Thursday, 18 August 2022

صوفیاء کی قبور سے باطنی فیوض حق ہے (المہند و فتاوی رشیدیہ)

 یہ مضمون آج سے کافی عرصہ پہلے ایک اہلحدیث بھائی کے اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا تھا

%% علماء دیوبند پر قبر پرستی کے الزام کا جواب %%


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین

قارئین کرام شعیب صاحب نے اس مضمون کو نام دیا ہے ’’دیوبندیوں میں مزار و قبر پرستی‘‘ نام دیکھ کر فقیر کو لگا کہ شائد مضمون میں مستند حوالوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہوگی کہ دیوبندی حضرات نے بھی اپنے فلاں پیر صاحب کا مزار بنا کر اس کی مجاور پرستی شروع کردی رضاخانیوں کی طرح قبروں والوں اور مزا ر والوں کو پوج رہے ہونگے۔۔مگر یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا کہ ’’صوفیاء کرام‘‘ کی ایک بنیادی اصطلاح سے ناواقفی کی بناء پر اور چند کرامات کو دیکھ کر انھوں نے اس پر مزاپر پرستی اور قبر پرستی کا سنگین الزام لگا دیا۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے کل کو کوئی مولانا ثاء اللہ امرتسری صاحب مرحوم کی چند عبارات جو مرزا کی خیر خواہی میں نکلی ہیں کو دیکھ کر ان پر ’’مرزائیت پرستی‘‘ اور ’’قادیانیت نوازی‘‘ کا الزام لگادے۔نعوذ باللہ من سوء الفھم ولا حولا ولا قوۃ الا باللہ۔

افسوس اگر دیوبندی حضرات قبر پرست یا مزار پرست ہوتے تو آج ان کی اکابر کی قبریں زمین سے ایک بالشت اونچی اور گمنام نہ ہوتی بلکہ وہ بھی ہزاروں مزاروں کے مالک ہوتے۔پاکستان ہندوستان میں رہنے والے سب جانتے ہیں کہ قبر پرست کون ہیں۔۔؟؟؟ مگر افسوس کہ یہ طعنہ ان لوگوں کو دیا جارہا ہے جو ساری زندگی اس کے خلاف رہے۔ایک مولانا سرفراز خان صفدر صاحب نے قبر پرستوں اور مزار پرستوں کا جو علمی تعاقب کیا ہے وہ رہتی دنیا تک رضاخانیوں کا منہ کالا کرتا رہے گا۔۔جس سے یقیناًشعیب صاحب (طالب نور) نے بھی ضرور کسی موقع پر استفادہ کیا ہوگا۔جن کے اکابرین میں حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ او ر نصاب میں تقویۃ الایمان جیسی کتاب آتی ہے ان پر قبر پرستی اور مزار پرستی کا الزام لگانا کس طرح انصاف و دیانت کا خون اور تاریخ کو مسخ کرنا ہے ۔فالی اللہ المشتکی۔بہرحال شعیب صاحب کے مضمون کی طرف آتا ہوں ۔شعیب صاحب نے اپنی ناواقفی کی بناء پر دو چیزوں ’’استفادہ از قبور‘‘ اور ’’کرامات ‘‘ کو بالکل گڈ مڈ کردیا ہے ۔فقیر ان دونوں کی وضاحت الگ الگ کریگا۔ملاحظہ ہو۔

اعتراض:

صوفیاء کی قبور سے باطنی فیوض حق ہے (المہند و فتاوی رشیدیہ)

استفادہ از قبو ر شیوخ:

قارئین کرام صوفیاء کے ہاں ایک اصطلاح ہے ’’استفادہ از قبور اولیا و شیوخ‘‘ اس کو آسان لفظوں میں اس طرح سمجھیں کہ اگر کسی صاحب سلسلہ کا کوئی پیر او ر مرشد وفات کرجاتا ہے اور وہ شخص اپنی روحانی ترقیوں کیلئے اس کی قبر پر جاکر صاحب قبر سے فیض حاصل کرنا چاہتا ہے(اور وہ صاحب کچف بھی ہو) تو آیا یہ جائز ہے یا نہیں۔۔؟؟؟صوفیاء نے اس کو تجربے کی بناء پر مخصوص شرائط کے ساتھ جائز رکھا ہے۔اور علمائے دیوبند بھی اس کے قائل ہیں۔مگر یہ روحانی فیض اس طرح نہیں ہوتا جس طرح حیات میں اس بزرگ سے تھا ورنہ پیری مریدی کی کوئی حاجت نہ رہے۔چنانچہ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

یہ خیا ل نہ کرے کے قبر سے فیض لینا کافی ہے دوسرے شیخ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ قبر سے فیض تعلیم نہیں ہوسکتا البتہ صاحب نسبت کو احوال کی ترقی ہوتی ہے ۔سو یہ شخص تو ابھی محتاج تعلیم ہے ورنہ کسی کوبھی بیعت کی ضرورت نہ ہوتی لاکھوں قبریں کاملین بلکہ انبیاء کی موجود ہیں۔

(تعلیم الدین ۔ص۹۷)

یعنی چند مخصوص شرائط کے ساتھ روحانی ترقیوں کیلئے اس قسم کا فیض لے سکتا ہے لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔اور یہ طریقہ کار نہ صرف علمائے دیوبند میں ہے بلکہ سادات حنفیہ کے ہاں رائج ہے ۔۔چنانچہ خاندان شاہ ولی اللہ کے فرزند ارجمند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں فرماتے ہیں:

مسئلہ:کوئی صاحب باطن یا صاحب کشف کسی صاحب باطن یا صاحب کشف کی قبر کے پاس مراقبہ کرکے باطن سے کچھ حاصل کرسکتا ہے یا نہیں؟۔

جواب:حاصل کرسکتا ہے۔(فتاوی عزیزی۔ص۱۷۲)

استعانت از قبور کی بحث کرتے ہوئے اور اس کی مختلف جائز و ناجائز صورتوں کو بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر شاہ صاحب فرماتے ہیں:

اہل قبور سے استعانت ایک ایسا امر ہے کہ مشائخ صوفیاء جوکہ اہل کشف و کمال سے ہیں۔ان کے نزدیک یہ کامل طور پر ثابت ہے حتی کے وہ حضرات کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کو ارواح سے فیض حاصل ہوا ہے۔چنانچہ امام شافعی ؒ نے فرمایا ہے کہ قبر امام کاظم علیہ السلام کی مجرب تریاق ہے۔دعا قبول ہونے کیلئے۔اور حجۃ الاسلام نے فرمایا کہ جس سے حیات کی حالت میں استمدا د کیا جاتا ہے ۔امام راہبی نے فرمایا ہے کہ جب زائر قبر کے پاس جاتا ہے تو اس نفس کو ایک خاص تعلق اس صاحب قبر سے حاصل ہوتا ہے اسی طرح اس صاحب قبر کو اس زائر کے ساتھ حاصل ہوتا ہے ۔ان دونوں تعلق کے ساتھ ان دونوں نفوس کے درمیان تقابل معنوی حاصل ہوتا ہے اور علاقہ مخصوص میں اگر صاحب قبر کا نفس زیادہ قوی ہوتا ہے تو زائر کا نفس مستفیض ہوتا ہے اور اگر سے کے بالعکس ہوتا ہے تواستفاضہ بھی برعکس۔(فتاوی عزیزی ص ۱۹۱)۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی اسی فیض کے متعلق لکھتے ہیں کہ:

اور رسول کریم ﷺ اور اولیاء کی قبور سے بھی فیض حاصل کرسکتا ہے ۔(ارشاد الطالبین ۔ص۱۵۳)۔

لیکن یاد رہے کہ یہ فیض زندگی کے فیض کی طرح نہیں ہوتا چنانچہ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ:

اگر کوئی کہے اولیاء کا فیض ان کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے پس دوسرے شیخ کو تلاش کرنا فضول ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ اولیاء کے فیض بعد موت اس قدر نہیں کہ ناقص کو بدرجہ کمال پہنچادیں مگر شازو نادر اگر فیض بعد از موت اسی قسم کا ہو جیسے زندگی میں ہوتا ہے تو تمام اہل مدینہ پیغمبر خدا سے آج تک اصحاب کے برابر ہوں۔نیز کوئی شخص اولیاء کی صحبت کا محتاج نہ ہو فوت شدہ کا فیض زندہ کے برابر ہوہی کیوں سکتا ہے جبکہ فیض رساں اور فیض یاب میں نسبت شرط ہے اور وفات کے بعد مفقود ہے۔ہاں فناء و بقاء کے بعد جب مناسبت باطنی ہوجاتی ہے تو قبور سے فیض حاصل ہوسکتا ہے لیکن وہ بھی اس قدر جو حیات میں ہوتا ہے۔(ارشاد الطالبین)۔

غرض یہ رضاخانیوں والا فیض نہیں ہے جس میں قبر والوں کو خدائی اختیارات سونپ دیا جائے ،اور انھیں عالم الغیب،حاضر و ناظر،مافوق الاسباب میں پکارناِ حاجت روا سمجھنا،رازق سمجنا،۔۔بلکہ ایک قسم کا روحانی فیض ہے وہ بھی ہر ایک کیلئے نہیں بلکہ مخصوص لوگوں کیلئے مخصوص شرائط کے ساتھ جاہل آدمی یا عام آدمی سوائے نقصان کے اور کچھ نہ کرے گا جیسے کسی عامی کو آپریشن کی ذمہ داری سونپ دیجائے تو سوائے نقصان کے کیا کریگا۔چونکہ اس کا تعلق تجربے سے ہے لہٰذا صوفیاء نے اس کو جائز رکھا اور علماء ظواہر اور جو حضرات سماع کے قائل نہیں اس کے منکر ہیں۔

قارئین کرام غور فرمائیں اس میں آخر قبر پرستی یا مزار پرستی والی کونسی بات ہے۔۔۔؟؟؟مزید توضیح انشاء للہ شعیب صاحب کے ردعمل پر کی جائے گی۔ فی الحال میں اس بات کو یہی ختم کرتا ہوں اور اتمام حجت کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا ایک حوالہ دیتا ہوں اکثر غیر مقلدوں ان کو اپنے اکابر میں سے تسلیم کرتے ہیں آج کل کا مجھے پتہ نہیں اس لئے کہ طالب الرحمن نے رضاخانیوں سے مناظرے کے دوران ان کو حنفی کہہ کر جان چھڑائی تھی(یہ ہے ان کا حال کہ جو رضاخانیوں سے بھی مناظر ہ نہیں کرسکتے)۔

اس فقیر نے آنحضرت ﷺ کی روح پر فتوح سے سوال کیا کہ آپ شیعہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو حضرات اہل بیعت کی محبت کا دعوی کرتے ہیں اور حضرات صحابہ کرام کو برا کہتے ہیںآنحضرت ﷺ نے ایک قسم کے روحانی القاء سے یہ فرمایا کہ شیعہ کا لفظ امام کے سے معلوم ہوتا ہے جب اس حالت سے افاقہ ہوا تو میں نے امام کے لفظ میں تامل کیا تو معلوم ہوا کہ شیعہ کے نزدیک امام معصوم ہوتا ہے جس کی اطاعت فرض ہوتی ہے جو حق کیلئے کھڑا کیا جاتا ہے۔اور امام کے حق میں باطنی وحی تجویز کرتے ہیں پس حقیقت میں وہ ختم نبوت کے منکر ہیں ۔(تفہیمات الٰہیہ،ج۲،ص۲۴۴)۔

غرض اس طرح کے اولیاء کاملین اور شیوخ کیلئے باطنی فیض کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔علمائے دیوبند پر کوئی فتوی لگانے سے پہلے ان حضرات کو بھی اس میں شامل کرلیجئے گا۔مگر یاد رہے کہ عوام میں اس قسم کی باتیں عام کرنا گویا شرک و بدعت کا دروازہ کھولنا ہے جیسے کے آگے آرہا ہے۔یہ تو تھا اس فیض کے مسئلہ کی مختصر وضاحت اب چلتے ہیں شعیب صاحب کے دئے گئے حوالوں کی طرف۔

(۱) پہلا حوالہ انھوں نے المہند کا دیا ہے ۔اس سلسلے میں صرف یہی کہوں گا کہ کوئی معمولی کتاب نہیں ہے بلکہ اس پر خطیب کعبہ شیخ محمد سعیدؒ ،مدرس حرم محمد علی بن حسینؒ کے سوا کئی مکی علماء،شیخ سید احمد برزنجی مفتی اعظمؒ مدینہ منورہ کے علاوہ قریبا ۲۲ علمائے مدینہ ،جامہ ازہر کے شیخ (پرنسپل)سلیم البشریؒ کے سوا ۹ کیقریب دمشقی علماء کی تصدیقات موجود ہیں۔

معلوم ہوا کہ علمائے دیوبند کا یہ مسئلہ تمام امت مسلمہ میں اتفاقی اور اجماعی مسئلہ ہے ۔ورنہ یہ حضرات کبھی اس کی تصدیق نہ کرتے جن میں مکہ اور مدینے کے لوگ ہیں جو آل سعود سے خاندان سے ہیں جن کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ان لوگوں نے قبر پرستی کو ختم کرنے کیلئے قرون اولی کی یاد تازہ کردی۔کیا یہ سب بھی مزار پرست تھے۔۔؟؟؟قبر پرست تھے۔۔۔؟؟؟؟افسوس رضاخانیوں نے تو ان کو قبریں ختم کرنے کی وجہ سے کافر لکھا اور کہا ۔۔اور آج کل کے نام نہاد اہلحدیث ان کو مزار پرست اور قبر پرست کہہ کر مشرک ثابت کررہی ہے ۔۔شعیب صاحب یہ وہ مقام ہے جہاں دجال بھی داخل نہ ہوسکے گا۔۔جو تمام مسلمانوں کا مرکز ہے۔

ان علماء کی تصدیق ہی کافی ہے اور اس مسئلہ پر مزید کسی قسم کے کلام کی ضرورت نہیں۔مگر کسی کو کوئی مغالطہ نہ ہو ہم مزیدحوالوں کی بھی تشریح کرتے ہیں۔

(۲) شعیب صاحب تالیفات رشیدیہ سے یہ حوالہ نقل کیامگر افسوس کہ اگر آپ وہ حوالے بھی نقل کردیتے جس میں انھوں نے قبر پرستی اور مزار پرستی کی پر زور تردید کی تو سب آپ کی دیانت پر واہ واہ کرتے۔۔۔مگر آپ کو تو لوگوں کو دھوکا دینا ہے ۔۔اس فتوے کی وضاحت ہوچکی ہے ۔۔اسی فتاوی رشدیہ میں نقل کرتے ہیں:

مزارات اولیاء سے فیض حاصل ہوتا ہے یا نہیں؟اگر ہوتا ہے تو کس صورت میں؟

جواب:مزارات اولیاء سے کاملین کے فیض حاصل ہوتا ہے مگر عوام کو اس کی اجازت دینی ہر گز جائز نہیں۔اور تحصیل فیض کا طریقہ کوئی خاص نہیں ۔جب جانے والا اہل ہوتا ہے تو اس طرف سے حسب استعداد فیضان ہوتا ہے ،مگر عوام میں ان امور کا بیان کرنا کفر و شرک کا دروازہ کھولنا ہے۔

(تالیفات مع فتاوی رشیدیہ ص ۱۰۵)۔

قارئین کرام اس فتوے کو بار بار پڑھیں اور دل پر ہاتھ رکھیں کہ کیا حقیقی قبر پرست اور مزار پرستوں نے بھی اپنی کتابوں میں اولیاء اللہ کیلئے اسی قسم کے فتوے دئے ہیں۔۔۔قارئین کرام فیض رسانی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ رضاخانیوں کی طرح یہ لوگ مختار کل ہیں ۔۔۔بلکہ علمائے دیوبند کے نزدیک صاحب کشف کو ایک خاص قسم کا روحانی فیض ملتا ہے وہ بھی صرف قائلین سماع کیلئے اور اس میں بھی انھوں نے تصریح کردی کہ عوام کے سامنے یہ امور بیان کرنا کفر و شرک کا دروازہ کھولنا ہے۔۔مگر افسوس ۔۔افسوس پھر بھی مزار پرستی کا طعنہ۔۔۔

قارئین کرام اس میں ایک خاص نکتے کی بات یہ بھی ہے کہ قبراولیاء سے فیض لینے کا مسئلہ اس میں بھی مذکور ہے مگر شعیب صاحب نے اس فتوے کو ذکر نہیں کیا اس لئے کہ اسی فتوے میں ان کے باطل استدلال کی بیخ کنی موجود ہے۔۔ان کو معلوم تھا کہ میں جو ثابت کرنا چاہتا ہوں اس کی نفی خود اسی میں موجود ہے اس لئے اس فتوے کو ذکر نہیں کیا اس سے آپ ان لوگوں کی نیت کا انداہ لگا سکتے ہیں۔

قبرپرستی یا مزار پرستی کی جو عملی شکل رشد صاحب نے دکھائی ہے ان سب کا تعلق کرامات اولیاء سے ہے ۔۔اگر دیوبندی واقعی قبر پرست ہوتے تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس میں اسی قسم کے عقیدے دکھا ئے جاتے جس طرح کے رضاخانیوں کے ہیں۔

اولیاء کی کرامات حق ہیں:

قارئین کرام شعیب صاحب کے دئے گئے حوالوں کی وضاحت سے پہلے ایک بات سمجھ لیں کہ علمائے دیوبند کے ہاں اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں۔۔۔اور ا س بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ اولیاء اللہ سے کرامات کے صدور اور انبیاء سے معجزات کے صدور میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی جب چاہے ان سے ان معجزات و کرامات کا صدور کردے گویا حقیقی طور پر یہ فعل رب العزت کا ہوتا ہے۔اس کے مقابلے میں رضاخانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ کرامات اور معجزات خود نبی اور ولی کے اختیار میں ہوتا ہے اور یہ کسبی فعل ہے اللہ صرف ان کا خالق ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ وہ ان کرامات کے ذریعہ سے ان کو مشکل کشا اور حاجت راور خدائی اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں۔رضاخانیوں کے اس عقیدے کے رد میں امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے باقاعدہ ایک کتاب ’’راہ ہدایت‘‘ کے نام سے لکھی ہے ۔تفصیل کیلئے اس کتاب کا مطالعہ کریں۔اس سلسلے میں صرف ایک حوالہ نقل کررہا ہوں:

حضرت بحر العلوم علامہ صوفی محمد سواتی صاحب مرحوم نور اللہ مرقدہ استا ذالحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم اپنی مایہ ناز تفسیر ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

نبی کا معجزہ ہو یا ولی کی کرامت ،اصل حکم تو اللہ تعالی کا ہوتا ہے ۔کام کرنے والی وہی ذات ہے۔اسی مقام پر آکر ٹھوکر کھاجاتے ہیں کہ نبی کے معجزے یا ولی کی کرامت کو ان کا ذاتی فعل سمجھتے ہیں اور شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔جنھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کو ان کا ذاتی فعل سجمھا وہ شرک میں مبتلا ہوگئے حالانکہ وہ تو باذن اللہ تھا ۔۔۔۔۔اسی طرح اولیاء کی کرامات صحیح طریقے سے ثابت ہیں وہ بھی اللہ ہی کا فعل ہوتا ہے ۔جسے اللہ تعالی عزت بخشے اس کے ہاتھ پر کرامت ظاہر ہوجاتی ہے۔اپنی مرضی سے تو کوئی نبی بھی معجزہ پیش نہیں کرسکتا ۔

(معالم العرفان فی دروس القرآن ،جلد اول ،ص۲۴۱)۔

یعنی مشرکین او اہل حق میں بنیادی فرق اور شرک کی وجہ یہی ہے کہ وہ کرامت اور معجزے کو نبی اور ولی کا ذات فعل مان کر اس کو موت و حیات رزق و کشادگی ،اور مختار کل سمجھنے لگتے ہیں۔جب کہ اہل حق کے نزدیک ان کرامات و معجزات کے صدو ر میں سرے سے ان کا کوئی اختیار ہی نہیں ہوتا ۔تو مختار کل کس بات کے ہوئے۔

اس سے معلوم ہواکہ معجزے یا کرامت کے ظہور میں صاحب کرامت کا کوئی اختیار نہیں اور ان امور کی وجہ سے ان کو باختیار سمجھنا جہالت ہے اس کو ایسا سمجھیں کہ جیسے آپ ڈاکٹر کے پاس گئے تو اس نے دوائی دی اب اس سے شفاء دینا اللہ کا کام ہے ذریعہ یہ دوائی ہے اب شفاء اللہ نے دی دوائی نے نہیں دی۔۔۔اسی طرح کرامت بھی اللہ ہی کا فعل ہے نہ کے ولی کا۔اس سلسلے میں ہمارے اور رضاخانیوں کا موقف صحیح طور پر جاننے کیلئے شعیب صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ’’راہ ہدایت‘‘ کا مطالعہ کریں۔شعیب صاحب نے جتنے بھی حوالے دئے ہیں یہ سب رضاخانی بھی دیتے ہیں خاص کر مولانا یعقوب صاحبؓ ؒ والا اس لئے اس فرق کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔اب آتے ہیں ان کے حوالوں کی طرف:

اعتراض:

(۱) ارواح ثلاثلہ میں مولانا یعقوب صاحب کا :حیرت ہے کہ اس میں ’’صاف طور پر کرامت ‘‘ کا لفظ موجود ہے پھر بھی شعیب صاحب اپنی جہالت کی وجہ سے اعتراض کررہے ہیں قبر کی مٹی سے جو شفا ملی وہ اللہ ہی دے رہا ہے کہ کرامت ولی کا فعل نہیں جیسے شعیب صاحب کسی انگریزی دوا کو شفا کیلئے استعمال کریں تو کیا کسی کو حق ہے کہ ان کو شجر پرست یا دوا پرست کہے۔۔؟؟جب اللہ کو منظور ہوامٹی سے شفا دی جب منظور نہ ہوا شفا بندکردی۔۔شعیب صاحب اس میں اس ولی کا کوئی اختیار نہ تھا۔۔۔اور پھر غور فرمائیں کہ خود اسی واقعہ میں شعیب صاحبؓ کے بے بنیاد الزام کی تردید موجو د ہے ۔۔کہ مٹی اگر ختم ہوگئی تو ہم دوبارہ نہ ڈالیں گے یوں ہی لوگ پیروں تلے روندتے رہیں۔۔یعنی اے لوگوں اس کرامت کی وجہ سے ان کو کہیں خدائی اختیارات والا نہ سمجھ لینا ان کی بے بسی کا تو حال یہ ہے کہ اپنی قبر پر مٹی تک نہیں ڈال سکتے اور تو چھوڑیں اگر لوگ ان کو پیروں تلے روند ڈالیں پھر بھی کچھ نہ کرسکیں گے۔۔یہ ہے ان کا ختیار۔۔۔مگر افسوس اس تعصب پر۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور یہود کی قبر:

درد کی دوری:بعض علماء کا کہنا ہے کہ اسی سبب سے جب جانوروں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو لوگ جانوروں کو اہل یہود ،اہل نصاری اور منافقین کی قبروں پر لیجاتے ہیں ۔۔جب جانور خاص طور پر گھوڑے قبر کا عذاب سنتے ہیں تو بوکھلاکر بدکتے ہیں اور ان کے پیٹ کا درد جاتا ہے۔

(کتاب الروح ،ص۱۰۲،از علامہ ابن قیم)۔

شعیب صاحب یہود و ہنود کی قبروں سے پیٹ کا درد ختم ہونے پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔۔اور ایک مسلمان کی قبر ی مٹی میں اگر اللہ پاک شفا ء پیدا کردے ۔۔تو آپ اس کو قبر پرستی اور مزار پرستی کہتے ہیں۔۔۔؟؟؟

خرد کو جنوں کردیا جنوں کو خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اعتراض:

مولانا یعقوب نانوتوی کی قبر سے مٹی لے جانے والی کرامت (ارواح ثلاثہ)

(۲) امداد المشتاق کی عبارت پر اعتراض کرنا بھی آپ کی جہالت ہے ۔۔اس میں صاف طور پر کرامت کا ذکر ہے وہ صاحب سماع موتی کے قائل تھے انھوں نے عرض کی اور اللہ نے ان کیلئے ایک ذریعہ بنا دیا اور یہ پہلے وضاحت کرچکا ہوں کہ کرامت کے ولی کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔۔اور جو عقیدہ آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں حضرت تھانوی ؒ نے اس کی واضح تردید بہشتی زیور میں کی۔۔حفظ الایمان میں اسی قسم کا ایک سوال موجود ہے ۔۔اور حق بات کہنے کی پاداش میں ان پر رضاخانیوں کی طرف سے کفر کا فتوی بھی لگا پھر بھی آپ اس طرح کی باتیں ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

اور اگر بالفرض آپ کی بات درست مان لیں تو بھی یہ سب کرامات ہیں اور فقہ حنفیہ میں یہ بات بھی مصرح ہے کہ کسی کرامت سے کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا ۔۔پھر بھی آپ اسی دیوبندیوں کے عقائد میں شمار کررہے ہیں۔۔افسوس۔باقی آپ کا یہ اعتراض کے اس کو کرامت کیوں لکھا۔۔تو اسی قسم کے گلے’’ارشد الحق قادری ‘‘ نے ’’زلزلہ‘‘ میں بھی کئے ہیں آپ بھی شائد اس کتاب سے کافی متاثر ہیں۔۔اس قسم کے گلوں اور اس میں علمائے دیوبند کا صحیح موقف جاننے کیلئے کتاب’’ بریلوی فتنے کا نیا روپ‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔طبعیت صاف ہوجائے گی۔

آپ نے جو سورہ اعراف کی آیت دی اس پر ہمارا مکمل اتفاق ہے ۔۔۔ہے او ر یہی ہمارا عقیدہ ہے ۔۔اللہ کے تمام نبی اولیاء اللہ کی مخلوق ہیں ۔۔اور تمام امور کا خالق اللہ ہی ہے ان سے جو کرامات کا ظہور ہوتا ہے وہ بھی حق اور ان کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔۔اس لئے اس کو ہمارے مخالف پیش کرنا آپ کی جہالت ہے۔

حافظ محمد خان بھائی نے امام ذہبی کا حوالہ دیا ہے ۔۔۔اس میں صاف لفظ موجود ہے ۔۔۔کہ امام کرخیؒ کے قبر مبارک پر مضطر آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے۔اس کا جواب شعیب صاحب یہ دیتے ہیں کہ ہم قرآن و حدیث کے مقابلے میں کسی کا قول تسلیم نہیں کرتے ۔۔تو سوال یہ ہے کہ یہی اصول آپ کو علمائے دیوبند کی کتابوں میں نظر کیوں نہیں آتا۔۔ان پر تو آپ فورا۔۔تھریڈ بنا دیتے ہیں ’’قبر پرستی۔مزار پرستی۔۔‘‘اگر واقعی طالب نور صاحب اس بات میں سچے ہیں تو فورا ایک نیاتھریڈ بنائیں۔۔اس نام سے:

حافظ ابن قیم ؒ اور امام ذہبی کی قبر پرستی اور مزار پرستی ۔۔۔اور خوب خوب اس کو انٹرنیٹ پر پھیلائیں۔۔لیکن شعیب صاحب ایسا کبھی نہیں کریں گے۔۔کہ یہ لو گ ان کے اپنے اکابرین میں سے ہیں۔۔اور ظاہر ہے کہ ان پر اعتراض کرنے پر ان کو اپنی جماعت سے جوتے پڑنے کا اندیشہ ہے۔۔غیرمقلدین کا قرآن و سنت کا نعرہ اسی طرح کا منافقانہ نعرہ ہے کہ جس طرح رضاخانی عشق رسول ﷺ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

اعتراض:

حاجی امداد اللہ صاحب کے ایک مرید نے قبر پر جاکر دعا مانگی امداد المشتاق

(۳) کلیات امدادیہ کے حوالے پر اعتراض کرنا بھی آپ کی جہالت ہے ۔۔۔اس میں صاف طور پر مذکور ہے ۔۔کہ اللہ کے نیک بندے ۔۔رسول اللہ ﷺ کے نائب ہیں۔۔۔جس طرح اللہ کے نبی کی اطاعت ان کے صحابہ نے کی تم بھی ان مشائخ کی اطاعت کیا کرو۔۔۔اور اپنی من مانی سے پرہیز کرو۔۔فقیر نے اس سلسلے میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ پراعتراض کہ حق وہی ہے میں تفصیلی گفتگو کی ہے اس کو ملاحظہ فرمالیں۔

اولیاء کی قبر سے فیض رسانی کے مسئلہ کی میں وضاحت کرچکا ہوں۔۔آپ کی طرف سے کوئی رد عمل آنے پر مزید وضاحت کردیجائے گی۔۔اور ایصال ثواب کا کہیں بھی اس میں انکار نہیں۔۔وہ چونکہ اللہ کے نیک بندے ہیں۔۔اور اپنے شاگردوں اور مریدوں کی صورت میں ایصال ثواب کا ایک عظیم ذخیرہ پہلے سے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔۔اس لئے خصوصیت سے اس کا زکر نہیں کیا بمقابلہ دوسرے عام مردوں کے۔

اعتراض:

کلیات امدادیہ مشائخ کی قبور پر توجہ

(۳) امداد المشتاق ص ۱۱۸ کا جوا حوالہ دیا ہے ۔۔اس میں بھی اسی فیض روحانی کا ذکر ہے جس کا سارا تعلق تجربہ سے ہے۔۔اور صوفیاء کی ایک اصطلاح ہے۔۔اور فقیر مرتا سے یہ مراد نہیں کہ ان پر موت ہی طاری نہیں ہوتی ۔۔بلکہ جس طرح غیر مقلد یا مماتی سمجھتے ہیں کہ بس قبر کے گڑھے میں ڈال آؤ۔۔وہ اس کی تردید کررہے ہیں کہ قبر میں ان کو ایک برزخی حیات ملی ہوئی ہوتی ہے۔۔اور اس پر تفصیلی گفتگو ’’مماتی دیوبندی سیکشن ‘‘ میں موجود ہے وہیں سے دیکھ لیں۔

یاد رکھئے کہ فضیلت الشیخ،ولی کامل،شیخ العرب والعجم،حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ وہ شخصیت ہیں کہ تمام ہندوستان ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔۔ان کے مقام کیلئے یہی بات کافی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو اپنے شہر میں بسایا وہی ا ن کی موت ہوئی ۔۔اور وہی مدفون ہیں۔

اعتراض:

فقیر مرتا نہیں ایک مکان سے دوسرے مکان منتقل ہوتا ہے

(۴) اروا ح ثلاثہ صفحہ ۲۱کا واقعہ بھی کشف و کرامت سے تعلق رکھتا ہے ۔۔اور ان کا بیٹے کی پیشنگوئی دینا ۔۔بطور کرامت کے تھا ۔۔سیرت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب شام کا سفر کیا تو وہاں ایک راہب نے کہا تھا کہ ان کو واپس لے جاؤ ان کی قوم ان کو نقصان پہنچائے گی۔۔اور تاریخ میں کتنے واقعہ ہیں کہ اولیاء اللہ نے بطور کرامت کے مستقبل کی کسی بات کی خبر دے دی۔۔لیکن یہ صرف جزئی واقعا ت ہیں۔۔ان میں ان کا کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ علم غیب رکھتے ہیں۔

سورہ اعراف سورہ نحل اور سورہ فاطر کی آیات پیش کرنا بھی آپ کی جہالت ہے ان تمام باتوں پر ہمارا یقین ہے۔آپ سے میری صرف اتنی درخواست ہے کہ آپ ۔۔’’راہ ہدایت ‘‘ کا مطالعہ کر لیں تو ان واقعات پر آپ کو سرے سے کوئی اعتراض ہی نہ ہوگا۔

(ضروری وضاحت):یاد رہے کہ اولیاء اللہ کی قبور سے پاس علمائے دیوبند کے نزدیک شرعی استعانت جائز ہے ۔۔جیسا کہ فتاوی رشیدیہ میں ہے کہ:

قبور سے اس طور دعا کرنا کہ اے صاحب قبر اس طرح میرا کام کردے تو یہ حرام ہے اور شرک بالاتفاق ہے اور یہ بات کہ تم میرے واسطے دعا کرو تو اس باب میں اختلاف ہے ۔منکرین سماع اس کو لغووناجائز کہتے ہیں اور مجوزین سما ع جائز جانتے ہیں ۔اور یہی بندے نے پہلے بعض سائلین کے جواب میں لکھا بندہ مختلف فیھا مسائل میں فیصلہ نہیں کرتا لیکن احوط کو اختیار کرتا ہوں۔(تالیفات رشیدیہ ص ۱۱۰)۔

البتہ فی زمانہ چونکہ مزار پرستی اور عوام اس سلسلے میں شدید غلو پایا جاتا ہے ۔اس لئے اہل علم پر لازم ہے کہ وہ فتوی ’’عدم سماع موتی‘‘ پر دیں۔تاکہ عوام کے عقائد دست کئے جاسکیں۔

نیک مومنین اوراولیاء اللہ کے قبروں کے پاس اللہ تعالی کی خصوصی رحمت کا نزول ہوتا ہے اس لئے دیگر عام مقام کے مقابلے میں یہاں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اور مقام پر دعا قبول نہیں ہوتا جہاں پکارو اللہ سن رہا ہے۔اس لئے ان مزارات پر دعا کیلئے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔لیکن آج کے دور میں عوام کے غلو دیکھتے ہوئے اہل علم علماء و صاحب شرع افراد کا ان مزارات پر جانے بالکل ناجائز ہے کہ عوام کو اپنے باطل کاموں کیلئے سند جواز مل جائے گا۔دل زیادہ بے قرار ہو تو دور سے دعا کرلیں۔یا ایسے موقع پر جائیں جس میں عوام نہ دیکھ سکے جیسے رات کے اوقات میں۔لیکن احتیاط بہرحال لازم ہے۔

یا د رہے کہ مردوں کا قبروں میں نہ سننا اس سے انبیاء مستثنی ہیں۔لہٰذا اگر کوئی خوش نصبیب محمد مصطی ﷺ کے روزے کی زیارت کو جائے تو وہاں خصوصی طور پر سلام کہے درور پڑھے۔۔اور جو راز و نیاز کی باتیں کرنی ہو کرے کہ اللہ کا محبوب سن رہا ہے۔اوراگر ہوسکے تو زندگی میں ایک دفعہ خاص روضہ مبارک ﷺ کے سفر کیلئے ضرور جائے۔

No comments:

Post a Comment