Wednesday, 6 January 2021

اللّه کہاں ہے مسلک اہل السنت پر اعتراضات کے جوابات

اللّه کہاں ہے مسلک اہل السنت پر اعتراضات کے جوابات:

اعتراض نمبر1:
اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانا جائے تو کیا اللہ تعالیٰ بیت الخلاء میں بھی موجود ہے ؟ اگر کہیں کہ ’’نہیں‘‘ تو ہر جگہ ہونے کا دعویٰ ٹوٹ گیا اور اگر کہیں ’’ہے‘‘  تو اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔
جواب نمبر1: بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً:
مثال نمبر1:  سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلاف ادب ہے۔
مثال نمبر2: ’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔
اسی طرح ’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔ لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
جواب نمبر2: یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے، ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔ 
جواب نمبر3: رمضان مبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ کا جسم نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی نہیں ۔ 
جواب نمبر4:              (از قلم: عباس خان) فرقہ سلفیہ کہتا ہے کہ اللہ کا علم ہر جگہ ہےتو کیا خیال ہے کہ باتھ روم میں بھی ہے، یہ اعتراض الٹا ان پر پڑتا ہے۔

اعتراض نمبر2:
  اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانیں تو اس سے حلول اور اتحاد لازم آئے گا ۔ 
جواب : حلول اور اتحاد تب لازم آئے گا جب اللہ تعالی کے لئے جسم مانا جائے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہیں۔
فائدہ : دو چیزوں کا اس طرح ایک ہونا کہ ہر ایک کا وجود باقی رہے ’’اتحاد‘‘ کہلاتا ہے جیسے آملیٹ اور دو چیزوں کااس طرح ایک ہونا کہ ایک چیز کا وجود ختم ہو جائے’’حلول‘‘ کہلاتا ہے  جیسے شربت۔ 
جواب نمبر 2:  (از قلم : عباس خان) کسی چیز میں حلول کرنا یا کسی چیز کے ساتھ اتحاد کرنا مخلوق کی صفت ہے اللہ مخلوق کی صفات سے پاک ہے۔ 
اور ان کے اس اعتراض سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ لو گ اللہ تعالٰی  کی ذات کو کوئی جسم جیسی کوئی چیز مانتے ہیں جس کے متعلق اگر کہا جائے کہ اگر یہاں ہے تو لازماً اتحاد ہو گا حلول ہو گا۔ یہ بھی اللہ کو نعو ذ باللہ  ایسا ہی خیال کرتے ہیں اس لئے یہ  سوال اٹھاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment