Wednesday, 6 January 2021

اللّه کہاں ہے اہل سنت والجماعت كا موقف

اللّه کہاں ہے اہل سنت والجماعت كا موقف: 
چند باتیں ذہن میں رکھیں الله تعالی زمان سے پاک ہیں دن مہینہ سال نہیں تھے الله تھا, الله تعالی مجسمہ سے پاک ہیں انسان اور جنات نہیں تھے الله تھا، الله تعالی مكان سے پاک ہیں دنیا اور عرش نہیں تھے الله تھا، الله تعالی رخ سے پاک ہیں شمال مشرق جنوب مغرب نہیں تھے الله تھا!! حضرت ملا علی قارى رحمت الله عليہ حنفى مقلد متوفى 1014ھ شرح فقہ الاكبر میں لکھتے ہیں شيخ الامام ابن السلام نے اپنی کتاب "حل الرموز" میں بيان كيا کہ امام ابو حنيفہ كا قول کہ "كوئى يہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالی آسمانوں میں ہیں يا زمین پر تو وہ کافر بن جاتا ہے". جواب : (١) اس قول سے امام كا مطلب ہے اس طرح کہنا اس لفظ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ ایک جگہ ہے اور جو اس طرح کہتا ہے الله كو ایک طرف ہونے كا رخ يا جگہ مقرر كرتا ہے. نیچے حاشیہ میں لکھتے ہیں شیخ ابو الليث سمرقندى حنفى مقلد متوفى 333ھ نےلکھا ہے اس عبارت سے اللہ تعالی كو ایک رخ يا جگہ دیا جاتا ہے اور ايسا کہنا كفر ہے. مزید تفصیلات کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں
Mulla Ali Qari hanafi (d. 1014AH) writes in Sharah Fiqh ul Akbar that The Shaykh, Imam Ibn 'Abdi s-Salam, in his book Hallou r-Roumouz reports that Imam Abu Hanifah, may Allah have mercy on him, said:"Whoever says: I do not know if Allah ta'ala is in heaven or on earth became a disbeliever, because this word gives the illusion that Allah (Al-Haqq) have a place and one that gives the illusion that Allah has a place is an assimilationist " There is no doubt that Ibn 'Abdi s-Salam is one of the most illustrious scholars and those who are the most reliable. There is therefore a need to build on what has been reported. Footnote: Shaykh Abu’l-Layth al-Samarqandi hanafi (d. 333AH) writes regarding same quote that saying like this gives a direction to Allah ta'ala which is kufr.









٢) اللہ کی ذات کوعرش پر ناماننے والے پر امام ابوحنیفہؒ کا فتوٰی کفر بہتان کہ کیونکہ اس کا راوی "ابی مطیع بلخی" کذاب (بڑا جھوٹا شخص)  ہے.




No comments:

Post a Comment