ترک رفع یدین کے متعلقحضرت مولاناامینصفدراکاڑویؒ کا بہترین استدلال۔
✍️احسانطالب
مولاناامین صفدراکاڑوی صاحبؒ ایک بیان میںفرماتے ہیںترکرفع یدینکوآسانطرزپرسمجھیں۔
کہ ایک ہے رفع یدینکاثبوت اسکےہمبالکلہی منکرنہیںہیں یہثابت ہےہمچونکہترککےقائلہیںتوترکاسیکوکہتےہیںجسپرپہلےعملہوپھرتککیاہو ۔
ہمارامطالبہ یہہےاس پردلیلدیں کہنبیﷺ نےآخرتکرفع یدینکیا۔
پھرفرمایااس کیمثالسمجھیں۔
ایکہےکہحضرتموسیؑنبیہیں اورایکہےحضرت موسیؑ آخری نبی ہیں ان میںاسلامکفرکافرق ہے۔
حضرت موسیؑ نبیہیں یہسب مسلمانوں کامتفقعقیدہہے ۔
لیکناگرکوئییہودی مثلایوں کہےکہموسیؑ آخرینبیہیںاوریہ دعوی کرےکہقرآن مسلمانوں کی کتاب میں لکھاہے۔
اوردلیلوہدےکہ جس میں صرف یوں ہوکہحضرت موسیؑنبیہیں اوراسسےاستدلال آخری نبیہونےکاکرےتو اسکیبات سوفیصدغلط ہوگی۔
کیونکہآخرکالفظ کہیںسےبھی ثابتنہیں ہے۔
فرمایااسی طرح رفع یدین عندالرکوعکےمتعلق اگرکوئیغیرمقلدیہدعویکرےکہنبیﷺآخرعمرتکرفعیدینکیاتھااوردلیل میں بخاری کی وہ روایت پیش کرےجس میںصرف یوںہوکہنبیﷺرکوعکےوقت رفع یدین کیاتھا اب اس سے آخرتکرفعیدین کاثبوت بالکللایعنیہے۔
اسی وجہسے امام نسائیکااندازسمجھیں۔
امامنسائیؒ رکوع کےوقت رفع یدینکے متعلقایکباب قائمکیااسکانام ۔
باب رفعالیدین للرکوعحذاءالمنکبین ۔
اسکے تحت یہیبخاریوالی روایت لاۓ پھر اس کے بعد زکرکیاجس کانام ۔
باب ترکذالک۔
کہاس رکوعوالے رفعیدین کےترکیعنی چھوڑ دینےکےمتعلق باب۔
اور اس کےتحت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی وہ روایت زکرکیجس میں یہ الفاظ ہیںکہ نبیﷺ نےصرفپہلی باررفعیدینکیاپھر اس کےبعد (پوری نماز)میںرفعیدیننہیں کیا۔
✍️احسانطالب
مولاناامین صفدراکاڑوی صاحبؒ ایک بیان میںفرماتے ہیںترکرفع یدینکوآسانطرزپرسمجھیں۔
کہ ایک ہے رفع یدینکاثبوت اسکےہمبالکلہی منکرنہیںہیں یہثابت ہےہمچونکہترککےقائلہیںتوترکاسیکوکہتےہیںجسپرپہلےعملہوپھرتککیاہو ۔
ہمارامطالبہ یہہےاس پردلیلدیں کہنبیﷺ نےآخرتکرفع یدینکیا۔
پھرفرمایااس کیمثالسمجھیں۔
ایکہےکہحضرتموسیؑنبیہیں اورایکہےحضرت موسیؑ آخری نبی ہیں ان میںاسلامکفرکافرق ہے۔
حضرت موسیؑ نبیہیں یہسب مسلمانوں کامتفقعقیدہہے ۔
لیکناگرکوئییہودی مثلایوں کہےکہموسیؑ آخرینبیہیںاوریہ دعوی کرےکہقرآن مسلمانوں کی کتاب میں لکھاہے۔
اوردلیلوہدےکہ جس میں صرف یوں ہوکہحضرت موسیؑنبیہیں اوراسسےاستدلال آخری نبیہونےکاکرےتو اسکیبات سوفیصدغلط ہوگی۔
کیونکہآخرکالفظ کہیںسےبھی ثابتنہیں ہے۔
فرمایااسی طرح رفع یدین عندالرکوعکےمتعلق اگرکوئیغیرمقلدیہدعویکرےکہنبیﷺآخرعمرتکرفعیدینکیاتھااوردلیل میں بخاری کی وہ روایت پیش کرےجس میںصرف یوںہوکہنبیﷺرکوعکےوقت رفع یدین کیاتھا اب اس سے آخرتکرفعیدین کاثبوت بالکللایعنیہے۔
اسی وجہسے امام نسائیکااندازسمجھیں۔
امامنسائیؒ رکوع کےوقت رفع یدینکے متعلقایکباب قائمکیااسکانام ۔
باب رفعالیدین للرکوعحذاءالمنکبین ۔
اسکے تحت یہیبخاریوالی روایت لاۓ پھر اس کے بعد زکرکیاجس کانام ۔
باب ترکذالک۔
کہاس رکوعوالے رفعیدین کےترکیعنی چھوڑ دینےکےمتعلق باب۔
اور اس کےتحت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی وہ روایت زکرکیجس میں یہ الفاظ ہیںکہ نبیﷺ نےصرفپہلی باررفعیدینکیاپھر اس کےبعد (پوری نماز)میںرفعیدیننہیں کیا۔

No comments:
Post a Comment