Thursday, 23 April 2020

نذر و نیاز پر اہل بدعت کی جانب سے پیش کی جانے والی باطل تاویل اور اس کا رد

نذر و نیاز پر اہل بدعت کی جانب سے پیش کی جانے والی باطل تاویل اور اس کا رد.. !!!!

بریلوی حکیم الامت جناب احمد یار خان گجراتی (المتوفی١٣۹١ھ) لکھتے ہیں:
"اولیاء اللہ کے نام کی جو نذر مانی جاتی ہے ، یہ نذر شرعی نہیں، نذر لغوی ہے۔ جس کے معنی ہیں نذرانہ،
جیسے کہ میں اپنے استاذ سے کہوں کہ یہ آپ کی نذر ہے، یہ بالکل جائز ہے۔ اور فقہاء اس کو حرام کہتے ہیں جو کہ اولیاء کے نام کی نذر شرعی مانی جاۓ۔ اس لیے فرماتے ہیں 'تقربا الیھم'۔ نذر شرعی عبادت ہے وہ غیر اللہ کے لیے ماننا یقینا کفر ہے"   (جاء الحق، ص:٣۰۷)

مذکورہ بالا عبارت میں آپ حضرات نے پڑھ لیا کہ کس صفائی کے ساتھ مفتی صاحب نے کار حرام کو تاویل کے ذریعہ حلال قرار دے دیا.....
اب اسی تاویل کا بطلان ہم انہی کے گھر کے ایک فرد  سے دکھا دیتے ہیں، بریلوی شیخ الحدیث جناب غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:

"بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی حاجت کے وقت اولیاء اللہ کی نظر اس طرح مانے...
'اے داتا! اگر تو نے میری یہ حاجت پوری کردی تو میں تیرے لیے ایک بکرا پیش کرونگا' تو یہ نذر جائز ہے کیونکہ یہ نظر لغوی ہے اور جو نذر غیر اللہ کی حرام ہے وہ نذر فقہی یا نذر شرعی ہے ۔ اور نذر شرعی اور نذر لغوی میں ان لوگوں کے نزدیک صرف یہ فرق ہے کہ نذر شرعی میں اللہ کی نذر مانی جاتی ہے اور نذر لغوی میں اولیاء اللہ کی نذر مانی جاتی ہے، لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس طرح غیر اللہ کے لیے سجدہ ، طواف ، روزہ اور دیگر عبادات بھی جائز ہو جائیں گی، مثلا کوئی شخص کسی ولی کو سجدہ کرے گا اور کہے گا کہ یہ لغوی سجدہ ہے ، کوئی شخص کسی ولی کی قبر کا طواف کرے گا اور کہے گا کہ یہ لغوی طواف ہے اور کوئی شخص کسی ولی کے لیے روزہ رکھے گا اور کہے گا کہ یہ لغوی روزہ ہے اور اسی طرح لغت کے سہارے غیر اللہ کے لیے تمام عبادات کا دروازہ کھل جاۓ گا، کیونکہ جس طرح نذر بالاتفاق عبادت ہے، لیکن لغوی نذر غیر اللہ کے لیے شرعا مانی جا سکتی ہے، تو اسی طرح غیر اللہ کے لیے لغوی نماز بھی پڑھی جا سکتی ہے، غیر اللہ کے لیے لغوی روزے بھی رکھے جا سکتے ہیں اور لغوی حج بھی کیا جا سکتا ہے_ علی ھذا القیاس!!   (شرح صحیح مسلم، ج:۴، ص:٥۴١–٥۴۲)

[بحوالہ رضاخانیت بمقابلہ حنفیت، ص:۴۹–٥۰،       مصنف: مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ تعالی]

آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں..
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی...

No comments:

Post a Comment