Wednesday, 3 March 2021

زبردستی کی طلاق کا مسئلہ


 *⭕اعتراض نمبر25: زبردستی کی طلاق کا مسئلہ⭕*


طالب الرحمن لکھتے ہیں:

اسلام میں زبردستی کی طلاق

لیجیے ایک اور مسئلہ جس میں احناف حدیث کی مخالف کرتے ہیں:

عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان ﷲ تجاوز لامتی عما توسوس بہ صدورھا مالم تعمل بہ او تتکلم بہ و ما استکرہوا علیہ

ابن ماجہ رقم:2044

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ وہ اس کے مطابق عمل یا کلام نہ کر لیں اور یہ بھی معاف کر دیا کہ جب کسی کو مجبور کر دیا جائے۔

ایک اور حدیث میں الفاظ یوں ہیں:

عن ابن عباس عن النبی علیہ الصلوۃ والسلام قال ان اﷲ وضع عن امتی الخطأ والنسیان وما استکرہوا علیہ

ابن ماجہ رقم:2045

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے میری امت پر سے خطا، بھول اور جس پر انہیں مجبور کر دیا جائے، معاف کر دیا ہے۔

فقہ حنفی میں زبردستی کی طلاق

اس کے مقابلے میں صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:

وطلاق المکرہ واقع

ہدایہ اولین ص338

زبردستی کی طلاق ہو جاتی ہے۔

کیا فقہ حنفیہ قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے؟ ص46، 47

🔘◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️

*دفاع احناف دیوبند یوٹیوب چینل لنک*

https://m.youtube.com/channel/UCq5oQRcOBGCDvd9mH0qdUlg

◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️◻️

پچیسویں اعتراض کا جواب

زبردستی کی طلاق کے واقع ہوجانے کا دعوی احناف کا اپنا نہیں، اس بات پر احناف کے پاس دلائل موجود ہیں۔ اگر طالب الرحمن صاحب کے نزدیک یہ مسئلہ غلط ہے تو دیکھیں یہ فتوی کہاں تک پہنچتا ہے اور کون کون سے صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اس کی زد میں آتے ہیں۔

طلاق مکرہ کے واقع ہو جانے پر دلائل

دلیل نمبر1:

عن الاعمش عن ابراہیم قالا طلاق الکرہ جائز انما افتدی بہ نفسہ

مصنف عبدالرزاق، باب طلاق الکرہ، ج 6، ص317، نمبر11463، مصنف ابن ابی شیبہ، باب من کان یری طلاق المکرہ جائزا، ج 4، ص85، نمبر18035

اس اثر میں ہے کہ زبردستی کی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

دلیل نمبر2:

عن ابن عمر قال طلاق الکرہ جائز

مصنف عبدالرزاق، باب طلاق الکرہ، ج سادس، ص317، نمبر11465

اس اثر میں ہے کہ زبردستی کی طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہی بات حضرت شعبی، قاضی شریح، سعید بن مسیب، ابن سیرین اور حضرت عبداﷲ بن عمر فرماتے ہیں۔

دلیل نمبر3:

عن ابی ہریرۃ ان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قال ثلاث جدہن جد وہزلہن جد، النکاح، والطلاق، والرجعۃ

ابوداود شریف، باب فی الطلاق علی الھزل، ص317، نمبر2194، ترمذی شریف، باب ما جاء فی الجد والہزل فی الطلاق، ص288، نمبر1184

ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ہیں ان کو قصداً کرے یا ہنسی سے کرے وہ صحیح ہو جائیں گی۔ ایک نکاح، دوسری طلاق، تیسری رجعت (اپنی طلاق کے بعد رجوع کرنا) جب مذاق میں طلاق واقع ہو سکتی ہے تو زبردستی میں بدرجہ اولیٰ طلاق واقع ہو گی۔

دلیل نمبر4:

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مخبوط الحواس کے علاوہ ہر ایک (بالغ) کی طلاق جائز ہے (یعنی واقع ہو جاتی ہے(

بخاری تعلیقًا، باب الطلاق فی الاعلاق والکرہ، ج2 ص794

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نشہ والے اور مجبور کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے یہی احناف کا مسلک ہے۔

دلیل نمبر5:

صفوان بن عمران الطائی سے روایت ہے کہ ایک آدمی سو رہا تھا کہ اس کی بیوی چھری لے کر آئی اور چھری اس کے سینے پر رکھ کر کہا کہ مجھے طلاق دے دے ورنہ میں تجھے ذبح کر دوں گی۔ پس اس نے مرعوب ہو کر طلاق دے دی پھر وہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا اور قصہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام سے بیان کیا تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا لا قیلولۃ فی الطلاق یعنی طلاق واقع ہو گئی ہے۔

احیاء السنن ج3 ص349

دلیل نمبر6:

مصنف عبدالرزاق میں ابن عمر کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے مجبور کیے جانے والے کی طلاق کو نافذ کر دیا۔

دلیل نمبر7:

اس طرح شعبی، نخعی، زہری، قتادہ اور ابو قلابہ کے بارے میں بھی کتب احادیث میں مروی ہے کہ انہوں نے مکرہ (مجبور کیے گئے) کی طلاق کو نافذ کر دیا۔

احیاء السنن ج3 ص349

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

مزید اسلامی بیانات۔باطل فرقوں کے جوابات اور دلائل والے تفصیلی پوسٹ اور مسائل کیلئے فیس بک پیج کو لائک اور شیر کرے گرام چینل*

No comments:

Post a Comment