عام طور پر ابن ابی العز صاحب شرح العقیدۃ الطحاویۃ کو اہل السنت والجماعت بالخصوص احناف کا ترجمان سمجھا جاتا ہے حتی کہ العقیدۃ الطحاویۃ پر اس کی شرح کا درس بعض مدارس میں دیا جاتا ہے اوربعض اچھے خاصے پڑھے لکھے حضرات بھی عقائد کے باب میں قلت مطالعہ کے سبب اس کے مداح رہے ہیں حالانکہ نہ تو یہ شخصیت اہل السنت والجماعت کے ترجمان ہے اور نہ اس کی شرح ، بلکہ اس شرح میں اس نے درحقیقت عقائد اہل السنت والجماعت کو تنقید کا نشانہ بناکر مجسمہ کی خوبصورت انداز سے ترجمانی کی ہے اسی وجہ سے موجودہ دور کے غیر مقلدین اس شرح کو بڑی اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں ۔ اسی طرح یہ مولوی صاحب احناف کے بھی ترجمان نہیں ، بلکہ التنبیہ علی مشکلات الہدایہ کے نام سے کئی جلدوں میں فقہ حنفی بالخصوص ہدایہ پر جو رکیک حملے کیے ہے الامان و الحفیظ ، امام قاسم ابن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ نے اجوبۃ عن اعتراضات ابن بی العز کے نام سے بڑے مدلل انداز سے ان کا رد کیا ہے ، بلکہ ان کے استاذ امام ابن الھمام رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فتح القدیر بھی بعض جگہوں پر ان کا تعاقب کیا ہے ، بدء الامالی اور العصیدۃ السماویۃ شرح العقیدۃ الطحاویہ وغیرہ میں بھی خوب تفصیل سے ان کا رد موجود ہے مگر موجودہ دور میں عقائد کے باب میں سند کا درجہ رکھنے والی شخصیت محقق العصرعلامہ سجاد الحجابی دامت برکاتہم العالیہ نے جس تفصیل اور خوبصورت انداز سے مدلل طریقہ سے درج ذیل کتاب میں ان کا رد کیا ہے شاید اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں کیا۔

No comments:
Post a Comment