا نا کرنا چاہے تو وہ مرضی کی مالک ہے ظاہر سی بات ہے اپ کسی لڑکی یا لڑکے کا نکاح اسکی مرضی کے خلاف نہیں کر سکتے شریعت میں اسکی اجازت نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے اسکے آگے جو لکھا ہے جیسا کہ روایت میں ہے
لڑکی کا نکاح جو بغیر ولی کے جائز ہے دلائل اسی صفہ پر ہے مزید دلائل
بغیر ولی نکاح
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ""لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ"".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی۔
Sahih Muslim Hadees # 3375
بغیر ولی نکاح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا قَالَ نَعَمْ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، مالک، یحیی بن یحیی، عبداللہ بن فضل، نافع بطن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیوہ عورت اپنے ولی سے زیادہ نفس کی حقدار ہے اور نوجوان کنواری سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
نکاح میں کنواری لڑکی کی مرضی چلے گی نہ کہ ولی کا اختیار
Sunan e Abu Dawood # 2096
سٹیٹس صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۔
تو اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے جس پر اعتراض کیا جائے
رہی مسجد والی بات جو اس جاہل لامذہب رجسٹرڈ فرقے کے عادل سیلفی نے جس کو اسنے اسکے اوپر دلیل بنایی ہے تو اس سے مطالبہ ہے اپ پانچ وقت کی نماز کے لئے کیوں نہیں آتی ہے عورتیں نمازیں پڑھنے کے لئے صرف جمعہ اور عید کے دن کو ہی کیوں مخصوص کر رکھا ہے فرقہ رجسٹرڈ اہلحدیث نے
لہٰذا اس لامذہب رجسٹرڈ کی مثال
عواء الکلب لایظلم البدر کی ہے
اس فرقہ رجسٹرڈ فرقے کا یہ زور کیوں ہے میں بتاتا ہو یہ عورت کو مسجد میں مردوں کے ساتھ کیوں لانا چاہتے ہے اسکے پیچھے کیا حقیقت ہے لیجیے
دور برطانیہ میں جب یہ لامذہب فرقہ پیدا ہوا تو شہوت رانی میں اتنا اگے بڑھا کہ نماز میں بھی ستر عورت کا انکار کر دیا چنانچہ فتویٰ دیا کہ ہر کہ در نماز عوتش نمایاں شد نمازش صحیح باشد(عرف الجادی ص۲۲)
یعنی پوری نماز میں جس کی شرم گاہ سب کے سامنے نمایاں رہی اس کی نماز صحیح ہوتی ہے۔ اما آنکہ نماز زن اگرچہ تنہا باشد یا بازناں یا باشوھرر یا باد دیگر محارم باشد بے ستر تمام عورت صحیح نیست پس غیرمسلم ست
(بدور الابلہ نواب صدیق حسن خان ص۳۹)
یعنی عورت تنہار بالکل ننگی نماز پڑ سکتی ہے۔ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ ننگی نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے ، میاں بیوی دونوں اکھٹے مادر زاد ننگے نماز پڑھین تو نماز صحیح ہے ، عورت اپنے باپ بیٹے بھائی چچا ماموں سب کے ساتھ مادر زاد ننگی نماز پڑگے تو نماز صحیح ہے۔
یہ نہ سمجھیں کہ یہ مجبوری کے مسئال ہوں گے رعلامہ وحید الزمان وضاحت فرماتے ہیں ولو صلی عرباتاً ومعہ ثوب صحت صلونہ
(نزل الابرار ج۱ ص۶۵)
یعنی کپڑے پاس ہوتے ہوئے بھی ننگے نماز پڑھیں تو نماز صحیح ہے۔
آخر ابو جہل اور مشرکین مکہ بھی تو کپڑوں کے بااوجود اتا ر کر ننگے طواف کیا کرتے تھے، نماز میں شرمگاہ کا ڈھانکنا تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک شرط ہے جس کی تقلید حرام ہے، ابو جہل کے نزدیک تو شرط نہیں اس کی تقلید کرلی گئی فقہ حنفی میں تو یہاں تک احتیاط تھی کہ نماز باجماعت میں عورت مرد کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے لیکن لامذیب اتنا عرصہ بھی عورت سے دور نہیں رہ سکتے تھے اس کو فقہ کا مسئلہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا اور نزل الابرار میں صرحتہ لکھ دیا کہ مرد عورت جماعت میں ساتھ ساتھ نماز پؑھ لیں نماز فاسد نہیں ہوتی ، اب ظاہر ہے کہ عورت مرد کے ٹخنہ ، کندھے سے کندھا اور ٹانگوں سکو خوب چوڑا کرکے کھڑی ہو گی، حنفی مذہب ممیں عورت کو سمٹ کر سجدہ کرنے کا حکم تھا تاکہ اس کے ستر کا احترم رہے ، لامذہبوں نے عورتوں کو حکم دیا کہ بالکل مردوں کی طرح خوب اونچی ہو کر سجدہ کریں بازو بیٹ اور پسلیوں سے اتنے دور ہوں کہ درمیان سے بکری کا بچہ گزر سکے، ہندہ گنگا کا غسل بھی کرتے ، دیوی کا درشن بھی، لامذہب اس درشن میں کنکن امور پر توجہ دیتے تھے فرماتے ہیں۔”بہتر عورت وہ ہے جس کی فرج تنگ ہو جو شہوت کے مارے دانت رگڑر رہی ہو اور جماع کراتے وقت کروٹ سے لیٹتی ہو۔
(لغات الحدیث علامہ وحید الزمان غیرمقلد)
عورت کو خوبصورتی قائم رکھنے کا نسخہ بھی بتایا گیا کہ ”عورت کو زیر ناف بال استرے سے صاف کرنے چاہئیں اکھاڑنے سے محل ڈھیلا ہو جاتا ہے۔(فتاویٰ نذیریہ )
اب ایسی حالت کہ مرد عورت ننگے نمازیں پڑھ رہے ہوں عورت سجدہ بھی کھل کر کر رہی ہو عورت کی شرمگاہ پر نظر پڑنا لازمی تھا ، ہو سکتا تھا کہ کوئی ذرا جھجت محسوس کرتا اس لئے اسے بتا دیا گیا کہ ہچییں دلیلے برکرااہت نظر ددرباطن فرج نیا مدہ (بدور الاہلہ ص۱۷۵)
عورت کی شرمگاہ کے اندر جھانکنا بالکل مکروہ بھی نہیں اور چوتڑوں پر نظر ہر وقت رہے گی اس لئے فتویٰ دیا کہ ”در جواز استمتاع وغیرہ از فخذین وظاہر الیتین ونحوآں خود ہیج شک و شبہ نہ باشد و سنت صحیحہ بداں دار د گشتہ“ (بدور الابلہ ص۱۷۵)
یعنی چوتڑوں اور رانوں سے فائدہ اٹھانا بے شک و شبہ جائز ہے بلکہ سنت صحیحہ سے ثابت ہے اب کون غیرمقلد مرد ہو گا جو اس صحیح سنت پر عمل نہ کرے خاص طور پر جبکہ یہ سنت مردہ بھی ہو چکی ہو اور ااس کو زندہ کرنے میں سو شہید کا ثواب بھی مے تو ہم خرماد ہم ثواب پر عمل کیسے چھوڑا جائے۔ اب اس ڈرامے میں اگر مرد کو انتشار ہو جائے تو وہ عضو مخصوص ککو ہاتھوں سے زور سے دبائے ہوئے نماز پڑھتا رہے۔(نزل الابرار ) ایسے وقت میں تو رفع یدین بھول جائے گی کیونکہ بڑے اہم کام مین مشغول ہیں ایسے وقت میں عورت کی شرمگاہ سے رطوبت خارج ہو تو بھی مضائقہ نہیں کیونکہ عورت کی شرمگاہ کی رطبت پاک ہے۔(کنز الحقائق ص۱۶ ، نزل الابرار ج۱ص۴۹ تیسیر الباری ج۱ص۲۰۷)
اور اگر منی بھی بہہ جائے تو کیا خوف وہ بھی تو پاک ہے۔(عرف الجادی ص۱۰،نزل الابرار ج۱ص۴۹، کنز الحقائق ص۱۶ ،بدور الابلہ ص۱۵ ، تیسیر الباری ج۱ص۲۰۷)
اور اتنا ہی نہیں بلکہ ایک جگہ لکھا ہے ایک ”ہمارے مذہب میں ایک قول کے مطابق منی کا کھانا جائز ہے“۔(فقہ محمدیہ ج۱ ص۴۶)
اور یہ سب کچھ قرآن اور حدیث کے نام پر ہو رہا تھا اور رات دن تقریر و تحریر کے ذریعہ یہی اعلانات کئئے جاتے تھے کہ ہمارا ہر ہر مسئلہ قرآن و حیدث کا مسئلہ ہے تو احناف نے پوچھ لیا کہ ذرا ان مسائل پر آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ پیش فرمائیں تو ان کے عمل بالحدیث کا بھانڈا چور ستے پھوٹ گیا، بجائے احادیث پیش کرنے کے لگے فقہا احناف کو گالیاں بکنے، آج بھی آپ اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ہم ان سے ثبوت مانگتے ہیں کہ اپنی نماز کا ہر ہر جزئی مسئلہ احادیث صحیحہ سے ثابت کرو تو اس کی بجائے فقہاء کو گالیاں بکنا شروع کر دیتے ہیں ماب جس فرقہ کی شہوت رانی کا یہ عالم ہو وہ قران کیا یاد کر سکتے ہیں
یہی وجہ ہے یہ ان مسائل کا مزہ لینا چاہتے ہے بےشرم لوگ
🤲طالب دعا
طالب علم

No comments:
Post a Comment