جامع مسانيد الإمام ابي حنيفة النعمان رحمه الله:
امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله ان مقدس ومحترم شخصيات ميں سے ہیں ، جن کے خلاف فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث کی طرف طعن وتشنیع وتنقید کا بازار گرم رہتا هے ، اس فرقہ جدید میں شامل تقریبا ہرچهوٹا بڑا امام عالی شان کی ذات میں توہین وتنقیص کا کچهہ نہ کچهہ اظہار کرتا رہتا ہے ، اور یہ صفت قبیحہ اس فرقہ جدید کے تمام ابناء میں سرایت کی ہوئ ہے ، الاماشاءالله من جملہ ان وساوس باطلہ کے ایک وسوسہ یہ امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله کے خلاف پهیلایا جاتا هے کہ ان کو تو حدیث کا کچهہ بهی پتہ نہیں تها علم حدیث سے بالکل کورے تهے ( معاذالله ) ،اس باطل وسوسہ پرکچهہ بحث غالبا گذشتہ سطور میں گذرچکی ہے ،لیکن مزید اطمینان قلب کی خاطرمیں امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله کی ان مسانید کا تذکره کروں گا ، جن کوکباراهل علم نے جمع کیا هے
تعريف المسانيد:
مسانيد جمع ہے مسند کی جوکہ ( سَنَدَ ) سے اسم مفعول ہے،
اهل لغت نے اس کی تعریف لغوی اس طرح پیش کی هے،
المسانيد أو المساند جمع : مسند ، وهو : اسم مفعول من الثلاثي : ( سَنَدَ ) ، قال ابن فارس ( ت 395 هـ ) : " السين والنون والدال أصل واحد يدل على انضمام الشيء إلى الشيء . وقد سُمِّي الدهر : مُسنَدًا ؛ لأن بعضه متضام " )
وقال الليث : " السند ما ارتفع عن الأرض " وقال الأزهري ( ت 370 هـ ) : " كل شيء أسندت إليه شيئًا فهو مُسنَد " وحكى أيضًا عن ابن بُزُرْج أن السَّنَد مثقل : ( ( سنود القوم في الجبل ) ) ، وقال الجوهري ( ت 393 هـ ) : " السَنَد : ما قابلك من الجبل وعلا عن السطح ، وفلان سَنَده أي : معتمد " وقال ابن منظور ( ت 711هـ ) : " ما يسند إليه يُسمى مسْنَدًا ومُسْنَدًا ، وجمعه : المَساند " (13) وزاد صاحب القاموس أنه يجمع أَيضًا بلفظ : ( مسانيد ) ، ويرى أبو عبد الله : محمد بن عبد الله الشافعي الزركشي ، ( ت 794 هـ ) ( أن الحذف أولى .
حاصل یہ کہ مسند کا معنی لغوی اعتبار سے یہ هے کہ جوکسی چیزکی طرف منسوب کیا جائے ، جوکسی چیزکی طرف ملایا جائے ، اس چیزکومضبوط کرنے کے لیئے٠
مسند کی اصطلاحى تعریف
اصطلاح میں مسند کا اطلاق حدیث پربهی ہوتا ہے اورحدیث کی کتاب پربهی ہوتا ہے، مسند اس حدیث مرفوع کو کہتے ہیں جس کی سند کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ یہ تو مسند حدیث کی تعریف ہے،
اور اسی طرح مسند کا اطلاق حدیث کی ان کتب پربهی ہوتا ہے، جن کو اس کے مؤلفین نے اسماء الصحابة کے مسانيد پرجمع کیا ہو یعنی مسند حدیث کی وه کتاب ہے جس میں ہرصحابی کے احادیث کو الگ الگ جمع کیا جائے،
پهر بعض محدثین نے اس بارے میں یہ ترتیب رکهی کہ پہلے سابقین فی الاسلام صحابہ کی احادیث ذکرکرتے ہیں جیسے عشره مبشره پهر اهل بدر وغیره ، اور بعض محدثین حروف المعجم کے اعتبار سے صحابہ کی احادیث ذکرکرتے ہیں وغيره . بغرض فائده یہ تومسند کی لغوی واصطلاحی تعریف کا مختصرتذکره تها ، اب میں ان کباراهل علم وعلماء امت کا تذکره کروں گا جنهوں نے امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله کے ان مسانید کو جمع کیا .
یا درہے کہ امام محمد بن محمود الخوارزمی رحمه الله نے امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله کی پندره (15) مسانید کو جامع مسانيد الإمام ابى حنيفة النعمان کے نام سے ایک مستقل کتاب میں جمع کیا هے ، اوران کے جمع کرنے کی وجہ یہ لکهی کہ میں نے شام میں بعض جہلاء سے سنا جوامام اعظم کی شان میں توہین وتنقیص کر رها تها اورامام اعظم پر رواية الحديث کی قلت کا الزام لگا رها تها ، اوراس بارے میں مسند الشافعي وموطا مالك وغیره سے استدلال کر رها تها اوریہ گمان کر رها تها کہ ابو حنیفہؒ کی تو کوئ مسند نہیں ہے ، لہذا مجهے دینی غیرت وحمیت لاحق ہوئ پس میں نے اراده کیا کہ میں امام اعظم رحمه الله کی ان پندره (15) مسانید کو جمع کروں جن کبار علماء الحديث نے جمع کیا هے .
ان کبار علماء الحديث کے اسماء درج ذیل ہیں جنهوں نے امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله کے مسانید کوجمع کیا هے
1 = الإمام الحافظ ابو محمد : عبد الله بن محمد بن يعقوب الحارثي البخاري المعروف : بعبد الله
2 = الإمام الحافظ ابو القاسم : طلحة بن محمد بن جعفر الشاهد العدل
3 = الإمام الحافظ ابو الحسين : محمد بن المظفر بن موسى بن عيسى بن محمد
4 = الإمام الحافظ : ابو نعيم الأصفهاني
5 = الشيخ ابو بكر : محمد بن عبد الباقي بن محمد الأنصاري
6 = الإمام ابو احمد : عبد الله بن عدي الجرجاني
7 = الإمام الحافظ : عمر بن الحسن الأشناني
8 = الإمام ابو بكر : احمد بن محمد بن خالد الكلاعي
9 = الإمام ابو يوسف القاضي : يعقوب بن ابراهيم الأنصاري ، وما روي عنه يسمى : نسخة ابي يوسف
10 = الإمام : محمد بن الحسن الشيباني والمروي عنه يسمى : نسخة محمد
11 = ابن الإمام : حماد رواه عن ابي حنيفة
12 = الإمام : محمد ايضا ، وروى معظمه عن التابعين ، وما رواه عنه يسمى : الآثار
13 = الإمام الحافظ ابو القاسم : عبد الله بن محمد بن أبي العوام السعدي
14 = الإمام الحافظ ابو عبد الله : حسين بن محمد بن خسرو البلخي
15 = الإمام الماوردي ابو الحسن : علي بن محمد بن حبيب
یہ مسانید( ابواب الفقه ) کے مطابق جمع کیئے گئے ہیں ، پهر بعد میں بعض علماء امت نے ان مسانید کی اختصار اور شرح بهی لکهی ، مثلا
1 = الإمام شرف الدين : اسماعيل بن عيسى بن دولة الأوغاني المكي نے اس کا اختصار بنام اختيار اعتماد المسانيد في اختصار اسماء بعض رجال الأسانيد ) لكها ،
2 = الإمام ابو البقاء : احمد بن ابي الضياء ( محمد القرشي البدوي المكي ) نے اس کا اختصار بنام مختصر ( المستند مختصر المسند ) لكها ،
3 = الإمام محمد بن عباد الخلاطي نے اس کا اختصار بنام ( مقصد المسند ) لكها
4 = ابو عبد الله : محمد بن اسماعيل بن ابراهيم الحنفي ،نے اس کا اختصار لکها
5 = حافظ الدين : محمد بن محمد الكردري المعروف : بابن البزازي نے اس کے زوائد کو جمع کیا ،
6 = شيخ جلال الدين السيوطي نے اس کی شرح بنام ( التعليقة المنيفة على سند ابي حنيفة ) لکهی اس کے علاوه بهی بہت ساری کتب وشروحات امام اعظم ابى حنيفة النعمان رحمه الله کی مسانید پرلکهی گئ ہیں .
رحمهم الله جميعا وجزاهم الله تعالى خيرا في الدارين
یقینا اس ساری تفصیل کے بعد آپ نے ملاحظہ کرلیا کہ چند جہلاء زمانہ کی طرف سے امام اعظم کے خلاف جو باطل وکاذب وسوسہ پهیلایا جاتا هے یہ وسوسہ صرف جہلاء وسفہاء کی مجلس میں کارگر ہوتا ہے اربابِ علم واصحاب فکرونظر کی نگاه میں اس کی کوئ حیثیت نہیں ہے۔
************************************
امام ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی البخاری المعروف بہ :الاستاذ" المتوفی 340ھ)
امام حارثی ؒ وہ شخص ہیں جنہوں نے علم حدیث میں بلند پایہ مقام رکھنے کی وجہ سے محدثین سے "الاستاذ " کا ممتاز لقب حاصل کیا
امام خلیلی ؒ المتوفی 446نے" کتاب الارشاد میں ان کے تذکرہ میں لکھتے ہیں
یعرف بالاستاذ لہ معرفۃ بھذالشاں (لسان المیزان ج3ص 405٭ )
یہ الاستاذ کے لقب سے مشہور ہیں ان کو اس فن حدیث کی معرفت حاصل ہے
حافث ذہبی ؒالمتوفی 748ھ ان کے متعلق ارقام فرماتے ہیں
عرف بالاستاذ اکثر عنہ ابو عبداللہ بن مندۃ (لسان المیزان ج3ص 405) یہ الاستاذ سے مشہور ہیں امام ابوعبداللہ بن مندہ نے ان سے بکثرت احادیث روایت کی ہے
امام ابن مندہ المتوفی 395 ھ مشہور اور بلند مرتبت محدث ہیں انہوں نے امام حارثی سے بکثرت روایت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی توثیق بھی کی ہے
چنانچہ حافظ ذہبی " تاریخ کبیر میں امام حارثی کے ترجمہ لکھتے ہیں
وکان ابن مندۃ حسن الرئی فیہ (تاریخ التراجم ص21)
امام ابن مندہ ؒ ان کے حق میں اچھے رائے رکھتے تھے
نیز لکھتے ہیں
وکان ابن مندۃ یحسن القول فیہ )سیر علام النبلاء ت 340)
امام ابن مندہ ان کی اچھائی بنیان کرتے تھے
حافظ ذہیبی کا ان کے بارے خود اپنا بیان یہ ہے کہ
وکان محدثا ضوالا راسا فی الفقہ ( العبر
نیز ذہیبی ؒ ان کو درج ذیل القاب سے یاد فرماتے ہے
الاستاذ الشیخ ن الاما الفقہ ، المحدث ، عالم ماوراء النھر ( سیراعلام النبلا ت 340 ، تذکرۃ الحفاظ ج3ص 49
علامہ ابوسعد سمعانی امتوفی 566ھ فرماتے ہیں
وکان شیخا مکثرا من الحدیث ( کتاب النساب ج3ص 16)
امام حارثی ؒ شیخ اور کثیر الحدیث تھے
انس بیان میں امام سمعانی ؒ نے امام حارثی کو کثیر الحدیث قرار دینے کے ساتھ ساتھ شیخ بھی قرار دیا جو بتصریح مولانا ارشادلحق اثری الفاظ توثیق میں سے ہے
نیز سمعانی ؒ فرماتے ہیں
رجل الی خراسان والعراق والحجاز وادرک الشیوخ ( کتاب الانساب ج3س 16)
امام حارثی نے طلب حدیث میں خراسان ، عارق ، اور حجاز ( مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ) کی طرف سفر کیا اور وہاں کے شیوخ حدیث سے ملاقات کی ،
حافظ ابن حجر عسقلانی ان کو حافث الحدیث قرار دیتے ہیں چنانچہ ان کے تعارف میں ارقام فرماتے ہیں
ابو محمد الحارثی ۔ ھو عبداللہ بن یعقوب الحافظ الحنفی وھو الاستاذ وھو البخاری ( لسان المیزان ج7ص 124 باب الکنی)
اس طرح حافظ موصوف نے ان مولفہ " مسند ابی حنیفہ کے تعارف میں بھی ان کا حافظ الحدیث ہونا تسلیم کیا ہے چنانچہ وی رقمطراز ہیں
وقد اعتنی الحافظ ابو محمد الحارثی وکان بعد الظلاچمائۃ بحدیث ابی حنیفہ فجمعہ فی مجلد ورتبہ علی شیوک ابی حنیفۃ ( تعجیل المنفعۃ ص19)
حافظ ابو محمد حارثی جو 300ھ کے بعد ہوئے ہیں انہوں نے امام ابوحنیفہ ؒ کی احادیث پر خصوصی توجہ دی اور ان کو ایک جلد میں جمع کیا اور اس مسند کو انہوں نے امام ابوحنیفہ کے شیوخ پر ترتیب دیا ہے
حافظ ابو الموئد خوارزمی المتوفی 665ھ نے ان کی جمع کردہ " مسند ابی حنفہ کی تعریف میں لکھا ہے
من طالع مسدہ الذی جمعہ للامام ابی حنیفہ علم تبحرہ فی علم الحدیث واحاطتہ بمعرفۃ الطرق والمنوں ( جامع المسانید ج2ص 525)
جو شخص بھی امام حارثی کی جمع کردہ " مسند امام ابی حنیفہ " کا مطالعہ کرے گا وہ علم حدیث میں ان کے تبحر اور طرق و متون حدیث پر ان کے احاطہ علیمہ کو جان لے گا۔
=====================================
”فقہ حنفی“ کی شورائیت پر ایک نظر
اس وقت پوری دنیا میں عملی اعتبار سے ائمہ اربعہ کی فقہ رائج ومتداول ہے، ان میں بھی عمومی قبولیت اور خصوصی امتیاز فقہ حنفی کو حاصل ہے ؛ بلکہ اگر کہا جائے کہ اولیت ومرجعیت اسی فقہ کا مقدر ہے، تو غلط نہ ہوگا، فقہ حنفی نے ترقی کی جس اوج کمال کو دریافت کیاہے اس کے اسباب وعلل کا پتہ لگانا دشوار نہیں؛ اس فقہ کی ترقی وکمال کا راز سربستہ بظاہر اس فقہ کی جامعیت، احوال زمانہ سے ہم آہنگی، اصول وقواعد کی پختگی اور احادیث وآثار کا انضمام ہے۔
فقہ حنفی کی خصوصیت:
علامہ شبلی نعمانی نے ”سیرة النعمان“ میں فقہ حنفی کی خصوصیت پر مفصل کلام کیاہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: (۱) فقہ حنفی کے مسائل اسرار ومصالح پر مبنی ہوتے ہیں (۲) فقہ حنفی پر عمل بہ نسبت تمام فقہوں کے نہایت آسان ہے (۳) فقہ حنفی میں معاملات کے متعلق جو قاعدے ہیں نہایت وسیع اور متمدن ہیں (۴) فقہ حنفی نے ذمیوں کے حقوق (یعنی وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں؛ لیکن مسلمانوں کی حکومت میں مطیعانہ رہتے ہیں) نہایت فیاضی اور آزادی سے دئیے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جس کی نظیر کسی امام اور مجتہد کے یہاں نہیں ملتی (۵) فقہ حنفی نصوصِ شرعیہ کے موافق ہے، یعنی جو احکام نصوص سے ماخوذ ہیں اور جن میں ائمہ کا اختلاف ہے ان میں امام ابوحنیفہ جو پہلو اختیار کرتے ہیں وہ عموماً قوی اور مدلل ہوتا ہے۔ (ص:۱۹۴)
شورائی نظام:
فقہ حنفی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ فقہ ایک شخص کی رائے پر مبنی نہیں ہے؛ بلکہ امام ابوحنیفہ نے جس جامع اور محیط طرز پر فقہ کی تدوین کا منصوبہ بنایا تھا، وہ انتہائی وسیع اور دشوار کام تھا، اس لیے آپنے اتنے بڑے اور اہم ارادے کی تکمیل کے لیے اپنے شاگردوں میں سے چالیس جبال العلم محدثین وفقہاء، طریقِ تخریج کے ماہر اور علم عربیت ولغت کے رمز شناس افراد کا انتخاب کیا اور ایک مجلس شوریٰ تشکیل دی، جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو امام صاحب تمام اراکین شوریٰ سے استفسار کرتے، اگر تمام کی رائے کسی ایک امر پر متفق ہوجاتی تو امام ابویوسف منقح انداز میں اصول کی کتابوں میں درج فرمادیتے، اور اگر رائے مختلف ہوتی تو آزادانہ طور پر بحث کا سلسلہ جاری رہتا، کبھی کبھی ایک ایک مسئلہ پرمہینوں بحث کا سلسلہ جاری رہتا، پھر جب روشن صبح کی طرح دلائل واضح ہوجاتے تو اس کو لکھ لیا جاتا؛ موفق بن احمد مکی ”مناقب ابی حنیفہ“ میں لکھتے ہیں:
”فکان یلقی مسئلة مسئلة وسمع ما عندہم ویقول ما عندہ ویناظرہم شہراً أو أکثر من ذلک حتی یستقر أحد الأقوال ثم یثبتہا أبو یوسف فی الأصول“
امام صاحب ایک ایک مسئلہ پیش کرتے اور ان کی رائے سنتے اور اپنا نظریہ بیان کرتے اور ایک ایک مہینہ ؛ بلکہ ضرورت پڑتی تواس سے بھی زیادہ عرصہ تک اس میں مناظرہ ومباحثہ کرتے رہتے، حتی کہ جب کسی ایک قول پر سب کے رائے جم جاتی تو امام ابویوسف اصول میں درج کردیتے۔ (مناقب موفق: ۲/۱۳۳)
اس کے بعد بھی اگر کسی کا اختلاف رہ جاتا تو ان کے اختلاف کے ساتھ بقید تحریر لایا جاتا اور اس امر کا اہتمام والتزام ہوتا کہ جب تک ایک مسئلہ حل نہ کرلیا جائے التواء میں نہ ڈالا جائے؛ علامہ کردری کا بیان سنتے چلئے، فرماتے ہیں:
”اذا وقعت لہم مسئلةٌ یدیرونہا حتی یضیوٴنہا“
جب اس مجلس میں کوئی مسئلہ پیش ہوتا تو اس کو آپس میں خوب گردش دیتے، یہاں تک کہ بالآخر اس کی تہ تک پہنچ کر اس کو روشن کرلیتے۔ (مناقب کردری:۲/۳)
امام صاحب محض اپنی ذاتی رائے کی تدوین پسند نہ کرتے، جب تک خوب اس پر اچھی طرح غور نہ فرمالیتے اور مجلس شوریٰ کے ذریعہ بھی اس کے ہر پہلو نمایاں نہ ہوجاتے، یہی وجہ ہے کہ کبھی امام ابویوسف امام صاحب کی رائے بدون تنقیح وتحقیق لکھ دیتے تو امام صاحب ان کو متنبہ فرماتے:
”لا تکتب کل ما تسمع منی فانی قد أری الرأی الیوم وأترکہ غداً، وأری الرأی غداً وأترکہ فی غدہ“
ہر وہ چیز جو مجھ سے سنتے ہومت لکھ لیاکرو؛ کیوں کہ اگر میںآ ج کوئی رائے قائم کرتاہوں تو کل اُسے چھوڑ دیتا ہوں اور کل کی رائے پرسوں ترک کردیتا ہوں“
(تقدمہ نصب الرایہ:۳۱۰)
فقہی مسائل میں شوریٰ کی شرعی حیثیت:
اسلام میں شوریٰ کی افادیت واہمیت مسلم ہے، قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے انصار کے نظامِ شوریٰ کی تعریف وتوصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”وأمرہم شوریٰ بینہم“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کی تلقین فرمائی: ”وشاورہم فی الأمر“ احادیث میں بھی شوریٰ کی حکمتیں اور فضیلتیں مذکور ہیں، اسی لیے حضراتِ صحابہ شورائی نظام پر عمل پیرا تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرماجانے کے بعد سب سے پہلا مسئلہ ”خلافت“ کا صحابہ نے شوریٰ ہی کے ذریعہ حل کیا تھا، حضرت ابوبکر اپنے زمانہٴ خلافت میں شوریٰ کے ذریعہ ہی مسائل حل کیا کرتے تھے، بیہقی نے ”السنن الکبری“ میں میمون بن مہران کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ:
”حضرت ابوبکر کے پاس جب بھی کوئی مقدمہ آتا اور کتاب وسنت میں اس کا حل ملتا تو اسی کے ذریعہ فیصلہ فرماتے تھے، اوراگر قرآن وسنت میں مسئلہ کا حل نہ معلوم ہوتا تو صحابہ کے پاس آتے اور صحابہ سے پوچھتے کہ میرے پاس ایسا مقدمہ آیا ہے، کیا تم میں سے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کے مقدمہ کا کوئی فیصلہ سنا ہے؟ بعض صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے تو حضرت ابوبکر اس پر عمل کرتے اور اللہ کی تعریف کرتے کہ ہمارے درمیان ایسے لوگ ہیں جو اپنے نبی کے علم کے محافظ ہیں، لکن اگر حدیث سے بھی کوئی حل نہ ملتا، تو کبار صحابہ اور فقہاء صحابہ کو جمع کرتے ان سے مشورہ کرتے اور جب وہ لوگ کسی امر پر متفق ہوجاتے تو اسی کا فیصلہ فرمادیتے“
(السنن الکبری للبیہقی: ۱۰/۱۱۴-۱۱۵، المصباح:۱/۱۱۱)
حضرت عمر نے بھی اپنے زمانہٴ خلافت میں فقہی مسائل کے حل کے لیے ایک شوریٰ تشکیل دی تھی اورجب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا تو مدینہ کے فقہاء صحابہ کو جمع کرکے تبادلہ خیال فرماتے اور اجتماعی طورپر کوئی فیصلہ فرماتے، علامہ ابن القیم نے بھی اپنی تصنیف اعلام الموقعین، ج:۱،ص:۶۵ میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے اس شورائی منہج کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ فقہی مسائل کے حل کے سلسلہ میں حضراتِ صحابہ میں زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس کا اور تابعین میں عمر بن عبدالعزیز، مروان بن الحکم، اور فقہاء سبعہ مدینہ کا بھی شورائی منہج تھا۔ (المصباح:۱/۱۱۵)
مجلس شوریٰ کی جامعیت:
حضرت حماد کے انتقال کے بعد کوفہ کی مسند جب امام صاحب کے سپرد کی گئی تو باوجودیکہ امام صاحب علمِ حدیث کے امام اور فقہ کے استاذ الاساتذہ تھے، اجتہاد میں اعلیٰ مقام پر فائز تھے، اوراس باب میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے، پھر بھی اس وادی غیر ذی زرع اور لق ودق میدان میں تنہا طبع آزمائی کرنا مناسب خیال نہ کیا اور اپنے ممتاز تلامذہ کو بھی کارِ اجتہاد میں شریک کیا، اور اس طرح حضرت الامام نے حضراتِ شیخین کی سنت کو زندہ کیا، اس نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سعی کی جاتی ہے اور اجتماعی سعی انفرادی کوشش سے بہرحال افضل ہے، اگرچہ یہ طریقہ بھی معصوم عن الخطاء نہیں ہے؛ لیکن انفرادی کوشش کی بہ نسبت اس طریقہٴ اجتہاد میں غلطی کا امکان کم ہے،اس پر مستزاد یہ کہ اجتماعیت میں جو قوت ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اسی لیے جب امام المحدثین وکیع بن الجراح کے سامنے کہا گیا کہ: امام صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی ہے، تو انھوں نے کہا: امام ابوحنیفہغلطی کیسے کرسکتے ہیں، جبکہ ان کے پاس ابویوسف اور زفر جیسے قیاس کے ماہر، یحییٰ بن ابوزائدہ، حفص بن غیاث، حبّان اور مندل جیسے حفاظِ حدیث اور قاسم بن معین اور امام محمد جیسے لغتِ عربیت کے جاننے والے، دواؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زاہد ومتقی حضرات ہیں اگر ابوحنیفہ غلطی کریں گے تو کیا یہ لوگ ان کی اصلاح نہ کریں گے؟ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ ص:۱۵۲)
وکیع کے اس بیان سے جہاں تدوین فقہ کی دستوری کمیٹی کے افراد کی علمی جلالتِ قدر سامنے آتی ہے اور بحث وتحقیق کا طریقِ کار معلوم ہوتا ہے، وہیں امام صاحب کے ارکانِ شوریٰ کی جامعیت اور آپ کے رفقاء کے بلند مقام کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔
بحث ومباحثہ:
مجلس شوریٰ میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تو تمام اراکین کھل کر بحث ونقد میں حصہ لیتے اورہر ایک کو احادیث وآثار اور اجماع وقیاس کی روشنی میں آزادانہ نقد وتبصرہ کا موقع دیا جاتا، مجلس کا ہر ہر فرد آزادی کے ساتھ اپنی دلیل امام صاحب کے سامنے پیش کرتا اور امام صاحب ہر ایک کی دلیل صبر وضبط سے سنتے رہتے، بسا اوقات ان کی آواز بھی بلند ہوجاتی اور دورانِ بحث بعض اراکین خود امام صاحب سے جو صدر مجلس اور سب کے استاذ بھی ہوتے، اختلاف کربیٹھتے اور یہاں تک کہہ دیتے کہ ”آپ کی فلاں دلیل غلط ہے“ بعض اجنبی لوگ امام صاحب سے کہتے کہ: آپ اتنی بے باکی سے بات کرنے والوں کو کیوں نہیں روکتے؟ تو امام صاحب فرماتے کہ: میں نے خود ان کو آزادی دی ہے اوران کو اس امر کا عادی بنایا ہے کہ کسی سے مرعوب نہ ہوں اور یہ لوگ ہر ایک کے حتی کہ میرے دلائل پر نکتہ چینی کریں تاکہ صحیح بات بالکل منقح ہوکر سامنے آجائے۔ (معجم المصنّفین،ص:۱۷۴)
بعض مرتبہ بعض اراکین امام صاحب کے سامنے ایک دوسرے کی تردید کرتے تو امام صاحب جانبین کے دلائل سن کر واضح فیصلہ فرماتے، علامہ کردری امام صاحب کے نبیرہ اسمٰعیل بن حماد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:
”ایک مرتبہ امام ابویوسف امام ابوحنیفہ کے داہنے جانب بیٹھے تھے اور امامِ زفر بائیں جانب اور دونوں ایک مسئلہ میں بحث کرنے لگے، جب امام ابویوسف کوئی دلیل پیش کرتے توامامِ زفر اس کی تردید کردیتے اور جب امام زفر کوئی دلیل پیش کرتے توامام ابویوسف اس کی تضعیف کردیتے، یہ مباحثہ ظہر تک جاری رہا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو امام ابوحنیفہ نے امامِ زفر کی ران پر ہاتھ مارکر فرمایا: زفر ایسے شہر کی سرداری کی طمع نہ کر جس میں ابویوسف رہتے ہیں اور امام ابویوسف کے حق میں فیصلہ فرمایا“ (مناقب کردری:۲/۳۹۶)
فقہ تقدیری:
فقہ حنفی کی غیرمعمولی شہرت ومقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام صاحب کی شوریٰ میں صرف پیش آمدہ واقعات وحادثات پر بحث نہیں ہوتی تھی؛بلکہ غیرپیش آمدہ واقعات کے حل کی جانب بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی؛ تاکہ جب واقعہ پیش آئے تو اس کا حل ممکن ہو اور عمل کرنا آسان ہو، امام صاحب نے شوریٰ کے توسط سے ایسے اصول مرتب کیے کہ ہر زمانے میں پیش آمدہ مسائل کا حل بآسانی دریافت کیا جاسکے، امام صاحب کے تقدیری مسائل سے شغف کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایاجاسکتا ہے جس کو خطب نے نقل کیا ہے کہ:
”نضر بن محمد کہتے ہیں کہ ابو قتادہ کوفہ آئے اور ابوبردہ کے گھر قیام کیا، ایک دن باہر نکلے تو لوگوں کی بھیڑ ان کے گرد جمع ہوگئی، قتادہ نے قسم کھاکر کہا جو شخص بھی حلال وحرام کا مسئلہ دریافت کرے گا میں ضرور اس کا جواب دوں گا، امام ابوحنیفہ کھرے ہوگئے اور فرمایا ابوالخطاب (ان کی کنیت ہے) آپ اس عورت کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ جس کا شوہر چند سال سے غائب رہا، اس نے یہ یقین کرکے کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے دوسرا نکاح کرلیا، اس کے بعد پہلا شوہر بھی آگیا، آپ اس کے مہر کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اور جو بھیڑ ان کو گھیرے کھڑی تھی ان سے مخاطب ہوکر فرمایا اگر اس مسئلہ کے جواب میں یہ کوئی حدیث روایت کریں گے تو غلط روایت کریں گے اوراگر اپنی رائے سے فتویٰ دیں گے تو وہ بھی غلط ہوگا، قتادہ بولے کیا خوب! کیا یہ واقعہ پیش آچکا ہے، امام صاحب نے فرمایانہیں، انھوں نے کہا پھر جو مسئلہ ابھی تک پیش نہیں آیا اس کا جواب مجھ سے کیوں دریافت کرتے ہو، امام صاحب نے فرمایا کہ ہم حادثہ پیش آنے سے قبل اس کے لیے تیاری کرلیتے ہیں تاکہ جب پیش آجائے تو اس سے نجات کی راہ معلوم رہے، قتادہ ناراض ہوکر بولے خدا کی قسم میں حلال وحرام کا مسئلہ تم سے بیان نہیں کروں گا، ہاں کچھ تفسیر کے متعلق پوچھنا ہوتو پوچھو! اس پر امام صاحب نے ایک تفسیری سوال کیا قتادہ اس پر بھی لاجواب ہوگئے اور ناراض ہوکر اندر تشریف لے گئے۔ (تاریخ بغداد۱۳/۳۴۷)
اس واقعہ سے امام صاحب کی ذکاوت وذہانت اور فقہ سے گہری وابستگی کے ساتھ تقدیری اور بعد میں پیش آنے والے مسائل کی طرف ان کے غایت انہماک واہتمام کا پتہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔
مجموعہ مسائل:
امام صاحب ۱۲۰ھ میں اپنے استاذ حضرت حماد کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور ۱۵۰ھ میں عالم ناسوت سے داربقا کو چلے گئے، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ امام صاحب کا شورائی نظام تقریباً تیس سال پر محیط ہے، لیکن بعض حضرات کی رائے ہے کہ ۲۲سال کی مدت میں امام صاحب نے قانونِ اسلامی اور فقہ حنفی کو مدون کیا ہے، خیر یہ مدت تیس سال ہو یا بائیس سال، اس طویل المیعاد مدت میں اس شوریٰ نے کس قدر مسائل کا استنباط کیا، اس میں بھی علماء کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ یہ تعداد بارہ لاکھ نوے ہزار ہے، شمس الائمہ کردری لکھتے ہیں کہ یہ مسائل چھ لاکھ تھے، علامہ موفق بن احمدمکی نے بھی چھ لاک کا قول نقل کیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں سے اس کی تائید ہوتی ہے؛ لیکن محققین کے رائے ہے کہ امام صاحب کی شوریٰ کے ذریعہ فیصل ہونے والا مجموعہ ۸۳ ہزار دفعات پر مشتمل تھا، جس میں ۳۸ ہزار مسائل عبادات سے متعلق تھے، باقی ۴۵ ہزار مسائل کا تعلق معاملات وعقوبات سے تھا، اورامام صاحب کو جب کوفہ سے بغداد جیل منتقل کیاگیا تب بھی تدوین فقہ کا سلسلہ جاری رہا اور امام محمد کا تعلق امام ابوحنیفہ سے یہیں قائم ہوا اوراضافہ کے بعداس دستوری خاکہ میں کل مسائل کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ (دفاع امام ابوحنیفہ،ص:۱۲۶، فتاویٰ رحیمیہ:۱/۱۳۶، سیرة النعمان،ص:۱۵۴)
ارکانِ شوریٰ:
امام اعظم نے دستور اسلامی کی مجلس تدوین میں جن جن عظیم المرتبت اشخاص کا انتخاب کیا تھا، فقہ اسلامی کے ماہرین اورامام صاحب کے تذکرہ نگاروں نے ان کی تعداد چالیس بیان کی ہے، امام طحاوی نے اپنی مسند سے نقل کیاہے کہ امام صاحب کے چالیس ممتاز اور ماہر فن تلامذہ تدوین فقہ اور کارِ اجتہاد میں ان کے شریک ومعاون تھے، اگرچہ امام طحاوی نے چند ناموں پراکتفاء کیاہے؛ لیکن بعض دیگر موٴرخین نے تمام اسماء کو شمار کرایا ہے، جو حسب ذیل ہیں:
(۱) امام زفر م ۱۵۸ھ (۲) امام مالک بن مغول م ۱۵۹ھ (۳) امام داؤد طائی م ۱۶۰ھ (۴) امام مندل بن علی م ۱۶۸ھ (۵) امام نضر بن عبدالکریم م ۱۶۹ھ (۶) امام عمرو بن میمون م ۱۷۱ھ (۷) امام حبان بن علی م ۱۷۳ھ (۸) امام ابوعصمہ م ۱۷۳ھ (۹) امام زُہیر بن معاویہ م ۱۷۳ (۱۰) امام قاسم بن معن م ۱۷۵ھ (۱۱) امام حماد بن الامام الاعظم م ۱۷۶ھ (۱۲) امام ہیاج بن بسطام م ۱۷۷ھ (۱۳) امام شریک بن عبداللہ م ۱۷۸ (۱۴) عافیہ بن یزید م ۱۸۰ھ (۱۵) امام عبداللہ بن مبارک م ۱۸۱ھ (۱۶) امام ابویوسف م ۱۸۲ھ (۱۷) امام محمد بن نوح م ۱۸۲ھ (۱۸) مام ہشیم بن بشیر السلمی م ۱۸۳ھ (۱۹) ابوسعید یحییٰ بن زکریا م ۱۸۴ھ (۲۰) امام فضیل بن عیاض م ۱۸۷ھ (۲۱) امام اسد بن عمر م ۱۸۸ھ (۲۲) امام محمد بن الحسن م ۱۸۹ھ (۲۳) امام یوسف بن خالد م ۱۸۹ھ (۲۴) امام علی بن مسہر م ۱۸۹ھ (۲۵) امام عبداللہ بن ادریس م ۱۹۲ھ (۲۶) امام فضل بن موسیٰ م ۱۹۲ھ (۲۷) امام علی بن طبیان م ۱۹۲ھ (۲۸) امام حفص بن غیاث م ۱۹۴ھ (۲۹) وکیع بن جراح م ۱۹۷ھ (۳۰) امام ہشام بن یوسف م ۱۹۷ھ (۳۱) امام یحییٰ بن سعید القطان م ۱۹۸ھ (۳۲) امام شعیب بن اسحاق م ۱۹۸ھ (۳۳) امام حفص بن عبدالرحمن م ۱۹۹ھ (۳۴) ابومطیع بلخی م ۱۹۹ھ (۳۵) امام خالد بن سلیمان م ۱۹۹ھ (۳۶) امام عبدالحمید م ۲۰۳ھ (۳۷) امام حسن بن زیاد م ۲۰۴ھ (۳۸) امام ابوعاصم النبیل م ۲۱۲ھ (۳۹) امام مکی بن ابراہیم م ۲۱۵ھ (۴۰) امام حماد بن دلیل م ۲۱۵ھ (الجواہر المضیئہ:۱/۱۴، بحوالہ امام اعظم ابوحنیفہ،ص:۱۷۸)
مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب کی ایک فقہ اکیڈمی تھی جس میں ان کے ممتاز تلامذہ ان کے معاون اور شریک کار تھے اور امام صاحب مجتہد فیہ مسائل کو اجتماعی طورپر حل کیاکرتے تھے، لیکن ان حضرات کے اسمائے گرامی اور سنین ولادت ووفات کا عمومی جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ تمام تلامذہ اکیڈمی کے قیام کے وقت سے ہی ان کے شریک کار تھے، جیسے کہ امام محمد کی سن پیدائش ۱۳۲ھ اور یحییٰ بن ابوزائدہ کی سن پیدائش ۱۲۰ھ ہے اور عبداللہ بن مبارک کی سن پیدائش ۱۱۸ھ ہے جبکہ امام صاحب کی شوریٰ ۱۲۰ھ یا ۱۲۸ھ سے قائم ہے، تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ یہ تلامذہ اسی وقت سے ان کی کمیٹی میں داخل ہوگئے تھے، اس لیے یہ کہاجاسکتا ہے کہ امام صاحب نے وقتاً فوقتاً اپنے تلامذہ کو اپنے کارِ اجتہاد میں شریک کیا تھا، آپ کے بعض تلامذہ ایسے بھی تھے کہ جب آپ کے دامن تربیت سے وابستہ ہوئے تو آپ سے جدا ہونا حرماں نصیبی تصور کیا اور تا حیات آپ کے علمی سرچشمے سے تشنگی علم کو فرو کرتے رہے، یہی تلامذہ جو درحقیقت خود بھی اجتہاد کے درجے پر فائز تھے، آپ کی اکیڈمی کے رکن رکین تھے، انھیں خادمانِ فقہ حنفی نے تقریباً تیس سال کی مدت میں فقہ حنفی کی تدوین کا عظیم الشان اور لازوال کارنامہ انجام دیا ہے، جن کی مجموعی تعداد چالیس تک پہنچتی ہے، جزاہم اللّٰہ خیر الجزاء․
امام صاحب کے مخصوص تلامذہ:
جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا کہ فقہ حنفی کی تدوین میں امام صاحب کے چالیس تلامذہ شریک تھے، لیکن ان میں بھی دس تلامذہ سابقین اولین میں سے تھے، جیساکہ طحاوی نے اسد بن فرات سے نقل کیا ہے:
”کان أصحاب أبی حنیفة الذین دونوا الکتب أربیعن رجلاً فکان فی العشرة المتقدمین أبویوسف، زفر بن ہذیل وداوٴد الطائی وأسد بن عمر ویوسف بن خالد السمتی ویحیٰ بن زکریا بن ابی زائدہ (تقدمہ نصب الرایہ ص۳۸)
امام صاحب کے تلامذہ جنھوں نے فقہ حنفی کو مدون کیا چالیس ہیں ان میں دس سابقین میں: ابویوسف، زفر بن ہذیل، داؤد طائی، اسد بن عمر، یوسف بن خالد سمتی، یحییٰ بن زکریا بن ابوزائدہ ہیں۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چالیس افراد کی دستوری کمیٹی کے علاوہ دس یا بارہ افراد پر مشتمل ایک دوسری خصوصی کمیٹی تھی، جو فیصلے کو آخری شکل دیتی تھی اور حتمی نتائج پر پہنچتی تھی، جیسا ضمیری نے امام زفر کے متعلق لکھا ہے:
”ثم انتقل الی أبی حنیفة فکان أحد العشرة الأکابر الذین دونوا الکتب مع أبی حنیفة“
پھر امام ابوحنیفہ کے پاس آئے اورامام صاحب کے ان دس لوگوں کی خصوصی کمیٹی کے رکن بنے جنھوں نے فقہ حنفی کو مدون کیا۔ (اخبار ابی حنیفہ ص۱۰۷)
اب ذیل میں انھیں سابقین فقہ حنفی میں سے بعض کے مختصر حالات قلم بند کیے جاتے ہیں:
امام ابویوسف:
آپ کااصل نام یعقوب بن ابراہیم ہے، کوفہ میں پیدا ہوئے اور ۱۸۲ھ میں وفات پائی، معاشی اعتبار سے بہت کمزور تھے، لیکن علم کا شغف بچپن ہی میں پیدا ہوگیا تھا، والد کی خواہش تھی کہ آپ کوئی کام کریں اور گھر کا انتظام کریں، لیکن امام صاحب کی صحبت فیض رسا نے مالی اعتبار سے بھی بے نیاز کردیا اور علمی دنیا میں قاضی القضاة کے مقام تک پہنچادیا، خلیفہ مہدی نے ۱۶۶ھ میں قاضی کے عہدہ پر مامور کیا، مہدی کے بعداس کے جانشیں ہادی نے بھی اسی عہدہ پر بحال رکھا، پھر خلیفہ ہارون رشید نے آپ کے لیاقت واہلیت سے واقف ہوکر تمام بلادِ اسلامیہ کا قاضی القضاة بنادیا، یہ وہ عہدہ تھا جو تاریخ اسلام میں کسی کو نصیب نہیں ہوا تھا، آپ کے عہدئہ قضاء پر فائز ہونے سے فقہ حنفی کو بڑا عروج حاصل ہوا، آپ فقہاء رائے میں اولین فقیہہ ہیں جنھوں نے اقوال کواحادیث نبویہ سے موٴید کیا، آپ اصحاب ابوحنیفہ میں سب سے بڑے حافظ حدیث کہلاتے تھے، امام ابویوسف نے بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں انھوں نے اپنے اور اپنے استاذ کے افکار ونظریات کو مدون کیا ہے، ابن الندیم نے ان تمام کتابوں کی فہرست دی ہے، ان میں کتاب الخراج، اختلاف ابن ابی لیلیٰ، الرد علی سیر الاوزاعی زیادہ مشہور ہیں۔
امام محمد:
آپ کا نام محمد بن حسن اور کنیت ابوعبداللہ ہے، آپ کی ولادت ۱۳۲ھ اور وفات ۱۸۹ھ میں ہوئی، امام صاحب کی وفات کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی، اس لیے زیادہ مدت تک امام صاحب سے استفادہ نہ کرسکے، اس لیے ان کا شمار فقہ حنفی کے اولین سابقین میں نہیں ہوتا، لیکن انھوں نے امام صاحب کے بعدامام ابویوسف سے فقہ حنفی کی تکمیل کرکے تدوین فقہ کی طرف خاص توجہ دی،اور حقیقت یہ ہے کہ فقہ حنفی کو متاخرین تک نقل کرنے کا سہرا امام محمد کے سر جاتا ہے اورآج امام محمد کی کتابیں ہی احناف کے لیے آنکھوں کا سرمہ ہیں،اور کوئی حنفی امام محمد کی کتابوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتا، یہی وجہ ہے کہ امام محمد کو فقہ حنفی کا دوسرا بازو شمار کیا جاتا ہے، امام محمد کی کتابیں فقہ حنفی کا اولین مرجع شمار کی جاتی ہیں، امام محمد کی کتابیں استناد کے اعتبار سے دو درجوں میں منقسم ہیں:
قسم اول: کتب ظاہر الروایت ہیں جو مندرجہ ذیل کتب ہیں: (۱) جامع صغیر (۲) جامع کبیر (۳) سیر صغیر (۴) سیر کبیر (۵) مبسوط (۶) زیادات، ان کو ”اصول“ بھی کہاجاتا ہے، فقہ حنفی کا زیادہ تر اعتماد انہی کتابوں پرہے۔
قسم ثانی: اس میں وہ کتابیں ہیں جو آپ کی طرف منسوب ہونے میں قسم اوّل کے برابر نہیں ہیں ان میں یہ کتابیں شامل ہیں: (۱) کیسانیات (۲) ہارونیات (۳) جرجانیات (۴) رقیات (۵) زیادات، مندرجہ بالا کتابوں کو غیر ظاہر الروایت سے تعبیر کیاجاتا ہے۔
امام زفر:
امام صاحب کے دونوں ارشد تلامذہ امام ابویوسف اورامام محمد سے صحبت کے اعتبار سے مقدم تھے، فقہ حنفی میں ان کا درجہ امام ابویوسف کے ہم پلہ اور امام محمد سے زیادہ شمار کیاجاتا ہے، امامِ زفر کے مرتبہ کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے جس کو ضمیری نے امام صاحب کے نبیرہ اسمٰعیل بن حماد کے حوالے سے نقل کیا ہے ”کہ ایکدن امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ میرے ۳۱ شاگرد ہیں ان میں ۲۸ قاضی بن سکتے ہیں اور چھ مفتی بن سکتے ہیں اور دو یعنی ابویوسف اور زفر دونوں گروہ کے استاذ اور مربی بن سکتے ہیں۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص۱۵۲)
اس واقعہ میں امام صاحب نے امامِ زفر کو اپنے اراکین شوریٰ کا استاذ قرار دیا ہے، امامِ زفر قیاس واجتہاد میں اس درجہ ماہر تھے کہ قیاس ہی ان کی شان وپہچان بن گئی، تاریخ بغداد میں چاروں بزرگوں کا تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
ایک شخص امام مزنی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اہل عراق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے امام مزنی سے کہا کہ ابوحنیفہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ مزنی نے کہا اہل عراق کے سردار ہیں، اس نے پھر پوچھا: ابویوسف کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ مزنی بولے وہ سب سے زیادہ حدیث کا اتباع کرنے والے ہیں، اسی شخص نے بھر کہا امام محمد کے بارے میں کیافرماتے ہیں مزنی فرمانے لگے وہ تفریعات میں سب سے فائق ہیں، وہ بولا اچھا تو زفر کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ امام مزنی نے کہا وہ قیاس میں سب سے ماہر ہیں“ (حیاتِ امامِ ابوحنیفہ:۳۰۳)
امام ابوحنیفہ کے بعد امامِ زفر آپ کے حلقہ درس کی جانشیں ہوئے، ان کے بعد مسند تدریس امام ابویوسف کے حصہ میں آئی، بصرہ کا عہدہ قضا بھی ان کو ملا، لیکن فقہ حنفی میں ان کی کوئی تصنیف نہیں، اس لیے عموماً امام محمد کے بعد ان کا تذکرہ کیاجاتاہے۔
قاسم بن معن:
عبداللہ بن مسعود کے خاندان سے ہیں، فقہ پر کافی عبور حاصل تھا اور عربیت وادب میں اپنی نظیر نہ رکھتے تھے، امام محمد نے اپنی کتابوں میں ان کے نام اور کنیت دونوں سے روایت کیا ہے، قاضی شریک بن عبداللہ کے بعد کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص۱۵۰)
علم حدیث میں بھی اونچا مقام حاصل تھا، صحاحِ ستہ کے مصنّفین نے ان سے روایت کی ہیں۔ امامِ ابوحنیفہ کو ان سے خاص محبت تھی، یہ بھی منجملہ ان لوگوں کے ہیں جن کی نسبت امام صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ”تم لوگ میرے دل کی تسلی اورمیرے غم کو مٹانے والے ہو“ ان کو بھی امام صاحب کے ساتھ نہایت خصوص تھا، ایک شخص نے پوچھا کہ آپ فقہ وعربیت دونوں کے امام ہیں ان دونوں علموں میں وسیع کون علم ہے؟ فرمایا کہ واللہ ابوحنیفہ کی ایک تحریر کل فن عربیت پر بھاری ہے، ۱۷۵ھ میں وفات پائی (سیرة النعمان،ص:۲۳۰)
عافیہ بن یزید:
فن حدیث میں بلند مقام پر فائز تھے، امام نسائی اور ابوداؤد وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے، بغداد کے قاضی تھے، خطیب نے لکھاہے کہ عافیہ عالم وزاہد تھے، ایک مدت تک قاضی رہے پھر قضاء سے مستعفی ہوگئے۔ (سیر اعلام النبلاء ۷/۳۹۸) امام صاحب کے مخصوص تلامذہ میں سے تھے اور آپ کے شورائی کمیٹی کے اہم رکن تھے؛ امام صاحب ان کا بہت خیال کرتے؛ بلکہ ان کی رائے کے بغیر کچھ بھی دستوری کتاب میں تحریر نہ کیاجاتا تھا، ضمیری نے اسحاق بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ
”ابوحنیفہ کے تلامذہ کسی مسئلہ میں غور وخوض کرتے اور اس وقت عافیہ نہ ہوتے توامام صاحب فرماتے اس کو ابھی مت لکھو اورجب عافیہ آتے اور سب کے رائے سے اتفاق کرتے توامام صاحب فرماتے اس کو لکھو اور اگر وہ اتفاق نہ کرتے توامام صاحب فرماتے اس کو مت لکھو۔“ (اخبار ابوحنیفہ واصحابہ،ص۱۴۹)
یحییٰ بن زکریا بن ابوزائدہ:
علامہ شبلی نعمانی نے سیرة النعمان میں امام طحاوی کے حوالے سے نقل کیاہے کہ ”امام صاحب کی شوریٰ میں لکھنے کی خدمت یحییٰ سے متعلق تھی اور وہ تیس برس تک اس خدمت کو انجام دیتے رہے، آگے علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ یہ مدت صحیح نہیں؛ لیکن کچھ شبہ نہیں کہ وہ بہت دنوں تک امام صاحب کے ساتھ تدوین فقہ کا کام کرتے رہے اور خاص کر تصنیف وتحریر کی خدمت انہی سے متعلق رہی۔“ (سیرة النعمان،ص۲۱۶)
ضمیری نے صالح بن سہیل کا قول نقل کیا ہے کہ:
”یحییٰ بن زکریا اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظ حدیث اور فقیہ تھے اور امام ابوحنیفہ اور ابن ابی لیلیٰ کی مجلسوں میں کثرت سے شریک ہوتے تھے۔“ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص:۱۵۰)
یہ امام کے ارشد تلامذہ میں تھے اورایک مدت تک آپ کے ساتھ رہے تھے، یہاں تک کہ علامہ ذہبی نے تذکرة الحفاظ میں ان کو ”صاحب ابی حنیفہ“ کا لقب دیا ہے، تہذیب التہذیب میں ابن عیینہ کا قول ہے:
”ما قدم علینا مثل ابن المبارک ویحیٰ بن ابی زائدة․
ہمارے پاس ابن مبارک اوریحییٰ بن ابی زائدہ جیسے اہل علم نہیںآ ئے۔“ (تہذیب التہذیب ۷/۳۷)
ابن ابی حاتم سے منقول ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے یحیٰ بن ابوزائدہ نے کتاب لکھی اور عجلی کہتے ہیں کہ یحییٰ مدائن کے قاضی تھے اور کوفہ کے حفاظِ محدثین میں اُن کا شمار ہوتا تھا، وکیع نے اپنی کتابوں کو یحییٰ بن ابی زائدہ کی کتاب کی ترتیب پر مرتب کیا؛ ۱۸۲ھ یا ۱۸۳ھ میں مدائن میں ان کا انتقال ہوا۔ (تہذیب التہذیب ۷/۳۸)
یوسف بن خالد سمتی:
آپ امام صاحب کی شوریٰ کے رکن تھے اور طویل مدت تک امام صاحب کی صحبت میں رہ کر آپ کے خرمن فیض سے خوشہ چینی کرتے رہے، یہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے بصرہ میں امام صاحب کی فقہ کو رائج کیا، ہارون رشید نے قاضی القضاة کا عہدہ تفویض کیا تھا، اخیر عمر میں زہد وتقشف کی زندگی بسر کی، قیاس میں بہت ماہر تھے؛ لیکن علم حدیث میں کوئی نمایاں مقام نہ تھا۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ، ص۱۵۰)
داؤد طائی:
امام ابوحنیفہ کے مشہور شاگرد ہیں اور تدوین فقہ میں امام صاحب کے شریک اورمجلس کے معزز ممبر تھے، علامہ شمس الدین ذہبی نے ”سیر اعلام النبلاء“ ۷/۴۲۲ میں ”الامام الفقیہ القدوة الزاہد“ سے ان کو یاد کیاہے، فقہ واجتہاد کے امام تھے، امام محمد نے بھی ان سے استفادہ کیاہے، خاموش مزاج اور بہت کم گو تھے، ”امام محمد کہتے ہیں: میں داؤد سے اکثر مسئلے پوچھنے جاتا اگر کوئی ضروری اور علمی مسئلہ ہوتا تو بتادیتے ورنہ کہتے بھائی مجھے اور ضروری کام ہیں۔“ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ،ص۱۱۲)
اخیر عمر میں زہد وقناعت اور دنیا سے بے رغبتی کو ترجیح دی، علامہ ضمیری ان کے زہد وتقشف کے واقعات ذکر کرتے ہوئے عمرو بن ذرکا قول نقل کرتے ہیں: ”اگر داؤد الطائی صحابہ میں ہوتے تو ان میں نمایاں ہوتے“ محارب بن دثار کہتے ہیں کہ ”اگر داؤد الطائی پچھلی امتوں میں ہوتے تو اللہ تعالیٰ قرآن میں ان کا قصہ بیان کرتا“ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں: ”جب داؤد الطائی قرآن پڑھتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جواب سن رہے ہیں“ محمد بن سوید الطائی کہتے ہیں کہ ان کی بزرگی اور فضل وکمال کا یہ عالم تھا کہ جب انھوں نے امامِ ابوحنیفہ کے حلقہٴ درس کو ترک کیا تو خود امام صاحب اکثر ان کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ ۱۶۲ھ میں انتقال ہوا۔ (اخبارابی حنیفہ واصحابہ،ص:۱۱۳ و ۱۱۶)
فقہ کے مدون اولاہل تشیع کہتے ہیں کہ فقہ کے مدون اول امام جعفر صادق ہیں، جب کہ علماء کی رائے یہ ہے کہ تدوین فقہ کا سہرا امام الائمہ ،کاشف الغمہ، سراج الامہ، حضرت نعمان بن ثابت، المعروف بہ امام اعظم ابو حنیفہ کے سر جاتا ہے اور صحیح بات یہی ہے کہ فقہ کے مدون اول امام اعظم ابو حنیفہ ہیں ،تمام فقہاء و مجتہدین نے اس کا اعتراف کیا ہے ،امام شافعی نے فرمایا کہ جوفقہ پڑھنا چاہتا ہو وہ امام اعظم ابو حنیفہ کا محتاج ہے ۔(الدا رالمختار حاشیہ ابن عابدین، مقدمہ)اور امام مالک فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو فقہ کی توفیق دی گئی ہے ۔(تاریخ الفقہ، ص:29)اسی طرح علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے علم شریعت کی تدوین کی اور اسے ابواب میں مرتب کیا ،پھر موٴطا کی ترتیب میں امام مالک نے انہیں کی پیروی کی۔ امام اعظم ابو حنیفہ سے پہلے کسی نے یہ کام نہیں کیا۔ (تبییض الصحیفة:ص19)اسی طرح مسند خوارزمی میں ہے، امام اعظم نے سب سے پہلے شریعت کی تدوین کی ،کیوں کہ صحابہ و تابعین نے علم شریعت میں ابواب فقہ کی ترتیب پر کوئی تصنیف نہیں کی ؛کیوں کہ ان کو اپنی یاد داشت پر اطمینان تھا ،لیکن امام اعظم نے صحابہ و تابعین کے بلاد اسلامیہ میں منتشر ہونے کی وجہ سے علم شریعت کو منتشر پایا اور متاخرین کے سوئے حفظ کا خیال کر کے تدوین شریعت کی ضرورت محسوس کی ،ان علماء و مجتہدین کے اقوال سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ علم شریعت کی تدوین سب سے پہلے امام اعظم ابو حنیفہ نے ہی کی ہے ۔
امام اعظم ابو حنیفہ سے پہلے ابراہیم نخعی نے اس طرف توجہ دی تھی، لیکن ان کی یہ کوشش صرف زبانی روایات پر مشتمل تھی ،فن کی حیثیت سے نہ تھی اور نہ استنباط و استدلال کے قواعد مقرر تھے ،نہ احکام کی تفریع کے اصول و ضوابط متعین تھے ،اس لیے حضرت ابراہیم نخعی کی یہ سعی قانون کے درجہ تک نہیں پہنچی تھی ،لیکن امام اعظم کی طبیعت مجتہدانہ اور ذہن غیر معمولی فطین اور حافظہ نہایت ہی قوی تھا اور اپنے زمانے کے حالات اور تجارت کی وسعت اور ملکی تعلقات میں معاملات کی ضرورتوں سے باخبر تھے ،ہر روز سینکڑوں فتاوی آتے تھے، جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ تدوین فقہ کی کس قدر ضرورت ہے ،اس لیے امام اعظم کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مسائل کے جزئیات کو اصولوں کے ساتھ ترتیب دے کر قانون کا ایک مجموعہ تیار کیا جائے، جو آنے والی تمام انسانیت کے لیے ایک دستور ثابت ہو اور جس میں تمام چیزوں کی رعایت ہو چناں چہ امام اعظم کی مجتہدانہ طبیعت نے اس فن کی تدوین و ترتیب کی طرف توجہ کی اور اس کے لیے ایک خاص فقہ اکیڈمی قائم کی، جسے دنیا کی سب سے پہلے فقہ اکیڈمی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
فقہ اکیڈمی کا قیامہجرت کا ایک سو بیسواں سال تھا کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے استاذ حضرت حماد اس دنیا سے رحلت کر گئے تھے ،اس وقت بلاد عرب و عجم میں فقہاء ومجتہدین کی کثرت تھی ،ہر فقیہ نئے مسائل میں قرآن و حدیث کو سامنے رکھ کر اپنے اجتہاد کے ذریعہ انفرادی طور پر فتاوی دیا کرتا تھا، ایسے میں امام اعظم ابو حنیفہ نے تمام مجتہدہین کے برعکس مسائل کے استنباط و اجتہاد کا یہ کام انفرادی طور پر تنہا انجام نہیں دیا، بلکہ اس کام کے لیے آپ نے حضرت عمر کی طرح شورائی طرز پر اپنے سینکڑوں تلامذہ میں سے خاص خاص تلامذہ کو، جو قرآن و حدیث ،فقہ و فتاوی،زہد و تقوی،عبادت و پرہیزگاری میں منفرد مقام رکھتے تھے، جمع کر کے ایک فقہ اکیڈمی تشکیل دی، جو فکری آزادی اور اظہار رائے میں اپنی مثال آپ تھی ،گویا فقہ اکیڈمی قائم کر کے امام اعظم ابو حنیفہ نے اس حدیث پر عمل کیا، جس میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی کہ جدید پیش آمدہ مسائل فقہاء سے معلوم کرو، کسی ایک کی بات پر مت چلو،علامہ طبری نے اپنی کتاب میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی ایسا امر پیش آئے جس میں امرو نہی منصوص نہ ملے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فقہاء و عابدین سے معلوم کرو اور کسی ایک کی بات پر مت چلو۔(طبری)
فقہ حنفی کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تنہا ایک مجتہد کی رائے اور ان کی کوششوں کا ثمرہ نہیں، بلکہ یہ ممتاز فقہاء ومجتہدین کی پوری ایک جماعت کی سالہا سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے ،علامہ موفق فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے فقہ حنفی کی تدوین کے لیے نظام شورائی رکھا اور وہ شرکائے مجلس کو چھوڑ کر تنہا اپنی رائے مسلط نہیں کرتے تھے۔ (مناقب ابی حنیفہ ج2ص133)
فقہ اکیڈمی کے چالیس فقہاءامام ابو حنیفہ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں سے متجاوزہے ؛لیکن آپ نے ان میں سے خاص خاص تلامذہ کو، جنہیں آپ بہت عزیز رکھتے تھے ،اپنی فقہ اکیڈمی میں شامل کیا ،جن کی تعداد بقول امام طحاوی چالیس تھی (بعض نے 36اور بعض 60بھی ذکر کیا ہے)
لیکن ان فقہاء کے سنین وفات اور امام صاحب سے وابستگی کو دیکھتے ہوئے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سارے حضرات شروع سے آخر تک اس کام میں شریک نہیں رہے ؛بلکہ مختلف ارکان نے مختلف ادوار میں تدوین کے اس کام میں ہاتھ بٹایا،ان میں بعض وہ تھے جنہوں نے آخری زمانے میں اس کام میں شرکت کی ،عام طور سے شرکائے مجلس کے نام ایک جگہ نہیں ملتے،مفتی عزیز الرحمن بجنوری اور ڈاکٹر محمد میاں صدیقی نے ان ناموں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے ،جس میں امام ابو یوسف، امام محمد، امام زفر،حسن بن زیاد،مالک بن معقول،داؤد طائی،مندلبن علی،نضربن عبدالکریم،عمرو بن میمون،حبان بن علی ،ابو عصمہ ،زہیر بن معاویہ ،قاسم بن معن ،حماد بن ابی حنیفہ،ہیاج بن بطام،شریک بن عبداللہ ،عافیہ بن یزید، عبداللہ بن مبارک ،نوح بن دارج ،ہشیم بن بشیر سلمی،ابو سعید یحییٰ بن زکریا،فضیل بن عیاض،اسد بن عمر ،علی بن مسہر،یوسف بن خالد التیمی ،عبد اللہ بن ادریس ،فضل بن موسی ،حفص بن غیاث ،وکیع بن الجراح ،یحییٰ بن سعید القطان ،شعیب بن اسحاق،ابو حفص بن عبد الرحمن ،ابو مطیع بلخی ،خالد بن سلیمان،عبدالحمید،ابو عاصم النبیل،مکی بن ابراہیم،حماد بن دلیل ،ہشام بن یوسف ،یحییٰ بن ابی زائدہ وغیر ہ شامل ہیں ،(بحوالہ طہارت و نماز کے مسائل)
امام اعظم نے فقہ اسلامی کے مختلف ابواب و مباحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور فقہ اکیڈمی کے قیام کے لیے نہایت کام یابی سے ان علوم کے ماہرین کو جمع کیا اور سالہاسال ان کی سر پرستی فرماتے رہے ،مشہور اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ ”امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی“کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں :فقہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہے اور قانون کے ماخذوں میں قانون کے علاوہ لغت ،صرف و نحو،تاریخ وغیرہ ہی نہیں، حیوانات ،نباتات،بلکہ کیمیا کی بھی ضرورت پڑتی ہے ،قبلہ معلوم کرنا جغرافیہ طبعی پر موقوف ہے ،نماز اور افطار اور سحری کے اوقات علم ہیئت وغیرہ کے دقیق مسائل پر مبنی ہے ،رمضان کے لیے روٴیت ہلال کو اہمیت ہے اور باد ل وغیرہ کے باعث ایک جگہ چاند نظر نہ آئے تو کتنے فاصلے سے رویت اطراف پر موٴثر ہوگی وغیرہ وغیرہ مسائل کی طرف اشارہ سے اندازہ ہوگا کہ نماز روزہ جیسے خالص عباداتی مسائل میں بھی علوم طبعیہ سے کس طرح قدم قدم پر مدد لینے کی ضرورت ہوتی ہے ،کاروبار ،تجارت ،معاہدات، آب پاشی، صرافہ ،بنک کاری وغیرہ کے سلسلے میں قانون سازی میں کتنے علوم کے ماہروں کی ضرورت ہوگی !!امام اعظم ابو حنیفہ ہر علم کے ماہروں کو ہم بزم کرنے اور اسلامی قانون کو ان سب کے تعاون سے مرتب و مدون کرنے کی کوشش میں عمر بھر لگے رہے اور بہت حد تک کام یاب ہوئے (امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی)
امام ابو حنیفہ کی اس فقہ اکیڈمی میں جو ممتاز فقہاء قرآن سنت کی روشنی میں مسائل جدیدہ کو حل کرتے تھے ان کا علمی پایہ نہایت بلندتھا، بلکہ یہ سب اپنے اپنے فن میں ماہر تھے ،ان میں حدیث کے حافظ بھی تھے ،قیاس کے ماہرین بھی ،عربی زبان پر مکمل دسترس رکھنے والے بھی تھے ،مولانا عبدالحی فرنگی محلی امام صاحب کے تلامذہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کے درس میں شریک ہو کر فیض پانے والے تلامذہ اپنے زمانے کے مجتہدین میں سے تھے ،ابو یوسف اخبار اور زبان کے ماہر تھے ،امام محمد کو فقہ ،اعراب اور بیان میں فوقیت حاصل تھی ،امام زفرقیاس میں ممتاز تھے ،حسن بن زیاد سوال اور مسائل اور مسائل کی تفریع میں بلند درجہ رکھتے تھے،عبداللہ بن مبارک اپنی اصابت رائے سے مشہور تھے ،زاہد مفسر وکیع بن الجراح اور ذکی و فطین حفص بن غیاث لوگو ں کے درمیان فیصلہ میں مہارت رکھتے تھے ،یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کا مقام احادیث کو جمع کرنے اور فروع کو محفوظ کرنے کے اعتبار سے بلند تھا۔(بحوالہ ترجمان السنة ج 1ص212)یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت وکیع بن الجراح کے سامنے کسی شخص نے کہا کہ امام اعظم نے اس مسئلہ میں غلطی کی ہے ،یہ سن کر حضرت وکیع نے کہا ابو حنیفہ کیسے غلطی کر سکتے ہیں ،جب کہ ان کے ساتھ ابو یوسف اور زفر جیسے قیاس کے ماہر،یحییٰ بن ابی زائدہ،حفص بن غیاث، حبان اور مندل جیسے حفاظ حدیث اور قاسم بن معن جیسے لغت کے جاننے والے، داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زاہد و متقی شامل ہوں ؟!اگر وہ غلطی کرتے تو کیا یہ لوگ ان کی اصلاح نہیں کریں گے؟ (معجم المصنفین ص52)
مسائل میں بحث وتحقیقامام اعظم کی قائم کردہ فقہ اکیڈمی میں ایک ایک مسئلہ پر بہت گہری نظر ڈالی جاتی اور ہر مسئلہ کو پوری تحقیق کے بعد قابل عمل قراردیا جاتا،مسائل پر بحث،تحقیق کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے علامہ الموفق لکھتے ہیں، ایک ایک مسئلہ مجلس کے تمام مجتہدین کے سامنے پیش کیا جاتا،لوگوں کے خیالات کو الٹ پلٹ کر دیکھا جاتا، اراکین مجلس کے دلائل سنے جاتے اور اپنی رائے اور دلائل سے شرکائے مجلس کو مطلع کیا جاتااور ان سے بحث وتحقیق کی جاتی،کبھی کبھی ایک ایک مسئلہ کی تحقیق میں پورا مہینہ یا اس سے بھی زیادہ مدت لگ جاتی، یہاں تک کہ مسئلہ کا کوئی ایک پہلو متعین ہو جاتااور امام اعظم ابو حنیفہ کا یہ انداز تھا کہ وہ کسی پر زور نہیں دیتے یا اپنا مسئلہ کسی پر زبردستی نہیں تھوپتے تھے، بلکہ مجلس کے تمام شرکاء کو آزادانہ مناظرہ کی دعوت دی جاتی اور رائے پیش کرنے پر شرکاء کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور مجلس کو بے تکلف بناتے ،تا کہ ادب واحترام،عقیدت ومحبت کے باعث قانون سازی کے عمل میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے،آپ کے ایک شاگرد حضرت عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں ایک مسئلہ پیش ہوا اس پر مسلسل تین دن تک بحث ومباحثہ ہوتا رہا اور اراکین اس پر غور وخوض کرتے رہے۔(مناقب الامام ابی حنیفہ)
مشہور محدث امام ا عمش مجلس کے حالات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مجلس کے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے تو حاضرین اس مسئلہ کو اس قدر گردش دیتے ہیں اور الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ بالآخر اس کا حل روشن ہو جاتا ہے ۔(مناقب امام ابو حنیفہ 3-2)
اسد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب کی مجلس میں پہلے ایک مسئلہ کے مختلف جوابات دیے جاتے، پھر جس کا جواب سب سے زیادہ محقق ہوتا آپ اس کی توثیق کرتے اور ہمت افزائی کرتے اور وہ جواب دیوان میں لکھ لیا جاتا۔(نصب الرایہ مقدمہ ج1 ص23)
سیرت ائمہ اربعہ میں ہے کہ تدوین فقہ کا طریقہ یہ تھا کہ کسی بات کا مسئلہ پیش کیا جاتا، اگر اس کے جواب میں سب لوگ متفق ہوتے تو اسی وقت قلم بند کر لیا جاتا اور نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں، کبھی کبھی عرصہ دراز تک مباحثہ چلتا رہتا ۔امام اعظم ابو حنیفہ بہت غور و تحمل کے ساتھ سب کی تقریریں سنتے اور آخر میں ایسا فیصلہ فرماتے کہ سب کو تسلیم کرناپڑتا ۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ امام اعظم کے فیصلہ کے بعد بھی لوگ اپنی اپنی رائے پر قائم رہتے ۔اس وقت تمام مختلف فیہ اقوال قلم بند کر لیے جاتے اور اس بات کا خاص التزام کیا جاتا کہ جب تک تمام حضرات شریک نہ ہوتے کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جاتا ۔تمام شرکائے مجلس حاضر ہو جاتے اور اتفاق کر لیتے تب وہ مسئلہ تحریر کیا جاتا اس طرح تیس سال کے عرصہ میں یہ عظیم الشان کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔
امام اعظم ابو حنیفہ کی مجلس اجتہاد میں بعض اہم عصری موضوعات زیر تحقیق لائے گئے ،امام اعظم ابو حنیفہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب الفرائض اور کتاب الشروط وضع کیے ،قانون بین الممالک جو تاریخ کا حصہ سمجھا جاتا تھا اس کو تاریخ سے الگ کر کے مستقل فقہی چیز قرار دیا گیا اور کتاب السیر مرتب ہوئی، جس میں صلح اور جنگ کے قوانین مدون ہوئے ،اس طرح ایک ضخیم مجموعہ قوانین تیار ہوا ،جو متعدد کتب کی شکل میں اس دور میں موجود رہا،بعد میں اسے امام محمد نے مزید منقح کر کے مدون کیا اور یہی مجموعہ فقہ حنفی کی اساسی کتب ہیں۔ (تدوین فقہ اور امام ابو حنیفہ کی خدمات)
فقہ اکیڈمی میں اجتہاد کا طریقہ کارامام اعظم ابو حنیفہ کی قائم کردہ فقہ اکیڈمی میں مسائل پر غور وخوض کرنے کا وہی طریقہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اختیار کیا تھا،بالخصوص سیدنا عبداللہ بن مسعود،سیدنا علی،قاضی شریح،ابراہیم نخعی،حماد اور دیگر ہم عصر فقہاء ومجتہدین کے فیصلوں کو کافی اہمیت دی جاتی،ڈاکٹر صحبی محمصانی اجتہاد کے طریقہ کار کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہکا اپنا قول نقل کرتے ہیں:”اگر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں مسئلہ نہ مل سکے تو اقوال صحابہ سے اخذ کرتا ہوں، جس کا قول چاہتا ہوں لے لیتا ہوں اور جس کا قول چھوڑنا چاہوں ترک کردیتا ہوں اور ان کے اقوال سے کسی دوسرے کے قول کی طرف تجاوز نہیں کرتا،لیکن جب معاملہ ابراہیم نخعی،شعبی،ابن سیرین،حسن بصری،عطا،اور سعید بن جبیر تک پہنچتا ہے تو وہ اجتہاد کرنے والے لوگ تھے،ہمیں بھی ان کی طرح اجتہاد کرنے کا حق حاصل ہے ۔”(فلسفہ التشریع فی الاسلام)اسی طرح علامہ عبد البر نے اپنے کتاب میں تحریر کیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ ہمیشہ معتبر قول کی طرف رجوع فرماتے،قول قبیح کو ترک کرتے، عوام کے معاملات میں غوروفکر اور قیاس سے کام لیتے،مگرجب قیاس سے کسی قسم کے فساد کا اندیشہ ہوتا تو لوگوں کے معاملات کا فیصلہ استحسان سے کرتے،جب اس سے بھی معاملات بگڑتے نظر آتے تو مسلمانوں کے تعامل کی طرف رجوع کرتے،جس حدیث پر محدثین کا اجماع ہوتا اس پر عمل کرتے، جب تک مناسب سمجھتے اسی پر اپنی قیاس کی بنیاد کھڑی کرتے، پھر استحسان کی طرف توجہ فرماتے،آپ احادیث میں ناسخ ومنسوخ کی تحقیق فرماتے جب کوئی حدیث مرفوع ثابت ہو جاتی تو اس پر سختی سے عمل کرتے۔(الانتقاء فی فضائل الثلاثة الفقہاء ص141)
ان اقوال سے ثابت ہوا کہ امام صاحب کی فقہ اکیڈمی میں جدید مسائل کا حل پہلے قرآن وسنت میں تلاش کیا جاتاہے؛کیوں کہ یہ دونوں اصل الاصول ہیں اور دین کا سرچشمہ ہیں، جس سے کسی عقل مند کو انکار نہیں،پھر صحابہ کے اقوال یا قضایا سے استدلال کیا جاتا، صحابہ جس بات پر متفق ہوں امام صاحب اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر صحابہ میں اختلاف پایا جائے تو علت مشترکہ کی بنیاد پر ایک صورت کو دوسری صورت پر قیاس کرتے۔
حل شدہ مسائل کی تعداد
حنفی فقہ اکیڈمی کا قیام120ھ میں ہوا اور150ھ تک قائم رہی، ان تیس سالوں کی جہد مسلسل کے بعد ایک ایسا مجموعہ تیار کیا گیا جس کی تعداد کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے مختلف اقوال ملتے ہیں،چناں چہ علامہ خوارزمینے ان کی تعداد تراسی(83)ہزار لکھی ہے، جن میں اڑتیس کا تعلق عبادات سے ہے اور باقی کا معاملات سے،جب کہ بعض حضرات نے چھ لاکھ اور بعض نے بارہ لاکھ سے بھی زیادہ ذکر کیا ہے، مشہور محقق مولانا مناظر احسن گیلانی کا خیال ہے کہ اس تعداد میں ان مسائل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو امام اعظم کے مقرر کردہ اصول و کلیات کی روشنی میں مستنبط کیے گئے تھے (قاموس الفقہ ج1ص360)اگر تراسی ہزار کو ہی مان لیا جائے تو یہ تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔
بہر حال فقہ حنفی دنیا کی وہ عظیم فقہ ہے جس کی ترتیب وتدوین میں پوری ایک جماعت کا حصہ ہے اور وہ صیقل شدہ ہے ،یعنی حکومت اور کار قضاء اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے پیش آمدہ مسائل کا حل اس نے پیش کیا ہے اور لوگوں کو جو مختلف طرح کے معاملات پیش آتے ہیں ان میں راہ نمائی کی ہے، تیرہ صدیوں سے وہ تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن ہو چکی ہے، اس لیے بلاخوف تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی مذہب اور مسلک تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن ہوا ہے اور مضبوط شورائی نظام کے ذریعہ اس کی ترتیب عمل میں آئیہے تو وہ صرف فقہ حنفی ہے ،وہ اب تک زندہ اور پایندہ ہے،دوسری خاص بات یہ بھی ہے کہ امام ابو یوسف،امام محمد اور امام زفراگرچہ خود اپنی جگہ مجتہد مطلق تھے، لیکن ان کے اقوال امام اعظم ابو حنیفہ کے اقوال کے ساتھ ہی کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں، لہٰذا یہ سب مل ملا کر فقہ حنفی ہو گئے ہیں۔جس کی وجہ سے فقہ حنفی کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔
فقہ حنفی کی چار امتیازی خصوصیات
(اتحاد اہل سنت کے زیر اہتمام حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کے حوالہ سے ایک سیمینار سے خطاب)
اتحادِ اہل سنت پاکستان شکریہ کی مستحق ہے کہ وقتاً فوقتاً حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کی یاد میں ایسی محافل کا انعقاد کرتی رہتی ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے اس عظیم محسن کو ایک بار پھر یاد کر لیتے ہیں جو ماضی میں تو ہمارا محسن تھا ہی، ہمارا مستقبل بھی اسی کے انتظار میں ہے۔ گزشتہ بارہ سو سال سے تو اس نے علم و حکمت کی دنیا میں حکمرانی کی ہے، لیکن مستقبل کا فکری تناظر اور علمی تناظر بھی اسی کی طرف دیکھ رہا ہے کہ آنے والے دور کے تقاضے اور آنے والے دور کی ضروریات اسی راستے سے پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں جس راستے سے امام ابو حنیفہؒ نے اس کام کا آغاز کیا تھا۔ ان کا کام جاری ہے اور جاری رہے گا۔ ان کے خدام ہر دور میں علم کی، دین کی اور فقہ کی خدمت کرتے آرہے ہیں، آج بھی کر رہے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک کرتے رہیں گے۔ مجھے آج گفتگو کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ فقہ حنفی کی امتیازی خصوصیات پر میں نے کچھ باتیں آپ سے کہنی ہیں۔ لمبی گفتگو کا موقع نہیں ہے اس لیے مختصرًا کچھ عرض کروں گا۔
عالم اسلام کی پہلی مدون فقہ
فقہ حنفی کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باقاعدہ فقہ ہے۔ امام صاحبؒ سے پہلے بھی تفقہ کے مختلف دائرے رہے ہیں لیکن اس تفقہ کی بنیاد پر کسی باقاعدہ فقہ کی تشکیل سب سے پہلے امام صاحبؒ نے کی۔ فقہ حنفی کی اولین امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باضابطہ مدون فقہ ہے۔ اس کا اعتراف مؤرخین و محدثین نے کسی تأمل کے بغیر کیا ہے۔ ہمارے علمی ماضی کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے امتیازات کا اور ایک دوسرے کی خصوصیات کا اعتراف کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا گیا۔ امام جلال الدین سیوطیؒ شافعی مسلک کے بزرگ ہیں اور بڑے پکے شافعی ہیں لیکن امام اعظم ابو حنیفہؒ کی عظمت کے اعتراف میں انہوں نے کتاب لکھی ہے جس میں اعتراف کیا ہے کہ أول من دوّن الفقہ و رتب أبوابہ سب سے پہلا وہ شخص جس نے فقہ کو مدون کیا ہے اور جس نے فقہ کے ابواب مرتب کیے ہیں اور جس نے ابواب کے لحاظ سے فقہ مرتب کی ہے وہ شخص ابو حنیفہ نعمان ابن ثابتؒ ہے۔
اس عمل کو ہم فقہ بھی کہتے ہیں، تفقہ بھی کہتے ہیں اور تدوینِ فقہ بھی کہتے ہیں لیکن آج کی اصطلاح میں اسے قانون سازی کہا جاتا ہے۔ قانون سازی کسے کہتے ہیں؟ جسے ابتدائی دور میں ’’فقۂ فرضی‘‘ کہا جاتا تھا اور جس سے بہت سے اہل علم نے بعض تحفظات کے باعث گریز کیا۔ ایسے اہل علم صحابہ کرامؓ میں بھی تھے اور تابعین میں بھی جن کو فقۂ فرضی سے تحفظات تھے اور وہ کہا کرتے تھے کہ جب تک کوئی مسئلہ پیش نہ آئے اس کے بارے میں تردد اور تحقیق مت کرو۔ جب کوئی معاملہ پیش آجائے تو پھر اس کے بارے میں جستجو کرو۔ لیکن تحفظات کا دائرہ الگ ہوتا ہے اور ضروریات کا دائرہ الگ ہوتا ہے۔ تحفظات کی دنیا یہ ہوتی ہے کہ اس کام سے بھی بچنا چاہیے، اس کام سے گریز کرنا چاہیے، فلاں معاملے میں بھی نہیں پڑنا چاہیے وغیرہ۔ لیکن جب ضروریات پیش آتی ہیں تو ان کا دائرہ اس سے مختلف ہوتا ہے کہ فلاں ضرورت بھی پوری کرنی ہے اور فلاں ضرورت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا ہے۔ لطف کی بات ہے کہ تحفظات اور ضروریات کے درمیان ہر زمانے میں کشمکش رہی ہے۔ یہ کشمکش تابعین کے زمانے سے شروع ہوئی ہے، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ تحفظات اور ضروریات دونوں لازمی ہیں۔ میں تحفظات اور ضروریات کو گاڑی کے دو پہیوں سے تعبیر کیا کرتا ہوں کہ تحفظات کا دائرہ بھی چھوڑا نہیں جا سکتا اور ضروریات کے دائرے سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کا نام علم الفقہ ہے۔ جس طرح گاڑی کے پہیوں کی وہیل بیلسنگ کی جاتی ہے، معائنہ کر کے ان کے درمیان توازن قائم رکھا جاتا ہے کہ اگر ان کے درمیان یہ بیلنس نہ ہو تو گاڑی کسی ایک طرف کو لڑھکنے لگتی ہے۔
میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ امام ابو حنیفہؒ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے فقہ فرضی کی طرف، یا قانون سازی کی طرف ، یا اس وقت تک پیش نہ آنے والے مسائل کے پیشگی حل کی طرف ایک ادارے کی شکل میں پیش رفت کی اور دنیا کو بتایا کہ یہ امت کی ضرورت ہے اور ضروریات کو زیادہ دیر تک روکا نہیں جا سکتا۔ امام صاحبؒ نے ایسی پیش رفت کی کہ آج تک عالم اسلام کے فقہ و قانون کی بنیاد اسی پیش رفت پر ہے۔ آج بھی قانون سازی کے لیے جب ضرورت پیش آتی ہے تو ابتداء وہیں سے ہوتی ہے کہ اس معاملے میں زیرو پوائنٹ امام ابوحنیفہؒ کی فقہ ہے۔ یہ فقہ حنفی کا امتیاز ہے کہ قانون سازی کا آغاز فقہ حنفی نے کیا اور دستور سازی کا آغاز بھی فقہ حنفی نے کیا۔ قانون سازی یہ کہ امام ابو حنیفہؒ کی مجلس میں پینتیس سے چالیس کے قریب علماء بیٹھتے تھے جو اپنے اپنے فن کے ماہرین تھے۔ وہ مسائل پر بحث کرتے تھے جس میں اختلاف بھی ہوتا تھا، اتفاق بھی ہوتا تھا اور نتیجے میں ایک قانون تشکیل پاتا تھا۔ لیکن دستور سازی کا آغاز کہاں سے ہوا؟ پہلا باقاعدہ تحریری دستور ہارون الرشید کے کہنے پر امام ابو یوسفؒ نے تحریر کیا۔ حکومتِ وقت نے ، امیر المؤمنین ہارون الرشید نے قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس امام ابو یوسفؒ س
No comments:
Post a Comment