آج کل کچھ مسلمان دوسرے مسلمانوں سے ایک سوال پوچھتے ہیں ۔
آپ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر چلتے ہیں یا امام ابو حنیفہؒ(یا امام شافعی ؒ ،/امام مالک ؒ /امام احمؒد /)
کے دین پر
فوراجواب ملتا ہے: یقیناً حضرت محمد ؐ کے دین پر۔
اس پر ایک دوسرا سوال پوچھا جاتا ہے : پھر آپ اپنے کو حنفی کیوں کہتے ہیں؟
ایک عام مسلمان جو علم نہیں رکھتا اس سوال سے پریشان ہو جاتا ہے ۔اسکا فائدہ اٹھا کر اس کے دماغ میں شکوک و شبہات پیدا کیئے جاتے ہیں ۔
اوپر دیئے گئے سوالوں کا استعمال کرکے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت یہ غلط تصور عوام میں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر آپ حنفی ہیں تو آپ امام ابو حنیفہ کے دین پر عمل کر رہے ہیں ،نہ کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر۔ یہ ایک خطرناک غلطی ہے ۔امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ، امام مالک ، امام احمد ؒ نے اپنا کوئی دین ایجاد نہیں کیا بلکہ انہوں نے مضبوطی کے ساتھ ایک اور صرف ایک دین –اسلام پر عمل کیا جسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے تھے ،اس لیئے ان کے ماننے والے سب ایک ہی دین پر عمل کر رہے ہیں اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے ۔
فقہ حنفی (شافعی، مالکی، حنبلی) پر عمل کرنا بہتر ہے یا قرآن و حدیث پر ؟؟
: اس سوال کے ذریعہ ایک عام مسلمان کو دعوت فکر پهر دعوت گمراہی دی جاتی ہے، حالانکہ درحقیقت یہ وسوسہ باطل وفاسد ہے ، اس لیئے کہ جس طرح حدیث قرآن کی شرح ہے اسی طرح فقہ حدیث کی شرح ہے ، اب اصل سوال یہ بنتا ہے کہ قرآن و حدیث پر عمل علماء وفقہاء وماہرین کی تشریحات کے مطابق کریں یا اپنے نفس کی تشریح اور فرقہ حضراتء کی تشریح کے مطابق ؟؟
اہل سنت و جماعت تو مستند علماء وفقہاء ومجتهدین کی تشریحات وتصریحات کے مطابق قرآن وحدیث پر عمل کرتے ہیں اور اسی کا نام علم فقہ ہے ، جب کہ نام نہاد فرقہ میں شامل ناسمجھ لوگ خود ساختہ شیوخ کے خیالات وآراء پرعمل کرتے ہیں ، اب ایک عقل مند آدمی خود فیصلہ کرلے کہ اسے کن کی باتوں پر عمل کرنا ہے اور کس کا عمل زیاده صحیح ہے ؟....
اپنے نبی کے قریب والے زمانے کے علماء و فقہاء و تابعین کے اقوال پر عمل کرنا ہے یا اس نئے زمانہ کے لوگوں کے اقوال پر ؟
ایک امام کی تقلید کیوں کی جائے ؟
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان چار امام میں سے کسی ایک کی تقلید کیوں کی جائے ۔اس سوال کا جواب اصل میں ایک سوال پوچھ کر دیا جانا چاہیئے ،
"کیا آپ دین کے تمام قانون اور مسائل کو جانتے ہیں؟"
"کیا آپ براہِ راست قرآن اور حدیث سے وضو، نماز،زکوٰۃ وغیرہ وغیرہ کے تمام مسائل کے استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں ؟"
"کیا آپ جانتے ہیں کہ کس حدیث میں اپنے پہلے کی کس حدیث کو کلعدم ۔۔۔۔۔۔۔۔کر دیا ہے؟"
"کیا آ پ کے اندر ایسی دو حدیثوں کی مطابقت کی صلاحیت ہے جو سطحی طور پر دیکھنے سے ایک دوسرے کے مخالف معلوم ہوتےہیں؟"
کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن کی کون سی آیت احکام کے اعتبار سے عمومی ہے ،اور کون سی آیت کسی دوسرے آیت کی تشریح ہے ،؟"
اگر آپ کو ان موضوعات/امور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا علم نہیں ہے تو یقینی طور پر آپ قرآن حدیث سے مسائل کے استنباط کی صلاحیت نہیں رکھتے۔اس صورتِ حال میں آپ پر قرآن کا یہ حکم نافذ ہوتا ہے
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ (النحل: 43
پس جیسا کہ ہمیں مطلوبہ امورجنکا علم قرآں حدیث سے مسائل کے استنباط کے لیئے ضروری ہے کا وسیع علم نہیں تو ہم تو ہم نے یہ پسند کیا ہے کہ کسی ایسے کی تقلید کی جائے جسے ان تمام امور کا وسیع علم اور عمیق تجربہ اور اس نے اس شعبے میں مہارت حاصل کی ہے اس طرح کے ایک فرد کا نام اما ابو حنیفہ ہے ۔
امام ابو حنیفہ ؒ ایک تابعی ہے انہوں نے لگ بھک چار ہزار استاد سے حدیث کا علم حاصل کیا ہے ،انکا تقویٰ ایسا تھا کہ انہوں نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی (تاریخ البغداد )
انکے علم ،تقویٰ،ذہا نت کی انکے تمام معاصرین نے تعریف کی۔اور ایک مسلمان ان پر بجا طو ر پر مطمئن ہو کر اعتماد کر سکتا ہے کے وہ قران و حدیث سے استنبا ط کی صلا حیت رکھتے ہیں ۔( اور یہی بات امام شافعی ؒ ،/امام مالک ؒ /امام احمؒد کے لییے بھی پروثوق ہوکر کہی جا سکتی ہے )
دوسری وجہ جو کسی سلف الصالحین امام کو پر اعتماد کی ہے وہ قرآن کا یہ سبق ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لیئے دو بنیادی شرطیں ہیں –علم اور اس علم پر اخلاص کے ساتھ عمل اس معیار پر چاروں امام بلندی کے منتہا پر پہنچے ہوئے تھے ۔
امام ابو حنیفہ کو ان کے معاصر علما ء نے اپنے وقت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا مانتے تھے (حاشیہ تحدیب التحدیب جلد 1 صفحہ 451)
مکی بن ابراھیم جو امام بخاری ؒکے مشہور اساتذذہ میں سے ہیں و
No comments:
Post a Comment