Thursday, 18 August 2022

مشائخ کی روحانیت سے استفادہ اور ان کے سینوں اور قبروں سے باطنی فیوض کاپہنچناصحیح ہے مگراس طریقے سے جو اس کے اہل اور خواص کو معلوم ہے۔ نہ اس طر ز پر جو عوام میں رائج ہے۔ خلاصہ عقائد علماء دیوبند ص234

 اعتراض:

قبر کے سوال وجواب کے علاوہ روحوں کادنیا میں آنا ثابت نہیں اگر صالح روح ہے تو علیین میں اگر غیر صالح تو سجین میں ہے۔
ومن ورائہم برزخ الی یوم یبعثون
(سورہ مومنون نمبر 100)
ترجمہ: یعنی ان زندوں ومردوں کے درمیان تا قیامت آڑ قائم رہے گا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کایہ عقیدہ تھا کہ ایمان والوں کی روحیں اللہ کے پاس جاتی ہیں۔ یعنی دنیا میں نہیں رہتی ہیں۔ روحوں اور قبروں سے فیض لینے کا عقید ہ قرآن وسنت ومنہج سلف صالحین کے خلاف ہے۔ مزید معلومات کے لیے کتاب الروح لابن قیم، احوال القبورلابن حاجب۔ فتاویٰ شیخ الاسلام14ص104 ملاحظہ ہو۔
نوٹ: قبروں سے فیوض کاباطنی عقیدہ بدعت پر مبنی اور شرک کاچوردروازہ ہے۔ جبکہ شرک عوام وخواص کے لیے حرام ہے۔
(موازنہ کیجئے صفحہ 18۔19
جواب:
شاہ صاحب کایہ کہنا کہ قبر کے سوال وجواب کے علاوہ روحوں کا دنیا میں آناثابت نہیں، ہمارے اوپر فضول اعتراض ہے، کیونکہ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ روحوں کادنیا میں آنا ثابت نہیں۔
شاہ صاحب کو دنیا اور برزخ کا فرق معلوم نہیں :
شاہ صاحب کواتنابھی معلوم نہیں کہ دنیا اور عالم برزخ میں کیا فرق ہے۔ اسی وجہ سے شاہ صاحب نے اس اعتراض میں لکھا ہے کہ قبر کے سوال وجواب کے علاوہ روحوں کادنیامیں آنا ثابت نہیں۔
شاہ صاحب سے دردر مندانہ اپیل:
شاہ صاحب جب آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قبر کے سوال وجواب کاتعلق دنیا سے ہے یا عالم برزخ سے توہماری آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ پہلے دنیا اور برزخ کے درمیان فرق معلوم کریں پھر عقائد کے بارے میں بحث کریں۔
علماء دیوبندکے نزدیک روحوں کادنیا میں آنا ثابت نہیں :
اگر چہ شاہ صاحب اس اعتراض میں عوام الناس کو یہ تأثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علماء دیوبند روحوں کے دنیا میں آنے کے قائل ہیں مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یہ شاہ صاحب کا جھوٹ وفریب ہے۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ تعالی ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
ارواحِ مومنین کا شبِ جمعہ وغیرہ میں اپنے گھر آنا کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوا یہ روایا ت واہیہ ہیں اس پر عقیدہ کرنا ہر گز نہیں چاہیے۔
فتاویٰ رشیدیہ ص158
غیر مقلدین کے نزدیک فیوضات وبرکات قبور:
اگرچہ شاہ صاحب نے قبروں سے باطنی فیوض پہنچنے کارد کیا ہے لیکن یہ ان کازبانی جمع خرچ ہے کیونکہ شاہ صاحب کے اکابر قبروں سے باطنی فیوض پہنچنے کے قائل ہیں۔ غیرمقلدین کے اکابر کی رائے ملاحظہ فرمائیں
علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں:
اولیا ء کی ارواح سے بعد موت بحکم ومرضی الٰہی تصرفات ہوتے ہیں اور طرح طرح کے فیوض برکات بھی حضرات صوفیہ کااس پر اتفاق ہے۔ اور اتفاق کے ساتھ بتواتر ان سے اس قسم کے واقعات منقول ہیں جن کاانکار نہیں ہوسکتا مگر بعض اہل ظواہر جو سخت تشدد اور غلو رکھتے ہیں انہوں نے ان امور کاانکار کیا ہے۔
لغات الحدیث 2ص 17ذال کی بحث میں
یہی وحید الزمان صاحب اپنی کتاب ہدیۃ المہدی میں لکھتے ہیں:
وقال شیخنا ابن القیم فثبت بہذا انہ لامنافاۃ بین کون الروح فی علیین اوفی الجنۃ اوفی السماء وبین اتصالہ بالبدن بحیث تدرک وتسمع وتصلی وتقرأ قلت بھذا یدفع الشبہۃ التی اوردھا القاصرون انہ کیف یمکن استحصال الفیوض والبرکات وبرد القلب والانوار من ارواح الصلحاء بزیارۃ قبورہم
ہدیۃ المہدی ص63
ترجمہ: ہمارے شیخ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے کہا کہ اس کے ساتھ ثابت ہے کہ علیّن میں یا جنت میں یاآسمان میں یا اس کے بدن کے ساتھ اتصال میں ادراک وسمع اور نمازو قراءت میں روحوں کا ہونا منافی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس سے قاصرین کاوہ شبہ دور ہوجاتا ہے جو وہ وارد کرتے ہیں کہ کس طرح ممکن ہے کہ صالحین کی قبور کی زیارت کرنے سے ان کی ارواح سے فیوض وبرکات دل کی ٹھنڈک اور انوار حاصل ہوجاتے ہیں۔
علامہ ابن قیم کے نزدیک زندوں اورمردوں کی ارواح کی ملاقات:
شاہ صاحب نے مزید معلومات کے لیے چند کتابوں کے نام لکھے ہیں جن میں ایک کتاب علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی ’’کتاب الروح ‘‘ بھی ہے۔
شاہ صاحب ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی اور ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کے اندھے رحمہ اللہ تعالی کی رائے ملاحظہ فرمائیں
سوال: کیازندوں اور مردوں کی روحوں میں ملاقات ہوتی ہے؟۔
جواب: اس کی دلیلیں بے شمار ہیں اور حس وواقعات سب سے بڑے مشاہد ہیں۔ زندوں اور مردوں کی روحوں میں اس طرح ملاقات ہوتی ہے جس طرح زندوں کی روحیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور زندوں اور مردوں کی روحوں کے ملنے کاثبوت بھی ہے کہ زندہ حضرات خواب میں مردوں کودیکھتے ہیں اور ان سے حالات معلوم کرتے ہیں اور مردے نامعلوم حالات بتاتے ہیں جن کا مستقبل میں ظہور ہوجاتاہے اور کبھی ماضی میں ہوچکا ہوتا ہے۔ کبھی مرنے والااپنا گڑا ہوا مال بتاتا ہے جس کی اس کے سواکسی کو خبر نہیں ہوتی اور کبھی اپنے قرض کی اطلاع کرتا ہےکہ مجھ پر فلاں فلاں کاقرض ہے اور اس کے قرائن بھی بیان کرتا ہے کبھی ایسے عمل کی خبر دیتا ہے جس کی اس کے سواکسی کو بھی خبر نہیں تھی۔ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے پاس فلاں فلاں وقت آؤ گے اور اس کی خبر سچی ہوجاتی ہے۔ کبھی ایسی باتوں کی خبر دیتا ہے جن کے بارے میں زندوں کویقین ہوتا ہے کہ انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ اوراوپر صعب، عوف بن ثابت بن قیس، صدقہ بن سلیمان، جعفری، مصعب بن شیبہ اور فضل بن موفق کے واقعات گذر چکے۔
کتاب الروح لابن القیم ص61تا 63 مترجم
غیر مقلدین کا مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالی کی قبر سے حصول فیض:
مولوی عبد المجید صاحب شاگر رشید ابراہیم سیا لکوٹی صاحب لکھتے ہیں:
صوفی حبیب الرحمان صاحب کابیان ہے کہ 1910 ء میں جب حضرت ضیاء معصوم صاحب مرشد امیر حبیب اللہ خان شاہ کابل پٹیالہ تشریف لائے تو انہوں نے سر ہند جانے کے لیے قاضی جی کو اپنے ساتھ لیا۔ حضرت ضیاء معصوم صاحب جب روضہ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالی پر مراقبہ کے لیے بیٹھے تو قاضی جی نے دل میں کہا کہ شاید ان بزرگوں نے آپس میں کوئی راز کی بات کہنی ہو۔ ان سے الگ ہوجاناچاہیے۔ ابھی اپنے جی میں یہ خیال لے کر اٹھے ہی تھے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالی نے آپ کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور فرمایا کہ سلیمان بیٹھے رہو۔ ہم کوئی بات تجھ سے راز میں نہیں رکھنا چاہتے۔ صوفی صاحب کا بیا ن ہے کہ قاضی صاحب نے بعض دوستوں سے ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مراقبہ یا مکاشفہ کانہیں بلکہ بیداری کاہے۔
کراماتِ اہل حدیث ص19
نواب صدیق حسن صاحب لکھتے ہیں:
ودرمسئلہ انتفاع اولیاء از ارواح اولیاء وانبیاء بقدر مناسب حال بدون تقلید برسوم وبدعات رجال واہل ضلال خود چند ا خلاف بیان اہل علم نیست
مآثر صدیقی4ص 128
نواب صاحب کے فرزندعلی حسن صاحب اس کاترجمہ یوں کرتے ہیں: اس مسئلہ میں اور اس امر میں کہ ارباب صاحب دل و اولیاء وانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ارواح مقدسہ سے بغیر رسوم اور بدعات کی پابندی کے جو اصل ضلالت کاشیوا ہے اپنے مناسب حال فیض اٹھائے تو اس میں علماء کاکوئی اختلاف نہیں ہے۔
نواب صدیق حسن کے والد کی قبرسے فیوض کاحصول:
یہی نواب صدیق حسن صاحب اپنے والد کی قبر کے بارے میں لکھتے ہیں:
لایزال النور علی قبرہ الشریف والناس یتبرکون بہ
التاج المکلل ص298
یعنی آپ کی قبر شریف پرنور رہتا ہے اور لوگ اس سے تبر ک حاصل کرتے ہیں۔
اکابرین غیر مقلدین کے نزدیک جمعہ کی رات روحوں کی آمد:
مشہور غیر مقلد حافظ محمد لکھوی صاحب لکھتے ہیں:
رات جمعہ دی مغرب پچھے ہک روایت آئی
آون روح وچ اپنے خویشاں یا جتھے ہے آشنائی

 
احوال الآخرت صفحہ 17
ترجمہ: ایک حدیث میں ہے کہ جمعہ کی رات کو مغرب کے بعد روح اپنے رشتے داروں کے گھر وں میں یاجہاں اس کی واقفیت ہوتی ہے وہاں آتی ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اور دیگر اکابرین غیر مقلدین کی ان عبارتوں سے معلوم ہوگیا کہ ان کے نزدیک مردوں کی روحیں زندوں کی روحوں سے ملاقات کرتی ہیں اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ قبروں سے فیوضات وبرکات حاصل کرنا جائز ہے اور ان کے اکابرین قبروں سے فیوضات حاصل کرتے رہتے ہیں۔
بہر حال شاہ صاحب سے گذارش ہے کہ دوسروں کی آنکھوں میں تنکا تلاش کرنے سے پہلے اپنی آنکھوں میں لگے ہوئے شہتیرکو دیکھیں تاکہ شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔

No comments:

Post a Comment