قرآن کریم میں ہے: "الرَّحْمَنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوَی" کہ اللہ عرش پر مستوی ہے، لیکن استواء کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے:
مشہور اصولی اور مفسر قرآن علامہ نسفیؒ جو مسلکا حنفی ہیں انھوں نے بھی صراحتاً ایسی ہی بات نقل کی ہے: "المذہب قول علی الاستواء غیر مجہول، والتکییف غیر معقول وا لإیمان بہ واجب والسوٴال عنہ بدعة؛ لأنہ کان ولا مکان فہو علی ما کان قبل خلق المکان لم یتغیر عما کان"
(تفسیر مدارک: ۲/۲۹۰، سورہٴ طٰہ)۔
اگر صفات کے لئے کیفیات ثابت کردی جائیں اگرچہ مجہول ہی کیوں نہ ہوں تو اللہ تعالی کے لئے جسم لازم آئے گا‘ کیونکہ کیفیات اجسام کے ساتھ خاص ہیں۔
چنانچہ امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں :
’’فَاِنَّ الَّذِیْ یَجِبُ عَلَیْنَا وَعَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ اَنْ یَّعْلَمَہٗ اَنَّ رَبَّنَا لَیْسَ بِذِیْ صُوْرَۃٍ وَلَا ھَیْئَۃٍ فَاِنَّ الصُّوْرَۃَ تَقْتَضِی الْکَیْفِیَّۃَ وَھِیَ عَنِ اللّٰہِ وَعَنْ صِفَاتِہٖ مَنْفِیَّۃٌ۔‘‘(کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج 2ص21، باب ما ذکر فی الصورۃ)
ترجمہ: جو چیز ہمیں اور ہر مسلمان کو جاننا ضروری ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہمارا رب صورت والا ہے نہ ہیئت والا ۔کیونکہ صورت کیفیت کا تقاضا کرتی ہے اور اس کیفیت کی اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات سے نفی کی گئی ہے

No comments:
Post a Comment