Friday, 27 November 2020

بدعتی بریلوی کا پیشاب پاخانہ

 

بدعتی بریلوی کا پیشاب پاخانہ

ایک بابا جی میں یہ کمال تھا کہ جو بات منہ سے نکالتا ہو جاتی ۔راجا نے اس سے پوچھا کہ مہاراج آپ کو یہ کمال کیونکر حاصل ہوا اس نے جواب دیا کہ میں بارہ سال سے اپنا پاخانہ پیشاب کھاتا پیتا ہوں۔ اسی کی بدولت میری زبان کو یہ تاثیر ہے کہ ایک فقیر کو بادشاہ یا راجا کہ دوں تو فوراً ہو جاوے ۔بادشاہ نے کہا پھر آپ کو کیا؟ بادشاہ بنا تو دوسرا راجہ ہوا تو۔ اور تمھاری قسمت میں تو وہی پاخانہ پیشاب رہا۔(تذکرہ غوثیہ ص 349)

یہ ہے ان کے نام نہاد اولیاء جو پیشاب پاخانہ کھایا کرتے تھے۔ رضاخانیوں کو بھی اپنے اس ولی کی پیروی کرنی چاہیئے تاکہ انہیں بھی ولایت کا یہ اعلیٰ مقام حاصل ہو جائے۔

No comments:

Post a Comment