Wednesday, 6 January 2021

الله کہاں ہے؟ عرش پر، آسمان پر يا ہر جگہ

 

الله کہاں ہے؟ عرش پر، آسمان پر يا ہر جگہ

 الله کہاں ہے؟ عرش پر، آسمان پر يا ...

الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد فرمایا:

ترجمہ : بے شک الله (کی ذات) ہر شئ پر خوب شاہد (گواہ/حاضر/موجود) ہے.

{4:33}{5:117}{22:17}{34:47}{41:53}{58:6}{85:9}

[النساء:٣٣ ، المائدہ:١١٧ ، الحج:١٧ ، السبا:٤٧ ، المجادلہ:٦ ، البروج:٩]


اورتم نہیں ہوتے کسی حال میں، اورنہ اس میں سے کچھ قرآن پڑھتے ہو، اور نہ کوئی عمل کرتے ہو، مگر ہم تم پر گواہ (حاضر) ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور نہیں تمہارے رب سے غائب ایک ذرہ برابر بھی زمین میں، اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹا اور نہ بڑا مگر روشن کتاب میں ہے۔[یونس:٦١]


اسی لیے


1) وہ ساتھ ہے:

مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ (الحديد:٤)

 ... مگر وہ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں...(المجادلة:٧)

... شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے اور وہ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے.(النساء:١٠٨)


 ...اور اللہ (وحدہ لاشریک) ہی کے لئے ہے مشرق بھی، اور مغرب بھی، سو تم جدھر بھی رخ کرو گے وہاں اللہ کی ذات (اقدس و اعلیٰ) کو پاؤ گے، بیشک اللہ بڑی وسعت والا، نہایت ہی علم والا ہے،(البقرہ:١١٥)


2) وہ قریب ہے:

 ... جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں. (البقرہ:١٨٦)

 ... بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے۔(ھود:١١)

 ... وہ بڑا ہی سننے والا اور بہت ہی قریب ہے.(سبا: ٥٠)

 ... اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں.(ق:١٦)


3) وہ (ذات) زمین میں بھی ہے:

اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو. (الانعام :٣)


اور دوسری جگہ فرمایا:

وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا (طه:٥)

اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔(السجده:٤، الحديد:٤)


لیکن، کیسے؟؟؟


فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والے قرآن) میں ہی اس کا الٰہی فیصلہ:

الله پاک کے متعلق ہر مشتبہ سوال پیدا ہونے کی عام اور اہم وجہ الله پاک کو کسی شئ کی مثل (طرح جیسا) سمجھنا ہے، لہذا فرمایا:


1) ... نہیں ہے اس کی مثل/طرح کا سا کوئی ... [الشورى:١١]

یعنی نہ ذات میں اس کا کوئی مماثل ہے نہ صفات میں، نہ اس کے احکام اور فیصلوں کی طرح کسی کا حکم اور فیصلہ ہے نہ اسکے دین کی طرح کوئی دین ہے، نہ اس کا کوئی جوڑا ہے نہ ہمسر نہ ہم جنس۔


2) وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم (یعنی ان کے معنی واضح ہیں) وہ اصل ہیں کتاب کی (احکام میں انہی پر اعتماد کیا جاتا ہے) اور دوسری ہیں مشابہ (یعنی جن کے معنیٰ معلوم یا معیّن نہیں)، سو جن کے دلوں میں کجی(حق سے اعراض) ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات(شبھات و التباس کے بھنور کہ جس میں وہ مبتلا ہیں) کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے، اور مضبوط(جمے ہوۓ) علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے(اگرچہ ہم اس کے معنی نہیں جانتے) سب (ظاہر المعانی اور مخفی المعانی آیات) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور (یہ اصولی بات) سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے.[آل عمران : ٧]


کیسے منکر ہو سکتا ہے وہ جو الله کو آسمان/عرش پر ((بھی)) مانے؟

ارے نادان! الله تو "نور" ہے آسمان اور ((زمین)) کا.[القرآن{24:35}]


موسیٰؑ سے طورسینا کے فرش پر ہم کلامی جس نے مقرر کی [القرآن{7:143}]

اسی نے معراج میں عرش کی جانب بلاکر محمدﷺ کی شان بلند کی.


قرآن کریم میں ((استویٰعَلٰی الْعَرْشِ)) کا جہاں بھی ذکر ہوا ہے اس کے ساتھ زمین و آسمان اور نظام شمسی کے تخلیق کا ذکر بھی ضرور کیا گیا ہے، اسی لئے شیخ ابو طاہر القزوینیؒ کی تحقیق کے مطابق : یہ خدائی تخلیقی و تکوینی سلسلہ کے عرش پر ختم ہونے کا معنی ظاہر کرتا ہے.


عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: «كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى المَاءِ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: " العَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ".

ترجمہ:

حضرت ابورزینؓ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا: «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا۔


احمد بن منیع کہتے ہیں : (ہمارے استاد) یزید نے بتایا : «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔ 

[سنن الترمذي:3109، سنن ابن ماجه:182، مسند أبي داود الطيالسي:1189، مسند احمد:16188، صحیح ابن حبان:6141]


امام أبو القاسم، ابن جزي ؒ(المتوفى: 741ھ) فرماتے ہیں:۔

” اللہ کی ذات جیسا (مخلوقات وعرش کو پیدا کرنے سے) پہلی تھی اب بھی ویسی ہی ہے“(القوانين الفقهية ج۱ ص۵۷)


قال ابن حجر الهيتمي في كتابه المنهاج القويم ص ٢٢٤ : واعلم أنّ القرافيّ وغيره حكوا عن الشّافعيّ ومالكٍ وأحمد وأبي حنيفة رضي الله عنهم القول بكفر القائلين بالجهة والتّجسيم وهم حقيقون بذلك.

امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جو شخص ﷲ پاک کی ذات کے لیئے جھت و مکان مانے وہ کافرہے۔ (المنھج القویم:ص۲۵۴)

(سِیَر اعلَامِ النُبَلاءِ ازالامام شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبی:ص۱۰۱)

*************************


قال تعالى { ليس كمثله شئ } { ولم يكن له كفؤا احد } { هوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالبَاطِنُ } { ولا يحيطون به علما} { إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ } {وأن إلى ربك المنتهى} 1 ـــــ نقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كان الله ولم يكن شئ غيره ( رواه البخاري ) سبحانك أنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء ( روم مسلم ) 2 ــــــ قال مصباح التوحيد سيدنا علي رضي الله عنه : كان الله ولا مكان وهو الأن على ماعليه كان ومن زعم أن إلهنا محدود فقد جهل الخالق المعبود [حلية الأولياء: ترجمة علي بن أبي طالب (73/1) ] 3ـ ــــــ قال الإمامُ أَبو حنيفَةَ رضي الله عنه في كتابه الفِقْهِ الأَبْسَطِ : "كانَ اللهُ ولا مكانَ، كانَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الخَلْقَ، كانَ ولم يكنْ أَينٌ ولا خَلقٌ ولا شىءٌ وهوَ خالِقُ كُلِّ شىءٍ". 4 ـــــ قال الإمام مالك رضي الله عنه في الموطا ذات الله لاتحلها الحوادث وليس من الله شئ مخلوق. 5 ــــــ قال الإمام الـمجتهد مـحمد بن إدريس الشافعي رضي الله عنه إمام الـمذهب الشافعي (204 هـ) ما نصه [إتحاف السادة الـمتقين (2/24) ] : " إنه تعالى كان ولا مكان فخلق الـمكان وهو على صفة الأزلية كما كان قبل خلقه الـمكان لا يجوز عليه التغيِير فى ذاته ولا في صفاته " 6 ـــــ قال الإمام أحمد بن حنبل في توحيد الله وتنـزيهه عن الجسم والمكان والجهة والحركة والسكون ، : "والله تعالى لا يلحقه تغير ولا تبدل ولا تلحقه الحدود قبل خلق العرش ولا بعد خلق العرش ، وكان ينكرء الإمام أحمد – على من يقول إن الله في كل مكان بذاته (( لأن الأمكنة كلها محدودة )) نقله الإمام أبو الفضل التميمي الحنبلي شيخ الحنابلة ببغداد في كتاب " اعتقاد الإمام أحمد " 7ـــــ قال الإمام الحافظ الـمجتهد أبو جعفر محمد بن جرير الطبري المفسر السلفي عند تفسير قول الله تعالى : { هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالبَاطِنُ } [سورة الحديد/3] ما نصه [جامع البيان (مجلد 13/ جزء 27/215) ] : " لا شىء أقرب إلى شىء منه كما قال : { وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الوَرِيدِ }


قال الإمام الشافعي رضي الله عنه:من اعتقد أن الله جالس على العرش فهو كافر" (رواه ابن المعلم القرشي في كتابه نجم المهتدي ورجم المعتدي ص: 551).نقل ذلك عنه القاضى حسين الذى كان يسمى حبر الأمة لسعة علمه

ونقل أبو الفضل التميمي في كتاب (( اعتقاد الإمام أحمد )) (ص 38 -39) عن الإمام أنه قال : (( والله تعالى لا يلحقه تغير ولا تبدل ولا تلحقه الحدود قبل خلق العرش ولا بعد خلق العرش ، وكان ينكر- الإمام أحمد – على من يقول إن الله في كل مكان بذاته لأن الأمكنة كلها محدودة )).

قال ابو القاسم القشيري (465 هـ) في رسالته ما نصه (3). “سمعت الإمام أبا بكر ابن فورك رحمه الله تعالى يقول: سمعت أبا عثمان المغربي يقول: كنت اعتقد بشيء من حديث الجهة، فلما قدمت بغداد زال ذلك عن قلبي فكتبت الى اصحابنا بمكة: إني أسلمت الآن إسلاما جديدًا” اهـ.[الرسالة القشيرية (ص/5).]

وقال الشيخ لسان المتكلمين أبو المعين ميمون بن محمد النسفي الحنفي (4) (508 هـ) “والله تعالى نفى المماثلة بين ذاته وبين غيره من الأشياء، فيكون القول باثبات المكان له ردا لهذا النص المحكم – أي قوله تعالى ﴿ليس كمثله شيء﴾ – الذي لا احتمال فيه لوجهٍ ما سوى ظاهره، ورادُّ النص كافر، عصمنا الله عن ذلك” اهـ.

[تبصرة الادلة (۱/169)]

قال الشيخ محمود محمد خطاب السبكي (في كتابه إتحاف الكائنات): "وقد قال جمع من السلف والخلف: إن من اعتقد أن الله في جهة فهو كافر".[الفقه على المذاهب الأربعة في المجلد الخامس ص: 396]

قال الشيخ محمود محمد خطاب السبكي (في كتابه إتحاف الكائنات (ص/ 3- 4)): "وقد قال جمع من السلف والخلف: إن من اعتقد أن الله في جهة فهو كافر".قال المفسر الرازي: "إن اعتقاد أن الله جالس على العرش أو كائن في السماء فيه تشبيه الله بخلقه وهو كفر"اهـقال شيخ اﻷ‌زهر سليم البشري المالكي: "من اعتقد أن الله جسم أو أنه مماس للسطح اﻷ‌على من العرش وبه قالت الكرامية واليهود وهؤﻻ‌ء ﻻ‌ نزاع في كفرهم". (نقله عنه الشيخ سﻼ‌مة القضاعي في كتابه فرقان القرءان ص: ١٠٠)

وقال الشيخ محمد بن احمد عليش المالكي (1299 هـ) عند ذكر ما يوقع في الكفر والعياذ بالله ما نصه: “وكاعتقاد جسمية الله وتحيزه، فانه يستلزم حدوثه واحتياجه لمحدث” اهـ.

[الاعتماد في الاعتقاد (ص/ 5).]

وقال الشيخ ملا علي القاري الحنفي (1014 هـ). ما نصه: “فمن أظلم ممن كذب على الله أو ادعى ادعاء معينا مشتملا على اثبات المكان والهيئة والجهة من مقابلة وثبوت مسافة وأمثال تلك الحالة، فيصير كافرا لا محالة) اهـ. 

[شرح الفقه الاكبر: بعد ان انتهى من شرح الرسالة (ص/215).]

وقال (8): من اعتقد أن الله لا يعلم الأشياء قبل وقوعها فهو كافر وان عد قائله من أهل البدعة، وكذا من قال: بأنه سبحانه جسم وله مكان ويمر عليه زمان ونحو ذلك كافر، حيث لم تثبت له حقيقة ا لإيمان ” اهـ.

[شرح الفقه الاكبر: بعد ان انتهى من شرح الرسالة  (ص/ 271- 272).]

وقال أيضا ما نصه: “بل قال جمع منهم- أي من السلف- ومن الخلف إن معتقد الجهة كافر كما صرح به العراقي، وقال: إنه قول لأبي حنيفة ومالك والشافعي والأشعري والباقلاني ” اهـ.[مرقاة المفاتيح (٣/ 300).]

No comments:

Post a Comment