بدعتی بریلوی کا پیشاب پاخانہ
ایک بابا جی میں یہ کمال تھا کہ جو بات منہ سے نکالتا ہو جاتی ۔راجا نے اس سے پوچھا کہ مہاراج آپ کو یہ کمال کیونکر حاصل ہوا اس نے جواب دیا کہ میں بارہ سال سے اپنا پاخانہ پیشاب کھاتا پیتا ہوں۔ اسی کی بدولت میری زبان کو یہ تاثیر ہے کہ ایک فقیر کو بادشاہ یا راجا کہ دوں تو فوراً ہو جاوے ۔بادشاہ نے کہا پھر آپ کو کیا؟ بادشاہ بنا تو دوسرا راجہ ہوا تو۔ اور تمھاری قسمت میں تو وہی پاخانہ پیشاب رہا۔(تذکرہ غوثیہ ص 349)
یہ ہے ان کے نام نہاد اولیاء جو پیشاب پاخانہ کھایا کرتے تھے۔ رضاخانیوں کو بھی اپنے اس ولی کی پیروی کرنی چاہیئے تاکہ انہیں بھی ولایت کا یہ اعلیٰ مقام حاصل ہو جائے۔
یہ ہے ان کے نام نہاد اولیاء جو پیشاب پاخانہ کھایا کرتے تھے۔ رضاخانیوں کو بھی اپنے اس ولی کی پیروی کرنی چاہیئے تاکہ انہیں بھی ولایت کا یہ اعلیٰ مقام حاصل ہو جائے۔

No comments:
Post a Comment