Sameer Muhammad۔
بریلوی رضاخانی جاھل اے مطلق نے ایک گھٹیا الزام و اعتراض کیا ہے مولانا اشرف علی تھانوی رح پر۔ کہ۔ معاذ اللہ اُن کی گندی نظر تھی۔۔اپنے شاگردوں پر۔۔بریلوی رضاخانی کہتا ہے۔ ۔ اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے۔جہاں ۔ میں تنہا ہوتا ہو وہاں نو عمر لڑکوں کو نہ بھیجا کریں ۔مُجھے اپنے نفس پر اعتماد نہیں۔۔۔۔جواب۔ ۔ رضاخانی کو کیسے بتائیں یہ بات۔ ۔ کے یہ بات تو کوئی ولی اللہ ہی کہہ سکتا ہے ۔جس کو اپنے ایمان کی فکر ہوگی۔۔ ساری دنیا جانتی مگر بد عقیدے بریلوی رضاخانی کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں سب سے بڑا سنگین جرم جو ہے ۔
وہ قوم لوط والا عمل ہے۔۔ حدیث پاک میں آتا ہے اے قریش کے جوانوں ۔اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھو اور زنا نہ کرو اچّھی طرح سمجھ لو جو شخص۔ اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھ لے اُس کے لیے جنّت ہے ۔ رحمٰن کے خاص بندے صفحہ 248 شعیب الامعان آگے اِرشاد ہے اللہ تعالیٰ جِس کی جوانی کو۔ سلامت رکھے وہ ضرور جنّت میں داخل ہوگا ۔شعیب الایمان ۔ہم جنس عمل ایسا غلیظ عمل ہے انسان تو انسان ۔جانور بھی اِس بدترین عمل کے قریب نہیں جاتے ۔۔۔۔چناچہ
امام بیہقی نے عبد اللہ بن مبارک (رح) سے روایت کیا کہ سفیان ثوری ایک حمام میں داخل ہوئے ان پر ایک خوبصورت بھی داخل ہوا۔ تو انہوں نے فرمایا اس کو باہر نکال دو کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر عورت کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے اور ہر (نابالغ) لڑکے کے ساتھ دس سے کچھ اوپر شیطان ہوتے ہیں۔ امام ابن ابی الدنیا، حکیم ترمذی اور بیہقی نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ چوپاؤں میں سے کوئی جانور قوم لوط والا کام نہیں کرتا سوائے خنزیر اور گدھے کے۔تفسیر در منثور ۔ نوٹ۔ رضاخان ۔ سے یہاں میں پوچھنا چاہتا ہوں کیا امام سیوطی رح کی بھی گندی نظر تھی جو اُنہونے ایسی روایات بیان کی۔? استغفراللہ۔ معاذ اللہ۔۔لیکن رضاخانی بریلوی مسلک میں۔ جانور سے بد فعلی کی جاتی ہے چناچہ سید نور الحسن شاہ بریلوی۔۔ایک بریلوی فقیر کا واقعہ لکھتے ہیں ۔فقیر صاحب نے فرمایا۔بعد نماز عشاء ہماری روٹی اس مسجد میں لے آنا جب ہم روٹی لے کر مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ ۔میاں صاحب گدھی سے مصروف ہیں میںنے اُن سے چہرہ پھیر لیا ۔الانسان فی القران ۔صفحہ 254۔۔ بتاؤ جو خود بریلوی مذہب اتنا گندا رہتا ہو۔ اُس سے جانور بھی محفوظ نہیں ۔ تو دوسروں کے بارے میں بھی یہی عقیدہ رکھے گا وہ تو۔۔
امام سیوطی رح نے در منثور میں لکھا ہے
امام ابن الدنیا اور بیہقی نے ابن سہل (رح) سے روایت کیا کہ عنقریب اس امت میں ایسی قوم ہوگی جن کو لوطیون کہا جائے گا اور یہ تین قسموں میں ہیں ایک وہ قسم کہ جو (صرف نابالغ لڑکوں کو) دیکھتے ہیں اور دوسری قسم وہ ہیں جو ان سے مصافحہ کرتے ہیں اور تیسری قوم وہ ہیں جو یہ عمل (یعنی قوم لوط والا عمل) کرتے ہیں۔ تفسیر در منثور۔۔ اب آگے دیکھئے بریلوی کیسا گل کہلاتے ہیں کہتے ہیں مفتی احمد یار خان صاحب ۔۔ مدرسے حرام ہونے چاہیے کیوں کے وہاں مرد ہے داڑھی والے بچّے جوانوں کے ساتھ پڑھتے ہیں اُن کا آپس میں اختلاط بھی ہوتا ہے کبھی کبھی اُس کے برے نتیجے بھی برآمد ہوتے ہیں جاء الحق۔ صفحہ 197 ۔۔
دیکھا آپ نے دوستو۔۔ رضاخانی مذہب میں اُن کے مدرسے میں یہ حرکت کی جاتی ہے ۔۔ اور الزام دیتے ہیں تھانوی رح پر۔ لعنت ہے رضاخانی مذہب پر۔۔ حضرت تھانوی رح وقت کے ولی اللہ تھے ۔جو ہر وقت احتیاط سے اور سنت سے رسول سے کام لیا کرتے تھے۔۔ ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہیں۔ وہ آخری وقت یہ فارما رہے تھے ابھی نہیں ابھی نہیں۔ پوچھا حضرت یہ کیا فارما رہے ہو ابھی نہیں ابھی نہیں ? اُنہونے بتایا۔ شیطان یہاں کھڑا ہے ۔اور کہتا ہے اے انسان اب تو میرے ہاتھ سے نکل گیا ۔۔ میں اُسکے جواب میں کہہ رہا ہوں ابھی نہیں ابھی نہیں۔ ۔ میں تُجھے سے محفوظ تب ہو جاؤنگا جب ایمان پر میری موت ہو۔۔۔ ہر شخص اِس سے بخوبی واقف ہے کے شیطان سے بچنا چاہئے۔۔ بریلوی مولوی احمد یار خان نعیمی کہتے ہیں کوئی شخص اپنے سے شیطان کو۔دور نا جانے اور نہ اپنے تقوے اور پرہیز گاری کا بھروسہ کرے۔ تفسیر نعیمی جلد 1 صفحہ 261 ۔۔ حضرت تھانوی رح نے بھی اسی وجہ سے کہا تھا جب میں تنہا ہوتا ہوں میرے پاس کسی نوجوان لڑکے کو نہ بھیجا کریں۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔ بریلوی مفتی احمد یار خان نعیمی کہتے ہیں کوئی شخص اپنے سے شیطان کو۔دور نا جانے اور نہ اپنے تقوے اور پرہیز گاری کا بھروسہ کرے۔دوسرے یہ کے بڑوں بڑوں کو۔ عورتوں کے ذریعے۔ پھنساتا ہے تفسیر نعیمی جلد 1 ۔ یہی وجہ ہے کہ احمد رضا اعلیٰ حضرت۔ عورتوں کے لیےٹے میں آئے 🙄 ۔جیسا کے اُپر آپ پڑھتے ہوئے آئے ہیں بریلوی مفتی احمد یار خان نعیمی نے لکھا ہےکوئی شخص اپنے سے شیطان کو۔دور نا جانے اور نہ اپنے تقوے اور پرہیز گاری کا بھروسہ کرے۔ تفسیر نعیمی جلد 1 صفحہ 261 تو احمد رضا اعلیٰ حضرت کے بارے میں اُن کے چاہنے والے نے لکھا ہے۔ ۔ اُنکے تقوے کا یہ عالم تھا۔ اُن کو دیکھ کر صحابہ کرام کی زیارت کا شوق کم ہو گیا 📚وسایا شریف ۔ نوٹ۔۔ یہاں پر ایک لفظ غور کرنا یہاں تقوے کی بات چل رہی ہے۔ اعلیٰ حضرت کا تقویٰ اتنا تھا اُنکا مرید کہتا ہے ہمیں صحابہ کرام کی زیارت کا شوق اتنا نہیں رہا جتنا اعلیٰ حضرت کا ہے۔۔یہی تقویٰ اعلیٰ حضرت کو کہاں لے دوبیگا دیکھتے جائیں 😍۔۔ ایک بار کی بات ہے۔۔اعلیٰ حضرت باہر نکلے خالی کرتا پہنے ہوئے نیچے شلوار بھی نہیں پہنی تھی۔۔۔۔یہ ہمیں پتہ نہیں اعلیٰ حضرت پجاما کیوں نہیں پہنتے تھے ۔بریلوی ۔دیوبندی سے کہتے ہیں تُم نے اپنے چھوٹے بھائی کا پجاما پہنا ہے بڑے بھائی کا کرتا۔ جب کے یہ سنت ہے ۔ٹخنوں کو کھلا رکھنا۔ ۔ بریلویوں نے سنت کا مذاق اڑایا ۔اللہ کی یہ شان ہوئی ۔اعلیٰ حضرت سے ہی پجاما چھین لیا ۔😀 نہ تو چھوٹے بھای کا پجاما رہا نہ بڑے بھای کا ۔ خیر واقعہ یوں ہے۔۔ایک بار ۔آپ باہر آئے۔۔ لکھا ہے اُس وقت ایک بڑا کرتا پہنے ہوئے تھے ۔سامنے سے چند طوائف زنان بازاری گزر رہی تھیں آپ نے فوراً کرتے کا اگلا دامن اپنے۔ دونوں ہاتھوں سے ۔اُٹھا کر چہرے کو چُھپا لیا۔۔🙄۔یہ کیفیت دیکھ کر اُن میں کی ایک طوائف بول اٹھی۔واہ میاں چہرہ تو چُھپا لیا۔اور ستر کھول دیا اعلیٰ حضرت نے اُس کو جواب دیا ۔😤 جب نظر بہکتی ہےتب ❤️ دل بہکتا ہے جب دل بہکتا ہے تو ستر بہکتا ہے یہ سُن کر وہ خاموش ہو گئی 📚 حیات اعلیٰ حضرت۔صفحہ 106۔۔ اعلیٰ حضرت کا تقویٰ تو آپ دیکھ چکے ہیں۔ ۔ اب دیکھئے۔ اعلیٰ حضرت کہتے ہیں میں نے خود دیکھا گاؤں میں ایک لڑکی ١٨ یا ٢٠ برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑایا تھاماں ہر چند منع کرتی وہ زور آور تھی پچھاڑتی اور سینے پر چڑھ کر دودھ پینے لگتی۔''
ملفوظات واہ ماشاء اللہ۔ ماشاء اللہ 😀😀😀۔۔ اعلیٰ حضرت کا تقویٰ یاد آگیا ۔طوائف کو اپنا سامان دکھاتے ہوئے فارما رہے۔ تھےجب نظر بہکتی ہےتب ❤️ دل بہکتا ہے جب دل بہکتا ہے تو ستر بہکتا ہے قربان جائیں رضاخانی اعلیٰ حضرت کے تقوے پر۔ یہاں حضرت کا نہ تو دل بہک رہا ہے اور نہ نظر بہک رہی ہے بلکہ فخرِ انزاد میں بتلا رہے ہیں میں نے یہ حرکت خد دیکھی تھی 😓۔۔ خیر میں بات کو سمیٹ کر اصل موضوع پر آتا ہوں رضاخانی نے جو حکیم الامت اشرف علی تھانوی رح کے بارے میں لکھا ہے ۔کے اُنہونے لکھا ہے جب میں تنہا ہوتا ہو میرے پاس کسی نوجوان لڑکے کو نا بھیجا کرے ۔مُجھے اپنے نفس پر اعتماد نہیں ۔جواب حضرت حسن بن ذکوان رح کہتے ہیں کے مال داروں کے بچّوں کے ساتھ زیادہ اُٹھنا بیٹھنا نا کرو۔ اِس لیے کے اُنکی صورتیں۔عورتوں کی طرح ہوتی ہیں اور اُنکا فتنہ کواری عورتوں سے زیادہ سنگین ہے ۔شعیب الایمان۔ جلد 4 صفحہ 358حضرت عبدااللہ بن مبارک رح کہتے ہے ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری رح حمام میں داخل ہوئے تو وہاں ایک خوبصورت لڑکا بھی آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے باہر نکالو کیوں کے عورت کے ساتھ تو ایک شیطان ہوتا ہے۔ ۔اور لڑکوں کے ساتھ تو 10 سے زیادہ شیطان ہوتے ہیں شعیب الایمان صفحہ360۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بچّے 10 سال کے ہو جائے ۔اُنکے بستر الگ کر دو۔۔ ابو داؤد ۔۔ اب یہاں رضاخانی جواب دیں۔ ? ۔۔ کیا معاذ اللہ اِن سب حضرات کی گندی نظر تھی ? .. طالب دعا ۔ غفران قریشی 🖊️
No comments:
Post a Comment