*بریلوی اعتراض کہ دیوبندی بتوں اور کفار کے متعلق نازل شدہ آیت ہم مسلمانوں پر فٹ کرتے ہیں* ❓
قارئین کرام !
اہل سنت دیوبند بریلوی حضرات کے شرکیہ و کفریہ عقائد کو جب قرآن وسنت سے واضح کرتے ہیں اور انکا کفر و شرک بتاتے ہیں تو بریلوی حضرات یہ بول کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ آیت کفار اور بتوں کے متعلق نازل ہوئی ہے
حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ اپنے شرکیہ عقائد و افعال ترک کرتے یا کوئی ایک دلیل پیش کرتے کہ ہم پر یہ آیتیں فٹ نہیں کی جاسکتی ہم اس آیت کے مصداق نہیں مگر قرآن و سنت سے کوئی ایک دلیل ندارد سوائے اسکے کہ ایک صحابی کے مبھم و مجمل قول کو جو
بزعم خود سب سے بڑی دلیل بناکر پیش کرتے ہیں کہ ایک صحابی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول جو
📗صحیح بخاری کے باب قتل الخوارج والملحدین ۔۔۔۔ میں منقول ہے
*و کان ابن عمر یراھم شرار خلق اللہ وقال انھم انطلقوا الی آیات نزلت فی الکفار فجعلوھا علی المومنین* ۔
کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں (خوارج ) کو دنیا کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ لوگ جو بتوں کے متعلق نازل ہونے والی آیات مومنین پر چسپاں کر تے ہیں .
یہ بریلویوں کی سب سے بڑی دلیل ہے
*اب آتے ہیں اسکے جواب کی طرف*
سب سے پہلی بات
اس جگہ مومنین سے مراد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور بالخصوص سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں کیونکہ اس وقت خوارج کے مقابلے میں یہی حضرات تھے اور صحابہ کرام کے عقیدہ میں شرک کا شائبہ تک نہیں جنکے ایمان کے بارے میں اللہ کچھ اس طرح گواہی دیتا ہے *رضی اللہ عنھم و رضو عنہ*
مگر آج کے یہ مشرک اس کو بزعم خود اپنے متعلق سمجھ کر منہ میاں مٹھو بنے پھررہے ہیں 😇
*دوسری بات*
بریلوی حضرات ابن عمر رض کی خوارج کے متعلق یہ بات (یعنی بدترین مخلوق والی)بڑے شد و مد سے بیان کرتے ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ خوارج کے متعلق یہ بھی فرماتے ہیں اسے بھی تسلیم کریں ❓میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو 😋👇
*عن نافع قال : کان ابن عمر یسلم علی الخشبیۃ والخوارج وھم یقتلون فقال من قال حی علی الصلاح اجبتہ ومن قال حی علی الفلاح اجبتہ ومن کان حی علی قتل اخیک المسلم واخذ مالہ قلت :لا*📗 سنن الکبری للبیہقی کتاب الصلاۃ حدیث نمبر 5205
۔حضرت نافع بیان کرتے ہیں ابن عمر خشبیہ اور خوارج کو سلام کہتے تھے اور وہ آپس میں لڑتے بھی تھے ابن عمر فرماتے تھے کہ جو کہتا ہے نماز کی طرف آؤ میں اسکی بات قبول کرتا ہوں اور جو کہتا ہے حی علی الفلاح میں اسکی بات بھی قبول کر تا ہوں اور جو کہے گا کہ اپنے مسلمان بھائی کا قتل کر یا اس کا مال لوٹنے کے لیے آؤ تو میں انکار کر دونگا ۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ
ابن عمر تو خوارج کو سلام بھی کررہے ہیں
خوارج کے پیچھے نماز بھی پڑھ رہے ہیں 😇
اب اگر کسی رضا خانی میں دم ہے تو خوارج کے متعلق یہ باتیں بھی تسلیم کریں یا دوغلہ پن چھوڑدیں
رضا خانیوں کو ابن عمر کا خوارج کے متعلق ایک بات تسلیم کریں اور دوسرے کو لات مارا جائے یہ کیسی دیانت ہے ۔ کسی شاعر نے رضاخانی حضرات کے لیے کیا ہی خوب کہاہے کہ
دورنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہوجا سنگ ہوجا
*کیا قرآن کریم میں کفار وبتوں کے متعلق نازل شدہ آیات مسلمانوں پر نہیں فٹ کرسکتے*❓
اصل بات یہ ہے کہ
قرآن کریم میں اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ مخصوص محل کا یعنی آیت تو کسی خاص موقع سے کسی خاص لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہو لیکن اسکے حکم میں قیامت تک آنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں الایہ کہ اسکی تخصیص پر کوئی واضح قرینہ دال ہو ۔
اور تقریبا یہی بات قاضی ثناءاللہ پانی پتی رحمہ اللہ اپنی کتاب 📗ارشاد الطالبین صفحہ 29 پر لکھتے ہیں 👇
*اگر کسے گویند کہ ایں درحق کفار است کہ بتان رایا دمیکروند کہ گفتہ شود کہ لفظ دون اللہ عام است ولفظ معتبر است نہ خصوص محل* ۔
اس سے واضح ہوا کہ قرآن کریم میں اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ مخصوص محل کا لہذا جس کے اندر بھی وہ مرض پایا جائے گا جس کا قرآن کریم ذکر کرتا ہے تو اسکے حکم وہ مریض خود بخود شامل ہوجائے گا اور یہی بات جب آج کے مشرکین کو بتائی جاتی ہے تو چینخ و پکار شروع کر دیتے ہیں کہ یہ تو کفار اور بتوں والی آیات ہم پر فٹ کرتے ہیں
بریلوی حضرات ہماری نہیں تو کم سے کم قاضی علیہ الرحمۃ کی ہی بات مان لیں 🧐
*بریلوی حضرات کا بتوں اور کفار کے متعلق نازل شدہ آیات کا اپنے اوپر اور ہم سنی یوبندی مسلمانوں پر فٹ کرنا*
اس طرح کی آیات تو ہمارے پاس کثیر تعداد میں ہیں مگر بطور اختصار ہم یہاں صرف دو آیت پر ہی اکتفاء کرتے ہیں 👇
آیت نمبر 1
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ سورہ آل عمران آیۃ نمبر 31
اس آیت کو بریلوی ملا خود اپنے اوپر میلاد میں تقاریروں میں فٹ کرتے ہیں مگر ان بے چاروں کو نہیں معلوم کہ بریلوی اصول کے مطابق خود خارجی گروہ میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں 😋
کیونکہ یہ آیت یہود و نصاری (کافروں) کے متعلق نازل ہوئی ہے دیکھیے 📗تفسیر خازن جلد اول سورہ آل عمران صفحہ نمبر 238
لکھتے ہیں
,, *نزلت فی الیھود والنصاری حیث قالوا نحن ابناء اللہ واحباءہ فنزلت ھذہ الآیۃ*,, ۔
لکھتے ہیں کہ یہ آیت (دنیا کے بدترین کافر) یہود ونصاریٰ کے متعلق نازل ہوئی ہے😋
اب جتنے بریلوی ملاؤں نے اس آیت کو جلسوں میں میلاد میں مسجد میں اپنے اوپر فٹ کیا وہ سب کے سب بریلوی اصول سے خارجی ثابت ہوے 😃
آیت نمبر 2
عتل بعد ذالک زنیم
سورۃ القلم پارہ 29 آیۃ نمبر 13
یہ آیت بریلوی حضرات ہم اہل سنت دیوبند پر فٹ کرتے ہیں 😋
اب اس آیت کے متعلق
تفسیر مدارک میں لکھاہے کہ
والمراد الولید بن مغیرۃ عند الجمھور ۔
جمہور کے نزدیک اس آیت سے مراد ولید بن مغیرۃ ہے( جو کہ گستاخ رسول اور بدترین کافر ہے)
📗تفسیر مدارک جلد اول صفحہ 520 سورہ قلم ۔
اب جن بریلوی ملاؤں نے کفار کے متعلق نازل شدہ ان آیات کو ہمارے اوپر فٹ کیا ہے وہ سب کے سب بریلوی اصول سے خارجی ثابت ہوے 😇
*بریلوی حکیم الامت احمد یار گجراتی نے کفار کے متعلق نازل شدہ آیت کو اپنے اوپر فٹ کیا*😄
بریلوی حکیم الامت قرآن کریم کی ایک آیت غیر اللہ سے مدد مانگنے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں
آیت
,,*وادعوا شھداءکم من دون اللہ ان کنتم صادقین* ,,۔
اس کے پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ *اس (آیت ) میں کفار کو دعوت دی گئی ہے کہ قرآن کی مثل ایک سورۃ بناکر لے آؤ اور اپنی امداد کے لیے اپنے* *حمایتیوں کو بلالو اسکے بعد اپنے عقیدہ کے ثبوت کے لیے کچھ اس طرح اپنے اوپر فٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ غیراللہ سے مدد لینے کی اجازت دی گئی* 📗جاء الحق صفحہ 193. بحث اولیاء اللہ وانبیاء سے مدد مانگنا ۔🤔
اب رضاخانی حضرات بتائیں کہ
اگر کفار کے متعلق آیت جس مسلمان پر اسکے اعمال و عقائد کی وجہ سے فٹ آرہی ہو اس پر فٹ کرنا خارجی ہونے کی دلیل ہے تو
*تمہارا حکیم الامت سب سے بڑا خارجی ثابت ہوا*
*اور جن بریلویوں نے اس دلیل کا رد نہیں کیا و ہ سب خارجی ثابت ہوے*😄
کیونکہ تمہارا حکیم الامت خود تسلیم کر رہا ہے کہ اس آیت میں کفار کو دعوت دی گئی ہے یعنی یہ آیت کفار کے متعلق نازل ہوئی ہے پھر تسلیم کر نے کے بعد اسکو اپنے عقائد کی دلیل بنایا جو تمہارے اصول سب سے بڑا خارجی ثابت ہوا😀
ان شاءاللہ اس تحریر کے بعد رضا خانیت کی زبان سے یہ اعتراض ایسے ہی غائب ہو نگے جیسے گدھے کے سر سینگ 😋
✍️از قلم ریان ندوی حنفی چشتی 🌹
No comments:
Post a Comment