Thursday, 23 April 2020

کیا بعض ائمہ احناف آٹھ تراویح کے قائل تھے


🚫کیا بعض ائمہ احناف آٹھ تراویح کے قائل تھے ؟🚫
ایک جاہل غیر مقلد #Yehya_Qurashi  نامی کے جھوٹ کا پوانٹ ٹو پوانٹ جواب
قارئین :غیر مقلد کا یہ اعتراض دراصل جھوٹ کا پلندہ ہے اور بالکل سفید جھوٹ ہے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات بابرکات علیہ الصلوٰۃ و السلام پر سراسر بہتان ہے کیونکہ حضور ﷺ نے پوری زندگی کسی ایک صحابی کو آٹھ رکعات تراویح پڑھنے کا حکم نہیں دیا ۔ بندہ عاجز غیر مقلدیت کو چیلنچ کرتا ہے کہ پورا زور لگاکر بلکہ سر منہ کا زور لگا کر اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ثابت کریں کہ
رسول اکرم ﷺ نے کس وقت آٹھ رکعات تراویح کا حکم دیا ؟؟؟؟؟
رسول اکرم ﷺ نے آٹھ رکعات تراویح کا حکم کس کو دیا ؟؟؟؟
رسول اکرم ﷺ نے آٹھ رکعات تراویح کا حکم کب دیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آپ ﷺ کا یہ حکم کسی کتاب میں ثابت ہے ؟؟؟؟؟
آپ ﷺ کے کسی صحابی سے ثابت ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کس راوی سے ثابت ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
حدیث کی کتاب میں ثابت ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
فقہ کی کس کتاب میں لکھا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
واللہ باللہ:: اللہ کے رسول ﷺ نے کسی شخص کو آٹھ رکعات تراویح پڑھنے کا حکم نہیں دیا ۔۔ یہ غیر مقلد کا خالص جھوٹ اور نرا بہتان ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ کے پاک پیغمبر کی طرف منسوب کردیا ہے ۔۔سبحانک ھذا بھتان عظیم ۔
پوری دنیائے غیر مقلدیت : حضور اکرم ﷺ کا یہ حکم ثابت کریں ۔ ورنہ آپ ﷺ کی سخت وعید کیلئے تیار رہو ۔ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار ۔ یعنی جو شخص میری طرف جھوٹ بات منسوب کرے اسے چاہیئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈلے ۔
احناف کی شہادت 👇👇👇
آٹھ رکعات تراویح پر علمائے احناف کی شہادت
👈شبہ نمبر 1
🚫امام محمد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد خاص ایوان حنفیت کے صدر نشیں جن کی کتابوں سے آج حنفیت زندہ ہے ، دیکھئے موطاامام محمد کے ایک عنوان ''باب قیام شہر رمضان ومافیہ من الفضل ''اس مولانا عبد الحئی رحمہ اللہ صاحب لکھنوی حنفیقیام شہر رمضان پر حاشیہ لکھتے ہیں کہ یسمی التراویح یعنی قیام شہر رمضان ہی کا نام تراویح ہے امام محمد رحمہ اللہ اس باب کے ذیل میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ روایت لائے ہیں جس میں آٹھ ۸رکعت تراویح مع وتر گیارہ رکعت سے زیادہ سنت نہہونے کا ذکر ہے آپ حنفی مذہب کے موسسین میں سے ہیں۔🚫
👈الجواب
امام اعظم ابو حنیفہ کا مسلک :
مسند امام اعظم سے جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کی ہے وہ تہجد کے متعلق ہے نہ کہ تراویح کے ۔خود حدیث میںصلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیلکے الفاظ موجود ہیں جن کا معنیٰ ہے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی اور رات کی نماز سے مراد تہجد ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز تہجد تیرہ رکعات ہوتی تھی وتر بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔
حدیث مبارک میں لفظ صلوۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیلاس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام صاحب تو نماز تہجد کی رکعات ثابت کر رہے ہیں نہ کہ نماز تراویح کی ۔
مناسب ہے کہ آپ کے سامنے امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک بھی نقل کر دیا جائے تاکہ بات کھل کر سامنے آجائے ۔کتاب الآثار لابی یوسف میں روایت موجود ہےابو حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان الناس کا نو ایصلون خمس ترویحات فی رمضان۔
ترجمہ: امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ حماد سے وہ ابراھیم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک لوگ رمضان میں پانچ ترویحے یعنی بیس رکعات پڑھاتے ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے: التراویح سنۃ مؤکدۃ للرجال والنساء توارثھا الخلف عن السلف من لدن تاریخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ یومنا و ہٰکذا رویَ الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ انہا سنۃ لاینبغی ترکھا ۔۔۔۔وقد واظب علیھا الخلفاء الراشدون رضی اللہ عنہم وقال علیہ السلام علیکم بسنتی وسنۃالخلفاء من بعدی۔ )فتاویٰ قاضی خان برھامش فتاویٰ عالمگیریہ ج1ص332(
ترجمہ: نماز تراویح مردوں اور عورتوں کے لیے سنت مؤکدہ ہےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے سے لے کر آج تک ہر دور کے اخلاف)بعد والوں ( نے اپنے اسلاف)پہلے والوں ( سے اس کو توارث سے پایا ہے اور اسی طرح حسن رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ  اللہ سے روایت کیا ہے کہ بے شک تراویح سنت ہے اس کو چھوڑنا، نا مناسب ہے ،پھر لکھتے ہیں:مقدار التراویح عند اصحابنا والشافعی رحمہ اللہ ماروی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ قال القیام فی شھر رمضان سنۃ لاینبغی ترکھا یصلی اھل کل مسجد فی مسجد ھم کل لیلۃ سوی الوتر عشرین رکعۃ خمس ترویحات بعشر تسلیمات یسلم فی کل رکعتین ۔ )فتاویٰ قاضی خان ص234(
ترجمہ: تراویح کی مقدار ہمارے اصحاب وامام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو حسن رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے فرمایا قیام رمضان)تراویح(سنت ہے اس کو ترک کرنا، نا مناسب ہے ۔ہر مسجد والے اپنی مسجد میں ہر رات وتروں کے علاوہ بیس رکعات تراویح پڑھیں ۔پانچ ترویحے ۔دس سلاموں کے ساتھ اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیں ۔
بدایۃ المجتہد میں ہے: فاختار مالک فی احد قولیہ وابو حنیفۃ والشافعی و احمد وداؤد رحمہم اللہ القیام بعشرین رکعۃ سوی الوتر ۔
)بدایۃ المجتہد ج1ص210(
ترجمہ: امام مالک رحمہ اللہ  نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں اور امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام احمد اور داؤد ظاہری نے بیس رکعات تراویح کا قیام پسند کیا ہے،سوائے وتر کے۔
رحمۃالامۃ میں ہے:
فالمسنون عند ابی حنیفۃ والشافعی و احمد رحمہم اللہ عشرون رکعۃً۔ )رحمۃالامۃ ص23(
ترجمہ: امام ابو حنیفہ ، امام شافعی اور احمد  رحمہم اللہ کے نزدیک مسنون تراویح بیس رکعات ہیں۔
محترم قارئین!فقہ حنفیہ کے تمام متون اور شروحات میں التراویح عشرون رکعات اور خمس ترویحات کی تصریح موجود ہے لیکن اتنی بڑی تصریحات کے باوجود معترضین  کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نام پر عوام الناس کو دھوکہ دینا اور ان کی طرف آٹھ رکعات تراویح کی جھوٹی نسبت کرنا  نہایت تعجب خیز ہے اور حیران کن ۔
👈شبہ نمبر 2
ابن الہمام نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی بنا پرمع وتر گیارہ رکعت ہی سنتِ رسول ﷺ تسلیم کیا ہے اور بیس رکعت والی مرفوع روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔(فتح القدیر۔ج اول ص ۔۳۳۴طبعمصر)
👈الجواب
امام ابن ہمام کا شاذ قول :
محترم قارئین مذکرہ بالا امام ابن ہمام کے قول کی حیثیت  شاذ اور مرجوح  ہے اور ان کا ذاتی تفرد ہے ہمارے علماء اہل السنت اس کی تصریح  بارہا کر چکے ہیں کہ شاذ اور تفرادت کا کوئی اعتبار نہیں چنانچہ امام ابن ہمام رحمہ اللہ کے عظیم شاگرد علامہ قاسم بن قطلوبغا فرماتے ہیں: لاعبرۃ بابحاث شیخنا یعنی ابن الہمام التی خالفت المنقول یعنی فی المذہب۔ )شامی ج1ص225(
ترجمہ : ہمارے شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ کی وہ بحثیں جن میں منقول فی المذہب مسائل کی مخالفت ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
باقی  معترضین  کا یہ کہنا کہ امام ابن ہمام آٹھ رکعات تراویح کے قائل ہیں یہ  بات سراسر  بددیانتی ہے ہے کیونکہ امام ابن ہمام آٹھ رکعات تراویح کے قائل نہیں  بلکہ وہ بھی پوری امت کی طرح بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ۔
چنانچہ لکھتے ہیں:ثم استقر الامر علی العشرین فانہ المتوارث۔ )فتح القدیر ج1ص407(
یعنی بالآخر تراویح کے مسئلہ نے بیس رکعات پر استقرار پکڑا پس عمل توارث کے ساتھ چلا آرہاہے۔
امام ابن ہمام رحمہ اللہ بیس رکعات تراویح کے ہی قائل ہیں البتہ ان کا صحابہ کرام رضی اللہ  عنہم کے عمل کو مستحب سمجھنا  او رتہجد وتراویح کی الگ الگ حدیثوں کو ایک دوسرے کا معارض سمجھنا  شاذ، خلافِ اجماع ہے اور تفرد ہے۔
اہل السنت والجماعت کا  اصول ہے:وان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع .)درمختارج1ص31(
یعنی قاضی کا حکم کرنا یا مفتی کا فتویٰ دینا مرجوح قول پر جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے ۔ یعنی باطل اور حرام ہے۔
👈شبہ نمبر 3
ابن نجیم نے بھی بحر الرائق میں ابن ہمام کی بات کی تائید کی ہے اور بلا انکار مانا ہے کہ وتر کے ساتھ گیارہ رکعت ہی سنتِ نبویﷺ ہے جیسا کہ صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ثابت ہے۔( البحر الرائق۔ج ۲)
👈الجواب
امام ابنِ نجیم حنفی کا مسلک :
  ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ کے بارے میں بھی معترضین ان کی ایک عبارت سے  یہ ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں کہ وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے  حالانکہ امام ابن نجیمرحمہ اللہ فرماتے ہیں:قولہ عشرون رکعۃ‘‘بیان لکمیتھا وھو قول الجمھور لما فی المؤطا عن یزید بن رومان قال کان الناس یقومون فی زمن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بثلاث وعشرین رکعۃ و علیہ عمل الناس شرقاً و غرباً۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ج2ص66(
ترجمہ : مصنف کا قول ہے کہ تراویح بیس رکعات ہےیہ نماز تراویح کے عدد کا بیان ہے  کہ وہ بیس رکعات ہے اور یہی جمہور کا قول ہے اس لئے کہ مؤطا امام مالک رحمہ اللہ میں یزید بن رومان رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے  زمانہ میں لوگ 23رکعات پڑھتے تھے (بیس رکعات تراویح اورتین رکعات وتر) مشرق اور مغرب میں لوگوں کا اسی پر عمل ہے۔
👈شبہ نمبر 4
علامہ طحطاوی نے بھی شرح در مختار میں یہی لکھا ہے کہ مع وتر گیارہ رکعت ہی تراویح سنتِ رسول اللہﷺ ہے۔
''نفحات رشیدی'' میں ہے کہ تراویح کی رکعتوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس کی کتنی تعداد مختار ہے اس بارے میں میرا خیال ہے کہ اگر کسی کی اقتدا کرنا ضروری ہے  توپھررسولﷺکی اقتدا کیوں نہ کی جائے اور رسول اللہﷺ سےصحیح طور سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مع وتر گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھی۔(نفحات رشیدی مسک الختام ص۲۸۸)
👈الجواب
امام طحطاوی کا مسلک :
امام طحطاوی حنفی رحمہ اللہ آٹھ رکعات تراویح کےقائل نہیں بلکہ وہ بھی دوسرے علماء احناف کی طرح بیس کے قائل ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پر توارث کے ساتھ اجماع ہے ۔ ) طحطاوی ج 1ص 468 (
👈شبہ نمبر 5
علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ بخاری کی ان روایتوں جن میں رسول اللہﷺکے تراویح پڑھانے کاذکر ہے تعداد بیان نہیں کی گئی ہے تو اس کے جواب میں مَیں کہوں گا کہ صحیح ابنِ خزیمہ اور صحیح ابنِ حبان کی روایتوں میں اسکا ذکر آگیا ہے کہ رسول اللہﷺنے ان راتوں میں صحابہ کرام کو وتر کے علاوہ آٹھ رکعتیں پڑھائی تھیں۔(عمدۃ القاری ج ۳ ص۵۹۷)
👈الجواب
علامہ عبد الحئی لکھنوی کا مسلک:
آپ  کے مجموعہ فتاویٰ سے سوال اور جواب ملاحظہ فرمائیں۔
سوال :حنفیہ بست رکعت تراویح سوائے وتر میخوانند و در حدیث صحیح از عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وارد شدہ ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ پس سند بست رکعت چیست؟
جواب:روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا محمول بر نماز تہجد است کہ در رمضان و غیر رمضان یکساں بود و غالباً بعد یازدہ رکعت مع الوتر بر سند و دلیل بریں محل آنست کہ راوی ایں حدیث ابو سلمہ است درنیہ ایں حدیث میگویدقالت عائشہ رضی اللہ عنہا فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنام قبل ان توتر قال یا عائشۃ ان عینی تنامان ولا ینام قلبیکذا رواہ البخاری ومسلم و نماز تراویح در عرف آں وقت قیام رمضان مےگفتند و حد صحاح ستہ بروایات صحیحہ مرفوعہ الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعین عدد قیام رمضان مصرح نشدہ این قدر ہست کہقالت عائشہ کان رسول اللہ یجتہد فی رمضان مالا یجتہد فی غیرہ رواہ مسلم لیکن در مصنف ابن ابی شیبہ و سنن بیہقی بروایت ابن عباس وارد شدہکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلی فی رمضان جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر و رواہ البیہقی فی سننہ باسناد صحیح عن السائب بن یزید قال کانو ا یقومون فی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ۔ )مجموعہ فتاوی مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ ص 59,58 (
اس عبارت میں وضاحت کے ساتھ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہے اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت تہجد پر محمول ہے پھر بھی ان کے نام  لے کر یہ کہنا کے وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے بہر حال ہماری سمجھ سے دور ہے ۔
مولانا موصوف اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:ان مجموع عشرین رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدۃ  لانہ مما واظب علیہ الخلفاء وان لم یواظب علیہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقد سبق ان سنۃ الخلفاء ایضاً لازم الاتباع وتارکھا آثم و ان کان اثمہ دون اثم تارک السنۃ النبویۃ فمن اکتفٰی علی ثمان رکعات یکون مسیئاً لترکہ سنۃ الخلفاء وان شِئت ترتیبہ علی سبیل القیاس فقل عشرون رکعۃ فی التراویح مما واظب علیہ الخلفاء الراشدون وکل ما واظب علیہ الخلفاء سنۃ موکدۃ ثم تضمہ مع ان کل سنۃ موکدۃ یاثم تارکھا  فینتبع عشرون رکعۃ یا ثم تارکھا و مقدمات ھذا القیاس قدا ثبتنا ھا فی الاصول السابقہ ۔ )تحفۃ الاخیار فی احیاء سنۃ سید الابرار ص 209 (
ترجمہ: تراویح میں بیس رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس لئے کہ اس پر خلفائے راشدین نے مداومت کی ہے اگرچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مداومت نہیں کی اور پہلے بتایا جا چکا ہے کہ خلفاء راشدین کی سنت بھی واجب الاتباع ہے اور اس کاچھوڑنے والا گنہگار ہے اگرچہ اس کا گناہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ترک کرنے والے سے کم ہے لہٰذا جو شخض آٹھ رکعات پر اکتفاء کرے وہ برا کام کرنے والا ہے کیونکہ اس نے خلفا راشدین کی سنت ترک کر دی اگر تم قیاس کے طریقے پر اس کی ترتیب سمجھنا چاہو تو یوں کہو بیس رکعات تراویح پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی اور جس پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی ہو وہ سنت مؤکدہ ہے لہٰذا بیس رکعات تراویح بھی سنت مؤکدہ ہے پھر اس کے ساتھ یہ بھی ملاؤ کہ سنت مؤکدہ کا تارک گنہگار ہوتا ہے لہٰذا بیس رکعات کا تارک بھی گنہگار ہو گا۔ اس قیاس کے مقدمات ہم اصول سابقہ میں ثابت کر چکے ہیں۔
قارئین! مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ  تو فرماتے ہیں کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھ کر باقی  رکعتوں کو چھوڑنے والا گنہگار ہے کیونکہ بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:فمودی ثمان رکعات یکون تارکا للسنۃ المؤکدہ ۔ )حاشیہ ہدایہ ج 1 ص 131مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان (
یعنی صرف آٹھ رکعات تراویح ادا کرنے والا سنت مؤکدہ کا تارک )گناہ گار( ہے  کیونکہ سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ ہے ۔
علاوہ ازیں علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ نے مؤطا امام محمد کے حاشیہ پر  لکھا: بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے اور نمازتراویح سنت مؤکدہ ہے ۔
👈شبہ نمبر 6
ملا علی قاری رحمہ اللہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام بلا کسی ردّوانکار کے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے تراویح کا کوئی خاص عدد قولا تو مقرر نہیں فرمایا لیکن عملا گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اور علامہ ابنِ ہمام کے اس قول پربھی کوئی اعتراض نہ تھا کہ تراویح تو اصل میں رسول اللہﷺ کے فعل سے مع وتر گیارہ رکعت ہی ثابت ہے۔(مرقاۃ ص ۱۷۵)
👈الجواب
ملا علی قاری  حنفی کا مسلک :
ملا علی قاری رحمہ اللہ کے نام سے جو عبارت پیش کی گئی وہ عبارت ملاعلی قاری رحمہ اللہ  کی نہیں بلکہ انہوں نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ  حنفی بذات خود  بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں:لکن اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃً
یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے ۔ )  مرقاۃ ج 3ص194 (
اسی طرح ملا علی قاری رحمہ اللہ نے شرح نقایہ ص 104 میں بھی بیس رکعات تراویح پر اجماع نقل کیا ہے
👈شبہ نمبر 7
مولانا شوق نیموی رحمہ اللہ نے آثار السنن ج اول ص ۵۱ میں ایک عنوان قائم کیا ہے کہ باب التراویح بثمان رکعات اس کےذیل میں سب سے پہلی حدیث وہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ۸ رکعت والی ذکر کی ہے معلوم یہ ہوا کہ وہ یہ مانرہے ہیں کہ رسول اللہﷺسے آٹھ رکعت بلا وتر اور مع وتر گیارہ رکعت تراویح باسناد ثابت ہے۔( آثار السنن ج اول ص ۵۱)
👈الجواب
عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال : كانوا يقومون على عهد عمر في شهر رمضان بعشرين ركعة وإن كانوا ليقرءون بالمئين من القرآن.
(مسند ابن الجعد ص413 رقم الحدیث 2825، معرفۃ السنن والآثار للبیہقی ج2ص305 باب قیام رمضان رقم الحدیث 1365،السنن الكبرى للبیہقی ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ.
: علامہ نیموی نے فرمایا:یہ حدیث ”صحیح“ ہے
(التعلیق الحسن علی آثار السنن: ص222)
👈شبہ نمبر 8
مولانا عبد الحئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ۸ رکعتیں اور تین رکعت وتر با جماعت رسول اللہﷺسے تین راتوں میں ثابت ہے اور امت پر فرض ہوجانے کے خوف سے رسول اللہﷺ نے اس کا اہتمام نہیں کیا اور ان تین راتوں کے علاوہ کسی رات میں منقول نہیں۔(مجموعہ فتاوی ۳۵۴)اور عمدۃ الرعایۃ میں لکھتے ہیں کہ ابنِ حبان وغیرہ نے رو ایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺنے ان تین راتوں میں ۸رکعت اور۳ رکعت وتر پڑھا ہے(شرح وقایۃ)
👈الجواب
علامہ عبد الحئی لکھنوی کا مسلک:
آپ  کے مجموعہ فتاویٰ سے سوال اور جواب ملاحظہ فرمائیں۔
سوال :حنفیہ بست رکعت تراویح سوائے وتر میخوانند و در حدیث صحیح از عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وارد شدہ ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ پس سند بست رکعت چیست؟
جواب:روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا محمول بر نماز تہجد است کہ در رمضان و غیر رمضان یکساں بود و غالباً بعد یازدہ رکعت مع الوتر بر سند و دلیل بریں محل آنست کہ راوی ایں حدیث ابو سلمہ است درنیہ ایں حدیث میگویدقالت عائشہ رضی اللہ عنہا فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنام قبل ان توتر قال یا عائشۃ ان عینی تنامان ولا ینام قلبیکذا رواہ البخاری ومسلم و نماز تراویح در عرف آں وقت قیام رمضان مےگفتند و حد صحاح ستہ بروایات صحیحہ مرفوعہ الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعین عدد قیام رمضان مصرح نشدہ این قدر ہست کہقالت عائشہ کان رسول اللہ یجتہد فی رمضان مالا یجتہد فی غیرہ رواہ مسلم لیکن در مصنف ابن ابی شیبہ و سنن بیہقی بروایت ابن عباس وارد شدہکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلی فی رمضان جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر و رواہ البیہقی فی سننہ باسناد صحیح عن السائب بن یزید قال کانو ا یقومون فی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ۔ )مجموعہ فتاوی مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ ص 59,58 (
اس عبارت میں وضاحت کے ساتھ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہے اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت تہجد پر محمول ہے پھر بھی ان کے نام  لے کر یہ کہنا کے وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے بہر حال ہماری سمجھ سے دور ہے ۔
مولانا موصوف اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:ان مجموع عشرین رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدۃ  لانہ مما واظب علیہ الخلفاء وان لم یواظب علیہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقد سبق ان سنۃ الخلفاء ایضاً لازم الاتباع وتارکھا آثم و ان کان اثمہ دون اثم تارک السنۃ النبویۃ فمن اکتفٰی علی ثمان رکعات یکون مسیئاً لترکہ سنۃ الخلفاء وان شِئت ترتیبہ علی سبیل القیاس فقل عشرون رکعۃ فی التراویح مما واظب علیہ الخلفاء الراشدون وکل ما واظب علیہ الخلفاء سنۃ موکدۃ ثم تضمہ مع ان کل سنۃ موکدۃ یاثم تارکھا  فینتبع عشرون رکعۃ یا ثم تارکھا و مقدمات ھذا القیاس قدا ثبتنا ھا فی الاصول السابقہ ۔ )تحفۃ الاخیار فی احیاء سنۃ سید الابرار ص 209 (
ترجمہ: تراویح میں بیس رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس لئے کہ اس پر خلفائے راشدین نے مداومت کی ہے اگرچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مداومت نہیں کی اور پہلے بتایا جا چکا ہے کہ خلفاء راشدین کی سنت بھی واجب الاتباع ہے اور اس کاچھوڑنے والا گنہگار ہے اگرچہ اس کا گناہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ترک کرنے والے سے کم ہے لہٰذا جو شخض آٹھ رکعات پر اکتفاء کرے وہ برا کام کرنے والا ہے کیونکہ اس نے خلفا راشدین کی سنت ترک کر دی اگر تم قیاس کے طریقے پر اس کی ترتیب سمجھنا چاہو تو یوں کہو بیس رکعات تراویح پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی اور جس پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی ہو وہ سنت مؤکدہ ہے لہٰذا بیس رکعات تراویح بھی سنت مؤکدہ ہے پھر اس کے ساتھ یہ بھی ملاؤ کہ سنت مؤکدہ کا تارک گنہگار ہوتا ہے لہٰذا بیس رکعات کا تارک بھی گنہگار ہو گا۔ اس قیاس کے مقدمات ہم اصول سابقہ میں ثابت کر چکے ہیں۔
قارئین! مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ  تو فرماتے ہیں کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھ کر باقی  رکعتوں کو چھوڑنے والا گنہگار ہے کیونکہ بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:فمودی ثمان رکعات یکون تارکا للسنۃ المؤکدہ ۔ )حاشیہ ہدایہ ج 1 ص 131مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان (
یعنی صرف آٹھ رکعات تراویح ادا کرنے والا سنت مؤکدہ کا تارک )گناہ گار( ہے  کیونکہ سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ ہے ۔
علاوہ ازیں علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ نے مؤطا امام محمد کے حاشیہ پر  لکھا: بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے اور نمازتراویح سنت مؤکدہ ہے ۔
👈شبہ نمبر 9
مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں الحاصل قولا کوئی عدد معین نہیں مگر رسول اللہﷺ کے فعل سے مختلف اعداد معلوم ہوتے ہیں،چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک شب میں گیارہ رکعت تراویح باجماعت پڑھی( الرائ النجیح ص۱۳)
👈الجواب
علماء احناف اور علماء دیوبند بیس رکعات تراویح ہی کو سنت سمجھتے ہیں اور بیس رکعات ہی پڑھتے ہیں، کسی کی ادھوری عبارت سیاق وسباق سے ہٹاکر پیش کرنے سے جاھل عوام کو خوش کر سکتے ہیں مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے. اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے، آمین
دیوبند سے سب سے بڑے عالم دارالعلوم دیوبند کے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
پس یہ سنت عشرین رکعۃ بھی ایسی ہی ہے کہ اس کی اصل سنت رسول اللہ میں موجود ہے، اسی واسطہ تمام صحابہ نے اس وقت میں اس کو قبول کیا اور عامل رہے اور کسی وقت کسی ایک نے بھی صحابہ میں سے اس پر انکار نہ کیا نہ اس کو مخالفت سنت رسول اللہ سمجھا. (فتاوی رشیدیہ، ص386)
👈شبہ نمبر 10
مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کتنا ہی باتیں بنائیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ تسلیم کئے بغیر ہمارے لئے کوئی راستہ نہیں ہے کہ رسول اللہﷺکی تراویح تو ۸ ہی رکعت تھی۔
👈الجواب
علامہ انور شاہ  کشمیری کا مسلک :
امام العصر خاتم المحدثین  علامہ انور شاہ کشمیری خود بیس تراویح کے قائل ہیں اور آٹھ رکعات پڑ ھنے والے کو سواد اعظم )اہل السنت والجماعت(سے خارج سمجھتے ہیں ،چنانچہ فرماتے ہیں:واما من اکتفیٰ بالرکعات الثمانیہ وشذ عن السواد الاعظم و حبل یر میہم بالبدعۃفلیر عاقبۃ۔ )فیض الباری شرح صحیح بخاری ج3ص181(
یعنی جوشخص آٹھ رکعات پر اکتفا کر کے سواد اعظم سے کٹ گیا اورسواد اعظم کو بدعتی کہتا ہے وہ اپنا انجام سوچ لے ۔
حضرت شاہ  صاحب رحمہ اللہ مزید لکھتےہیں:لم یقل احد من الائمۃ الاربعۃ  باقل من عشرین رکعۃ فی التراویح والیہ جمہور الصحابۃرضی اللہ عنہم   … وقال ابن ہمام ان ثمانیۃ رکعات سنۃ مؤکدۃ وثنتی عشررکعۃً مستحبۃ وماقال بھذا احد اقول ان سنۃ الخلفاء الراشدین ایضاًیکون سنۃ الشریعۃ  لما فی الا صول ان السنۃ سنۃ الخلفاء وسنۃ علیہ السلام وقد صح فی الحدیث علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین فیکون فعل الفاروق الاعظم ایضاسنۃً۔۔۔ففی التاتارخانیۃ سئل ابو یوسف ابا حنفیۃ رحمہ اللہ ان اعلان عمر بعشرین رکعۃً ھل کان لہ عھد منہ علیہ السلام قال ابو حنیفۃ رحمہ اللہ  ما کان عمر مبتدعا ای لعلہ یکون لہ عہد فدل علی ان عشرین رکعۃً لا بدلہ من ان یکون لھا اصل منہ علیہ السلام …واستقر الامر علی عشرین رکعۃً ۔ )العرف الشذی علی ھامش الترمذی ج1ص100،99(
ترجمہ: ائمہ اربعہ میں سے کسی نے نہیں کہا کہ نماز تراویح بیس رکعات سے کم ہے اور اسی طرف جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم گئے ہیں اور ابن ہمام رحمہ اللہ نےجو کہا ہے کہ آٹھ رکعات سنت  مؤکدہ ہے اور بارہ رکعات مستحب ہے اور یہ بات کسی اور نے نہیں کہی )یعنی ابن ہمام رحمہ اللہ  کا تفرد ہے (
خلفاء راشدین کی سنت بھی شریعت کی سنت ہے کیونکہ اصول میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت اور خلفاء راشدین کی سنت، سنت ہے اور یہ بات صحیح حدیث میں ہے کہ تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین مھدیین کی سنت لازم ہے،فاروق اعظم کا عمل بھی سنت ہے۔فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بیس رکعات تراویح کا اعلان کیا ہے کیا انہوں نے اس کا علم حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پایا ہے ؟امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ )معاذ اللہ (مبتدع نہیں تھے یعنی شاید ان کے پاس اس کا علم تھا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ لامحالہ بیس رکعات تراویح کی اصل خود حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور تراویح کا استقرار بیس رکعات پر ہے ۔
👈شبہ نمبر 11
اسی زمانہ کے مشہور عالم مولانا زکریا صاحب حنفی کاندھلوی رحمہ اللہ اوجز المسالک شرح موطا امام مالک رحمہ اللہ ج اول ص ۳۹۷ میں لکھتے ہیں کہ یقیناً محدثین کے اصول کے مطابق بیس رکعت تراویح کی تعداد رسول اللہﷺسے مرفوعاً ثابت نہیں ہے( اوجز المسالک شرح موطاامام مالک  رحمہ اللہ ج اول ص ۳۹۷)
👈الجواب
رکعت تراویح پہ مولانا زکریا کاندھلویؒ کا مسلک اور غیر مقلدین کی خیانت
ایک غیر مقلد عالم الطاف الرحمان جوہر نے تراویح کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں مولانا زکریاؒ کے بارے میں غیر مقلد عالم نے دعوی کیا کہ وہ 8 رکعت تراویح کے قائل ہیں اور 20 رکعت تراویح کے قائل نہیں ہیں۔
غیر مقلد عالم لکھتا ہے کہ '' مولانا زکریاؒ 8 رکعت تراویح کی سنت کا اعتراف کرتے ہوئے اور 20 رکعت کا رگڑا لگاتے ہوئے لکھتے ہیں ''یقیناََ محدثین کے اصولوں کے مطابق بیس رکعت تراویح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفاعاََ ثابت نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ والی روایت محدثین کے اصولوں کے مطابق مجروح ہے اور ثابت نہیں''(تراویح کا مقدمہ حنفی فقہاء کی عدالت میں،صفحہ 15)
غیر مقلد عالم نے مولانا زکریا ؒ کی ادھوری عبارت نقل کی کیونکہ مکمل عبارت میں مولاناؒ لکھتے ہیں کہ''لیکن باوجود اس کے فعلِ عمر اور سکوتِ صحابہ کی بنا پر اس کے ثابت ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا،ان تمام صحابہ کا بیس رکعت پر (اجماع کرنا نص کے درجے میں ہے ۔''(اوجزالمسالک،ج2 صفحہ 534
مولانا زکریاؒ تو عمر رضی اللہ اور باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع نقل کر رہے ہیں جس کو غیر مقلد عالم نے نقل نہیں کیا اور ادھوری عبارت پیش کر دی۔ اسی کتاب میں مولانا زکریاؒ 20 رکعت تراویح کے دلائل پیش کرر ہے ہیں ۔
پس غیر مقلد عالم کا مولانا زکریاؒ پہ بیس رکعت تراویح کے رد کا دعوی اور 8 رکعت کے قائل ہونے کا دعوی غلط اور جھوٹا ہے۔
👈شبہ نمبر 12
بانئ مدرسہ دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ اپنی کتاب لطائف ِ قاسمیہ مکتوب سوم ص ۱۸ میں فرماتے ہیں کہ ''یازدہ''از فعل سرورعالم ﷺ واکد از بست''یعنی رسول اللہﷺ سے جو گیارہ رکعت تراویح مع وتر کے ثابت ہیں وہبیس سے زیادہ معتبر ہیں
👈الجواب
علماء احناف اور علماء دیوبند بیس رکعات تراویح ہی کو سنت سمجھتے ہیں اور بیس رکعات ہی پڑھتے ہیں، کسی کی ادھوری عبارت سیاق وسباق سے ہٹاکر پیش کرنے سے جاھل عوام کو خوش کر سکتے ہیں مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے. اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے، آمین
ﺟﯿﺴﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺘﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﻧﺲ ﺍﺳﻨﺪ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺟﺮﮬﺪ ﮬﺬﺍ ﺍﺣﻮﻁ ﺣﺘﯽ ﻧﺨﺮﺝ ﻣﻦ ﺍﺧﺘﻼﻓﮭﻢ۔ ‏] ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺝ 1 ﺹ 53 ‏[
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﻨﺪ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺮﮬﺪ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ‏] ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺘﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ‏[ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ، ‏] ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ‏[ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﺌﯽ ﻟﮑﮭﻨﻮﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺣﺪﯾﺚ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﮐﮩﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻤﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ‏] ﺟﻮ ﺑﯿﺲ ﺭﮐﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ ‏[ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻃﺮﺯ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮐﺎ ﭘﮩﻠﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭨﮫ ﺗﻮ ﺍﺩﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭨﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔۔
🚫ﻓﺎﺋﺪﮦ : ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﻧﺊ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ ﻧﺎﺕ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﭨﮫ ﺭﮐﻌﺖ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ " ﺣﻘﯿﻘﺖ " ﮐﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﻭ ﻭﺍﻓﯽ ﮨﮯ۔
" ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﮐﮯ ﻣﻼﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺨﻔﯿﻒ ﻧﮑﺎﻟﺪﯼ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﯿﺲ ﮐﯽ ﺁﭨﮫ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺑﻮﺟﮧ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺁﭨﮫ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﮩﺠﺪ ﮐﯽ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺗﮩﺠﺪ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ۔ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﮐﯽ ﺑﯿﺲ ﮨﯽ ﺭﮐﻌﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ "
‏] ﺗﺼﻔﯿۃ ﺍﻟﻌﻘﺎﺋﺪ ﺹ 4 [
👈شبہ نمبر 13
طحاوی شرح معانی الآثار جلد اول ص ۱۷۲ میں ہے کہ سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعت مع وتر پڑھائیں ۔یہ روایت موطاامام مالک رحمہ اللہ ص ۴۰ میں موجود ہے۔
👈الجواب
امام طحطاوی کا مسلک :
امام طحطاوی حنفی رحمہ اللہ آٹھ رکعات تراویح کےقائل نہیں بلکہ وہ بھی دوسرے علماء احناف کی طرح بیس کے قائل ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پر توارث کے ساتھ اجماع ہے ۔ ) طحطاوی ج 1ص 468 (
امام طحطاویؒ اور غیر مقلدین کے دھوکے کا جواب
اکثر غیر مقلدین امام طحطاویؒ کا حوالہ دیتے ہیں کہ تراویح بیس نہیں بلکہ آٹھ رکعت ہے لیکن غیر مقلدین امام طحطاویؒ کی ادھوری عبارت نقل کرتے ہیں۔
امام طحطاویؒ کے نزدیک حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیس تراویح کی روایت ضعیف ہے لیکن اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ''بیس تراویح ثابت ہے خلفائے راشدین کی مواظبت کی وجہ سے''۔اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''تراویح بیس رکعت ہے اجماع صحابہ کی وجہ سے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ مکمل جو (بیس رکعت) سنن ہیں وہ مکمل جو فرائض علمیہ و اعتقادیہ کے برابر ہو جائے۔(حاشیہ طحطاوی،1/269/270)
دوسری کتاب میں بھی لکھتے ہیں کہ ''تراویح بیس رکعت ہیں''( حاشیہ طحطاوی علی رد المختار،1/296)۔
تو امام طحطاوی کا مؤقف واضح ہوا کہ ان کے نزدیک تراویح بیس رکعت اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں۔
👈شبہ نمبر 14
امام سیوطی رحمہ اللہ اپنی کتاب المصابیح فی صلٰوۃ التراویح میں امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےلوگوں کو جتنی رکعت تراویح پڑھنے پر جمع کیا تھا وہی گیارہ رکعت مجھے بھی پیاری ہیںاور یہی رسول اللہﷺ کی نمازِ تراویح تھی کسی نے پوچھا کہ مع وتر کے گیارہ رکعت ہیں؟امام مالک رحمہ اللہ نے فر مایا ہاں!یہ بہت سی رکعتیں نہ معلوم لوگوں نے کہاں سے نکال لی
👈الجواب امام سیوطی کا مسلک :
   امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ  بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ،چنانچہ امام  موصوف ؛ علامہ سبکی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
ومذھبنا ان التراویح عشرون رکعۃلما روی البیہقی وغیرہ بالا سناد الصحیح عن السائب بن یزید الصحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال کنا نقوم علی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعشرین رکعۃ والوتر ۔ )الحاوی للفتاویٰ ج1ص350(
اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ نماز تراویح بیس رکعات ہے اس لیے کہ بیہقی وغیرہ نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت سائب بن یزید صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھتے تھے ۔پھر لکھا ہے :استقر العمل علی ہذا ۔یعنی بالآخر بیس رکعات تراویح پر عمل پختہ ہوا یعنی خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیس رکعات پر اتفاق اور اجماع کیا ہے۔
اور پھربعض لوگ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کو اپنا ہم خیال سمجھ کر ان کی یہ عبارت نقل کر دیتےہیں:واما ما رواہ ابن ابی شیبۃمن حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی رمضان عشرین رکعۃً والوترفاسنادہ ضعیف وقد عارضہ حدیث عائشۃ ھذاالذی فی الصحیحین مع کو نھا اعلم بحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلامن غیرھا واللہ اعلم۔ )فتح الباری ج4ص319(
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ مسئلہ تراویح میں امام شافعی رحمہ اللہ کے  سچے پیروکار تھے اور شافیعہ کا بیس رکعات تراویح پر اتفاق چلاآرہا ہے ۔
امام موصوف؛ امام رافعی رحمہ اللہ  کے واسطے سے نقل کرتے ہیں:انہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی بالناس عشرین رکعۃ لیلتین فلما کان فی اللیلۃالثالثۃ اجتمع الناس فلم یخرج الیھم ثم قال من الغد خشیت ان تفرض علیکم فلا تطیقو نہا ۔
اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ”متفق علی صحتہ“اس کی صحت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔ )تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافع الکبیر ج1ص540(
معلوم ہوا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے نزدیک جس روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیس رکعات تراویح پڑھنا ثابت ہے اس کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
مندرجہ بالا دلائل سے یہ معلوم ہوا کہ علمائے اہل السنت والجماعت بالخصوص علمائے احناف کو آٹھ رکعات تراویح کا قائل ماننا سراسر ناانصافی ہے ۔تمام علمائے احناف کثراللہ سوادھم امت مرحومہ کے اجماعیت کو تسلیم کرتے ہوئے 20 رکعات تراویح ہی ادا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انہیں کے نقش قدم پر چلائے ۔

1 comment:

  1. Assalam o alaikum bht khoob mashaAllah Mjy Allama Aini rh ka jawab nai mila jo k shuba no 5 hai shayad mjy smj nai ai brah e karm usko zra smjha den jazakAllah

    ReplyDelete