Monday, 25 May 2020

خنزیر بن کے گوہ کھانا

خنزیر بن کے گوہ کھانا:
(اعتراض ۲۲۰):گوہ کھانے کیلئے خنزیر بننا پڑے تو خنزیر بن کر گوہ بھی کھالیتے ہیں 
یہ بدبودار عنوان قائم کرکے رضاخانی معترض لکھتا ہے :
’’ایک موحد سے لوگوں نے کہا اگر حلوہ و غلیظ ایک ہیں تو دونوں کو کھاؤانہوں نے بمشکل خنزیر ہوکر گوہ ( گونہہ) کو کھالیا پھر بصورت آدمی ہوکر حلوہ کھایا اس کو حفظ مراتب کہتے ہیں جو واجب ہے ۔(امداد المشتاق ،ص۱۰۱،طبع لاہور)‘‘۔
(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف ،ص۱۹۳)
الجواب : اس واقعہ پر رضاخانی و غیر مقلد دونوں حضرات اعتراض کرتے ہیں لہذا ہم دونوں کو سامنے رکھ کر جواب دے رہے ہیں ملاحظۃ فرمائیں۔
حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے صرف ایک واقعہ نقل کیا ہے اس میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا کہ معاذاللہ گوہ کھانے کیلئے خنزیر بننا پڑے تو بن جاؤ یہ محض معترض کا اعلی حضرتی دجل و فریب ہے ۔دوران درس استاذ بات سمجھانے کیلئے بعض اوقات کوئی فرضی واقعہ بیان کردیتا ہے یہ واقعہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے ۔مقصود صرف فرق مراتب کو بیان کرنا ہے کہ ماہیت بدل جانے سے حکم بھی بدل جاتا ہے ۔ اب خنزیر کیلئے گوہ کی وہی حیثیت ہے جو انسان کیلئے حلوہ کی یہ مقصود نہیں کہ معاذاللہ گوہ کھانے کیلئے خنزیر بن جاؤ ایسی جہالت کی امید رضاخانیوں ہی سے کی جاسکتی ہے ۔ 
اس قسم کا واقعہ رضاخانی کتب میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو:
’’انہوں نے ایک دفعہ خنزیر حوض کے کنارے رکھ کر ابن عربی سے کہا کہ اگر وجود واحد ہے تو اسے کھاؤ ابن عربی نے خدا کی مناجات کی اور تالاب میں غوطہ لگایا پھر کتے کی صورت میں برآمد ہوئے اور اس مردار میں سے کچھ کھالیا اس سے مناظرین لاجواب ہوگئے ‘‘۔
(مرات العاشقین ،ص۲۷۰)
لیجئے آپ کے شمس الدین سیالوی تو اسے ابن عربی رحمہ اللہ کا واقعہ قرار دے رہے ہیں گویا آپ کے اصول کے مطابق ابن عربی معاذاللہ کتابن کر حرام و مردار کھانے کی اجازت دے رہے تھے اور مردار کھانے کیلئے اگر کتا بننا پڑے تو بن جایا کرو۔استغفر اللہ۔
رضاخانیوں کی مستند ترین کتاب میں ایک رضاخانی میاں شیر محمد شرقپوری صاحب کا واقعہ بیان کرتا ہے :
’’فراغت سے واپسی پر راستہ میں ہی ایک جگہ ’’پیراں بھار‘‘ (پاؤں کے بل ) بیٹھ گئے اور کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر استنجا کیلئے کنویں کی طرف سے آنے والی پانی کی نالی پر چلے گئے ۔استنجا ءکے بعد آپ نے کیکر کے درخت سے تسبیح اتاری اور ساتھیوں کو لیکر گھر کی طرف واپس ہوئے ۔ راستہ میں آپ نے فرمایا ’’جب میں پیشاب کرکے لوٹا تو راستہ میں ایک جگہ پاخانہ پڑا ہوا تھا ۔وہ سوکھ کر سنہری رنگ کا ہوگیا تھا ۔مجھے وہ بڑا خوبصورت لگا میں اس کے پاس بیٹھ گیا مجھے اس پر بڑا پیار آرہا تھا ۔پاخانہ نے زبان حال سے مجھے کہا تمہیں مجھ پر اتنا پیار آرہا ہے اور بڑی محبت بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہے ہو مجھے کھا کیوں نہیں لیتے ؟ میں نے یہ سن کر جواب دیا کہ تجھے کھا تو لوں لیکن کیا کروں شریعت اجازت نہیں دیتی ‘‘۔
(حدیث دلبراں ،ص،۱۱۴از حاجی فضل احمد مونگہ رضاخانی ،اشاعت اول ۱۹۹۳)
یہ ہے رضاخانیوں کا نظریہ پاخانہ جس سے ایک فطری کراہت انسانی طبعیت میں ہوتی ہے ،کوئی بھی سلیم الفطرت پاخانے کو دیکھ کر اس کے عشق و محبت میں گم نہیں ہوتا مگر یہ رضاخانی اپنے دادا پیر کا قصہ بتلارہا ہے کہ پاخانے کو دیکھ کر اس کےحسن و جمال میں ایسے غرق ہوجاتے ہیں کہ پاخانہ بھی شرماکر کہتا ہے کہ حضرت اتنی ہی محبت ہے تو کھا کیوں نہیں لیتے ؟ اور حضرت بھی آگے سے تھو تھو نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کیا کریں معاذاللہ شریعت نے مصیبت ڈالی ہوئی ہے اگر شریعت نے منع نہ کیا ہوتا تو یقینا تجھے گیارہویں شریف کا حلوہ سمجھ کر رکابی سمیت چاٹ لیتا۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
یہ موصوف رضاخانی اپنے ایک اور بزرگ کا واقعہ نقل کرتے ہیں:
’’قاری محمد ابراہیم کئی کئی ہفتے شرقپور شریف مقیم رہتے اور عشق و محبت کے کمال غلبہ کی وجہ سے قصبہ کی نالیوں کا پانی پینے لگتے اور کہتے یہاں کی نالیوں کا پانی گند ا نہیں یہ تو آب حیات ہے ‘‘۔
(حدیث دلبراں ،ص۱۶۰)
انسانوں جانوروں کے پیشاب پاخانہ اور دیگر گندگیوں سے بھرے نالے آخر ان کیلئے ’’آب حیات‘‘ کیوں نہ ہو جب پیر صاحب خود پاخانے کے عشق میں مست ہوں جیسے پیر ویسا مرید ۔شکر ہے کہ ان لوگوں نے کسی نہ کسی وجہ سے شریعت کا پاس رکھ ہی لیا ورنہ لوگوں کو کھیتوں میں ڈالنے کیلئے گوبر کے لالے پڑجاتے پتہ چلتا کسی رضاخانی عاشق گوبر و پاخانہ کے عشق کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہاں تک تو رضاخانیوں کو جواب تھا رہےرہے غیر مقلدین تو ان کو وہی جواب کہ یہ فرق مراتب ہے اور قلب ماہیت ہے اور ماہیت بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے پھر ہوسکتا ہے کہ یہ محض فرق مراتب کو سمجھانے کیلئے بطور تمثیل ایک واقعہ بیان کیا گیا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ کسی جن کا ہو حدیث میں ہڈی جنات کی غذا اور لید ان کے جانوروں کی غذا بتلایا گیا ہے ۔ بخاری کے ایک اثر جس میں ایک بندر کو سنگسار کرنے کا واقعہ مذکور ہے جس نے ایک بندریا سے زنا کیا تھا اس کے جواب میں غیر مقلدین کے زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
’’اس میں بندروں سے مراد جن ہیں ۔دیکھئے فتح الباری (ج۷،ص۱۶۰)اور الحدیث حضرو ،۲۴،ص۲۰۔یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ جن مکلف مخلوق ہے اور جنوں کا مختلف اشکال اختیار کرنا بھی ثابت ہے لہذا تابعی کے اس قول پر اعتراض عجیب و غریب ہے ‘‘۔
(فتاوی علمیہ ،ص۴۷۲)
(ماخوذ از مسودہ دفاع اہل السنہ والجماعہ جلد سوم مؤلف استاد محترم مولانا ساجد خان نقشبندی صاحب حفظہ اللہ)

No comments:

Post a Comment