Wednesday, 1 December 2021

بریلوی الزام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو ہر کس و ناکس زید و عمر و بکر بلکہ مجنون پاگلوں جانوروں کے علم سے تشبیہ دی


الجواب:
اس میں گستاخی کیا ہے ہمارا یہ سوال بریلویوں سے ہے۔
وہ جواب میں لکھتے ہیں :
تھانوی صاحب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو ہر کس و ناکس زید و عمر و بکر بلکہ مجنون پاگلوں جانوروں کے علم سے تشبیہ دی یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو ان کے مساوی بتایا اور اس پر فریقین کااتفاق ہے کہ ان دونوں باتوں میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی توہین اور تحقیر ہے۔
(مسئلہ تکفیر اور امام احمد رضا ص34)
خلاصۃ الکلام یہ ہوا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھٹیا تشبیہ دینا یا آپ کے علم کو گھٹیا چیزوں کے برابر کہنا توہین و گستاخی ہے۔اب ہم سے سنیئے! حضرت حکیم الامت کی عبارت میں نہ تو آپ علیہ السلام کے علم مبارک کو جانوروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور نہ ہی ان کے برابر کیا گیا ہے۔
آئیے! بریلویوں کے جید عالم مفتی خلیل احمد خان قادری برکاتی کی سنیئے وہ اسی عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جناب ابھی تک آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ اس عبارت میں آپ کے نزدیک تشبیہ ہے یعنی معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو ان مذکورہ اشیاء کے علم کے ساتھ تشبیہ ہے یا برابر ی (کیونکہ ابھی گزر چکا ہے کہ بریلوی کہتے ہیں یا تشبیہ ہے یا برابری )
فاضل بریلوی نے تو برابری کے معنی متعین کیے ہیں۔ چنانچہ اس کا ترجمہ عربی میں مثل کے ساتھ کیاہے۔
مگر جناب کو ان کے بیان کئے ہوئے معنی میں تردد ہے جب ہی تو یہ کہ رہے ہیں۔ کہ تشبیہ دی یا برابر کر دیا۔ نعوذباللہ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولوی اشرف علی صاحب کی عبارت میں نہ تشبیہ ہے نہ برابری لفظ ایسا نہ تشبیہ کے لیے متعین ہے نہ برابری کے لیے یہ فاضل بریلوی کی خوبی فہم ہے کہ اپنی رائے سے مقرر کر کے اس پر احکام کفر لگا دیئے۔
سنیئے!اہل زبان ہندوستان کے یہاں لفظ ایسا ہر جگہ تشبیہ کے لیے ہی نہیں بولا جاتا ہے ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ زید نے ایسا گھوڑا خریدا ہے۔ جو اس کو پسند آیا یا زید نے ایسا کام کیا جس سے سب لوگ خوش ہو گئے۔ کہیے کہاں دونوں مثالوں میں لفظ ایسے کے معنی تشبیہ یا برابری کے لیے کب ہوئے پھر چند سطور کے بعد لکھتے ہیں:
اگر مولوی شریف الحق صاحب کے بقول تشبیہ ہے تو تشبیہ میں مشبہ و مشبہ بہ میں برابری کیا لازم ہے اہل فن کا مقررہ قاعدہ ہے کہ مشبہ بہ مشبہ سے اقوی ہوتا ہے۔ خلیفہ معتمد باللہ کی مدح میں جو اس مداح حسان مصیصی شاعر اندلس نے کہا تھا۔
کان ابوبکر ابو بکر الرضی
و حسان حسان و انت محمد
یعنی اے محمد وح تیراوزیر ابوبکر ابن زیدون ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مانند ہے اور تیرا مداح شاعر حسان مصیصی حسان بن ثابت مداح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانند ہے اور تو خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مانند ہے۔
اس پر بعض شارحین شفا نے کہا تھا کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر معتمد باللہ کو حسان شاعر نے کہ دیا ہے اس پر علامہ خفا جی نے شرح شفا میں اور علامہ علی قاری نے اپنی شرح شفا میں اعتراض فرمایا اور تشبیہ کی بناء پر دعویٰ برابری کو خلاف قاعدہ مقررہ اہل فن قرار دیا۔
علامہ خفا جی نے نسیم الریاض میں فرمایا کہ ان شارحین کے کلام کو نہ ذکر کرنا ہی بہتر ہے۔ علامہ علی قاری نے فرمایا یعنی اس شعر حسان مصیصی پر شارحین نے مصنف کی تبعیت میں طویل کلام کیا ہے لیکن کلام اشکال سے خالی نہیں اس لیے کہ تشبیہ سے مشبہ بہ کے ساتھ کمال میں برابری لازم نہیں آتی بلکہ قاعدہ مقرر ہے کہ مشبہ بہ اقوی ہوتا ہے۔ سارے حالات میں۔ الخ…………
اس میں تصریح ہے کہ تشبیہ میں برابری نہیں ہوتی اگر کسی اعلیٰ درجہ کی چیز کو کسی ادنیٰ درجہ کی چیز سے بغرض سمجھانے مخاطب کو تشبیہ دے دی جائے تو اس کو توہین و تنقیص نہیں کہا جا سکتا۔
صحیح بخاری شریف میں حدیث موجود تھی:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ آپ پر وحی کس طور سے آتی ہے۔ تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی کبھی مجھ پر وحی مثل گھنٹہ کے آواز کے آتی ہے۔
غور کیجئے کہ اس حدیث شریف میں وحی الٰہی کے نزول کو گھنٹہ کی آواز کے مثل فرمایا یعنی گھنٹہ کی آواز سے تشبیہ دی ہے حالانکہ گھنٹہ کی آواز کو حدیث شریف میں شیطانی آواز فرما یا گیا ہے۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ:
جس قافلہ میں گھنٹہ ہوتا ہے اس قافلے میں رحمت کے فرشتے نازل نہیں ہوتے کیا معاذ اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے توہین وحی فرمائی؟
(انکشاف حق ص128تا 130)
پھر آگے لکھتے ہیں : جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کی پیدائش اور تمام عالم کی بقا کا سبب مان رکھا ہے اور تمام علوم عالیہ شریفہ لوازم نبوت کا جامع مان رہا ہے۔کیا معاذ اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم مبارک کی برابری زید عمر و مجانیں۔ و بہائم و حیوانات کے علم سے کرے گا۔
افسوس عقل و انصاف کو ترک کردینا اور اپنی انفرادی رائے کو تمام اہل علم کی رائے پر ترجیح دے دینا جبکہ مصنف خود اپنی عبارت کے لیے اس مضمون کا انکار صریح کر رہا ہے اور دوسرے اہل علم بھی اس خبیث مضمون کو اس عبارت کے لیے نہیں مانتے اس پر بھی وہی کہنا دین و دیانت کے خلاف نہیں تو اور کیا ہے۔
(انکشاف حق ص131)
قارئین ذی وقار! مفتی خلیل احمد صاحب قادری برکاتی نے صاف کہہ دیا ہے کہ اس عبارت میں حکیم الامت نے نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک علم کو چوپاؤں کے برابر کہا ہے اور نہ ہی تشبیہ دی ہے۔
اور ہم بھی یہی کہتے ہیں اور یہی بات حکیم الامت نے بھی ارشاد فرمائی کہ لفظ ایسا مطلق بیان کے لیے بھی آتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اللہ ایسا قادر ہے اب یہاں نہ تشبیہ ہے اور نہ برابری۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ گفتگو حکیم الامت رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم مبارکہ کے متعلق نہیں کر رہے بلکہ وہ تو لفظ عالم الغیب پر گفتگو کر رہے ہیں کہ اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوعالم الغیب بعض علم کی وجہ سے کہا جاتا ہے تو پھر تو ہر ایک کو کہنا چاہیے کیونکہ ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ معلومات ہوتی ہے جو کہ بعض علم کہلاتی ہے۔ آخری جملہ جو فاضل بریلوی نے اڑا دیا اس سے یہ بات مفہوم ہو رہی تھی وہ ٹکڑا یہ ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہوتی ہے اگر ٹکڑا لکھ دیا جاتا تو ہر آدمی اس ٹکڑے کو دیکھ کر بات سمجھ لیتا ہے کہ لفظ ’’ایسا علم ‘‘سے نبی پاک علیہ السلام کے علم مبارک کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اس آخری ٹکڑے والے علم کی طرف اشارہ ہے۔ مگر فاضل بریلوی تو 
اور دوسری خیانت فاضل نے یہ کی کہ ایک ٹکڑا اور عبارت کا آخر سے اُڑا دیا جو یہ تھا کہ تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے تاکہ لوگوں کا دماغ اس طرف نہ جائے کہ بات اس پر ہو رہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو عالم الغیب کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اب ٹکڑا اُڑانے سے لوگوں کو دھوکہ دیا کہ بات آپ علیہ السلام کے علم مبارک کی ہو رہی ہے۔ القصہ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے مشورہ دیا کہ بے دین لوگ آپ کی تحریر کی وجہ سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں عبارت اگرچہ ٹھیک ہے مگر اس کو بدل دیا جائے تو کیا حرج ہے۔تو آپ نے اس مشورہ کو قبول کر کے عبارت کو بدل دیا، اب عبارت یوں ہے:
اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کیا تخصیص مطلق بعض علوم تو غیر انبیاء کو بھی حاصل ہیں تو چاہیے سب کو عالم الغیب کہا جاوے۔
(تغیر العنوان ص13)
مگر بریلویت وہیں کھڑی ہے۔اب بریلویت کے گھر میں چلتے ہیں۔ انہوں نے لفظ ایسا سے دو الزام لگائے۔
1۔ تھانو ی صاحب نے آپ کے علم مبارک کو جانوروں کے علم سے تشبیہ دی۔
2۔ ان کے برابر علم کہا اب ہم بھی بریلوی لوگوں کے گھر سے ایسے الفاظ لاتے ہیں اور پھر دنیا کے غیر جاندار اور سمجھ دار لوگوں کو دعوت فکر دیں گے کہ اگر ہمارے لیے یہ اصول ہے تو ا ن کے لیے کیوں نہیں۔
1۔ مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں :
کسی کو الو گدھا کہہ دو تو وہ رنجیدہ ہوجاتا ہے اور حضرت قبلہ و کعبہ کہہ دو تو خوش ہوتا ہے حالانکہ الو گدھا بھی مخلوق ہیں اور قبلہ و کعبہ بھی ایسے ہی خالق کے مختلف ناموں میں مختلف تاثیریں ہیں۔
(اسرار الاحکام ص52)
اب دیکھیے لفظ ”ایسے ہی “کووہ کہہ رہے ہیں جیسے کسی کو الو گدھا کہہ دیا جائے تو اثر پڑتا ہے ایسے ہی خدا کے ناموں سے دم وغیرہ کرنے میں بھی اثر ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے اثر میں خدا کے نام اور اُلو گدھا کے ناموں کو برابر نہیں کیا اور کیا ایسی گھٹیا چیز سے تشبیہ دے کر ان کا ایمان باقی رہا۔مگر بریلویت کو سا نپ سونگھ جائے جو اس عبارت کا جواب دینے کی کوشش کریں۔
2۔ یہی مفتی صاحب اور جگہ لکھتے ہیں :
انبیاء نے اپنے آپ کو ظالم ضال خطاوار وغیرہ فرمایا ہے اگر ہم یہ لفظ ان کی شان میں بولیں تو کافر ہو جائیں ایسے ہی حضور سے فرمایا گیا اپنے کو بشر کہو۔
 (نور العرفان ص802، کتب خانہ نعیمی لاہور)
تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں مفتی احمد یار نعیمی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کو ظلم اور گمراہی کے برابر کہا ہے یا اس سے تشبیہ دی ہے؟جو فتویٰ حکیم الامت حضرت تھانوی پر لگاتے ہو وہ مفتی احمد یار نعیمی پر بھی لگاؤ۔
3۔ یہی مفتی اور جگہ لکھتے ہیں:
جب لاٹھی سانپ کی شکل میں ہو گی تو کھائے گی پیئے گی مگر ہو گی لاٹھی یہ کھانا پینا اس کی اس شکل کااثر ہو گا ایسے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نور ہیں جب بشری لباس میں آئے تو نوری بشر تھے۔یہ کھانا پینا نکاح وفات اسی بشریت کے احکام ہیں۔
(نور العرفان ص805 کتب خانہ نعیمی لاہور)
کیوں شریف الحق امجدی صاحب ! یہاں بھی لفظ ایسے آیا ہوا ہے تو کیا آپ کے اصول سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کوسانپ سے تشبیہ نہیں دی جا رہی کیا یہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت مبارک کو سانپ کے برابر نہیں کہا جا رہا؟ یہاں آپ خاموش کیوں ہیں کیا وہ فتوے اور اصول ہمارے لیے ہی ہیں یا یہاں بھی کچھ توجہ فرمائیں گے۔
اور یہ بات گزر چکی ہے کہ حفظ الایمان کی عبارت پر سب سے پہلے مناظرہ مولوی احمد رضا اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے مابین ہوا۔ جس میں بڑی ذلت سے فاضل بریلوی کو دو چار ہونا پڑا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے انوار مظہریہ ص292
اس وقت حضرت مولانا منظور احمد نعمانی صاحب نے حامد رضا کے اعلان پر کہ اگر یہ ہمارے متعلق ہوتی تو ہم اس پر عدالت میں درخواست دائر کرتے اور ہتک عزت کا پرچہ ان پر کروایا جاتا۔یہی عبارت حامد رضا خان کے نام سے لے کر اپنے رسالے میں چھاپ دی مگر بریلویت کو سانپ سونگھ گیا۔ آج بھی کوئی بریلوی اپنی ضد پر اڑا رہے تو اس کے نام سے یہ عبارت لکھ سکتے ہیں۔
4- مولوی اشرف سیالوی لکھتے ہیں:
وہاں سب لوگوں نے اللہ رب العزت کے سوال الست بربکم کے جواب میں بلی کہا تھا لیکن یہاں کوئی شداد کوئی فرعون کوئی ہامان اور ابولہب بن گئے اس کی وجہ یہی ہے کہ عالم ارواح و عالم اجساد کا معاملہ مختلف ہے اسی طرح نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم عالم ارواح میں ملائکہ و انبیاء کے نبی تھے لیکن یہاں نہ کوئی ملک نہ نبی پھر آپ نبی کس کے تھے۔
(نبوت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ص62)
بریلوی حضرات سے ہمارا سوال یہ ہے کہ یہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تمثیل فرعون و ہامان سے نہیں دی جا رہی؟ اس عبارت پررتوخود بریلوی مسلک کے لوگ بھی کہہ اُٹھے:
آپ نے بڑی دیدہ دلیری سے اوربے باکی سے سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے عالم ارواح میں نبی ہونے اور بقول آپ کے عالم اجساد میں تقریباً 40 سال تک نبی نہ ہونے کا موازنہ حکم خداوندی کے مطابق جانوروں سے بھی بدتر کفار بلکہ کفار کے سرداروں کے کفر سے کر دیا۔
(نبوت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہر آن لحظہ ص 62، 63)
اس تشبیہ و برابری پر کیابریلوی علماء نے اس کو کافر کہا؟ اگر نہیں تو کیوں؟
5- فاضل بریلوی سے ایک سوال ہوا کہ ایک عالم نے اپنے وعظ میں کہا۔’’اے مسلمانوں آپ لوگوں کو سمجھانے کے لیے ایک مثال دیتا ہوں اس کے بعد آپ لوگ خیال کریں کہ قوت ایمانی میں کہا ں تک ضعف ہو گیا ہے۔ دیکھو کسی حاکم کا چپراسی سمن لے کر آتا ہے۔ تو اس کا کس کا قدر خوف ہوتا ہے۔ حالانکہ حاکم ایک بندہ مثل وشما سمن آدھے پیسے کا کاغذ جس میں معمولی مضمون ہوتا ہے۔ چپراسی 5،6 ر وپے کا ملازم ہوتا ہے۔ مگر حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کے خوف کے مارے لوگ روپوش ہو جاتے ہیں لاچاری سے لینا ہی پڑتا ہے بعد ہ وکیل کی تلاش اور روپے کا صرف کرنا کذا وکذا اور اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین کہ وہم بھر میں تہہ و بالا کر سکتا ہے۔ اس کا حکم نامہ قرآن پاک و مقدس کہ جس کے ایک ایک حرف پر دس بیس تیس نیکی کا وعدہ ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے۔الخ………
الجواب: حاش للہ اس میں نہ تشبیہ ہے نہ تمثیل نہ اصلا معاذ اللہ توہین کی بو۔
(فتاویٰ رضویہ ج15، ص150)
اب دیکھیے مولوی واعظ صاحب کہہ بھی رہے ہیں کہ ایک مثال دیتا ہو اور اس میں اس نے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال چراسی سے دی ہے۔ مگر فاضل بریلوی نے چونکہ اپنا آدمی تھا اس لیے یہ کہہ دیا کہ کوئی تشبیہ و تمثیل نہیں حالانکہ وہ کہہ رہا ہے کہ میں مثال دیتا ہوں۔ اس آدمی نے تمثیل مانی بھی ہے مگر نہ اس مثال میں چپراسی سے آپ علیہ السلام کی برابری تسلیم کی جاتی ہے۔اور نہ تشبیہ۔
تو ہم بھی یہی کہتے ہیں ہماری مثال میں اس قسم کی گفتگو نہیں۔ اگر یہ گستاخی نہیں تو پھر ہماری کیوں ہے۔کیا اسی وجہ سے ہے کہ ہم نےدین خالص لوگوں کو سنایا جس سے تمہیں تکلیف ہوئی۔
اصل میں توہین اور گستاخی بریلویت میں بہت ہے مگر چور بھی کہے چور چور کا اصول اپناکر انہوں نے اپنی گستاخانہ عبارات اور توہین پر عشق و محبت کے مدعی ہونے کی چادر اوڑھ رکھی ہے اور علماء کرام اس فرقہ کی کتب کو جاہل و مجہول سمجھ کر پڑھتے نہیں اور جو بریلویت کو پڑھتا نہیں وہ ان کی گستاخیوں پر مطلع کیسے ہو گا۔
اس لیے علماء کرام سے گزارش ہے کہ ان کی کتب کو پڑھیں اور پھر فیصلہ فرمائیں کہ یہ لوگ گستاخ ہیں یا عاشق۔
ایک اور طرز سے :
بریلوی اس حفظ الایمان کی عبارت پر اعتراض کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علم مبارک کو تشبیہ دی گئی ہےجانوروں کے علم کے ساتھ تو یہ بات برابری کو لازم کرنے والی ہے۔ یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علم مبارک کو جانوروں کے علم سے تشبیہ دینے کی وجہ سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا علم مبارک جانوروں کے علم کے برابر ہے۔ تو جواباً عرض یہ ہے کہ ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی اور خلیل احمد رانا جیسے بریلوی اسکالر کا عقیدہ و نظریہ تو یہ ہے کہ :
مشابہت سے مساوات بھی لازم نہیں آتی چہ جائے کہ مشبّہ کی برتری کا قول کیا جائے۔
(افضیلت غوث اعظم دلائل و شواہد ص86)
تو معلوم ہو گیا کہ فاضل بریلوی نے بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ جو کہ قابل معافی جرم نہیں اور یہی جرم اس کے ایمان کو کھا گیا کہ وہ خود اپنے فتویٰ کفرمیں بری طرح پھنس گیا جیساکہ آپ اجمالی نظر میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔
مفتی عبدالمجید خان سعیدی لکھتے ہیں :مثال محض تفہیم کے لیے ہوتی ہے مساوات کے لیے نہیں۔
(کنزالایمان پر اعتراضات کا آپریشن ص186)
مفتی حنیف قریشی کہتے ہیں :
تشبیہ اور استعارہ سے مشبہ و مشبہ بہ کی برابری سمجھنا پرلے درجے کی حماقت و جہالت ہے۔
(ص 539، روئیداد مناظرہ گستاخ کون)
مولوی ابوکلیم محمد صدیق فانی لکھتے ہیں:
مثال کے بیان سے مقصد کسی بات کو عام فہم انداز میں بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ جس چیز کے لیے مثال دی جا رہی ہے۔ مثال اس کا عین ہے اور ہوبہواس پر صادق آتی ہے۔ محدث حافظ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں :
انہ لا یلزم تشبیہ الشی ء بالشیء مساواتہ لہ
۔المنار المنیف ص60 طبع بیروت (یعنی کسی شے کو کسی سے تشبیہ دی جائے تو یہ لازم نہیں آتا کہ یہ شے اس کے برابر ہے)
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : تشبیہ اور استعارہ سے مشبہ اور مشبہ بہ سے برابری سمجھنا پرلے درجے کی حماقت (بے وقوفی ) ہے۔
(آئینہ اہلسنت ص 390)
مولوی اشرف سیالوی لکھتے ہیں :
مثال میں صرف وجہ تمثیل کا لحاظ ہوتا ہے جملہ امور میں اشتراک نہیں ہوتا۔
(حاشیہ مناظرہ جھنگ ص52)
بلکہ مولانا لکھنوی نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ کبھی تشبیہ ناقص کے ساتھ مجرد تفہیم کے واسطے ہوتی ہے۔
(مجموعہ فتاوی اردو ج1ص20)
ایک اور طرز سے بریلوی عالم کا اعتراض :
بریلوی علامہ سردار احمد فیصل آبادی لکھتے ہیں :
اس ناپاک عبارت میں حضور پرنور شافع یوم النشور کے علم شریف کو بچوں، پاگلوں، جانوروں چارپاؤں کے علم سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس میں حضور علیہ اصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں صریح توہین اور کھلی گستاخی ہے۔
(دیوبندی سے لاجواب سوالات ص 183،184)
یعنی گھٹیا اشیاء کے ساتھ تشبیہ دینا گستاخی و توہین و کفر ہے۔جیسا کہ جید بریلوی عالم اور بریلویوں کے حکیم الامت مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں :
آپ کی شان میں ہلکی مثالیں دینا کفر ہے۔
(ملخصاًنور العرفان ص 345)
اب آئیے دوسری طرف:
ہم پہلے بھی چند مثالیں لکھ آئے ہیں کچھ اور بھی عرض کر دیتے ہیں : بریلویت ملت کے قائد مولوی اشرف سیالوی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی مثال کافروں سے دیتے ہیں اور ان کی اس بات پر بریلوی علماء بھی بہت نالاں ہوتے ہیں۔
مثلاً مفتی عبدالمجید خان سعیدی لکھتے ہیں :
مصنف تحقیقات نے جو حدیث لا یقاس بنا احدسے انحراف کرتے ہوئے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت والا معاملہ کافروں، مشرکوں اور منافقوں سے ملا کر جس سوئے ادبی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس پر مستزاد ہے حالانکہ نبوت جب سلب سے پاک ہے اور سلب نبوت محال ہے تو اسے غیر نبی اور وہ کافر، مشرک اور منافق کے کفر و شرک اور نفاق سے ملا دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سلب نبوت کے قائل نہ ہوتے تو یہ بات کبھی منہ سے نہ نکالتے اور گندی تشبیہ سے پرہیز کرتے۔
(سندیلوی کا چیلنج منظور ہے ص 34)
مولوی اشرف سیالوی لکھتے ہیں :
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس بشری نسبتاً کثیف تھا اس لیے اس کثافت کو باربار کے شق صدر اور چلہ کشی وغیرہ کے ذریعے جب لطیف کر دیا گیا تب آپ کو یہ منصب سونپا گیا اس حقیقت کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دوپہر کے سورج کے آگے سیاہی مائل اور دبیز تہہ والا بادل۔
(ملخصاً تحقیقات ص204)
اس پر تبصرہ کر کے سعیدی صاحب لکھتے ہیں :
مصنف تحقیقات نے حضور کے چالیس سال کی عمر شریف تک بالقوہ بمعنی صلاحیت و استعداد نبی ہونے سے بھی صاف انکار کیا ہے اور آپکی بشریت مقدسہ و مطہرہ منورہ از کی و اطیب کو کثیف قرار دے کر اسے موٹی تہہ والے سیاہ بادل سے تشبیہ دی ہے جو سخت سوء ادبی ہے۔
(سندیلوی کا چیلنج منظور ہے۔ 47)
مفتی احمد یار نعیمی کو بھی دیکھیے اورا س کی دلیری کو بھی مدنظر رکھیے کہ ام البشر سیدہ حواء علیہا السلام کے متعلق کیا تشبیہ دیتا ہے، کہتا ہے:
حضرت حوا کو حضرت آدم کے جسم سے بغیر نطفہ بنایا دیکھو انسان کے جسم سے بہت سے کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں مگر وہ اس کی اولاد نہیں کہلاتے۔
(نور العرفان ص 93، النساء آیت نمبر 1)
ایک جگہ یوں لکھتے ہیں:
ظاہری صورت کی یکسانیت دیکھ کر اولیاء انبیاء کو اپنا مثل نہ سمجھو نیم اور بکائن کا درخت یکساں معلوم ہوتا ہے مگر پھلوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
(نور العرفان ص 169، سورۃ الانعام آیت نمبر 99)
یہاں انبیاء و اولیاء کو تشبیہ بکائن جیسے کڑوے درخت سے دی ہے۔
ایک جگہ یوں لکھتے ہیں :
بھڑ اور شہد کی مکی ایک ہی پھول چوستی ہیں مگر یہ پھول کا رس بھڑ کے پیٹ میں پہنچ کر زہر اور شہد کی مکھی کے پیٹ میں پہنچ کر شہد بنتا ہے ایسے ہی ہمارا کھانا غفلت کا باعث ہے اور انبیاء کی خوراک نورانیت کے ازدیاد کا ذریعہ ہے۔
(نورالعرفان ص 414، سورۃ المومنون آیت نمبر 32)
لفظ ”ایسےہی“ بھی موجود ہے جو بریلوی اصول میں برابری اور تشبیہ دونوں کے لیے آتاہے اور جن بریلویوں کے نزدیک صرف تشبیہ کے لیے آتا ہے وہ بھی دیکھیں کہ انبیاء کرام کو شہد کی مکھی سے تشبیہ دی گئی ہے جوکہ بریلوی اصول سے گستاخی بنتی ہے۔آگے چلئے:
مفتی صاحب لکھتےہیں :سانپ اور بھینس اگرچہ اللہ کی مخلوق ہے اس کی روزی کھاتے پیتے ہیں۔ مگر سانپ کے پاس زہر ہے اور بھینس کے پاس دودھ۔ اس لیے آپ سانپ کو مارتے ہیں اور بھینس کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسے ہی کفار کے پاس کفرکا زہر ہے اور حضرات انبیاء، اولیاء، علماء کے پاس ایمان کا دودھ۔
(تفسیر نعیمی ج3، ص 364، سورۃ آل عمران آیت نمبر 33)
مفتی صاحب کا ایک اور ظلم ملاحظہ فرمائیں : جیسے ایک ہی رحم سے مختلف اولاد پیدا ہوتی ہے ایسے ہی ایک ہی تعلیم سے مریدین کے مختلف حالات ہوتے ہیں نگاہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی تھی۔ مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درجات مختلف۔
(تفسیر نعیمی ج 3، ص243، سورۃ آل عمران آیت نمبر6)
ایک جگہ یوں لکھتے ہیں: سچے مرید کا قلب گویا رحم ہے اور شیخ کامل کی نگاہ گویا نطفہ۔
اتنی حقیر چیزوں سے نبی پاک اور انبیاء علیہم السلام کو تشبیہ دینے والا کیا بریلوی اُصول کی رو سے گستاخ نہیں۔
میں بریلوی مناظرین سے پوچھوں گا کہ سیالوی کی تشبیہات کا گھٹیا ہونا تم بھی مانتے ہو کیا اسے کافر و گستاخ اپنے سردار احمد کے فتوے سے کہتے ہو یا نہیں۔
اور اگر اس اصول سے حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کو معافی نہیں تو مفتی احمد یار نعیمی کو معافی کیوں جو انبیاء کو تشبیہ کبھی بھینس سے اور کبھی کسی سے دیتا ہے۔ اسے معافی کیوں ہے۔ بریلوی اکابرین نے اس کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں ؟ آخر کیوں معافی دی۔ بریلوی حضرات شیر مادر سمجھ کر اور گیارہویں کا ٹھنڈا میٹھا دودھ سمجھ کر ان سوالات کو ہضم تو کر سکتے ہیں جواب نہیں دے سکتے۔ اب اصل عبارت کو دیکھیں:
”آپ کی ذاتِ مقدسہ پر عالم الغیب کا اطلاق کیا جانا اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے؟ ایسا علمِ غیب تو زید عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جائے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہوتی ہے۔“
عبارت میں ”ایسا علم“ سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے علم مبارک کی طرف اشارہ نہیں بلکہ مطلق بعض علم کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ عبارت کے آخری ٹکڑا سے معلوم ہو رہا ہے یعنی اگر بعض علم کی وجہ سے عالم الغیب کہتے ہو تو پھر ہر ایک کو بعض علم تو ہے یعنی کچھ نہ کچھ تو پتہ ہے، لہٰذا ان کو بھی عالم الغیب کہو۔ تو حضرت تھانوی نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ سرکار والا علم مبارک سب کو ہے

No comments:

Post a Comment