Wednesday, 6 January 2021

اللّه کہاں ہے غیر مقلدین کے دلائل اور ان کے جوابات

اللّه کہاں ہے غیر مقلدین  کے دلائل اور ان کے جوابات:

قرآنی آیات:
1: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : ثُمَّ اسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ۔(سورہ حدید 4،سورہ رعد:2، طہ: 5 ، سجدہ : 4) 
جواب نمبر1: اس کا معنی ’’عرش پر اللہ کا غالب ہونا‘‘ ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا معنی:’’ اَیْ عَلَا عَلَی الْعَرْشِ‘‘ (صحیح بخاری: کتاب التوحید ،باب وکان عرشہ علی الماء)نقل کیا ہے اور عربی زبان میں ’’استویٰ‘‘ بمعنی ’’غالب ہونا‘‘ استعمال ہوتا رہتا ہے۔ ایک شاعر نے بشر بن مروان کی مدح میں یہ شعر کہا تھا:
قَدِ اسْتَوَیٰ بِشْرٌ عَلَی الْعِرَاقٖ
مِنْ  غَیْرِ سَیْفٍ  وَّ  دَمٍ  مُّھْرَاقٖ

(کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی:ج2ص153)
ترجمہ:بشر بن مروان نے بغیر جنگ اور خونریزی کے عراق پر غلبہ پا لیا۔
ایک اور شاعر نے کہا:
فَلَمَّا عَلَوْنَا وَ اسْتَوَیْنَا عَلَیْہَمٖ
جَعَلْنَاہُمُ مَرْعٰی لِنَسْرٍ وَّ طَائِرٖ

(التعلیق علی کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی:ج2ص154)
ترجمہ:جب ہم ان پر چڑھ دوڑے اور ان پر غلبہ پا لیا تو انھیں( ٹکڑے ٹکڑے کر کے)گدھوں اور پرندوں کے کھانے کے لیے چھوڑ دیا۔
اشکال: اگر کوئی کہے کہ عرش کی کیا تخصیص ہے ،جب کہ اللہ تو آسمان،زمین اور دیگر مخلوقات پر بھی غالب ہے ،تو عرش کو خاص کیوں کیا گیا؟
 جواب: عرش کائنات کا مکانِ آخر ہے تو مکانِ آخر تک غلبہ بتانے کے لیے عرش کا ذکر کیا۔ جیسے ایک آدمی کے پاس سائیکل ،موٹرسائیکل اور کار ہو تو وہ اپنی ملکیت اور مالی رتبہ بتانے کے لیے یہ کہے : ’’میرے پاس کار ہے‘‘ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کے پاس سائیکل اور موٹر سائیکل رکھنے کی اہلیت نہیں۔
جواب نمبر 2 اگر استویٰ علی العرش سے اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً عر ش پر ہونا مراد لیں تو قرآن کریم کی بہت ساری ان آیات کا ان آیات سے تعارض لازم آتا ہے جن میں اللہ تعالی کے فوق العرش ہونے کی بجائے فی السماء یا ہر جگہ ہونے کا ذکر موجود ہے جیسے:
’’وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ‘‘ (سورہ البقرۃ: 115)
ترجمہ: اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں، لہذا جس طرف بھی تم رخ کرو گے وہیں اللہ کا رخ ہے۔
”وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ“ (سورہ ق:16)
ترجمہ :  ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
’’اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ‘‘ ( سورۃ الملک :16) [کیا تم کو اس (اللہ تعالیٰ )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا]
وغیرہ کا اس آیت سے تعارض لازم آتا ہے‘ جبکہ قرآن کریم میں قطعاً تعارض نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے :
’’وَلَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُ وْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْراً۔‘‘(سورۃ النساء: 82)
ترجمہ:  اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے ۔
جواب نمبر 3: بہتر یہ ہے کہ جواب یوں دیا جائے کہ یہ متشابہا ت میں سے ہے اور اس کا معنی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔اس پر کسی قسم کا اشکال نہ ہوگا اور آیات کا تعارض بھی لازم نہیں آئے گا۔
2:  وہ تمام آیات جن سے اللہ تعالیٰ کا جہتِ علو یعنی جانب ِبلندی کی طرف ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً 
1: اِ لَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ (سورہ فاطر؛ 10)
ترجمہ :  اسی کی طرف پاکیزہ کلام چڑھتا ہے ۔ 
جواب یہ کنایہ حسنِ قبول سے ہے۔  چنانچہ امام ا بوبکر البیھقیؒ فرماتے ہیں :
صُعُوْدُ الْکَلِمِ الطَّیِّبِ وَالصَّدَقَۃِ الطَّیِّبَۃِاِلَی السَّمَائِ عِبَارَۃٌ عَنْ حُسْنِ الْقُبُوْلِ لَھُمَا.
( کتاب الاسماء والصفات ج2ص168)
کلمات طیبہ اور صدقہ طیبہ کا آسمان کی طرف چڑھنا ان کے حسنِ قبول سے عبارت ہے۔
2: وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ (سورۃ الانعام:18) 
ترجمہ :  وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ 
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اللہ غالب تب ہو گا جب سب سے اوپر ہو۔
جواب فوقیت سے مراد  فوقیتِ حسی نہیں بلکہ فوقیتِ مرتبہ اور فوقیتِ قدرت ہے ۔دلیل اس پر ’’وَھُوَ الْقَاھِرُ‘‘ہے جیسے غلام دوسری منزل پر اور آقا پہلی منزل پر ہو توکہتے پھر بھی یہی ہیں کہ آقا اپنے غلام پر غالب ہے ۔ 
3: اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ (سورۃ الملک :16)
ترجمہ :  کیا تم کو اس (ا للہ ) کا جو آسمانوں میں ہے، خوف نہیں رہا۔ 
جواب نمبر1 مَنْ فِی السَّمَائِ سے مَنْ عَظُمَ شَانُہٗ  مراد ہے ۔ 
جواب نمبر2: اگر اس کا حقیقی معنی ہی مراد لیں تو پھر بھی یہ غیر مقلدین کے موقف فوق علی العرش کے خلاف ہے ۔ 
4: تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ (سورۃ المعارج: 4)
جواب: محل امر مراد ہے  کہ وہاں سے فرشتے امر لاتے ہیں۔
5: بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (سورۃ النساء؛158)
ترجمہ :  بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ 
جواب امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ نے اس آیت کی بہترین تفسیر اور مطلب بیان کیاہے چنانچہ فرماتے ہیں :
’’اَیْ اِلَی السَّمَائِ وَاللّٰہُ تَعَالیٰ مُتَعَالٍ عَنِ الْمَکَانِ۔‘‘(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ج2ص12)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے۔
امام فخر الدین رازیؒ فرقہ مُشبِّہ( جو اللہ تعالیٰ کے لیے اس آیت سے جہت ثابت کرتے ہیں)کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’اَلْمُرَادُ الرَّفْعُ اِلٰی مَوْضِعٍ لَایَجْرِیْ فِیْہِ حُکْمُ غَیْرِ اللّٰہِ۔‘‘(تفسیر الفخر الرازی ج11ص102تحت قولہ تعالیٰ:بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہ)
ترجمہ: ’’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ سے مراد  ایسے مقام کی طرف اٹھانا ہے جہاں غیر اللہ کاحکم نہیں چلتا۔
فائدہ:  دنیا میں حقیقی اختیار ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اگر ظاہری اختیار بندے کا ہو تو نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے جیسے زکریا علیہ السلام کا مریم علیہا السلام کا کھانا دینا لیکن جو اللہ کی طرف سے ملے جس میں بندے کو اختیار نہیں تھا اس کو﴿مِنْ عِنْدِ اللَّه﴾  فرمایا۔ دین میں کمی بیشی کا اختیار چونکہ بندے کے پاس نہیں، اس لیے فرمایا:﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾۔شہید کو جو بعد الموت رزق ملتا ہے اس میں بھی  بندے کے اختیار کو دخل نہیں ہوتا اس لئے ﴿عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ فرمایا۔ عرف میں اگر کوئی آدمی اپنے گھر سے دوسرے شہر چلا جائے تو نسبت اس کی طرف ہوتی ہے، مثلاً فلاں بندہ لاہور یا کراچی چلا گیا، لیکن اگر کوئی بندہ دنیا کو چھوڑ کر قبر میں چلا جائے تو نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا ہے کیونکہ موت میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے اور لاہور جانے میں ظاہری اختیار بندے کا ہے۔
احادیث مبارکہ
1:حضرت معاویہ بن الحکم السلمی ؓ فرماتے ہیں:
کَانَتْ لِیْ جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًالِیْ قِبَلَ اُحُدٍوَالْجَوَّانِیَّۃِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ  فَاِذَاالذِّئْبُ قَدْ ذَھَبَ بِشَاۃٍ عَنْ غَنَمِھَا وَاَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ آدَمَ اٰسَفُ کَمَایَاْ سَفُوْنَ لٰکِنِّیْ صَکَّکْتُھَا صَکَّۃً فَاَ تَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ۔قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ !اَفَلَا اَعْتِقُہَا ؟ قَالَ :اِئْتِنِیْ بِھَا۔ فَاَ تَیْتُہٗ بِھَا فَقَالَ لَھَا: اَیْنَ اللّٰہُ؟ قَالَتْ :فِی السَّمَائِ ۔قَالَ مَنْ اَنَا؟ قَالَتْ :اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۔قَالَ :اَعْتِقْھَا ‘فَاِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ.
 (صحیح مسلم ج1ص203،204باب تحریم الکلام فی الصلوۃ الخ)
ترجمہ: میری ایک باندی تھی ‘جو احد اور جوانیہ کی طرف بکریاں چراتی تھی ۔ ایک دن میں وہاں آنکلا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا ایک بکری کو لے گیا ہے۔ آخرمیں بھی آدمی ہوں مجھ کو بھی غصہ آجاتا ہے ۔میں نے اس کو ایک طمانچہ مارا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو رسول اللہﷺ نے میرا یہ فعل بہت بڑا قراردیا۔ میں نے کہایارسول اللہ! کیامیں اس باندی کوآزاد نہ کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو میرے پاس لے آؤ۔ میں آپ ﷺ کے پاس لے کر گیا۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں۔ آپ ﷺنے فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔( یعنی آپ ﷺکو اللہ نے بھیجا ہے) تب آپ ﷺنے فرما یااس کو آزاد کردے  اس لیے کہ یہ مؤمنہ ہے۔
جواب نمبر1 یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ متناً مضطرب ہے۔
 ( کتاب الاسماء والصفات ج 2ص164 ،، تلخیص الحبیرللامام ابن حجرؒ ج 3 ص 223 کتاب الکفارات )
ا ور متن میں اضطراب وجہ ضعف ہوتا ہے ۔
(تقریب النووی مع شرحہ التدریب: ص 234)
جواب نمبر2: اگر اس حدیث کو سنداً و متناً صحیح و قابل ِاستدلال مان بھی لیا جائے تو یہ حدیث خود غیر مقلدین کے خلاف ہے کیونکہ ان کا دعویٰ تو فوق العرش ہونے کا ہے اور اس سے تو اللہ تعالی کا ’’فی السماء‘‘ ہونا لازم آتا ہے ۔ 
جواب نمبر3: ہر آدمی بقدر عقل مکلف ہوتاہے۔ باندی کا جواب واقع کے مطابق درست نہ تھا‘ لیکن اس میں عقل ہی اتنی تھی کہ جواب اس کی عقل کے بقدر ہونے کی وجہ سے اس کا ایماندار ہونا تسلیم کرلیاگیا۔لہٰذا اس سے اللہ کے محض ’’فی السماء‘‘ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتاجیسا کہ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص کو موت آئی۔ جب اس کو زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کرکے آگ جلانا اور مجھے اس میں ڈال دینا‘ یہاں تک کہ جب آگ میرے گوشت کو کھالے اور ہڈیوں تک پہنچ جائے تو تم ان ہڈیوں کو پیس لینا اور پھر مجھے( یعنی پسی ہوئی ہڈیوں کو) کسی گرم یا کسی تیز ہوا چلنے والے دن دریامیں ڈال دینا(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا)
فَجَمَعَہُ اللّٰہُ فَقَالَ :لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْیَتِک۔َ فَغَفَرَلَہٗ۔(صحیح البخاری ج1ص495باب بلا ترجمہ، بعد باب حدیث الغار)
پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کرکے فرمایاکہ تو نے ایسا کیوں کیا؟اس نے عرض کیاتیرے خوف کی وجہ سے۔ پس خدا نے اس کوبخش دیا۔
اس روایت میں مذکورشخص کا خوفِ خدا کی وجہ سے ایسی خلاف شریعت وصیت کرنا اور پھراس کے گھر والوں کا اس پر عمل کرنا‘ واقع میں اسے اللہ کے سامنے حاضری سے نہ بچا سکا‘ لیکن چونکہ اس میں عقل ہی اتنی تھی لہٰذا اس کا یہ عمل وعذر اس کی عقل کے بقدر ہونے کی وجہ سے قبول کرکے اسے بخش دیاگیا۔ یہاں بھی ایسی خلاف شریعت وصیت کرنے‘ اس پر عمل اور بوجہ عمل اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش نہ ہونے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
2 : حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’یَنْزِلُ اللّٰہُ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا کُلَّ لَیْلَۃٍ حَتّٰی یَمْضِیَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاَوَّلِ۔‘‘ 
 ( صحیح مسلم ج1 ص 258  باب صلوۃ اللیل و عدد رکعات النبی ﷺ فی اللیل الخ) 
ترجمہ : ہر رات اللہ تعالیٰ آسمان ِدنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ۔ 
اس سے معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اوپر ہے ۔ 
جواب نمبر1:نزول سے مراد  نزولِ رحمت ہے ۔
جواب نمبر2:اگر اس کا حقیقی معنی مراد ہو تویہ تمہارے عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ جب آسمان پر ہوں گے تو فوق العرش نہیں ہوں گے۔
عقلی دلا ئل : 
۱: اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں اسی لیے  تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم کلام ہونے کے لئے عرش پر بلایا۔
جواب: ہم کلام ہونے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو عرش پر بلانا اگر عرش پر ہونے کی دلیل ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر بلانا اللہ تعالیٰ کے کوہِ طور پر ہونے کی دلیل ہے اور ہر نمازی کا مسجد میں جا کر اللہ سے بات کرنا ہر مسجد میں ہونے کی دلیل ہے۔کلامِ الہیٰ تجلی ٔالہی کا نام ہے ‘چاہے اس کے ظہور کے لئے انتخاب عرش کا ہو یا کوہ طور کا ہو یا منصور حلاج ؒکی زبان کا ہو۔ 
۲: بوقت دعا ہاتھ اوپر کی جانب اٹھائے جاتے ہیں جو دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں۔
جواب اللہ تعالیٰ جہت سے پاک ہیں لیکن تمام جہات کو محیط ہے‘ لیکن بندے کے قلبی استحضار کے لئے بعض اعمال کے لئے بعض جہات کا تعین فرما دیتے ہیں۔ جیسے نماز کے لئے جہتِ کعبہ کو قبلہ قرار دیا ، دعا کے لئے جہتِ فوق کو قبلہ قرار دیا اور نہایت اعلیٰ درجہ کے قرب ِالہی کے حصول کے لئے جہتِ ارض کو قبلہ قرار دیا اور قرآن مجید میں حکم دیا:’’وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ‘‘(اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہو جاؤ) 
فائدہ: ہمارا نظریہ ہے کہ آپ ﷺ کے جسم اطہر سے لگنے والی مٹی کے ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ عظمت کا اظہار تجلیات الٰہیہ کے ظہور پر ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات گرامی پر سب سے زیادہ تجلیاتِ الٰہیہ کا ظہور ہوتا ہے۔ اس لیے آپ علیہ السلام کے جسم کو لگنے والی مٹی عرش و کعبہ سے افضل ہے۔
اس پر غیر مقلدین یہ اعتراض کرتے ہیں:
اعتراض: اگر یہ  ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں تو سجدہ کعبہ کی طرف نہ کرو بلکہ روضہ رسول ﷺ کی طرف منہ کر کے کرو۔ 
جواب نمبر1: ہم کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ افضل ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ اگر آپ کا یہی اصول ہے تو آپ کے ہاں عرش کعبۃ اللہ سے افضل ہے تو آپ نماز میں اپنا منہ عرش کی طرف کیوں نہیں کر لیتے؟؟
جواب نمبر2:  کعبہ مرکز عبادت اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم مرکزعقیدت۔
۳: اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کے لئے عموماً اوپر کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں۔
جواب نمبر1 اللہ تعالیٰ جہاتِ ستہ سے اگرچہ پاک ہیں‘ لیکن تمام جہات کو محیط بھی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شّیْئٍ مُّحِیْطًا (سورۃ النساء:126)[اللہ تعالیٰ ہر چیز کو محیط ہے] اور جہاتِ ستہ میں سے جہت ِعلو کو باقی جہات پر عقلاً فوقیت حاصل ہے ۔اس لئے علوِ مرتبہ اور تعظیم کا خیال کرتے ہوئے اشارہ اوپر کیا جاتا ہے۔ جیسے استاذ کی آواز دورانِ سبق تمام جہات کی طرف منتقل ہوتی ہے لیکن استاد کے سامنے بیٹھ کر آواز کو سننا ادب ہے اور پیچھے بیٹھ کر سننا بے ادبی ہے ۔ 
جواب نمبر2: اللہ اوپر نہیں بلکہ ”محل امر“ اوپر ہے۔بہر حال اس کی توجہ محل امر کی طرف ہے اور محل امر  چونکہ اوپر کی طرف ہے اس لیے اشارہ بھی اوپر ہے۔
فائدہ:
یہاں چند ایک عبارات نقل کرنا ضروری ہے جن کی بنیاد پر یہ سمجھا گیا ہے کہ ’’معیت‘‘ سے مراد ’’معیت ذاتیہ‘‘ ہے ۔ 
[۱]: مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ رئیس دارلعلوم کراچی نے فرمایا:
”اللہ رب العزت کی ذات تو ایسی عظیم ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور وہ کسی خاص مقام تک محدود نہیں ہے، کعبہ بیت اللہ ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر موجود ہے اس کے سوا کہیں اور موجود نہیں، ایسا نہیں بلکہ وہ تو ہر جگہ ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا:
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾ 
تم  جہاں کہیں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
یعنی تم  جہاں بھی ہوتے ہو اللہ تمہارے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، اس وقت بھی ساتھ ہے، تمہارے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی۔ اور قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا:
﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ﴾ (سورۃ ق، آیت نمبر۱۶)
اور ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
انسان کی شہ رگ کتنی قریب ہوتی ہے، جسم کا حصہ ہے لیکن فرمایا کہ ہم ہر انسان کے اس سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ تو اللہ رب العزت کی ذاتِ اقدس تو  لا محدود ہے وہ کسی خاص مکان کے ساتھ محدود نہیں ہے، کسی خاص مکان کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ چنانچہ عرش پر بھی ہے، آپ کے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی، ہر ایک کے ساتھ ہے اور ہر جگہ ہے۔ مدینہ میں بھی ہے اور مکہ میں بھی۔ ہر آسمان پر ہے، عرش پر بھی ہے اور کرسی پر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے تو اس لحاظ سے ہر جگہ ہی افضل ہے۔“
(ماہنامہ البلاغ: ربیع الاول ۱۴۳۴ھ/ فروری۲۰۱۴ءص21 خطاب حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی)
[۲]: حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ سے کسی نے معیت وقربِ خداوندی کے بارے میں سوال کیا‘ جس کا آپؒ نے جواب دیا۔ سوال وجواب کا عبارت من وعن نقل کی جاتی ہے۔
’’مسئلہ: قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: نَحْنُ اَقْرَبْ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ وَقَالَ :وَھُوَمَعَکُمْ الآیۃ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُوْلُ اِنَّ الْقُرْبَ بِاعْتِبَارِ الذَّاتِ وَالْوَصْفِ وَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ اِنَّ الْقُرْبَ بِحَسْبِ الْوَصْفِ فَقَطْ‘ فَاَیُّ الْحِزْبَیْنِ عَلَی الصَّوَابِ وَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ عَلَی الْحَقِّ ؟وَاِنْ کَانَ اللّٰہُ قَرِیْبًا بِالذَّاتِ ؛ہَلْ یَقْرُبُ مَعَ کَوْنِ اسْتِوَائِہٖ عَلَی الْعَرْشِ اَمْ لَا؟ثُمَّ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ بِالْقُرْبِ الْوَصْفِیْ یَدَّعُوْن بِالْقَائِلِیْنَ بِالْقُرْبِ الذَّاتِیْ اَنَّہُمْ کَفَرُوْابِقَوْلِہِمْ بِالْقُرْبِ الذَّاتِیْ ۔ہَلْ یَجُوْزُ نِسْبَۃُ الْکُفْرِ اِلٰی مَنْ قَالَ اِنَّ الْقُرْبَ ذَاتِیٌ اَمْ لَا؟
الجواب:  لَمَّا کَانَ الْمُتَبَادَرُ عِنْدَ الْعَامَّۃِ مِنَ الْمَعِیَّۃِ الذَّاتِیَّۃِ ھِیَ الْمَعِیَّۃُ الْجِسْمَانِیَّۃُ اَبْطَلَھَا الْعُلَمَآئُ وَکَفَّرَ بَعْضُھُمُ الْقَائِلِیْنَ بِھَا‘ وَلَوْاُرِیْدَ بِھَا الْمَعِیَّۃُ غَیْرُ الْمُتَکَیِّفَۃِ فَلَا مَحْذُوْرَ فِی الْقَوْلِ بِھَا‘ وَالْاِمْتِنَاعَ فِی اجْتِمَاعِھَا بِالْاِسْتِوَائِ،لِاَنَّ الذَّاتَ لَیْسَتْ بِمُتَنَا ھِیَۃٍ وَالْمَعِیَّۃُ لَیْسَتْ بِمُتَکَیِّفَۃٍ ‘وَمَنْ  لَمْ یَقْدِرْ عَلٰی اعْتِقَادِھَا بِلاَ کَیْفِیَۃٍ فَالْاَسْلَمُ لَہٗ،اَنْ یَّقُوْلَ بِالْمَعِیَّۃِ الْوَصْفِیَّۃِ (ای العلمیۃِ) فَقَطْ ، وَبِھٰذَا التَّقْرِیْرِ خَرَجَ الْجَوَابُ مِنْ کُلِّ سُوَالٍ وَارْتَفَعَ کُلّْ اِشْکَالٍ ۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الْکَبِیْرِ الْمُتَعَالِ عَنْ کُلِّ مَکَانٍ وَخَیَال۔ٍ‘‘ 
(بوادر النوادر ازحضرت تھانوی  ؒص50، 51)
ترجمہ: مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں ۔ایک اور مقام پر فرمایا:اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب ذات اور وصف دونوں کے اعتبار سے ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ قرب فقط وصف کے اعتبار سے ہے۔ان میں سے کس کا موقف درست ہے اور کون حق پر ہے؟اور اگر اللہ تعالیٰ بالذات قریب ہو تو کیا عرش پر مستوی ہوتے ہوئے قریب ہوگا یا نہیں؟پھر جو لوگ قربِ وصفی کے قائل ہیں وہ قرب ذاتی کے قائلین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ قرب ِذاتی کے قول کی وجہ سے کافر ہیں ۔تو جس شخص نے کہاکہ قر ب ذاتی ہے‘ کیا اس  شخص کو کافر کہناجائز ہے یا نہیں؟ 
الجواب : چونکہ ”معیت ذاتیہ“ کہنے سے عوام کا ذہن فوراً ”معیت ِجسمانیہ“ کی طرف جاتا ہے اس لیے  علماء نے ایسا کہنے سے روک دیا اور بعض علماء نے معیت ِذاتیہ کے قائلین کو کافر تک کہہ دیا اور اگر معیت ذاتیہ سے مراد ’’معیت بلاکیف‘‘ لی جائے تو اس نظریہ کا قائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ‘اور معیتِ غیر متکیفہ کو استواء (علی العرش) کے ساتھ جمع کرنا ممتنع بھی نہیں ہے ، اس لیے کہ ذات باری تعالیٰ متناہی نہیں اور معیت متکیفہ نہیں‘ اور جو شخص معیت بلا کیفیت کے اعتقاد پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ معیتِ وصفیہ ، یعنی علمیہ کاقائل ہو جائے۔ اس تقریر سے سا رے سوال ختم ہوگئے اور سارے اشکالات حل ہوگئے اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو بڑا ہے اور ہر مکان اور خیال سے پاک ہیں۔
[۳]: حضرت مجدد الف ثانی  ؒ فرماتے ہیں: 
’’آگاہ ہو کہ فوق العرش کا ظہور تجھے وہم میں نہ ڈالے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالی کا مقام و قرار عرش کے اوپر ہے اور جہت و مکان اس کے لئے ثابت ہے ۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ وَ عَمَّا لَا یَلِیْقُ بِجَنَابَ قدُسْہٖ تَعَالٰی ( اللہ تعالی کی پاک ذات ایسی باتوں سے جو اس کے لائق نہیں ہیں، بر تر اور بلند ہے ) ‘‘
(مکتوبات امام ربانیؒ؛ ج 2 ص 53)
مزید فرماتے ہیں: 
’’اور یہ بھی مناسب نہیں کہ حق تعالیٰ کو عرش کے اوپر جانیں اور فوق کی طرف ثابت کریں۔ کیونکہ عرش اور اس کے ماسوا سب کچھ حادث اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ مخلوق و حادث کی کیا مجال ہے کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے ۔‘‘ 
(مکتوبات امام ربانیؒ؛ ج 2ص 225)
[۴]: قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ فرماتے ہیں: 
’’حق تعالیٰ باوجود  وراء الوراء کے قریب عبد کے ہے ’’ وَھُوَمَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ‘‘ ایسے تشاویش کی ضرورت نہیں اور ’’ مَعَکُمْ‘‘  علم سے معیت تعبیر کرنا کچھ حاجت نہیں ’’ھُوَ‘‘  ضمیر ذات ہے جہاں علم وہاں ذات۔ پس تکلف کی کیا حاجت ہے ؟ حق تعالیٰ فوق، تحت سے بری ہے۔  فوق اور تحت اور ہر جاموجود ہے عروج روح و قلب کا فوق کی جانب اس خیال سے نہیں ہے کہ حق تعالی فوق العرش ہے۔ نہیں سب جگہ ہے قلب مومن کے اندر بھی ہے پس فوق کا خیال مت کرو ۔‘‘ (مکاتیب رشیدیہ ص 42)
[۵]: حضرت مولانا محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”خدا ہر جگہ موجود ہے۔“
(ملفوظات فقیہ الامت: ج2 ص14)
[۶]: عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’بس ایک بات عرض کرتا ہوں، بعض لو گ مخلوق کے سامنے گناہ سے بچتے ہیں، دو چار دوست بیٹھے ہوں ہاں ان کے سامنے گناہ نہیں کرتے کیونکہ مخلوق کے سامنے ذلیل ہو جائیں گے یا مخلوق ان سے انتقام لے سکتی ہے، لیکن میں یہ پوچھتا ہوں کہ جس خلوت اور تنہائی میں انسان گناہ کرتا ہے اس وقت خدا اس کے ساتھ ہے یا نہیں؟تو مخلوق زیادہ طاقتور یا خالق زیادہ طاقتور ہے؟ بڑی طاقت کے سامنے تو گناہ کرتے خوف نہ لگا اور کمزور مخلوق کے ڈر سے گناہ چھوڑ رہا ہے! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ جہاں بھی تم ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔اتنی عظیم الشان والا ہمارے، آپ کے حجروں اور کمروں میں ساتھ ہے، کوٹھڑیوں میں ساتھ ہے، لیکن انسان کی فطرت دیکھیے کہ چند انسان اس کو دیکھ رہے ہوں تو وہاں گناہ سے بچتا ہے اور پھر گناہ کے لیے تنہائی تلاش کرتا ہے، راستے بند کرتا ہے ، دروازے بند کرتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے لیکن وہ ذات پاک جو مخلوق سے بے شمار گنا عظیم الشان اور عظیم القدرۃ ہے وہ وہیں ساتھ میں ہے،وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ۔
(اہل اللہ اور صراط مستقیم، سلسلہ مواعظ حسنہ نمبر21، ص11،12)
[۷]: شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سورۃ البقرۃ آیت نمبر115 کی تشریح  میں لکھتے ہیں:
”مشرق و مغرب سب اللہ کی مخلوق اور اس کی تابع فرمان ہیں،  اللہ تعالیٰ کسی ایک جہت میں محدود نہیں، وہ ہر جگہ موجود ہے چنانچہ وہ جس سمت کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دے  بندوں کا کام یہ ہے کہ اسی حکم کی تعمیل کریں۔“
(آسان ترجمہ:  ج1 ص90)
اسماء باری تعالیٰ :
اسماء باری دو قسم پر ہیں ۔[۱]:ذاتی [۲]: صفاتی 
چند فوائد : 
فائدہ نمبر 1 : اللہ تعالی کے صفاتی ناموں کو ’’اسماء ِحسنیٰ‘‘ کہتے ہیں۔ 
فائدہ نمبر 2 :  قرآن و حدیث میں وارد تمام اسماءِ الہیہ کا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال کرنا جائز ہے اور جو اسماء قرآن و حدیث میں وارد نہیں امام ابو الحسن اشعریؒ کے نزدیک ان کا استعمال ذاتِ باری کے لئے ناجائز ہے ‘جبکہ امام فخر الدین رازیؒ اور امام غزالیؒ کے نزدیک ذاتِ باری کے لئے ان کا استعمال بطورِ اسم کے ناجائز اور بطورِ وصف کے جائز ہے ۔مثلاً ’’یَا قَدِیْمُ‘‘ نہیں کہَ سکتے  البتہ  ’’اَللّٰہُ قَدِیْمٌ‘‘کہہ سکتے ہیں۔ 
فائدہ نمبر 3 : ہر زبان میں ذاتِ باری کے لئے ذاتی نام مقرر ہے ۔ ان کا استعمال اسی زبان میں ذات باری کے لئے جائز ہے۔ جیسے اردو اورفارسی میں ’’خدا‘‘ اور انگریزی میں”God“ ( بڑی Gکے ساتھ) البتہ کفار میں ذات باری کے لئے استعمال ہونے والے اسماء کے بارے میں جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ یہ ذاتی ہیں یا صفاتی یا صفات میں سے کس صفت کی ترجمانی کرتے ہیں ‘اس وقت تک اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے۔ جیسے فارسی میں ’’اہرمن ‘‘ اور ’’یزدان‘‘۔  ”اہر من“ کا معنی ”خیر کا خدا“ اور ”یزدان“ کا معنی ”شر کا خدا“
فائدہ نمبر 4 : حدیث ابو ہریرہؓ :’’اِنَّ لِلّٰہِ تَعَالٰی تِسْعَۃً وَ تِسْعِیْنَ اسْمًا‘ مِاَئَۃً اِلَّا وَاحِدَۃً، مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ (جامع الترمذی ج 2 ص 190کتاب الدعوات ) میں وارد تمام اسماء حسنی کا حصر نہیں بلکہ ننانوے ناموں کا تذکرہ بطورِ فضیلت کے ہے ‘یعنی جو بندہ اللہ تعالیٰ کے ان  ننانونے اسماء کو یاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے جنت عطا فرمائیں گے ۔ 
فائدہ نمبر 5 :  ننانوے اسماء حسنیٰ :
’’ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الرَّحمٰن الرَّحیم المَلِک القُدُّوس السَّلام المؤْمن المُھَیْمِن العزیز الجبَّارالمتَکَبِّر الخالق الباریء المصوِّر الغفَّار القھَّار الوھَّاب الرزَّاق الفتَّاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المُعِزُّ المُذِلُّ السمیع البصیرالحَکَم العَدْل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العَلِیُّ الکبیر الحفیظ المُقِیْت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المُجیب الواسع الحکیم الوَدُود المجید الباعث الشھید الحَقُّ الوکیل القَوِیُّ المتین الوَلِیُّ الحمید المُحْصِی المُبْدِیُٔ المُعِید المُمِیْت الحَیُّ القَیُّوم الواجد الماجد الواحد الاَحَدالصَمَد القادر المُقْتَدِر المُقَدِّم المُؤَخِّر الاول الآخِر الظاھر الباطن الوالی المُتَعَالی البَرُّ التوَّاب المُنْتَقِم العَفُوُّ الرَّؤُف مالکُ الملک ذو الجلال والا کرام المُقْسِط الجامع الغَنِیُّ المُغْنِی المانع الضارُّ النافع النور الھادی  البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔ ‘‘
فائدہ نمبر 6 : بواسطہ اسماءِ حسنیٰ دعائے مستجاب کا مجرَّب طریقہ  :
گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر سورہ حشر کا آخری رکوع﴿یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ااتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ الآیۃ﴾ پڑھیں اور جب ﴿مُتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ﴾  پڑھ چکیں تو اپنی مشکل کا نام لے کر یوں دعا مانگیں ’’یا اللہ ! میری یہ مشکل میرے لئے پہاڑ ہے۔ اپنی قدرت، طاقت اور اس تلاوت کی برکت سے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ فرما دے ‘‘  اور جب ﴿لَہُ الْاَ سْمَائُ الْحُسْنٰی﴾ پڑھ چکے تو ننانوے اسماء ِحسنیٰ کو پڑھے، دل میں اپنی مراد کا تصور کرے اور رکوع کے اختتام پر گیارہ بار درود شریف پڑھے ، پھر اپنی مراد مانگے ۔ 
فائدہ نمبر 7 :  اسماءِحسنیٰ کو ’’یا‘‘ حرفِ ندا اور بغیر حرفِ ندا کے ‘دونوں طرح پڑھنا بلا کراہت درست اور جائز ہے ۔ 
فائدہ 8: اسمائے حسنی میں سے کون سے اسماء بندوں کے لیے استعمال کے جاسکتے ہیں۔
اس بارے میں شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی تحقیق نہایت ہی قابل قدر ہے اور ہماری نظر میں اہل علم حضرات کے لیے کافی وافی ہے فتاویٰ عثمانی سے من وعن نقل کی جاتی ہے۔
’’سوال: آج کل عموماً باری تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ’’ عبد‘‘ کے اضافے کے ساتھ نام رکھے جاتے ہیں‘ مگر عموماً غفلت کی وجہ سے مسمّٰی کو بدون’’ عبد‘‘ کے پکاراجاتاہے‘ حالانکہ بعض اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں ‘مثلاً عبدالرزاق وغیرہ‘ اندریں احوال اپنی جستجو کے مطابق فیض الباری ج:۴ ص:۴۲۳ سے اسمائے حسنی درج کر رہا ہوں، تحقیق فرمائیں کہ کون سے اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں‘ کہ ان کو بدون’’ عبد‘‘ کے مخلوق کے لیے استعمال کرنا گناہ کبیرہ ہے‘ اگر ان کے علاوہ اور کوئی اسماء ہوں تو وہ بھی درج فرمائیں مع تحقیق کے‘ نیز اسماء کے شروع یا آخر میں ’’محمد‘‘ یا’’ احمد‘‘ یا’’ اللہ‘‘ کا اضافہ کیسا ہے ؟مثلاً محمد متکبر، خالق احمد، محمد اللہ، احمد رزاق۔
 اللہ ، الرحمن ،الرحیم، الملک، القدوس، السلام، المؤمن المھیمن ،العزیز، الجبار،المتکبر، الخالق، الباریٔ، المصور، الغفار، القھار،التواب، الوھاب ،الخلَّاق،الرزاق، الفتاح ،الحلیم،العلیم،العظیم،الواسع، الحکیم،الحی، القیوم، السمیع ،البصیر، اللطیف،الخبیر،العلی،الکبیر،المحیط،القدیر،المولیٰ،النصیر،الکریم،الرقیب،القریب،المجیب،الحفیظ،المقیت،الودود،المجید،الوارث،الشھید،الولی،الحمید،الحق،المبین،الغنی، المالک،القوی، المتین،الشدید، القادر، المقتدر،القاہر،الکافی،الشاکر، المستعان،الفاطر، البدیع،الفاخر،الاول، الآخر، الظاھر، الباطن،الکفیل، الغالب، الحکم، العالم،الرفیع،الحافظ،  المنتقم، القائم، المحیی، الجامع، الملیک، المتعالی ،النور ، الھادی، الغفور،الشکور،العفو، الرؤوف، الا کرام، الاعلیٰ، البر، الخفی، الرب الالہ، الاحد ، الصمد، الذی لم یلد، ولم یولد، ولم یکن لہ کفوااحد۔
جواب:  کسی کتاب میں یہ تفصیل تو نظر سے نہیں گزری کہ کون کون سے اسمائے حسنیٰ صرف  اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں‘ او رکون سے اسماء کا اطلاق دوسروں پر ہوسکتاہے‘ لیکن مندرجہ ذیل عبارتوں سے اس کا ایک اصول معلوم ہوتاہے:۔
تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں:’’ وَذَکَرَ غَیْرُوَاحِدٍ مِنَ الْعُلَمَآئِ اَنَّ ہٰذِہِ الْاَسْمَائَ…تَنْقَسِمُ قِسْمَۃٌ اُخْرٰی اِلٰی مَا لَایَجُوْزُ اِطْلَاقُہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ کَا للّٰہِ وَالرَّحْمٰنِ وَمَا یَجُوْزُ کَالرَّحِیْمِ وَالْکَرِیْمِ ‘‘  (روح المعانی ج:9ص123 طبع مکتبہ رشیدیہ لاہور)
اور رد مختار میں ہے:
’’وَجَازَ التَّسْمِیَّۃُ بِعَلِیٍّ وَرَشِیْدٍ مِنَ الْاَسْمَآئِ الْمُشْتَرِکَۃِ وَیُرَادُ فِیْ حَقِّنَا غَیْرُمَایُرَادُ فِیْ حَقِّ اللّٰہِ تَعَالیٰ ۔وَفِیْ رَدِّ الْمُحْتَارِ: اَلَّذِیْ فِی التَّاتَرْخَانِیَّۃِ عَنِ السِّرَاجِیَّۃِ التَّسْمِیَّۃُ بِاسْمٍ یُوْجَدُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالَیٰ کَا لْعَلِیِّ وَالْکَبِیْرِ وَالرَّشِیْدِ وَالْبَدِیْعِ جَائِزَۃٌ الخ‘‘
(شامی ج:5ص:268)
وَفِی الْفَتَاوٰی الھِنْدِیَّۃِ: اَلتَّسْمِیَّۃُ بِاسْمٍ لَمْ یَذْکُرْہٗ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِیْ عِبَادِہٖ وَلَا ذَکَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہُﷺ وَلَااسْتَعْمَلَہٗ الْمُسْلِمُوْنَ تَکَلَّمُوْا فِیْہٖ‘ وَالْاَوْلٰی اَنْ یَفْعَلَ کَذَافِی الْمُحِیْطِ۔ (فتاویٰ عالمگیریہ ص:362حظر واباحت باب22)
اورحضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اسماء حسنیٰ میں بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو قرآن وحدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا گیاہے اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔ تو جن ناموں کا استعمال غیراللہ کے لیے قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم، رشید، علی‘ کریم‘ عزیز وغیرہ۔ اور اسمائے حسنیٰ میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں‘ ان کو غیرا اللہ کے لیے استعمال کرنا الحادِ مذکورمیں داخل اور ناجائز وحرام ہے۔(معارف القرآن ج:۴ص:۱۳۲ سورہ اعراف :۱۸)
ان عبارتوں سے اس بارے میں یہ اصول مستنبط ہوتے ہیں۔
نمبر1: وہ اسمائے حسنیٰ جو باری تعالیٰ کے اسم ذات ہوں یا صرف باری تعالیٰ کی صفات مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوں‘ ان کا استعمال غیر اللہ کے لیے کسی حال جائز نہیں‘مثلاً: اللّٰہ،  الرحمٰن ، القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، الباریٔ ، المصور، الرزاق، الغفار، القہار، التواب، الوہاب، الخلاق، الفتاح، القیوم، الرب، المحیط، الملیک، الغفور، الاحد، الصمد، الحق، القادر المحیی۔
نمبر2: وہ اسمائے جو باری تعالیٰ کی صفات خاصہ کے علاوہ دوسرے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور دوسرے معنی کے لحاظ سے ان کا اطلاق غیر اللہ پر کیاجاسکتاہو ‘ان میں تفصیل یہ ہے 
کہ اگر قرآن وحدیث‘ تعاملِ امت یا عرفِ عا م میں ان اسماء سے غیرا للہ کا نام رکھنا ثابت ہوتو ایسا نام رکھنے میں مضائقہ نہیں‘ مثلاً: عزیز‘ علی‘ کریم‘ رحیم‘ عظیم، رشید، کبیر، بدیع، کفیل، ہادی‘ واسع، حکیم وغیرہ اورجن اسمائِ حسنیٰ سے نام رکھنا نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہو اور نہ مسلمانوں میں معمول رہاہو، غیر اللہ کو ایسے نام دینے سے پرہیز لازم ہے۔
نمبر3: مذکورہ دواصولوں سے اصول خود بخود  نکل آیا کہ جن اسمائے حسنیٰ کے بارے میں یہ تحقیق نہ ہوکہ قرآن وحدیث ‘تعاملِ امت یا عرف میں وہ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟ ایسے نام رکھنے سے بھی پرہیز لازم ہے‘ کیونکہ اسمائے حسنیٰ میں اصل یہ ہے کہ ان سے غیراللہ کانام رکھنا جائز نہ ہو‘ جواز کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔
ان اصولوں پرتمام اسمائے حسنیٰ کے بارے میں عمل کیاجائے‘ تاہم یہ جواب چونکہ قواعد سے لکھا ہے اور ہر ہر نام کے بارے میں اسلام کی کوئی تصریح احقر کو نہیں ملی، اس لیے اگر اس میں دوسرے اہل علم سے بھی استصواب کرلیا جائے تو بہترہے۔ واللہ سبحانہ اعلم
(فتاویٰ عثمانیہ ص52، 53)

فائدہ نمبر9: مسئلہ صفات کو دلائل کے ساتھ سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔ 
1: کتاب الا سماء والصفات ۔امام بیہقی  ؒ  2: دفع شبہ التشبیہ۔ امام ابن جوزی ؒ

3: ایضاح الدلیل ۔بدر الدین ابن الجماعۃ ؒ 4: المسامرہ مع المسایرہ۔ ابن الہمام ؒ 
5: اشارات المرام۔ امام بیاضی ؒ  6: شرح المقاصد ۔علامہ تفتازانی   ؒ  
7: شرح مواقف ۔میر سید شریف جرجانیؒ   8: اتحاف الکائنات۔ شیخ محمود سبکیؒ 
9: مقالات الکوثری۔ شیخ زاہد الکوثریؒ  10:       اساس التقدیس ۔امام فخر الدین الرازیؒ 

11: تمہید الفرش فی تحدید العرش۔ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ

No comments:

Post a Comment