مسئلہ استواء علی العرش
اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ’’استواء علی العرش‘‘اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جس کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور قرآن مجید میں اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں ۔امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں :
فَاَمَّاالْاِسْتِوائُ فَالْمُتَقَدِّمُوْنَ مِنْ اَصْحَابِنَاکَانُوْالَا یُفَسِّرُوْنَہٗ وَلَا یَتَکَلِّمُوْنَ فِیْہِ (کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص150)
ترجمہ: ’’رہا استواء کا مسئلہ تو ہمارے متقدمین حضرات نہ اس کی تفسیر کرتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی کلام فرماتے تھے ۔‘‘
جبکہ غیر مقلدین کے ہاں استواء علی العرش سے اللہ تعالیٰ کا حساً فوق العرش ہونا مراد ہے ۔
(عقیدہ مسلم از محمد یحییٰ گوندلوی: ص 219 ، آئیے عقیدہ سیکھئے از طالب الرحمن شاہ ص 39)
فائدہ: اللہ تعالیٰ موجود بلا مکان ہے
اگر کوئی شخص سوال کرے’’اَیْنَ اللّٰہُ ؟‘‘ ( اللہ کہاں ہے ؟) تو اس کا جواب یہ دینا چاہیے :’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘ کہ اللہ تعالیٰ بغیر مکان کے موجود ہیں۔ یہ اہل السنت والجماعت کا موقف و نظریہ ہے جس پر دلائل ِ عقلیہ و نقلیہ موجود ہیں:
فائدہ: ’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘ یہ تعبیراہل علم حضرات کی ہے، اسی لیے طلبہ کو سمجھانے کے لیے ’’اللہ تعالی بلا مکان موجو دہے‘‘کہ دیا جاتا ہے۔ عوام الناس چونکہ ان اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے اس لیے اس عقیدہ کو عوامی ذہن کے پیش نظر ’’اللہ تعالیٰ حاضر ناظر ہے‘‘ یا’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے‘‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔
اہل السنۃکے دلائل :
آیاتِ قرآنیہ:
1: وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (سورۃ البقرۃ: 115)
ترجمہ : مشرق و مغرب اللہ تعالی ہی کا ہے ،جس طرف پھر جاؤادھر اللہ تعالیٰ کا رخ ہے ۔
2: وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ (سورۃ البقرۃ: 186)
ترجمہ : جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو کہ ) میں تو تمہارے پاس ہی ہوں۔
فائدہ : عرش بعید ہے کیونکہ ہمارے اوپر سات آسمان ہیں، ان پر کرسی ہے، کرسی پر سمندر ہے، سمندر کےاوپر عرش ہے۔
(کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی ج 2ص 145)
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
۱: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰاتٍ۔ ۲: وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ۔ ۳: وَ کَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَآئِ۔
3: یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ۔(النساء:108)
ترجمہ: وہ شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں۔
4: اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(ہود:61)
ترجمہ: بے شک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والاہے۔
5: وَاِنِ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحٰی اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ (سبا:50)
ترجمہ: اور اگر میں صحیح راستے پر ہوں تو یہ بدولت اس قرآن کے ہے جس کو میرا رب میرے پاس بھیج رہاہے وہ سب کچھ سنتا بہت قریب ہے۔
6: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (سورہ واقعہ:85)
ترجمہ : تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں۔
7: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورہ ق:16)
ترجمہ : ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب توجیہ:
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بڑی عجیب توجیہ فرمائی ہے، فرماتے ہیں:
”مثلاً جو دو کاغذ گوند سے چپکا دیے گئے ہیں وہ ایک دوسرے سے اتنے قریب نہیں بلکہ گوند جو کہ واسطہ ہے وہ زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ مثال سے پاک ہیں لیکن آخر میں تمہیں کس طرح سمجھاؤں، پس جب اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری ہستی کے درمیان واسطہ ہیں تو وہ ہستی سے زیادہ قریب ہوئے۔ اور یہی حاصل تھا تمہارے ساتھ بنسبت تمہاری جان ہونے کا۔ پس تم سے اتنے قریب ہوئے جتنے کہ خود تم بھی اپنے قریب نہیں جیسا کہ گوند کی مثال میں سمجھایا گیا۔ یہ بہت موٹی بات ہے کہ کوئی قیل و قال کی گنجائش نہیں۔“
(خطباتِ حکیم الامت: ج17 ص431 عنوان: اقربیت کا مفہوم)
8: وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (سورہ حدید:4)
ترجمہ : تم جہاں کہیں ہو، وہ (اللہ ) تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔
9: مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوَیٰ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ھُوَرَابِعُھُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا.
(سورہ المجادلۃ:7)
ترجمہ : کبھی تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ (اللہ) نہ ہو، اور نہ پانچ آدمیوں کی کوئی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو، اور چاہے سرگوشی کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
10: اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ ( سورہ ملک :16)
ترجمہ : کیا تم کو اس (اللہ تعالی )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا۔
اعتراض: جب ہم وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں معیت کا ذکر ہے تو غیرمقلدین کہتے ہیں کہ اس سے’’معیت علمیہ‘‘ مراد ہے مثلاًوَہُوَ مَعَکُمْ ای عِلْمُہُ مَعَکُمْ، اور اس پر دلیل یہ ایسی آیات پیش کرتے ہیں: ’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ الآیۃ (الحج:70)‘‘
جواب: اولاً.....معیت علمیہ لازم ہے معیت ذاتیہ کو،جہاں ذات وہاں علم ،رہا غیرمقلدین کا’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ‘‘ وغیرہ کی بناء پر یہ کہناکہ اس سے علم مراد ہے، تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس میں ذات کی نفی کہاں ہے؟بلکہ اثباتِ علم سے تو معیت ِذاتیہ ثابت ہوگی بوجہ تلازم کے۔
ثانیاً..... غیرمقلدین سے ہم پوچھتے ہیں کہ جب ’’اِسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ‘‘یا ’’یَدُاللّٰہِ‘‘ جیسی آیات کو تم ظاہر پر رکھتے ہو،تاویل نہیں کرتے تو یہاں’’وَہُوَ مَعَکُمْ‘‘ [جس میں’’ہو‘‘ ضمیر برائے ذات ہے]جیسی آیات میں تاویل کیوں کرتے ہو؟
الله کہاں اور امام شعرانی




No comments:
Post a Comment