تعویذ کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
احادیث ،آثار صحابہ اور اسلاف کے اقوال اور عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ تعویذ لکھنا یالکھ کر گلے وغیرہ میں ڈالنا مطلقا ناجائز اور حرام نہیں ھے اور جولوگ اس کو مطلقا غلط اور ناجائز وحرام سمجھتے ہیں ان کا موقف اور عقیدہ احادیث ، صحابہ کے اقوال اور عمل کے بالکل خلاف ھے صحیح بات تو یہ ھے کہ؛ تعویذ لکھنا اور گلے وغیرہ میں لٹکانا نہ تو مطلقا جائز ھے اور نہ ہی مطلقا ناجائز اور حرام ھے جیساکہ آج کل کے نام نہاد غیر مقلدین بے سوچے سمجھے اس کو حرام قرار دیتے ہیں بلکہ رقیہ اور تعویذ تین شرطوں کے ساتھ جائز اور درست ھے :
( ١ ) وہ تعویذ آیات قرآنیہ یا اسمائے حسنی وغیرہ پر مشتمل ہو اور اس میں کوئی ایسا کلمہ نہ ہو جس میں اللہ کے سوا کسی اور سےمدد مانگی گئی ہو -
( ٢ ) تعویذ میں لکھے ہوئے کلمات ایسے ہو جن کے معنی معلوم ہوں
( ٣ ) تیسری شرط یہ ھے کہ عقیدہ یہ ہو کہ یہ تعویذ بذات خود مؤثربالذات نہیں ھے ( اسکی حیثیت صرف دواء کی ھے ) مؤثربالذات صرف اللہ رب العزت ھے بالفاظ دیگر عقیدہ یہ ہو کہ اگر اللہ تعالی اس میں تاثیر دیگا تو اس میں تاثیر ہوگی اور اللہ کی تاثیر کے بغیر تاثیر نہیں ھو گی -
مذکورہ ان تینون شرطوں کے ساتھ تعویذ لکھنا یا لکھ کر گلے وغیرہ میں پہننا بلاشبہ جائز اور درست ھے اگر ان میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو مثلا: ایسی تعویذہو جس مین غیر اللہ سے مددطلب کی گئ ہو
یا تعویذ میں ایسے کلمات لکھے کئے ہو جن کے معنی معلوم نہ ( کیونکہ جب معنی معلوم نہیں تو ممکن ھے وہ کوئی مشرکانہ کلمہ ہو اور اس میں غیر اللہ سے مدد مانگی گئی ہو)
یا آدمی تعویذ ہی کو مؤ ثر حقیقی سمجتا ہو تو ایساتعویذ لکھنا یاپہننا بے شک ناجائز اور حرام ہو گا
چنانچہ شارح بخاری حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں تحریر فرماتے ہیں :
قال الحافظ ابن حجر: وقد أجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثة شروط أن یکون بکلام اللہ تعالی أو بأسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی أو بما یعرف معناہ من غیرہ وأن یعتقد أن الرقیة لا تؤثر بذاتہا بل بذات اللہ تعالی (فتح الباري: الطب والرقی بالقرآن والمعوذات: ج ١٠ ص ١٩٥ )
《 وهكذا في تكمله فتح الملهم ج ١٠ ص ٢٥٧ باب الطب والرقى 》
اور شارح مشکاة ملا علي قاري رحمة الله عليه فرماتے ہیں :
وأما ما کان من الآیات القرآنیۃ والأسماء والصفات الربانیۃ والدعوات المأثورۃ النبویۃ فلا بأس؛ بل یستحب، سواء کان تعویذًا أو رقیۃً أو نشرۃً، وأما علی لغۃ العبرانیۃ ونحوہا فیمتنع لاحتمال الشرک فیہا۔
(مرقاۃ المفاتیح ۸؍۳۶۰-۳۶۱ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
خاتم الفقہاء علا مہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ ردالمحتار میں رقمطراز ہیں :
ولا بأس بالمعاذات إذاكتب فيها القرآن أوأسماء الله تعالى -- وإنما تكره العوذة إذاكانت لغير لسان الرب ، ولايدرى ماهو ولعله يدخله سحر أوكفر أو غير ذلك وأما ما کان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس بہ … وفي الشلبي عن ابن الأثیر: التمائم جمع تمیمۃ، وہي خرزات کانت العرب تعلقہا علی أولادہم یتقون بہا العین في زعمہم، فأبطلہا الإسلام، والحدیث الآخر ’’من علق تمیمۃ فلا أتم اللّٰہ لہ‘‘ لأنہم یعتقدون أنہا تمامالدواء والشفاء؛ بل جعلوہا شرکاء؛ لأنہم أرادوا بہا دفع المقادیر المکتوبۃ علیہم، وطلبوا دفع الأذی من غیر اللّٰہ تعالیٰ الذي ہو دافعہ۔
(شامي / کتاب الحظر والإباحۃ ۹؍۵۲۳ زکریا)
تعويذ لکھنا اگر چہ نبی کریم صلی اللہ علیہ سے ثابت نہیں لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے تعویذ لکھنا ثابت ھے چنانچہ ابو داؤد شريف میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کرام کو یہ الفاظ سکھائے تھے 《 أعوذ بكلمات الله التامات من شر ماخلق والله خير حافظا وهو أرحم الراحمين 》
حضرت عبداللہ ابن عمر اللہ کی قدرت اور کبریائی پر مشتمل یہ کلمات تعوذ اپنے سمجھ دار بچوں کو یاد کراتے تھے اور جو بچے چھوٹے اور سمجھ دار نہ ہو تے اس کے گلےمیں وہ کلمات لکھ کر ڈال دیتے حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یعلمہم من الفزع کلمات: أعوذ باللّٰہ بکلمات اللّٰہ التامۃ من غضبہ وشر عبادہ، ومن ہمزات الشیاطین وأن یحضرون، وکان عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہ یعلمہن من عقل من بنيه ومن لم يعقل كتبه فأعلقه
( سنن ابي داؤد ج ٢ ص ٦٤٩)
عبد اللہ ابن عمر کے اس عمل سے صاف ثابت ہو تاھے کہ تعویذ لکھنا اور پہننا جائز ھے چنانچہ
اس حدیث کی تشریح کرتے ہو ہوئے صاحب بذل المجہود علامہ خلیل احمد سہارنپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں :
فیه دليل علي جواز كتابة التعويذ والرقية وتعليقها
《 بذل المجهود ج ١١ ص٦٢٢ 》
جہاں تک ان احادیث کاتعلق ھے جن مین تعویذ کی ممانعت اور تعویذ پہننے وا
No comments:
Post a Comment