Thursday, 18 June 2020

شہید حسین بن منصور حلّاج رحمہ اﷲتعالیٰ پرلگائے گئے الزامات کا جواب

گیارہواں الزام: ابوبکرصولی کا بیان
’’ابوبکرصولی کہتاہےکہ میں نے حلّاج کو دیکھاہے اس کی مجلس میں بیٹھاہوں۔ میری رائے میں وہ جاہل تھا مگرعاقل بنتاتھا، گفتگو سے عاجز تھامگریہ تکلف فصیح بنتاتھا، فاسق تھاجاہل بنتاتھا، ظاہرمیں عابد صوفی تھامگرجب کسی شہرکے آدمیوں کواعتزال کی طرف مائل دیکھتامعتزل بن جاتا۔ یا امامیہ کے مذہب پرپاتاتوامامیہ بن جاتااوران سے کہتاکہ مجھے تمہارے امام کی خبرہے۔ اورجس بستی کو اہل سنت کے طریقہ پردیکھتاوہاں سنی بن جاتااوراس کی حرکتیں خفیف تھیں فتنہ پروازتھاعلم طب بھی کچھ جانتا اورکیمیاکابھی تجربہ رکھتاتھا اورباوجودجہل کے خبیث تھاشہروشہرگھومتاتھا‘‘۔ (بحوالہ تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۹۰)
جواب:
ابوبکرصولی کا بیان ہرگزقابل قبول نہیں کیونکہ یہ کذاب راوی ہے۔ ابوبکرصولی کے بارے میں ابن سمعانی نے ابن مندہ کے تذکرہ میں لکھا ہےکہ اس نے ابوالقاسم سےسنا، اس نے ابوالحسین بن فارس سے سنا، اس نے ابواحمدبن ابی العشار سے سنا، کہ ابواحمدعسکری صولی پرجھوٹ بولتاہے جیساصولی غلابی پرجھوٹ بولتاتھا، جیساغلابی سب لوگوں پرجھوٹ بولتاتھا۔ (لسان المیزان: ج۷، ص۵۸۴)
شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ (متوفی ۱۸۱؁ھ) فرماتے ہیں کہ: ’’الإسناد من الدین، ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء‘‘۔ ’’سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا‘‘۔ (مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: ۳۲ و سندہ صحیح)
ابواحمدبن ابی العشارنےاس پرجوجرح کی ہےوہ بہت سخت جرح ہےکیونکہ کذب سےبڑھ کرمحدثین کےنزدیک کوئی جرح نہیں۔
احقرعرض کرتا ہے کہ خطیب کی عبارت سے اس کامقبول الروایت ہونامفہوم نہیں ہوتابلکہ خلفاءکے نزدیک مقبول القول ہونامعلوم ہوتاہے۔ انساب سمعانی کے الفاظ ملاحضہ فرمائیں: ’’وہ کئی خلفاءکاندیم رہا ہے۔ خوش اعتقاداچھے چال چلن کا اورمقبول القول تھا۔ اس کی بات مانی جاتی تھی اور بڑی عزت تھی۔ اس نے مدح اور غزل میں بہت سے اشعارکہے ہیں‘‘۔ اس عبارت سے ہرشخص سمجھ سکتاہےکہ مقبول القول کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ محدثین کے نزدیک اس کی روایت مقبول تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جن خلفاء کاوہ ندیم تھاان کے یہاں اس کی بات مانی جاتی تھی۔ اس سے اس کا محدثین کے نزدیک ثقہ یامقبول ہونا مفہوم نہیں ہوتا۔
بہرحال ابوبکرصولی کی حیثیت شاعر، ادیب اورمورخ سےزیادہ نہیں لہٰذا اس کے قول سے ابن منصورؒ کومجروح نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ جب وہ خود تسلئم کرتا ہے کہ ابن منصورظاہرمیں زاہدبنتے تھے تو اس کویہ کیسے معلوم ہواکہ ان کا زہدبناوٹی تھاحقیقی نہ تھا؟ پھر یہ اس کی تنہارائے ہے جو ابوالقاسم نصرآبادیؒ شیخ طریقت ومحدث،  ابو عبداﷲبن خفیف شیرازیؒ، ابوالعباس ابن عطاءؒاورشبلیؒ جیسے ثقات اولیاءکرام کے سامنے کچھ وقعت نہیں رکھتی۔
رہا یہ کہ ابن منصورجاہل وغبی اورفاجرفتنہ پروازخبیث تھےتوابوعبداﷲبن خفیفؒ کا قول اس کے معارض ہے کہ ابن منصورؒعالم ربانی تھے۔ نیزابوالقاسم نصرآبادیؒ کاقول بھی موجودہے کہ اگرانبیاءوصدیقین کے بعدکوئی موحد ہے تو حسین بن منصورحلّاج ہے۔ نیزان کے عارفانہ اقوال کاجونمونہ مختلف کتابوں میں رقم ہے وہ بھی ابوبکرصولی کے اس قول کی تردیدکرتاہے۔ کسی جاہل کی تو کیا کسی معمولی عالم کی بھی مجال نہیں کہ ایسے پرمغزجامع کلمات سےتکلم کرسکے۔ ابوبکرصولی نے الفاظ تو بہت کہہ دیئے مگراس کو ابن منصورکے فسق وفجوراورخبث وفتنہ پروازی کاایک واقعہ بیان کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی، اس سے اندازہ کیاجاسکتاہےکہ یہ جرح کس درجہ کی ہے۔
’’ابوبکرصولی کہتاہےکہ وہ شروع شروع میں حضرت رضاکی طرف دعوت دیتا تھا لوگوں نے مخبری کی تو اس کوسزادی گئی۔ وہ جاہل آدمی کواول اپناکچھ شعبدہ دکھلاتاجب اس کو اعتمادہوجاتاتواپنی خدائی کی طرف دعوت دیتاتھا، چنانچہ ابوسہل بن نوبخت کوبھی اس کی دعوت دی تواس نے کہامیرےسرکے اگلے حصہ میں بال اگادےپھراس کی حالت ترقی پاتی گئی یہاں تک کہ نصرحاجب اس کاحامی بن گیاکیونکہ اس سے کہاگیاتھاکہ ابن منصوردراصل سنی ہے رافضی اس کوقتل کرناچاہتے ہیں۔
اس کے خطوط میں یہ بھی تھاکہ میں ہی قوم نوح کوغرق کرنے والاعادوثمودکوہلاک کرنے والاہوں اوراپنے اصحاب میں کسی سےکہتا تھاکہ تونوحؑ ہےکسی سے کہتاتوموسیٰؑ ہے، کسی سے کہتاتومحمدﷺ ہے، انکی روحیں تمہارے اجسام کی طرف واپس کردہ گئی ہیں‘‘۔ (بحوالہ تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۹۲)
جواب:
ابوبکرصولی کے کذاب اور ضعیف راوی ہونے کے ساتھ ساتھ اس روایت میں وہ بالکل منفرد ہے کیونکہ اس روایت کو اس نے سند کے ساتھ بیان نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنا سماع ظاہرکیا ہے۔ پھر اس کی باتوں میں کافی تعارض نظرآرہا ہے۔ کبھی کہتاہے کہ حضرت رضا کی طرف دعوت دیتا تھا کبھی کہتا ہے وہ سنی تھا رافضی اس کے قتل کے درپے تھے۔ لہٰذا ایسے کذاب راوی کی بے سند اورمہمل روایات سے ایک ایسے شخص پرالزام لگاناجن کو بڑے بڑے ائمہ و بزرگان دین نے موحد کہا ہو،عقل سے بالاترہے۔

No comments:

Post a Comment