نواں الزام:مریدوں کاابن منصورکوخداکہنا
خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں کہ: ’’مقتدرباﷲکے زمانے میں حسین بن منصوربغداد میں مقیم ہوکرصوفیہ کی صحبت میں رہے، ان ہی کی طرف اپنے کومنسوب کرتےتھے۔ اس وقت حامدبن العباس وزیرتھا۔ اس کوخبرپہنچی کہ ابن منصورنے محل شاہی کے چشم وخدم وربانوں اورنصرقشوری حاجب کے غلاموں کویہ پٹی پڑھائی ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے، جنات اس کی خدمت کرتے اورجوچاہتاہےحاضرکرتے ہیں۔ اوریہ بھی دعویٰ کیاہے کہ اس نے بہت سے پرندے زندہ کیئے ہیں۔ نیزابوعلی اوراجی نے عیسیٰ بن عیسیٰ(وزیر) کومطلع کیاکہ محمدبن قنائی جودربارکے منشیوں میں سے ہے حلّاج کی پرستش کرتااورلوگوں کواس کی اطاعت کی دعوت دیتاہے۔ علی بن عیسیٰ نے محمد بن علی قنائی کاگھرضبط کرنے اوراسے گرفتارکرنے کاحکم دیا، پھراس سے اقرارکرایاتواس نے اقرارکیاکہ میں حلّاج کے اصحاب میں سے ہوں، چنانچہ اس کے گھرسے بہت سی کتابیں اوررقعے ضبط کیئے گئےجوحلّاج کے لکھے ہوئے تھے۔ اس وقت حامدبن عباس نے (بواسطہ) مقتدرباﷲسے درخواست کی کہ حلّاج اوراس کے منادیوں کو اس کے سپردکیاجائے۔ نصرحاجب نے اس بات کوٹالااورحلّاج کی طرف سے جواب دہی کی۔ لوگوں میں یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ نصرحاجب حلّاج کی طرف مائل ہےتو اب وزیرحامد نے بلاواسطہ خلیفہ سے درخواست کی، چنانچہ حلّاج کو اسکے حوالہ کیاگیااوراس نے سختی کے ساتھ اس کی نگہداشت کی۔ ہرروز اس کو اپنی مجلس میں بلاتااوربیہودہ گفتگوکرتا، تاکہ ابن منصورکی زبان سے (غصہ میں) کوئی ایسی بات نکل جائے جس پرگرفت کرکے اس کے قتل کاراستہ ہموارکرے، مگرحلّاج مجلس میں آکربجز’’أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله وأَشْهَدُ ان محمداً رسول الله‘‘ کہنے اورتوحیدوشرائع اسلام کو ظاہرکرنےکےکچھ نہ کہتا۔ اسی اثناءمیں حامدسے کسی مخبرنے کہاکہ بعض لوگ حلّاج کی خدائی کااعتقادرکھتے ہیں۔ وزیرحامدنے ان کوگرفتارکیااوران سے گفتگو کی، انہوں نے اقرارکیاکہ ہم حلّاج کے اصحاب اوراس کے منادی ہیں اوریہ بھی کہا کہ ہمارے نزدیک سچ مچ حلّاج خداہے، اورمردوں کوزندہ کرتا ہے۔ حلّاج سے اس معاملہ کی تحقیق کی گئی تو اس نے صاف انکارکیااوران لوگوں کو جھوٹابتلایااورکہا، خداکی پناہ، میں خدائی یانبوت کادعویٰ کیوں کرتا، میں تو اﷲکاایک بندہ ہوں، اس کی عبادت کرتااورنمازروزہ اورنیک کام کی کثرت کرتاہوں۔ اس کے سواکچھ نہیں جانتا‘‘۔ (بحوالہ تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۷۱۱-۷۱۲)
نیزعریب بن سعدقرطبی نے لکھا ہے کہ: ’’بعض لوگوں نے سمری اوربعض منشیانِ دربارکے متعلق مخبری کی کہ یہ لوگ حلّاج کوخداکہتے ہیں، اورایک ہاشمی کی نسبت بھی مخبری کی کہ وہ اپنے کوحلّاج کانبی کہتاہے۔ حامدنے ان لوگوں سے گفتگوکی توانہوں نے حلّاج کی خدائی کااقرارکیا۔ جب خود حلّاج سے اس کی تحقیق کی گئی تواس نے دعویٰ خدائی سے انکارکیااوران لوگوں کی تکذیب کی، اورکہاخداکی پناہ ٔ حاشاوکلام، میں اورخدائی یانبوت کادعویٰ کروں، میں توایک (معمولی) آدمی ہوں، اﷲکی عبادت کرتاہوں نمازروزہ اوراعمال خیرکی کثرت کرتاہوں۔ اس کے سوا(میرا) کچھ کام نہیں۔ اس کے بعدحامدنے قاضی ابوعمراور قاضی ابوجعفرابن بہلول اورفقہائے عظام کی ایک جماعت کوبلاکران سے ابن منصورکی بابت استفتاءکیا۔ ان حضرات نے فرمایاکہ وہ اس کے قتل کافتویٰ اس وقت تک نہیں دے سکتے جب تک کہ ان کے سامنے کوئی ایسی بات ثابت نہ ہوجواس پرقتل کوواجب کردےاوردوسروں نے اس کے متعلق جوکچھ دعویٰ کیاہےوہ اس پرحجت نہیں۔ جب تک دلیل سے اسکے منہ پرثابت نہ کیاجائے، یاوہ خوداقرارکرے۔ پس سب سے پہلے جس شخص نے حلّاج کی حالت کوظاہرکیا، بصرہ کا ایک شخص تھا(مگراس کا نام ونشان کچھ نہیں محض مجہول ہے) اس نے اپنے کوحلّاج کا خیرخواہ ظاہرکیا (گویاسرکاری گواہ بن گیا) اورکہامیں اس کے اصحاب کوپہچانتاہوں، جومختلف شہروں میں پھیلے ہوئے اوراس کی طرف سے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ میں نے بھی اس کی بات کو مان لیا تھا، پھر مجھے اس کی فریب کاری معلوم ہوگئی تواس کی جماعت سے علیحدہ ہوگیااوراس کی حقیقت منکشف ہوجانے پراﷲکاشکراداکیا (نفلیں پڑھیں) ابوعلی ہارون بن عبدالعزیزاوراجی دربارکامنشی اس کو مانتاہے اس نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں حلّاج کے خوارق اورحیلوں کوجمع کیاہےاوروہ اس کی جماعت کے پاس موجود ہے۔ حلّاج اس وقت بادشاہی محل میں نظربند تھا، ہرشخص کواس سے ملنے کی اجازت تھی۔ نصرحاجب اس کانگہبان تھا۔ اوروہ بھی اس کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔ خدام شاہی میں اس کاذکرعظمت کے ساتھ ہوتاتھا۔ مقتدرنے اس کوعلی بن عیسیٰ کے حوالہ کیاکہ اس سے گفتگوکرکے معاملہ کی تحقیق کرے، چنانچہ علی بن عیسیٰ نے اپنی مجلس میں اسے طلب کیا اورسختی کے ساتھ گفتگوکی۔ کہاجاتاہے کہ اس وقت ابن منصورنے علی بن عیسیٰ سے آہستہ کہاکہ بس جس حدتک تم پہنچ چکے اس سے آگے نہ بڑھو، ورنہ تیرےاوپرزمین (کاتختہ) الٹ دونگا۔ نیزاس قسم کی اورکچھ بات کہی تو علی بن عیسیٰ اس کے ساتھ گفتگوکرنے سے ڈرگیااوراس معاملہ سے الگ ہوگیاتواس کوحامدبن العباس کے سپردکیاگیا۔ اس نے سمری کی بیٹی کوحلّاج کے پاس بھیجاوہ محل شاہی میں مدت تک اس کے پاس رہی پھراس لڑکی کوحامدکے پاس بھیجاگیاتاکہ اس کے سامنے جوحالات وواقعات پیش آئے ہوں ان کو معلوم کیاجائے۔ (تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۷۹-۸۰)
جواب:
نیزعریب بن سعدقرطبی نے لکھا ہے کہ: ’’بعض لوگوں نے سمری اوربعض منشیانِ دربارکے متعلق مخبری کی کہ یہ لوگ حلّاج کوخداکہتے ہیں، اورایک ہاشمی کی نسبت بھی مخبری کی کہ وہ اپنے کوحلّاج کانبی کہتاہے۔ حامدنے ان لوگوں سے گفتگوکی توانہوں نے حلّاج کی خدائی کااقرارکیا۔ جب خود حلّاج سے اس کی تحقیق کی گئی تواس نے دعویٰ خدائی سے انکارکیااوران لوگوں کی تکذیب کی، اورکہاخداکی پناہ ٔ حاشاوکلام، میں اورخدائی یانبوت کادعویٰ کروں، میں توایک (معمولی) آدمی ہوں، اﷲکی عبادت کرتاہوں نمازروزہ اوراعمال خیرکی کثرت کرتاہوں۔ اس کے سوا(میرا) کچھ کام نہیں۔ اس کے بعدحامدنے قاضی ابوعمراور قاضی ابوجعفرابن بہلول اورفقہائے عظام کی ایک جماعت کوبلاکران سے ابن منصورکی بابت استفتاءکیا۔ ان حضرات نے فرمایاکہ وہ اس کے قتل کافتویٰ اس وقت تک نہیں دے سکتے جب تک کہ ان کے سامنے کوئی ایسی بات ثابت نہ ہوجواس پرقتل کوواجب کردےاوردوسروں نے اس کے متعلق جوکچھ دعویٰ کیاہےوہ اس پرحجت نہیں۔ جب تک دلیل سے اسکے منہ پرثابت نہ کیاجائے، یاوہ خوداقرارکرے۔ پس سب سے پہلے جس شخص نے حلّاج کی حالت کوظاہرکیا، بصرہ کا ایک شخص تھا(مگراس کا نام ونشان کچھ نہیں محض مجہول ہے) اس نے اپنے کوحلّاج کا خیرخواہ ظاہرکیا (گویاسرکاری گواہ بن گیا) اورکہامیں اس کے اصحاب کوپہچانتاہوں، جومختلف شہروں میں پھیلے ہوئے اوراس کی طرف سے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ میں نے بھی اس کی بات کو مان لیا تھا، پھر مجھے اس کی فریب کاری معلوم ہوگئی تواس کی جماعت سے علیحدہ ہوگیااوراس کی حقیقت منکشف ہوجانے پراﷲکاشکراداکیا (نفلیں پڑھیں) ابوعلی ہارون بن عبدالعزیزاوراجی دربارکامنشی اس کو مانتاہے اس نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں حلّاج کے خوارق اورحیلوں کوجمع کیاہےاوروہ اس کی جماعت کے پاس موجود ہے۔ حلّاج اس وقت بادشاہی محل میں نظربند تھا، ہرشخص کواس سے ملنے کی اجازت تھی۔ نصرحاجب اس کانگہبان تھا۔ اوروہ بھی اس کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔ خدام شاہی میں اس کاذکرعظمت کے ساتھ ہوتاتھا۔ مقتدرنے اس کوعلی بن عیسیٰ کے حوالہ کیاکہ اس سے گفتگوکرکے معاملہ کی تحقیق کرے، چنانچہ علی بن عیسیٰ نے اپنی مجلس میں اسے طلب کیا اورسختی کے ساتھ گفتگوکی۔ کہاجاتاہے کہ اس وقت ابن منصورنے علی بن عیسیٰ سے آہستہ کہاکہ بس جس حدتک تم پہنچ چکے اس سے آگے نہ بڑھو، ورنہ تیرےاوپرزمین (کاتختہ) الٹ دونگا۔ نیزاس قسم کی اورکچھ بات کہی تو علی بن عیسیٰ اس کے ساتھ گفتگوکرنے سے ڈرگیااوراس معاملہ سے الگ ہوگیاتواس کوحامدبن العباس کے سپردکیاگیا۔ اس نے سمری کی بیٹی کوحلّاج کے پاس بھیجاوہ محل شاہی میں مدت تک اس کے پاس رہی پھراس لڑکی کوحامدکے پاس بھیجاگیاتاکہ اس کے سامنے جوحالات وواقعات پیش آئے ہوں ان کو معلوم کیاجائے۔ (تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۷۹-۸۰)
جواب:
تاریخ بغداداورتاریخ طبری کی مندرجہ بالادونوں روایات سے یہ بات واضح طور پرسمجھی جاسکتی ہے کہ وزیرحامدالعباس جب مختلف حیلوں بہانوں اوراصحاب حلّاج سےجھوٹی گواہیاں دلوانے کے باوجود بھی قاضی ابوعمر، قاضی ابوجعفرابن بہلول اورفقہائے عظام سے جوازقتل کا فتویٰ حاصل نہ کرسکاتوپھر اس نے بصرہ کے ایک گم نام (مجہول)شخص کو سرکاری گواہ بنالیالیکن جب اتناسب کچھ کرنے کے باوجود بھی وزیرحامداپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکا تو پھر اس نے حلّاج کے مرید کی بیٹی بنت سمری کوحلّاج کے پاس بھیجاجومحل شاہی میں مدت تک ان کے پاس رہی پھراس لڑکی کوحامدکے پاس بھیجاگیاتاکہ اس کے سامنے جوحالات وواقعات پیش آئے ہوں ان کو معلوم کیاجائے۔ واہ سبحان اﷲکیسے کیسے گواہ منتخب کیئے گئے اورکس طرح سے خلاف شریعت نامحرم لڑکی کوابن منصورؒکےپاس تنہائی میں رکھا گیا۔ وہ غریب تو قیدمیں مجبورتھےکیونکہ محل شاہی سے کسی کونکالنے کی انہیں قدرت نہ تھی مگردوسرے تومجبورنہ تھے۔ پھربھی باوجوداس قدرکوششوں کے ابن منصورؒکی عفت وپاکدامنی پرحرف لگانے کی کسی کوجرأت نہ ہوئی جس سےان کابدرجہ غابت متقی ہوناواضح ہے۔
ان روایات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ا بن منصورؒ نے کس طرح خدائی و نبوت کے دعوٰے کے اس الزام کا انکارکیا اوراﷲکابندہ ہونے کا اقرارکیااور ساتھ ہی اپنے آپ کو نماز، روزہ واعمال خیرکی کثرت کا پابندبتایا۔ یہی وجہ تھی کہ قاضی ابو عمر، قاضی ابو جعفر اوردیگرفقہائے عظام نے فرمایا کہ ’’وہ اس وقت تک حلّاج کے قتل کا فتویٰ نہیں دے سکتے جب تک کوئی ایسی بات ثابت نہ ہوجائےجوان کے قتل کو واجب کردےاور دوسروں نے ان کے متعلق جوکچھ دعویٰ کیا ہے وہ اس پرحجت نہیں جب تک دلیل سے اس کے منہ پرثابت نہ کیا جائے‘‘۔
’’ابوالقاسم بن زبخی کابیان ہے کہ جس وقت بنت سمری حامد العباس کے پاس آئی ہےمیں بھی مجلس میں حاضرتھااورابوعلی احمدبن نصربھی موجودتھا۔ یہ لڑکی فصیح گفتار، شیریں بیان اورقبول صورت تھی۔ اس لڑکی نے بیان کیاکہ حلّاج نے مجھ سے کہاکہ میں نے تیرانکاح اپنے بیٹے سلیمان سےجوتمام اولاد میں مجھے سب سے زیادہ عزیزہےاورنیشاپورمیں مقیم ہےکردیاہےاوریہ بھی کہاکہ میاں بیوی میں کبھی نہ کبھی کوئی بات ہوجاتی ہے، یاکوئی ناگوارواقعہ پیش آجاتاہے۔ توعنقریب اس کے پاس پہنچے گی اورمیں نےتیرے متعلق اس کو وصیت کردی ہے۔ اگرتجھے اس کے ساتھ کوئی ناگواربات پیش آئے تواس دن روزہ رکھنااوردن کے آخری حصہ میں چھت پرجاکرراکھ پرکھڑی ہونااورخالص نمک سےروزہ افطارکرکے میری طرف متوجہ ہونااورجوناگواری پیش آئی ہواس کاذکرکرنامیں اس کو سنوں گااورتجھے دیکھوں گا‘‘۔ (تاریخ الطبری، الأبی جعفرمحمدبن جریزالطبری:ج۱۱، ص۸۰)
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس روایت کا راوی ابو القاسم بن زبخی مجہول ہے جسکے ثقہ یا غیرثقہ ہونے کا کچھ علم نہیں اور یہ شخص وزیرحامد العباس کے درباریوں میں سے ہے، لہٰذا اس کی بات تو ویسے بھی قابل قبول نہیں ہونی چاہیئے۔ دوسری بات یہ کہ اس روایت سے بھی کوئی ایسی بات معلوم نہیں ہوتی جس سے ابن منصورؒ کا کافروزندیق ہونا ثابت ہوتاہو۔ تیسری بات یہ کہ بنت سمری (نامحرم لڑکی) کو ابن منصورؒکے پاس تنہائی میں رکھنے کا کیا جواز بنتا تھا۔ کیا یہ غیرشرعی کام نہیں؟ ان باتوں سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وزیرحامد العباس ابن منصورؒ کی عفت وپاکدامنی پرحرف لگاناچاہتا تھا تاکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت حاصل کرکے قتل کا جواز پیدا کرسکے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس روایت کا راوی ابو القاسم بن زبخی مجہول ہے جسکے ثقہ یا غیرثقہ ہونے کا کچھ علم نہیں اور یہ شخص وزیرحامد العباس کے درباریوں میں سے ہے، لہٰذا اس کی بات تو ویسے بھی قابل قبول نہیں ہونی چاہیئے۔ دوسری بات یہ کہ اس روایت سے بھی کوئی ایسی بات معلوم نہیں ہوتی جس سے ابن منصورؒ کا کافروزندیق ہونا ثابت ہوتاہو۔ تیسری بات یہ کہ بنت سمری (نامحرم لڑکی) کو ابن منصورؒکے پاس تنہائی میں رکھنے کا کیا جواز بنتا تھا۔ کیا یہ غیرشرعی کام نہیں؟ ان باتوں سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وزیرحامد العباس ابن منصورؒ کی عفت وپاکدامنی پرحرف لگاناچاہتا تھا تاکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت حاصل کرکے قتل کا جواز پیدا کرسکے۔





No comments:
Post a Comment