Saturday, 2 May 2020

فرقۂ شیعہ کے عقائد و نظریات اور قرآن و حدیث سے ان کے جوابات قسط (1)

فرقۂ شیعہ کے عقائد و نظریات اور قرآن و حدیث سے ان کے جوابات
قسط (1)
پہلا عقیدہ: قرآن کے بارے میں
اس بارے میں شیعہ کتابو میں مختلف باتیں ملتی ہیں اور وہ سب اہل سنت و الجماعت کے نزدیک کفر ہیں، تقریباً دو ہزار روایات کتبِ شیعہ میں ایسی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن بدلا ہوا ہے، اور وہ روایات صحیح ہیں، انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
(اصول کافی:۶۷۱۔ بحوالہ بینات:۵۶، اصول کافی:۲/۴۱۴)
مثلاً: جو قرآن جبرئیل علیہ السلام حضرت محمدﷺ پر لے کر نازل ہوئے تھے اس میں تیرہ ہزار آیتیں تھیں۔
(اصول کافی:۶۷۱)
اصل قرآن سے محبت سابقہ ساقط کردیا گیا ہے۔
(صافی شرح اصول کافی)
قرآن میں ایسی باتیں بھی ہیں جو خدا نے نہیں کہی۔
(احتجاج طبری:۲۷)
موجودہ قرآن کو اولیاء الدین کے دشمنوں نے جمع کیا ہے۔
(احتجاج طبری:۳۰)
موجودہ قرآن کی ترتیب خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔
(فصل الخطاب:۳۰)
حضرت علیؓ کا نام قرآن میں کئی مقامات سے نکال دیا گیا ہے۔
(دیباچہ تفسیر صافی:۷۵)
اسی طرح سید نعمت اللہ الموسوی الجزائری نے لکھا ہے:
’’قرآن جس طرح نازل ہوا تھا اس کو رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق صرف امیر المومنین علیہ السلام نے آپﷺ کی وفات کے بعد چھ مہینے مشغول رہ کر جمع کیا تھا، جمع کرنے کے بعد اسے لیکر ان لوگوں کے پاس آئے جو آپﷺ کے بعد خلیفہ بن گئے تھے، آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب جس طرح نازل ہوئی ہے وہ یہ ہے، پس ان میں سے عمر بن خطاب نے کہا: ہم کو تمہاری اور تمہارے اس قرآن کی ضرورت نہیں، تو امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ: آج کے دن کے بعد اس کو نہ تم دیکھ سکوگے اور نہ کوئی اور دیکھ سکے گا، جب تک میرے بیٹے مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا، اس قرآن میں بہت سی زیادات ہیں اور یہ تحریف سے خالی ہے، جب مہدی ظاہر ہوں گے تو موجودہ قرآن آسمان کی طرف اٹھالیا جائے گا اور وہ اس قرآن کو نکال کر پیش کریں گے جس کو امیر المؤمنین نے جمع کیا تھا‘‘۔
(انور النعمانیہ:۳/۳۵۷)
جواب:
اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ قرآن کے بارے میں یہ ہے کہ یہ ایسی مقدس کتاب ہے کہ جس طرح نازل ہوئی آج تک اس میں ایک حرف کی بھی زیادتی نہیں ہوئی اور جو اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے وہ بالاتفاق اسلام سے خارج ہے۔
مزید تحقیق کے لئے ان کتابوں کا مطالعہ مفید ہوگا:
اضافہ تحریف قرآن: مولانا عبد الشکور لکھنویؒ۔
شیعہ ،سنی اختلافات اور صراط مستقیم: مولانا یوسف لدھیانویؒ۔
ایمان بالقرآن کامل: مولانا اللہ یار خان۔
تاریخی دستاویز: مولانا ضیاء الرحمن فاروقیؒ۔
شیعہ اور قرآن: نا معلوم مرتب
اقامۃ البرھان علی ان الشیعۃ اعداء القرآن: مولانا عبد الشکور لکھنویؒ۔
نہایۃ الخسران لمن ترک القرآن: مولانا عبد الشکور لکھنویؒ۔
شیعہ کی ترتیب قرآن کی حقیقت: مولانا ابو معاویہ نور حسین عارف صاحب
دوسرا عقیدہ: امامت کا درجہ نبوت سے بڑھ کر ہے
امامت کا درجہ نبوت سے بڑھ کر ہے، اس عقیدہ کے بارے میں بھی کتبِ شیعہ میں مختلف باتی ںلکھی ہیں اور وہ سب اہل سنت و الجماعت کے نزدیک کفر ہیں۔
مثلاً: خمینی نے لکھا ہے:
’’ہمارے مذہب کی ضروریات یعنی بنیادی عقائد میں سے یہ عقیدہ بھی ہے کہ ہمارے اماموں کا وہ مقام ہے کہ اس تک کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبئ مرسل بھی نہیں پہنچ سکتا‘‘۔
(الحکومۃ الاسلامیہ:۵۲)
باقر مجلسی تحریر کرتے ہیں:
’’ان ائمہ کا درجہ نبوت سے بالا ترہے‘‘۔
(حیات القلوب:۳/۲۰۱،باقر مجلسی)
’’امام معصوم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و توفیق اس کے ساتھ ہوتی ہے، اللہ ان کو سیدھا رکھتا ہے، وہ غلطی، بھول چوک اور لغزش سے محفوظ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ معصومیت کی اس نعمت کے ساتھ اس کو مخصوص رکھتا ہے تاکہ وہ اس کے بندوں پر اس کی حجت ہو اور اس کی مخلوق پر شاہد ہو‘‘۔
(اصول الکافی:۱۲۱)
نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت علیؓ امام تھے، ان کے بعد حضرت حسنؓ امام تھے، ان کے بعد حضرت حسینؓ امام تھے، ان کے بعد ..... جو اس بات کا انکار کرکے وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی معرفت کا انکار کیا ہے۔
(اصول الکافی:۱۰۶)
غلام حسین نجفی نے لکھا ہے:
’’حضرت علیؓ کی افضلیت بعد النبی کا منکر کافی ہے‘‘۔
(تحفۂ حنفیہ:۱۷،ازغلام حسین نجفی۔مزید وضاحت شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم۔اور۔ تاریخی دستاویز وغیرہ کتب میں دیکھی جاسکتی ہیں، جس میں تمام اصل کتب کے عکس مع سرِ ورق کتاب کے درج ہیں)
اسی طرح اور بھی بہت سی باتیں امامت کے بارے میں موجود ہیں۔
جواب:
مسئلہ امامت کے بارے میں اہل سنت و الجماعت فرماتے ہیں کہ یہ عقیدہ بھی کفر ہے۔
اس مسئلہ میں استاد محترم مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ فتویٰ تحریر فرماتے ہیں۔ (اس فتوے پر تمام دنیا کے علماء نے تصدیق و توثیق فرمائی تھی)
دورِ صحابہؓ سے آج تک امت کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں، آپﷺ کے بعد کوی نبی پیدا نہ ہوگا، لہٰذا خصوصیاتِ نبوت، وحی شریعت و عصمت وغیرہ قیامت تک بند ہیں۔
مگر یہ شیعہ لوگ اگرچہ برمالا عقیدۂ نبوت کے انکار کی جرأت نہیں کرتے مگر درپردہ یہ لوگ اجرائے نبوت کے قائل ہیں، کیونکہ ان کا عقیدۂ امامت انکارِ ختم نبوت کو مستلزم ہے، لہٰذا یہ لوگ در حقیقت تقیہ کی وجہ سے اپنے اماموں کے لئے لفظِ نبی کے استعمال کرنے سے تو گریز کرتے ہیں مگر در حقیقت یہ لوگ اپنے ائمہ کے لئے خصوصیاتِ نبوت ثابت کرتے ہیں، یعنی اپنے ائمہ کو منصوص اور حدا مفہوم اور ان کے پاس وحی و شریعت آنے کے قائل ہیں، نیز ان کو احکامِ شریعت کو منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیتے ہیں، بلکہ روح اللہ خمینی کی تحریر کے مطابق ان کے ائمہ درجۂ الوہیت تک پہنچے ہوئے ہیں، یہ تو سراسر کفر و شرک ہے، روح اللہ خمینی نے اپنی کتاب ’’الحکومۃ الاسلامیۃ‘‘ میں خامہ فرسائی کی ہے کہ:
’’فان الامام مقام محمود اور درجۃ سیاسیۃ و خلافۃ تکوینیۃ یخضع لولایتھا و سیطرتھا جمیع وارث ھذا الکون و ان من ضروریاتِ مذھبنا ان لائمتنا مقاما لا یبلغہٗ مَلَکٌ مقرّبٌ ولا نبیٌّ مرسلٌ الی ان قال و روی عنھم ، ان لنا مع اللہ حالاتٍ لا یسعھا ملَکٌ مقرّبٌ و لا نبیٌّ مرسلٌ و مثل ھذہ المنزلۃ موجودۃ لفاطمۃ الزھراء علیھا السلام‘‘۔
(الحکومۃ الاسلامیۃ:۵۲)
ترجمہ:  بے شک مقام محمود بلند درجہ اور خلافتِ تکوینی پر اماموں کی ولایت کا خاصہ ہے اور تمام کائنات کے وارث ہیں اور ہمارے مذہب کی ضروریات میں سے یہ ہے کہ ہمارے امام کا وہ مقام ہے جو نہ کسی مقرب فرشتہ کا ہے اور نہ نبی مرسل کا، ان سے منقول ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ ایسے حالات میں ہیں کہ وہ مقرب فرشتے اور نبی مرسل کو حاصل نہیں اور یہ مقام فاطمۃ الزہراءؓ کو حاصل ہے۔
ان کے کفر کے ثبوت کے لئے یہ حوالہ کافی ہے۔
(اس مسئلہ میں بھی بھی مستقل متعدد کتابیں ہیں چند نام یہ ہیں:۱۔شیعہ سنی اختلاف اور صراط مستقیم: مولانا یوسف لدھیانویؒ۔ ۲۔شرح مسائل امامت اوّل،دوم:مولانا عبدالشکور لکھنویؒ۔ ۳۔شیعہ کے نزدیک حقیقت امامت: مولانا ابو معاویہ نور حسین عارف صاحب)

No comments:

Post a Comment