Wednesday, 6 January 2021

اہل السنۃکے دلائل اللّه کہاں ہے احادیثِ مبارکہ

 اہل السنۃکے دلائل

اللّه کہاں ہے 

احادیثِ مبارکہ
1 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ " ، رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَذَانِ » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ » بَاب هَلْ يَلْتَفِتُ لِأَمْرٍ يَنْزِلُ بِهِ أَوْ يَرَى ... رقم الحديث: 714(753)]
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مسجد کے قبلہ(کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ ﷺ لوگوں کے آگے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو صاف کر دیا ۔اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے‘  لہذا کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے 

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»
[صحيح مسلم:1342 - كِتَابُ الْحَجِّ، بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ]

حضرت ابن عمر ؓ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کسی سفر کے لئے نکلتے تو تین مرتبہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے پھر فرماتے ( سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا کُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ) (الزخرف) ترجمہ : پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ہمارے لئے اسے مسخر فرما دیا اور ہم اسے مسخر کرنے والے نہ تھے اور ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، (پھر یہ دعا مانگے) اے اللہ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا اور ان اعمال کا سوال کرتے ہیں کہ جن سے تو راضی ہوتا ہے اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرما اور اس کی مسافت کو تہہ فرما دے، اے اللہ! تو ہی اس سفر میں ہمارا رفیق(ساتھی) ہے اور گھر والوں کا نگہبان ہے اے اللہ! میں سفر کی تکلیفوں اور رنج وغم سے اور اپنے مال اور گھر والوں کے برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور ان میں ان کلمات کا اضافہ فرماتے ہم واپس آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ 
[مسلم (2/978، رقم 1342) ، وأبو داود (3/33، رقم 2599) ، والنسائى فى الكبرى (6/141، رقم 10382) ، وأحمد (2/150، رقم 6374) ، وابن خزيمة (4/141، رقم 2542) ، وابن حبان (6/413، رقم 2696) .]

3 - (حديث قدسي) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ ؟ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ ، فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ " .
[صحيح مسلم » كِتَاب الْبِرِّ ، وَالصِّلَةِ ، وَالْآدَابِ » بَاب فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ... رقم الحديث: 4667]
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی وہ کہے گا اے پروردگار میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالیمن ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا. اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا اور حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا. اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تونے اس کو پانی نہیں پلایا تھا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔

4: آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے
ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ
[جامع الترمذي » كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ » بَاب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ ... رقم الحديث: 1843(1924)]
ترجمہ: ’’تم زمین والوں پر رحم کرو، جو آسمان میں ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔ ‘‘
فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالی کا آسمان میں ہونابتلایا گیا ہے ، غیر مقلدین کا عقیدہ کہ اللہ صرف عرش پر ہے ،اس سے باطل ہوگیا۔

[أخرجه أبو داود (4/285، رقم 4941) ، والبيهقى (9/41، رقم 17683) ، وأحمد (2/160، رقم 6494) ، والبخارى فى التاريخ الكبير (7/194) ، والترمذى (4/323، رقم 1924) قال: حسن صحيح. والحاكم (4/175، رقم 7274) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (7/476، رقم 11048) . وأخرجه أيضًا: الحميدى (2/269، رقم 591) ، والديلمى (2/288، رقم 3328) .]

5- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْأَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ ، فَلْيَقُلْ : رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأَ " .
[سنن أبي داود » كِتَاب الطِّبِّ » بَاب كَيْفَ الرُّقَى ... رقم الحديث: 3396(3892)]

ترجمہ: حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا ‘آپﷺ فرمارہے تھے : تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا کوئی دوسرا بھائی اس سے اپنی بیماری بیان کرے تو یہ کہے کہ رب ہمارا وہ اللہ ہے جو آسمان میں ہے ۔ اے اللہ! تیرا نام پاک ہے اور تیرا اختیار زمین و آسمان میں ہے‘ جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ویسے ہی زمین میں رحمت کر۔ ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے۔ تو پاک لوگوں کا رب ہے۔ اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاؤں میں سے ایک شفاء اس درد کے لیے نازل فرما کہ یہ درد جاتارہے۔

فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بتلایا گیاہے غیرمقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے اس سے باطل ہوگیا۔

6- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا ، قَالَ : فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ ، وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ؟ " قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اتَّقِ اللَّهَ ، قَالَ : " وَيْلَكَ ، أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ " ، قَالَ : ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : " لَا ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي " ، فَقَالَ خَالِدٌ : وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ، وَأَظُنُّهُ قَالَ : " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْمَغَازِي » بَاب بَعْثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَام ... رقم الحديث: 4029(4351)]

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے لئے رنگے ہوئے چمڑے کے تھیلے میں تھوڑا سا سونا بھیجا جس کی مٹی اس سونے سے جدا نہیں کی گئی (کہ تازہ کان سے نکلا تھا) آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ یا عامر بن طفیل رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تقسیم کردیا آپ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ ہم اس کے ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں آنحضرت ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں مجھ پر اطمینان نہیں ہے؟ حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان والے کی خبریں آتی ہیں تو ایک آدمی دھنسی ہوئی آنکھوں والا رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی اونچی پیشانی گھنی داڑھی منڈا ہوا سر تہ بند اٹھائے ہوئے تھا۔ کھڑا ہو کر بولا یا رسول اللہ! اللہ سے ڈر! آپ ﷺ نے فرمایا تو ہلاک ہو، کیا میں تمام روئے زمین پر اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟ پھر وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ممکن ہے وہ نماز پڑھتا ہو (یعنی ظاہری اسلام سے وہ مستحق قتل نہیں رہا) خالد ؓ نے عرض کیا اور بہت سے ایسے نمازی ہیں جو زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں (یعنی منافق ہوتے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں کو کریدنے اور ان کے پیٹوں کو چاک کر (کے بالمعنی حالات معلوم) کرنے کا حکم نہیں ہے ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا آنحضرت ﷺ نے پھر اس کی طرف دیکھ کر فرمایا اس شخص کی نسل سے وہ قوم پیدا ہوگی جو کتاب اللہ کو مزے سے پڑھے گی حالانکہ وہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے پاس نکل جاتا ہے ابوسعید ؓ کہتے ہیں مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں ہوتا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کردیتا۔ 
[وأخرجه مسلم (1064) (146) ، وابن خزيمة (2373) من طريق محمد بن فضيل، بهذا الإسناد.
وأخرجه البخاري (4351) ، ومسلم (1064) (144) ، وأبو نعيم في "الحلية" 5/71-72، والبيهقي في "الأسماء والصفات" ص421، من طريق عبد الواحد بن زياد، عن عمارة بن القعقاع، به، وفيه زيادة: وأظنه قال: "لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود"، ولهذه الزيادة سترد بالرواية برقم (11648) .

وأخرجه مسلم (1064) (145) ، وأبو يعلى (1163) ، وابن حبان (25) من طريق جرير بن عبد الحميد، عن عمارة، به. ولم يذكر عامر بن الطفيل.]

فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بتلایا گیا ہے غیرمقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے اس سے باطل ہوگیا۔

7- امام ابو حنیفہؒ روایت کرتے ہیں عَطَاءؒ سے کہ نبی ﷺ کے کی صحابہ نے ان سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالله بن رواحہؓ کی ایک باندی تھی جو ان کی بکریوں کی حفاظت و دیکھ بھال کیا کرتی تھی. انہیں نے اسے ایک خاص بکری پر توجہ دینے کا حکم دے رکھا تھا، چناچہ وہ باندی اس بکری کا زیادہ خیال رکھتی تھی، جس کی وجہ سے وہ بکری خوب صحت مند ہوگی.
ایک دن وہ باندی دوسری بکریوں کی دیکھ بھال میں مشغول تھی کہ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اسی بکری کو اچک کر لے گیا اور اسے مار ڈالا، جب حضرت عبدالله گھر واپس آۓ تو بکری کو نہ پایا (باندی سے پوچھا) اس نے سارا واقعہ سنا دیا، انہوں نے غصہ میں آکر اس کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ماردیا، بعد میں انھیں اس پر ندامت ہوئی، اور انہوں نے رسول الله ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، نبی ﷺ کو یہ بات بہت گراں گزری، آپ نے فرمایا: تم نے ایک مومن عورت کے چہرے پر مارا؟ انہوں نے کہا: یہ تو حبشن ہے، اسے "ایمان" سے متعلق کچھ نہیں پتہ (یعنی وہ مومنہ نہیں ہے).
نبی ﷺ نے انھیں بلوایا اور اس سے پوچھا کہ: الله کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں. پھر پوچھا کہ: میں کون ہوں؟ اس نے کہا کہ: الله کے پیغمبر. رسول الله ﷺ نے فرمایا: یہ مومنہ ہے اس لئے تم اسے آزاد کردو. چناچہ انہوں نے اسے آزاد کردیا.
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي » كِتَابُ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ وَالْقَدَرِ وَالشَّفَاعَة ...، رقم الحديث: 3]

توضیح: اس حدیث پاک میں ظاہری ایمان کے لئے زبانی اقرار ، رسالت سے پہلے توحید کا ثبوت، زمینی خداؤں (بتوں) کا انکار آسمانی حقیقی واحد معبود سے کرانا مقصود تھا ، ورنہ الله تعالیٰ کی ذات و تجلیات تو ہر جگہ ہے ، آسمان میں بھی ہے ، اوپر عرش پر بھی ہے ، ہمارے ساتھ بھی ہے بلکہ ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے.

١) الله تعالیٰ عرش پر ہے یا آسمان پر؟؟؟
٢) کیا عرش و آسمان میں فرق نہیں ؟؟؟
٣) کیا عرش ساتوں آسمانوں سے اوپر نہیں ؟؟؟

جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ الله تعالى صرف عرش پر مستوی ہے اور عرش آسمانوں سے اوپر ہے ان سے ایک حدیث کی روشنی میں معصومانہ سا سوال حدیث پاک میں آتا ہے.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتے ہیں جب آخری ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے پس وہ فرماتا ہے کوئی ہے مجھ سے دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے مانگنے والا میں اسے دوں، کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے بخش دوں۔
(سنن ابی داو‘د، جلد سوئم کتاب السنۃ،:4733) 

اب سوال یہ ہے دنیا میں ہر وقت کہیں نا کہیں رات ہوتی ہے تو اس حدیث کی روشنی میں الله عرش پر کب جاتا ہے؟ باقی ہمارا عقیدہ یہ ہے اللہ تعالیٰ عرش پر بهی ہے آسمانوں پر بهی ہے مشرق میں بهی ہے مغرب میں بهی ہے ہر جگہ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے.
فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالی کا آسمان میں ہونا بتلایا گیا ہے ،غیر مقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے، اس سے باطل ہوگیا۔







8 - حدثنا عبد بن حميد وغير واحد المعنى واحد قالوا حدثنا يونس بن محمد حدثنا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة قال حدث الحسن عن أبي هريرةقال بينما نبي الله صلى الله عليه وسلم جالس وأصحابه إذ أتى عليهم سحاب فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم هل تدرون ما هذا فقالوا الله ورسوله أعلم قال هذا العنان هذه روايا الأرض يسوقه الله تبارك وتعالى إلى قوم لا يشكرونه ولا يدعونه قال هل تدرون ما فوقكم قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنها الرقيع سقف محفوظ وموج مكفوف ثم قال هل تدرون كم بينكم وبينها قالوا الله ورسوله أعلم قال بينكم وبينها مسيرة خمس مائة سنة ثم قال هل تدرون ما فوق ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن فوق ذلك سماءين ما بينهما مسيرة خمس مائة سنة حتى عد سبع سماوات ما بين كل سماءين كما بين السماء والأرض ثم قال هل تدرون ما فوق ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن فوق ذلك العرش وبينه وبين السماء بعد ما بين السماءين ثم قال هل تدرون ما الذي تحتكم قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنها الأرض ثم قال هل تدرون ما الذي تحت ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن تحتها أرضا أخرى بينهما مسيرة خمس مائة سنة حتى عد سبع أرضين بين كل أرضين مسيرة خمس مائة سنة ثم قال والذي نفس محمد بيده لو أنكم دليتم رجلا بحبل إلى الأرض السفلى لهبط على الله ثم قرأ هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم.
[سنن الترمذي » كتاب تفسير القرآن » باب ومن سورة الحديد » رقم الحديث: 3298]

ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ بادل آگئے۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بادل زمین کو سیراب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں کی طرف ہانکتے ہیں جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اسے پکارتے نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے۔ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا یہ رقیع یعنی اونچی چھت ہے جس سے حفاظت کی گئی۔ اور یہ موج کی طرح ہے جو بغیر ستون کے ہے۔ پھر پوچھا کیا جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اس کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اس سے اوپر دو آسمان ہیں جنکے درمیان پانچ سو برس کا فاصلہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اسی طرح سات آسمان گنوائے اور بتایا ہر دو آسمانوں کے درمان آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلے کے برابر فاصلہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اس کے اوپر عرش ہے اور وہ آسمان سے اتنا دور ہے جتنا زمین سے آسمان۔ پھر آپﷺ نے پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے نیچے کیا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتا ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ زمین ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے پہلی زمین اور دوسری زمین کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ پھر پوچھا آپﷺ نے سات زمینیں گنوائیں اور بتایا کہ ہر دو کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم لوگ نیچے زمین کی طرف رسی پھینکو گے تو وہ اللہ تک پہنچے گی اور پھر یہ آیت پڑہی ہو (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ - الحدید : 3) (وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔)
[جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1246, قرآن کی تفسیر کا بیان : سورت حدید کی تفسیر]
تخريج الحديث:
1) الراوي: أبو هريرة المحدث: ابن العربي - المصدر: عارضة الأحوذي - الصفحة أو الرقم: 6/356
خلاصة حكم المحدث: منقطع الحسن كمتصله صحيح المعاني وكل حرف منه مستند من طرق صحاح
2) الجامع لأحكام القرآن » سورة البقرة » قوله تعالى هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا ثم استوى إلى السماء فسواهن سبع سماوات وهو بكل شيء عليم » الجزء الأول » ص: 247 

فائدہ : رسی کا زمین کے نیچے اللہ تعالی کے پاس جانا دلیل ہے کہ ذات باری تعالی صرف عرش پر نہیں جیسا کہ غیر مقلدین کا عقیدہ ہے بلکہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے ۔

علامہ ذہبیؒ یحیی بن عمار کا قول جس میں وہ فرماتے ہیں ”یعنی ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اپنی ذات کے ساتھ عرش پر ہیں اور ان کے علم نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے“ نقل کرنے کے بعد علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
”بذاته کا لفظ یحیی بن عمار نے اپنی عقل سے نکالا ہے“
اسلماعیل بن محمد تیمی کے حالات میں لکھتے ہیں:
”صحیح بات یہ ہے کہ بذاته کا لفظ استعمال ہی نہ کریں کیونکہ یہ نص میں وارد نہیں ہوا اور اگر ہم فرض کر لیں کہ اس کا معنی درست ہے تب بھی ہم ایسا لفظ منہ سے نہ نکالیں جس کی اجازت اللہ تعالٰی نے نہیں دی تاکہ دل میں بدعت داخل نہ ہو“(اهل السنة الاشاعرۃ ص۱۲۴)


9 - حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : ثنا ابْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : الْتَقَى أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الأَرْضِ السَّابِعَةِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الْمَشْرِقِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الْمَغْرِبِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ.
[جامع البيان عن تأويل آي القرآن » تفسير سورة الطَّلاقِ ... رقم الحديث: 31949]
[تفسير القرآن لعبد الرزاق الصنعاني » سُورَةِ الطَّلاقِ ... رقم الحديث: 3155]
[تفسير ابن كثير » تفسير سورة الحديد؛ ص: 8 ]

ترجمہ : امام ابن جریرؒ آیت (وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ .... 65-الطلاق:12) کی تفسیر میں حضرت قتادہؓ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ 

10 - (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ ، قَالَ : وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .[صحيح مسلم » كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار ... » بَاب اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ ...رقم الحديث: 4879]
ترجمہ : حضرت ابوموسیؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے صحابہ نے بلند آواز سے اَللّٰهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو نبی ﷺنے فرمایا اے لوگوں اپنی جانوں پر ترس کرو تم کسی غائب یا بہرے کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ تم سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ رہا تھا تو آپﷺ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس! کیا تمہیں جنت کے خزانوں میں سے خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہو
فائدہ: اگر قرب سے مراد ”قرب علمی“ ہوتا تو ”قریباً“ کہنے پر اکتفاء ہو جاتا لیکن ”وَھُوَ مَعَکُمْ“ فرما کر ”قربِ ذاتی“ کی طرف اشارہ فرما دیا۔ اسی طرح اگر مراد صرف ”قربِ وصفی“ ہوتا تو ”اَصَمَّ“ کے بعد ”وَلَا غَائِبًا“ نہ فرماتے۔
11 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ المَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلاَةِ» رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ۔
[صحيح البخاري:753 كِتَابُ الأَذَانِ، بَابٌ: هَلْ يَلْتَفِتُ لِأَمْرٍ يَنْزِلُ بِهِ]
ترجمہ: حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ(کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے آگے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو چھیل ڈالا ۔اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے‘ لہذا کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے۔[أخرجه الطيالسى (ص 252، رقم 1843) ، وأحمد (2/72، رقم 5408) ، والبخارى (5/2265، رقم 5760) .، وأو داود (1/129، رقم 479) ، وابن ماجه (1/251، رقم 763) . وأخرجه أيضًا: مسلم (1/388، رقم 547) .]

12 - قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَزْكِيَةُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ»
[التاريخ الكبير للبخاري:54، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:1162، السنن الكبرى للبيهقي:7275، المعجم الصغير:555، مسند الشاميين:1870، معجم الصحابة لابن قانع:2/102، معرفة الصحابة لأبي نعيم:4528، السلسلة الصحيحة:3/38]
نبی ﷺ سے پوچھا گیا: آدمی کا اپنے نفس کا تزکیہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: انسان یہ یقین جان لے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اللہ اس کے ساتھ ہے۔

13 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالا : ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنانُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، أَخِي عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ إِيمَانِ الْمَرْءِ : أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ " .
[شعب الإيمان للبيهقي » الْحَادِي عَشَرَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ وَهُوَ بَابٌ ...، رقم الحديث: 711(740)]

ترجمہ : حضرت عبادہ بن الصامتؓ نے فرمایا ، (کہ) فرمایا رسول الله ﷺ نے : (کہ) بیشک افضل ایمان انسان کا یہ ہے کہ وہ جان لے (کہ) بیشک الله اس کے ساتھ ہے، جہاں بھی وہ ہو.[تفسیر ابن کثیر (مترجم) : 5/317]
14 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الأَشْعَرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيَّ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الإِيمَانِ : مَنْ عَبَدَ اللَّهَ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ فِي كُلِّ عَامٍ ، وَلَمْ يُعْطِ الَهَرِمَةَ ، وَلا الدَّرِنَةَ ، وَلا الشَّرِطَ اللَّئِيمَةَ ، وَالْمَرِيضَةَ ، وَلَكِنْ مِنْ أَوْسَطِ أَمْوَالِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ ، وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ ، وَزَكَّى نَفْسَهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَا تَزْكِيَةُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ " .[التاريخ الكبير للبخاري » باب الميم » باب الواحد ... رقم الحديث: 895]
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح رجاله ثقات رجال مسلم غير عبد الله بن سالم وهو ثقة [السلسلة الصحيحة - (الألباني): 3/38]

ترجمہ : حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: اس بات کوجان لے (دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے) کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: سورة الحديد: آية 6)

No comments:

Post a Comment