ایک نامعقول نے تاثر دیا کہ یہ حضرت شیخ الہند نے فاطمہ بنت محمد کیلئے لکھا۔اس پہ لعنتہ اللہ علی الکاذبین
عقلمند خود سمجھ سکتا ہے یہاں حضرت فاطمہ کی طلاق کا ذکر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ کو طلاق کہاں ہوئی تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ واقعہ فاطمہ بنت قیس کا ہے اور اس کے بارے میں غیر مقلد عالم عبدالرحمان مبارکپوری نے بھی لکھا ہے کہ فاطمہ نے زبان درازی کی تھی۔ان پہ بھی غیر مقلدین کو گستاخی کا فتوی لگانا چاہئیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ :
کہ تین طلاق سے مغلظہ عورت جب عدت میں ہو تو آیا اس کے لیے اس کے طلاق دینے والے شوہر پر رہائش و نفقہ لازم ہے ؟
احناف کے ہاں اس کے لیے رہائش و نفقہ ( خرچہ وغیرہ ) لازم ہے ۔امام شافعی کے ہاں اس کے لیے رہائش لازم ہے نفقہ نہیں
رہائش و نفقہ دونوں لازم ہونا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی مسلک ہے جیسا کہ آگے آئے گا
جبکہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ ۔
اس کا جواب اہل علم یہ دیتے ہیں:
کہ قرآن پاک میں ہے :
(بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ
ترجمہ :
اے نبیؐ، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے (زمانہ عدت میں) نہ تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، *الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں*
یہاں پر صریح برائی سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں غیر مقلد مولوی عبدالرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں:
قال ابن عباس : الفاحشة المبينة بذاءتها على أهل زوجها . فيحل إخراجها لسوء خلقها
( تحفة الاحوذی جلد 4)
عبدالرحمن مبارکپوری نے صریح برائی کی ایک تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ نقل کہ : اپنے سسرال والوں کے ساتھ بدکلامی کرے ۔ پس اسی صورت اس کا گھر سے نکالنا جائز ہوگا
اور امام ترمذی رحمہ اللہ امام شافعی کا قول نقل کرتے ہیں:
وقال الشافعي إنما جعلنا لها السكنى بكتاب الله قال الله تعالى':
لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة قالوا هو البذاء أن تبذو على أهلها واعتل بأن فاطمة بنت قيس لم يجعل لها النبي صلى الله عليه وسلم السكنى لما كانت تبذو على أهلها
(جامع الترمذی )
یعنی امام شافعی نے فرمایا کہ ہم نے مطلقہ عورت کے لیے رہائش اللہ کے کتاب کی وجہ سے مقرر کیا
اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے : نہ تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، *الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں
علماء نے کہا ہے : کہ صریح برائی سے مراد بدزبانی ہے کہ وہ عورت اپنے سسرال والوں کے ساتھ بدزبانی کرے اور امام شافعی نے یہ وجہ بیان کی کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اس لیے رہائش مقرر نہیں کی کیونکہ وہ اپنے اہل پر بدزبانی کیا کرتی تھیں
۔۔۔۔
لو جی : یہاں پر امام ترمذی نے یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کا قرار دیا ہے
لیکن غیر مقلدین کو انگریز کا فرقہ صرف احناف پر بھونکنے کے لیے بنایا ہے
اس لیے جب حنفی عالم کے علاوہ کسی اور کا نام آئے گا تو یہ حضرات منہ کو تالا لگانا ہی پسند کرتے ہیں ۔ کہ جی آقا کی طرف سے ان پر کچھ بکنے کا حکم نہیں ہے اگر حنفی ہوتا تو ضرور بکواس کرتے
نیز ابوداؤد شریف میں ہے:
2294 - حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ
[السجستاني، أبو داود، سنن أبي داود، ٢٨٨/٢]
ترجمہ:
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ فاطمہ کے گھر سے نکلنے کا سبب اس کی بد خلقی تھی۔
۔۔۔
2296 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقُلْتُ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: طُلِّقَتْ فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ، إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً، فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَيْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى»
[السجستاني، أبو داود، سنن أبي داود، ٢٨٩/٢]
میمون بن مہران سے روایت ہے کہ جب میں مدینہ میں آیا تو سعید بن المسیب کے پاس گیا اور عرض کیا فاطمہ بنت قیس کو طلاق دی گئی اور وہ اپنے گھر سے نکل گئی تھی تو سعید بن المسیب نے کہا کہ یہ فاطمہ ایسی عورت ہے جس نے لوگوں کو فتنہ میں ڈال دیا ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ ایک بد زبان عورت تھی اس لئے اس کو ابن ام مکتوم کے گھر میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیمان بن یسار اور حضرت سعید بن المسيب نے بھی یہی بات کہی ہے
اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بات تو سلف نے کہی ہے علماء احناف نے صرف اس کو نقل کیا لہذ
ا ال وکٹوریہ کو چاہیئے
کہ سب سے پہلے حضرت سلیمان بن یسار ۔ حضرت سعید بن المسيب اور امام شافعی اور امام ابوداؤد کو صحابہ کرام کے متعلق زبان دراز کہیں والعیاذ باللہ
اصل بات یہ ہے کہ سلف نے یہ وجہ صرف حدیث کی تشریح میں بیان کی ہے اور قوی احتمال ہے کہ ان کو یہ بات صحابہ کرام سے پہنچی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ان کو نفقہ و رہائش کیوں نہیں دی ورنہ سلف صالحین صحابہ کرام کے متعلق اپنے گمان و رائے سے اس طرح کھبی نہیں کہ سکتے ۔ حاشا و کلا
اور اگر کسی صحابی سے کوئی خطا ہوگئی ہو جیسا کہ بعض صحابہ سے زنا صادر ہوگیا اور پھر انہوں نے توبہ کرکے اس کی سزا کاٹی تو اس کو نقل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس صحابی کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے
ورنہ پھر تو تمام محدثین جنہوں نے یہ واقعات نقل کیے وہ سب گستاخ صحابہ ہوگئے معاذاللہ
۔۔۔۔۔
العبد الضعیف: ابو علی زید عفی عنہ



No comments:
Post a Comment