(((حدیث میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) ہوتاپر اعتراضات کا منصفانہ جائزہ)))
تحریر حضرت مولانا ساجد خان نقشبندی صاحب حفظہ اللہ
ایک بھائی نے واٹس اپ پر ایک رافضی کی تحریر بھیجی ہے جس میں اس حدیث پر چند اعتراضات ہیں ہم اس مضمون میں انہی اعتراضات کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے۔
پہلے حدیث کا متن ملاحظہ ہو۔
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
اس حدیث کی تخریج امام احمد نے مسند احمد ، امام ترمذی نے سنن الترمذی ، امام طبرانی نے ، امام رویانی نے ، امام بیہقی نے ، امام حاکم نے اپنی کتب میں کی ہے تفصیل کیلئے جامع الاحادیث ،۱۸،ص۱۴۱ کا مطالعہ کریں۔
(وأخرجه يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/462 و2/500، والترمذي (3686) ، وأبو بكر القطيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" لأحمد (519) ، والطبراني في "الكبير" 17/ (822) ، والحاكم 3/85، واللالكائي في "شرح أصول الاعتقاد" (2491) ، والخطيب في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 2/478 من طريق أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وقال الحاكم: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي،وأخرجه القطيعي (694) من طريق وهب الله بن راشد، عن حيوة بن شريح، به. == وأخرجه أيضاً (498) ، والطبراني 17/ (857) من طريق يحيى بن كثير الناجي، عن ابن لهيعة، عن مشرح بن هاعان، به. وفي رواية الطبراني: أبو عشانة بدلاً من مشرح.)
امام حاکم نے اس کی سندکو صحیح کہا او ر امام ذہبی نے بھی اس کی موافقت کی ۔
(مستدر ک علی الصحیحین ،ج۳،ص۹۲،رقم ۴۴۹۵)
امام ترمذی نے اس کو حسن غریب کہا ہے ۔
((خلاصہ )): یہ حدیث علما کے درمیان مختلف فیہ ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حدیث’’ حسن‘‘ درجہ کی ہے جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے ۔ اس حدیث کا بنیادی رواوی ’’مشرح بن ھاعان‘‘ ہے ۔
((پہلا بنیاد اعتراض))
معترض نے اسی پر بعض ائمہ جرح و تعدیل کی جروحات نقل کی ہیں لیکن جہاں اس راوی پر جرح ہے وہاں توثیق بھی منقول ہے ۔
ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں ارجو انہ لاباس بہ ۔(الجرح والتعدیل ،ج۸،ص۴۳۲)(تہذیب التہذیب،ج۱۰،ص۱۵۵)
ابن حبان سے بھی ان کی توثیق کا قول منقول ہے ۔
(خلاصة تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال،ص۳۹۶)
امام ذہبی فرماتے ہیں:
صدوق، لينه ابن حبان.وقال عثمان بن سعيد، عن ابن معين: ثقة.
(میزان الاعتدال ،ج۴،ص۱۱۷)
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ’’مقبول ‘‘ کہا ہے ۔(تقریب التہذیب،ص۵۳۲)
(مقبول ای عند المتابعت ۔ساجد)
پھر اس حدیث کے دو شاہد اور ہیں جس کو امام ہیثمی نے نقل کیا لہذا اگر راوی پر جرح ہوتب بھی ان شواہد کی وجہ سے یہ حدیث کم ازکم درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہے ۔
قال الہیثمی :عن عصمة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان بعدي نبي لكان عمر رواه الطبراني وفيه الفضل بن المختار وهو ضعيف ۔ وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان الله باعثا رسولا بعدي لبعث عمر بن الخطاب رواه الطبراني في الأوسط وفيه عبد المنعم بن بشير وهو ضعيف
(مجمع الزوائد ،۹،ص۶۸)
اس پر یہ جاہلانہ اعتراض نہ کیا جائے جیسا کہ معترض نے کیاکہ اس میں بھی تو دو راوی ضعیف ہیں ۔اس لئے کہ ضعیف ہیں تبھی تو ہم اسے حسن کہہ رہے ہیں ۔
((دوسرا اعتراض ))
اس کو امام ابن جوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے ۔
((جواب ))
امام ابن جوزی کا کسی حدیث کو موضوع کہہ دینا دلیل اس کے موضوع ہونے کی نہیں وہ اس معاملے میں متشد د تھے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے انہوں نے تو کئی صحیح احادیث کو بھی موضوع کہہ دیا ۔پھر ان کا موقف بیان کرنے میں بھی دجل و تلبیس سے کام لیا گیا ہے جن روایات پر انہوں نے جرح کی وہ دیگر راویان سے منقول ہیں اس روایت کے متعلق تو وہ خود امام ترمذی کی تحسین کو نقل کرتے ہیں:
وفي المختصر " لو لم أبعث لبعثت يا عمر " منكر والمعروف " لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب " حسنه الترمذي.
(تذکرۃ الموضوعات ص۹۴)
((تیسرا اعتراض ))
نبی کیلئے معصوم عن الخطا ہونا ضروری ہے ،شرک نہ کرتا ہو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تو پہلے مشرک تھے ، پھر کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ عمر فاروق سے بڑے صحابی نہ تھے ؟تو ان کے بارے میں ایسا کیوں نہ کہا گیا؟ اس حدیث سے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔معاذاللہ۔
((جواب ))
یہ ساری عقلی ڈھکوسلے شیطانی دماغ کے ہیں اور ہمارے علما آپ کی پیدائش سے پہلے اس کے جواب دے چکے ہیں ۔اول بات تو میں نے کافی عرصہ پہلے آپ کی کتاب ’’الکافی‘‘ میں پڑھا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کفر کا ارتکاب کیا ہے تو آپ کے مذہب میں تو نبی کفر بھی کرسکتا ہے۔(اس وقت کافی پیش نظر نہیں اس لئے حوالہ دینے سے قاصر ہوں البتہ حوالے کاذمہ دار ہوں) ۔پھر اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے گناہ یا شرک سرزد ہوگیا تو ان کی نبوت پر بقول آپ کے کیا فرق پڑا؟ آپ کا مذہب ہے کہ تقیہ میں کفر بھی بولاجاسکتا ہے تو اگر کوئی نبی تقیۃ کفر کہے اس کی نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پر ایسے اعتراضات کیوں؟
ثانیا نبوت سے پہلے نبی کا ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہونا اہل السنتۃوالجماعۃ کے نزدیک ضروری نہیں تفصیل کیلئے ’’شرح العقائد و شرح المقاصد‘‘ کا مطالعہ کریں۔
پھر آپ کے یہ اعتراضات تب صحیح ہوتے جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ حقیقۃ نبی ہوتے یہاںمقصود حقیقۃ ان کی نبوت کا قول نہیں بلکہ بطور مبالغہ ان کے خصائل و مناقب کو بیان کرنا ہے کہ ان میں بعض صفات انبیا والی پائی جاتی ہیں جیسے ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے گھر کی تعمیر کیلئے چڑیا کا گھونسلہ بھی دے سکتے ہو تو دو تو کیا یہ حقیقت پر مبنی ہے ؟
علامہ کلابازی حنفی رحمہ اللہ نے ان ڈھکوسلوں کے خوب جواب دئے ہیں ان کی تفصیلی کلام کا خلاصہ ہم پیش کرتے ہیں اہل علم اصل عبارت خود ملاحظہ فرمالیں کہ اول تو یہ کلام بطور فرض ہے ۔ثانیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں بعض صفات و خصال انبیا کی صفات کی طرح ہیں اور ان کی حالت انبیا کی حالت کے قریب تر ہے ۔ثانیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حدیث سے دراصل اس مسئلہ کی وضاحت دینی مقصود ہو کہ نبوت یہ کسی علت یا آدمی میں کسی وصف کی وجہ سے نہیں ملتی یعنی کسبی چیز نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے اس کیلئے منتخب کردے ۔(لہذا یہ اعتراض بھی لایعنی کہ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ معصوم عن الخطا تو نہیں یا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ کیوں نہیں کہا ؟)آخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے کئی اوصاف کو بیان کرتے ہیں ان کی حق گوئی دین کیلئے قربانی ، دین کی تبلیغ کی تڑپ اسلام کی سربلندی ،جھوٹ نہ بولنا ، ہجرت وغیرہ اور پھر خود ہی اعتراض قائم کرتے ہیں کہ یہ جتنے اوصاف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں ہیں اس سے بڑھ کر حضرت ابو بکر صدیق و علی رضی اللہ تعالی عنہما میں تھے تو آخر ان کیلئے یہ بشارت کیوں نہیں ؟ تو دراصل یہ مسئلہ سمجھانا تھا کہ نبوت اسباب و اعمال پر نہیں بلکہ یہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہے جس کو چاہے دے ۔اور ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر اس حدیث کی روشنی میں فضیلت کا قول تب درست ہوتا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے تو پھر تو یقینا سب سے افضل ہوتے جو نبی نہیں ،لیکن چونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نبی نہیں تو ممکن ہے کہ کوئی دوسرا ان سے افضل ہو جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ۔
قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ الزَّاهِدُ رَحِمَهُ اللَّهُ : أَخْبَرَ النَّبِيُّ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، أَنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ كَانَ، كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَمَّا لَا يَكُونُ أَنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ كَانَ، بِقَوْلِهِ: وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ [الأنعام: 28] ، بِقَوْلِهِمْ: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ[المؤمنون: 107] ، فَفِيهِ إِنَابَةُ كَذِبِهِمْ وَعُتُوِّهِمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ كُفْرَهُمْ وَتَرْكَهُمُ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ كَانَ عِنَادًا، وَجُحُودًا عَلَى بَصِيرَةٍ بِمَوَاضِعِ الْحَقِّ، وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهَوَى لَا لِشُبْهَةٍ عَرَضَتْ. فَكَذَلِكَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيهِ إِنَابَةٌ عَلَى الْفَضْلِ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ فِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْأَوْصَافِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْأَنْبِيَاءِ، وَالنُّعُوتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمُرْسَلِينَ. فَأَخْبَرَ أَنَّ فِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْصَافًا مِنْ أَوْصَافِ الْأَنْبِيَاءِ، وَخِصَالًا مِنَ الْخِصَالِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمُرْسَلِينَ، مُقَرَّبٌ حَالُهُ مِنْ حَالِ الْأَنْبِيَاءِ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - كَمَا وَصَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْبًا أَتَوْهُ فَقَالَ: «حُكَمَاءُ عُلَمَاءُ كَادُوا أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْفِقْهِ أَنْبِيَاءَ» . وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ مَعْنًى آخَرُ، وَهُوَ إِخْبَارٌ أَنَّ النُّبُوَّةَ لَيْسَتْ بِاسْتِحْقَاقٍ وَلَا بِعِلَّةٍ تَكُونُ فِي الْعَبْدِ يَسْتَحِقُّ بِهَا النُّبُوَّةَ وَيَسْتَوْجِبُ الرِّسَالَةَ، بَلْ هُوَ اخْتِيَارٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَاصْطِفَاءٌ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ [آل عمران: 179] ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [الحج: 75] ، وَقَالَ تَعَالَى: لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ [الزخرف: 32] . فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ إِلَى أَوْصَافِ الرُّسُلِ وَالْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمُ السَّلَامُ - وَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ مِنْهَا كَثِيرًا، لَوْ كَانَتِ الْأَوْصَافُ مُوجِبَةً لِلرُّسُلِ لَكَانَ عُمَرُ بَعْدِي رَسُولًا. وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ أَنَّ خَاصَّةَ الْأَوْصَافِ الَّتِي كَانَتْ فِي عُمَرَ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا عَنْ غَيْرِهِ، قُوَّتُهُ فِي دِينِهِ وَبَدَنِهِ، وَسِتْرُهُ، وَقِيَامُهُ بِإِظْهَارِ دِينِ اللَّهِ وَإِعْرَاضِهِ عَنِ الدُّنْيَا، وَأَنَّهُ كَانَ سَبَبًا لِظُهُورِ الْحَقِّ وَإِعْزَازِ الدِّينِ، وَفُرْقَانِ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَبِذَلِكَ سُمِّيَ الْفَارُوقَ
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ فَتْحًا، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ رَحْمَةً، وَكَانَتْ هِجْرَتُهُ نُصْرَةً، وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ بِالْبَيْتِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ قَاتَلَهُمْ حَتَّى صَلَّيْنَا حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الرَّشَادِيُّ، قَالَ: ح عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: ح أَبِي قَالَ: ح وَكِيعٌ، عَنْ مَسْعُودٍ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَذَكَرَهُ. فَالْخَوَاصُّ الَّتِي تَظْهَرُ لِلْخَلْقِ مِنْ أَوْصَافِ الْأَنْبِيَاءِ، الصِّدْقُ لِلَّهِ، وَالثَّقَةُ بِاللَّهِ، وَالْإِعْرَاضُ عَمَّا دُونَ اللَّهِ، وَذَلِكَ فِي صِدْقِ الْقَوْلِ، وَشَجَاعَةِ الْقَلْبِ، وَسَخَاوَةِ النَّفْسِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ لِي بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ كَذَا نَعَمًا لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ، لَا تَجِدُونِي جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا وَلَا بَخِيلًا» ، هَذَا مَعْنَى الْحَدِيثِ، فَدَلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ هَذِهِ الْخِصَالَ مِنْ أَخَصِّ الْأَوْصَافِ الَّتِي تَظْهَرُ لِلنَّاسِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ لَا يَطَلِّعُ عَلَيْهِ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ عَزَّ وَجَلَّ. ثُمَّ وُجِدَتْ أَكْثَرُ هَذِهِ الْأَوْصَافِ فِي أَبِي بَكْرٍ، وَفِي عَلِيٍّ أَكْثَرَ مِمَّا وُجِدَتْ فِي عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَاللَّهِ لَوْ خَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَنِي السِّبَاعُ فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - لَأَنْفَذْتُ جَيْشَ أُسَامَةَ» وَبِهِ بَانَ الْحَقُّ مِنَ الْبَاطِلِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِتَالِهِ أَهْلَ الرِّدَّةِ، وَبَذْلِ جَمِيعِ مَالِهِ، حَتَّى قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا خَلَّفْتَ لِعَيَالِكَ؟ قَالَ: اللَّهَ وَرَسُولَهُ. وَالصِّدْقُ مِنْ أَخَصِّ أَوْصَافِهِ وَسَائِرِ خِصَالِهِ الَّتِي لَا خَفَاءَ بِهِ، ثُمَّ لَمْ يُخْبِرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَوَ كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ لَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عَلِيٌّ، وَلَكِنْ قَالَ ذَلِكَ لِعُمَرَ، لِيَعْلَمَ أَنَّ النُّبُوَّةَ بِالْمَشِيئَةِ وَالِاصْطِفَاءِ لَا بِالْأَسْبَابِ. وَقَوْلُهُ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَلَا يُوجِبُ أَنْ يَكُونَ عُمَرُ أَفْضَلَ مِنْ غَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا، وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا كَانَ أَفْضَلَ مِمَّنْ لَيْسَ بِنَبِيٍّ، فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا جَازَ أَنْ يَكُونَ غَيْرُهُ أَفْضَلَ مِنْهُ وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
( بحر الفوائد المشهور بمعاني الأخبار،ص۲۸۴)
((آخری بات ))
معترض نے بھی اپنے مضمون کے آخر میں اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے تو معترض کے نزدیک بھی چونکہ یہ حدیث از قبیل ضعیف ہے اور ہمارے نزدیک بالاتفاق ضعیف فضائل میں مقبول ہے تفصیل میری کتاب ’’الاربعین فی مناقب امیر المومنین ‘‘ میں ملاحظہ ہو لہذا معترض کی یہ تمام جرح ہمارے خلاف نہیں ۔
ثانیا آج نیٹ پر معترض کے کئی نامی گرامی ذاکرین کے بیانات موجود ہیں جو فضائل علی کی آڑ میں خرافات کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں کبھی اس پر بھی لب کشائی کی جرات ہوئی؟
ثالثا:ایک ٹی وی پروگرام میں معترض کے علامہ ضمیر نقوی المعرو ف لڈن جعفری نے دعوی کیا ہے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں ہے اور میں اس پر پچاس ہزار کتب کے حوالے دے سکتا ہوں ہمارا اس فرقہ کو تا قیامت چیلنج ہے کہ پچاس ہزار نہیں صرف پچاس اہل سنت کی کتب سے صحیح سند کے ساتھ ثابت کردے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل میں ہے ۔فھل من مبارز۔
رابعا: موصوف نے یہ مضمون لکھ کر کوئی تیر نہیں مارا بلکہ عرب علما کی تحقیقات کو چوری کرکے اسے اردو کے قالب میں ڈھال دیا ہے مطالبہ پر ہم اس کا ثبوت بھی پیش کردیں گے کہ یہ سرقہ کہاں سے کیا گیا ہے؟ ۔ہم نے بھی جوابی مضمون کی تیاری میں مسند امام احمد بن حنبل پر دکتور شعیب الارنوط کے حاشیہ سے کافی استفادہ کیا ۔اللہ اس کا ان کو بہترین صلہ عطا فرمائے ۔آمین۔
تحریر حضرت مولانا ساجد خان نقشبندی صاحب حفظہ اللہ
ایک بھائی نے واٹس اپ پر ایک رافضی کی تحریر بھیجی ہے جس میں اس حدیث پر چند اعتراضات ہیں ہم اس مضمون میں انہی اعتراضات کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے۔
پہلے حدیث کا متن ملاحظہ ہو۔
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
اس حدیث کی تخریج امام احمد نے مسند احمد ، امام ترمذی نے سنن الترمذی ، امام طبرانی نے ، امام رویانی نے ، امام بیہقی نے ، امام حاکم نے اپنی کتب میں کی ہے تفصیل کیلئے جامع الاحادیث ،۱۸،ص۱۴۱ کا مطالعہ کریں۔
(وأخرجه يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/462 و2/500، والترمذي (3686) ، وأبو بكر القطيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" لأحمد (519) ، والطبراني في "الكبير" 17/ (822) ، والحاكم 3/85، واللالكائي في "شرح أصول الاعتقاد" (2491) ، والخطيب في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 2/478 من طريق أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وقال الحاكم: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي،وأخرجه القطيعي (694) من طريق وهب الله بن راشد، عن حيوة بن شريح، به. == وأخرجه أيضاً (498) ، والطبراني 17/ (857) من طريق يحيى بن كثير الناجي، عن ابن لهيعة، عن مشرح بن هاعان، به. وفي رواية الطبراني: أبو عشانة بدلاً من مشرح.)
امام حاکم نے اس کی سندکو صحیح کہا او ر امام ذہبی نے بھی اس کی موافقت کی ۔
(مستدر ک علی الصحیحین ،ج۳،ص۹۲،رقم ۴۴۹۵)
امام ترمذی نے اس کو حسن غریب کہا ہے ۔
((خلاصہ )): یہ حدیث علما کے درمیان مختلف فیہ ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حدیث’’ حسن‘‘ درجہ کی ہے جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے ۔ اس حدیث کا بنیادی رواوی ’’مشرح بن ھاعان‘‘ ہے ۔
((پہلا بنیاد اعتراض))
معترض نے اسی پر بعض ائمہ جرح و تعدیل کی جروحات نقل کی ہیں لیکن جہاں اس راوی پر جرح ہے وہاں توثیق بھی منقول ہے ۔
ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں ارجو انہ لاباس بہ ۔(الجرح والتعدیل ،ج۸،ص۴۳۲)(تہذیب التہذیب،ج۱۰،ص۱۵۵)
ابن حبان سے بھی ان کی توثیق کا قول منقول ہے ۔
(خلاصة تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال،ص۳۹۶)
امام ذہبی فرماتے ہیں:
صدوق، لينه ابن حبان.وقال عثمان بن سعيد، عن ابن معين: ثقة.
(میزان الاعتدال ،ج۴،ص۱۱۷)
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ’’مقبول ‘‘ کہا ہے ۔(تقریب التہذیب،ص۵۳۲)
(مقبول ای عند المتابعت ۔ساجد)
پھر اس حدیث کے دو شاہد اور ہیں جس کو امام ہیثمی نے نقل کیا لہذا اگر راوی پر جرح ہوتب بھی ان شواہد کی وجہ سے یہ حدیث کم ازکم درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہے ۔
قال الہیثمی :عن عصمة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان بعدي نبي لكان عمر رواه الطبراني وفيه الفضل بن المختار وهو ضعيف ۔ وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان الله باعثا رسولا بعدي لبعث عمر بن الخطاب رواه الطبراني في الأوسط وفيه عبد المنعم بن بشير وهو ضعيف
(مجمع الزوائد ،۹،ص۶۸)
اس پر یہ جاہلانہ اعتراض نہ کیا جائے جیسا کہ معترض نے کیاکہ اس میں بھی تو دو راوی ضعیف ہیں ۔اس لئے کہ ضعیف ہیں تبھی تو ہم اسے حسن کہہ رہے ہیں ۔
((دوسرا اعتراض ))
اس کو امام ابن جوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے ۔
((جواب ))
امام ابن جوزی کا کسی حدیث کو موضوع کہہ دینا دلیل اس کے موضوع ہونے کی نہیں وہ اس معاملے میں متشد د تھے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے انہوں نے تو کئی صحیح احادیث کو بھی موضوع کہہ دیا ۔پھر ان کا موقف بیان کرنے میں بھی دجل و تلبیس سے کام لیا گیا ہے جن روایات پر انہوں نے جرح کی وہ دیگر راویان سے منقول ہیں اس روایت کے متعلق تو وہ خود امام ترمذی کی تحسین کو نقل کرتے ہیں:
وفي المختصر " لو لم أبعث لبعثت يا عمر " منكر والمعروف " لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب " حسنه الترمذي.
(تذکرۃ الموضوعات ص۹۴)
((تیسرا اعتراض ))
نبی کیلئے معصوم عن الخطا ہونا ضروری ہے ،شرک نہ کرتا ہو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تو پہلے مشرک تھے ، پھر کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ عمر فاروق سے بڑے صحابی نہ تھے ؟تو ان کے بارے میں ایسا کیوں نہ کہا گیا؟ اس حدیث سے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔معاذاللہ۔
((جواب ))
یہ ساری عقلی ڈھکوسلے شیطانی دماغ کے ہیں اور ہمارے علما آپ کی پیدائش سے پہلے اس کے جواب دے چکے ہیں ۔اول بات تو میں نے کافی عرصہ پہلے آپ کی کتاب ’’الکافی‘‘ میں پڑھا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کفر کا ارتکاب کیا ہے تو آپ کے مذہب میں تو نبی کفر بھی کرسکتا ہے۔(اس وقت کافی پیش نظر نہیں اس لئے حوالہ دینے سے قاصر ہوں البتہ حوالے کاذمہ دار ہوں) ۔پھر اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے گناہ یا شرک سرزد ہوگیا تو ان کی نبوت پر بقول آپ کے کیا فرق پڑا؟ آپ کا مذہب ہے کہ تقیہ میں کفر بھی بولاجاسکتا ہے تو اگر کوئی نبی تقیۃ کفر کہے اس کی نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پر ایسے اعتراضات کیوں؟
ثانیا نبوت سے پہلے نبی کا ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہونا اہل السنتۃوالجماعۃ کے نزدیک ضروری نہیں تفصیل کیلئے ’’شرح العقائد و شرح المقاصد‘‘ کا مطالعہ کریں۔
پھر آپ کے یہ اعتراضات تب صحیح ہوتے جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ حقیقۃ نبی ہوتے یہاںمقصود حقیقۃ ان کی نبوت کا قول نہیں بلکہ بطور مبالغہ ان کے خصائل و مناقب کو بیان کرنا ہے کہ ان میں بعض صفات انبیا والی پائی جاتی ہیں جیسے ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے گھر کی تعمیر کیلئے چڑیا کا گھونسلہ بھی دے سکتے ہو تو دو تو کیا یہ حقیقت پر مبنی ہے ؟
علامہ کلابازی حنفی رحمہ اللہ نے ان ڈھکوسلوں کے خوب جواب دئے ہیں ان کی تفصیلی کلام کا خلاصہ ہم پیش کرتے ہیں اہل علم اصل عبارت خود ملاحظہ فرمالیں کہ اول تو یہ کلام بطور فرض ہے ۔ثانیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں بعض صفات و خصال انبیا کی صفات کی طرح ہیں اور ان کی حالت انبیا کی حالت کے قریب تر ہے ۔ثانیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حدیث سے دراصل اس مسئلہ کی وضاحت دینی مقصود ہو کہ نبوت یہ کسی علت یا آدمی میں کسی وصف کی وجہ سے نہیں ملتی یعنی کسبی چیز نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے اس کیلئے منتخب کردے ۔(لہذا یہ اعتراض بھی لایعنی کہ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ معصوم عن الخطا تو نہیں یا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ کیوں نہیں کہا ؟)آخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے کئی اوصاف کو بیان کرتے ہیں ان کی حق گوئی دین کیلئے قربانی ، دین کی تبلیغ کی تڑپ اسلام کی سربلندی ،جھوٹ نہ بولنا ، ہجرت وغیرہ اور پھر خود ہی اعتراض قائم کرتے ہیں کہ یہ جتنے اوصاف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں ہیں اس سے بڑھ کر حضرت ابو بکر صدیق و علی رضی اللہ تعالی عنہما میں تھے تو آخر ان کیلئے یہ بشارت کیوں نہیں ؟ تو دراصل یہ مسئلہ سمجھانا تھا کہ نبوت اسباب و اعمال پر نہیں بلکہ یہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہے جس کو چاہے دے ۔اور ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر اس حدیث کی روشنی میں فضیلت کا قول تب درست ہوتا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے تو پھر تو یقینا سب سے افضل ہوتے جو نبی نہیں ،لیکن چونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نبی نہیں تو ممکن ہے کہ کوئی دوسرا ان سے افضل ہو جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ۔
قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ الزَّاهِدُ رَحِمَهُ اللَّهُ : أَخْبَرَ النَّبِيُّ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، أَنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ كَانَ، كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَمَّا لَا يَكُونُ أَنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ كَانَ، بِقَوْلِهِ: وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ [الأنعام: 28] ، بِقَوْلِهِمْ: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ[المؤمنون: 107] ، فَفِيهِ إِنَابَةُ كَذِبِهِمْ وَعُتُوِّهِمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ كُفْرَهُمْ وَتَرْكَهُمُ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ كَانَ عِنَادًا، وَجُحُودًا عَلَى بَصِيرَةٍ بِمَوَاضِعِ الْحَقِّ، وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهَوَى لَا لِشُبْهَةٍ عَرَضَتْ. فَكَذَلِكَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيهِ إِنَابَةٌ عَلَى الْفَضْلِ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ فِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْأَوْصَافِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْأَنْبِيَاءِ، وَالنُّعُوتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمُرْسَلِينَ. فَأَخْبَرَ أَنَّ فِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْصَافًا مِنْ أَوْصَافِ الْأَنْبِيَاءِ، وَخِصَالًا مِنَ الْخِصَالِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمُرْسَلِينَ، مُقَرَّبٌ حَالُهُ مِنْ حَالِ الْأَنْبِيَاءِ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - كَمَا وَصَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْبًا أَتَوْهُ فَقَالَ: «حُكَمَاءُ عُلَمَاءُ كَادُوا أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْفِقْهِ أَنْبِيَاءَ» . وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ مَعْنًى آخَرُ، وَهُوَ إِخْبَارٌ أَنَّ النُّبُوَّةَ لَيْسَتْ بِاسْتِحْقَاقٍ وَلَا بِعِلَّةٍ تَكُونُ فِي الْعَبْدِ يَسْتَحِقُّ بِهَا النُّبُوَّةَ وَيَسْتَوْجِبُ الرِّسَالَةَ، بَلْ هُوَ اخْتِيَارٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَاصْطِفَاءٌ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ [آل عمران: 179] ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [الحج: 75] ، وَقَالَ تَعَالَى: لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ [الزخرف: 32] . فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ إِلَى أَوْصَافِ الرُّسُلِ وَالْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمُ السَّلَامُ - وَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ مِنْهَا كَثِيرًا، لَوْ كَانَتِ الْأَوْصَافُ مُوجِبَةً لِلرُّسُلِ لَكَانَ عُمَرُ بَعْدِي رَسُولًا. وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ أَنَّ خَاصَّةَ الْأَوْصَافِ الَّتِي كَانَتْ فِي عُمَرَ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا عَنْ غَيْرِهِ، قُوَّتُهُ فِي دِينِهِ وَبَدَنِهِ، وَسِتْرُهُ، وَقِيَامُهُ بِإِظْهَارِ دِينِ اللَّهِ وَإِعْرَاضِهِ عَنِ الدُّنْيَا، وَأَنَّهُ كَانَ سَبَبًا لِظُهُورِ الْحَقِّ وَإِعْزَازِ الدِّينِ، وَفُرْقَانِ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَبِذَلِكَ سُمِّيَ الْفَارُوقَ
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ فَتْحًا، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ رَحْمَةً، وَكَانَتْ هِجْرَتُهُ نُصْرَةً، وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ بِالْبَيْتِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ قَاتَلَهُمْ حَتَّى صَلَّيْنَا حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الرَّشَادِيُّ، قَالَ: ح عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: ح أَبِي قَالَ: ح وَكِيعٌ، عَنْ مَسْعُودٍ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَذَكَرَهُ. فَالْخَوَاصُّ الَّتِي تَظْهَرُ لِلْخَلْقِ مِنْ أَوْصَافِ الْأَنْبِيَاءِ، الصِّدْقُ لِلَّهِ، وَالثَّقَةُ بِاللَّهِ، وَالْإِعْرَاضُ عَمَّا دُونَ اللَّهِ، وَذَلِكَ فِي صِدْقِ الْقَوْلِ، وَشَجَاعَةِ الْقَلْبِ، وَسَخَاوَةِ النَّفْسِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ لِي بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ كَذَا نَعَمًا لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ، لَا تَجِدُونِي جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا وَلَا بَخِيلًا» ، هَذَا مَعْنَى الْحَدِيثِ، فَدَلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ هَذِهِ الْخِصَالَ مِنْ أَخَصِّ الْأَوْصَافِ الَّتِي تَظْهَرُ لِلنَّاسِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ لَا يَطَلِّعُ عَلَيْهِ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ عَزَّ وَجَلَّ. ثُمَّ وُجِدَتْ أَكْثَرُ هَذِهِ الْأَوْصَافِ فِي أَبِي بَكْرٍ، وَفِي عَلِيٍّ أَكْثَرَ مِمَّا وُجِدَتْ فِي عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَاللَّهِ لَوْ خَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَنِي السِّبَاعُ فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - لَأَنْفَذْتُ جَيْشَ أُسَامَةَ» وَبِهِ بَانَ الْحَقُّ مِنَ الْبَاطِلِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِتَالِهِ أَهْلَ الرِّدَّةِ، وَبَذْلِ جَمِيعِ مَالِهِ، حَتَّى قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا خَلَّفْتَ لِعَيَالِكَ؟ قَالَ: اللَّهَ وَرَسُولَهُ. وَالصِّدْقُ مِنْ أَخَصِّ أَوْصَافِهِ وَسَائِرِ خِصَالِهِ الَّتِي لَا خَفَاءَ بِهِ، ثُمَّ لَمْ يُخْبِرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَوَ كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ لَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عَلِيٌّ، وَلَكِنْ قَالَ ذَلِكَ لِعُمَرَ، لِيَعْلَمَ أَنَّ النُّبُوَّةَ بِالْمَشِيئَةِ وَالِاصْطِفَاءِ لَا بِالْأَسْبَابِ. وَقَوْلُهُ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَلَا يُوجِبُ أَنْ يَكُونَ عُمَرُ أَفْضَلَ مِنْ غَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا، وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا كَانَ أَفْضَلَ مِمَّنْ لَيْسَ بِنَبِيٍّ، فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا جَازَ أَنْ يَكُونَ غَيْرُهُ أَفْضَلَ مِنْهُ وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
( بحر الفوائد المشهور بمعاني الأخبار،ص۲۸۴)
((آخری بات ))
معترض نے بھی اپنے مضمون کے آخر میں اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے تو معترض کے نزدیک بھی چونکہ یہ حدیث از قبیل ضعیف ہے اور ہمارے نزدیک بالاتفاق ضعیف فضائل میں مقبول ہے تفصیل میری کتاب ’’الاربعین فی مناقب امیر المومنین ‘‘ میں ملاحظہ ہو لہذا معترض کی یہ تمام جرح ہمارے خلاف نہیں ۔
ثانیا آج نیٹ پر معترض کے کئی نامی گرامی ذاکرین کے بیانات موجود ہیں جو فضائل علی کی آڑ میں خرافات کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں کبھی اس پر بھی لب کشائی کی جرات ہوئی؟
ثالثا:ایک ٹی وی پروگرام میں معترض کے علامہ ضمیر نقوی المعرو ف لڈن جعفری نے دعوی کیا ہے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں ہے اور میں اس پر پچاس ہزار کتب کے حوالے دے سکتا ہوں ہمارا اس فرقہ کو تا قیامت چیلنج ہے کہ پچاس ہزار نہیں صرف پچاس اہل سنت کی کتب سے صحیح سند کے ساتھ ثابت کردے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل میں ہے ۔فھل من مبارز۔
رابعا: موصوف نے یہ مضمون لکھ کر کوئی تیر نہیں مارا بلکہ عرب علما کی تحقیقات کو چوری کرکے اسے اردو کے قالب میں ڈھال دیا ہے مطالبہ پر ہم اس کا ثبوت بھی پیش کردیں گے کہ یہ سرقہ کہاں سے کیا گیا ہے؟ ۔ہم نے بھی جوابی مضمون کی تیاری میں مسند امام احمد بن حنبل پر دکتور شعیب الارنوط کے حاشیہ سے کافی استفادہ کیا ۔اللہ اس کا ان کو بہترین صلہ عطا فرمائے ۔آمین۔
No comments:
Post a Comment